کیا سیاسی عاصم کو بھی احتساب سے استثنیٰ ملتا؟

فرض کرتے ہیں احمد نورانی کی شائع کردہ تحقیقاتی رپورٹ میں اہلیہ، بیٹوں اور بھائیوں کے سینکڑوں کاروباری کمپنیوں اور جائیدادوں سے متنازع بننے والے عاصم باجوہ کے نام کے آگے ’جنرل‘ کا لاحقہ نہ لگا ہوتا تو کیا تب بھی یہ شخص احتساب کے عمل سے بالاتر ہوتا ؟

ویسے تو فرض کئے گئے اس عاصم کا تعلق زندگی کے کسی شعبے سے ہوتا تو یقیناً موصوف کے لئے حالات ’خوشگوار‘ نہ ہوتے  لیکن ازرہ تکلف ہم مبینہ اربوں روپے کے اثاثوں سے زبان زد عام بننے والے عاصم باجوہ کو ایک کل وقتی سیاسی شخصیت تصور کرتے ہیں اور پھر کی گئی اس معمولی ردوبدل  پر کچھ سوالات رکھ کر ملک میں رائج احتسابی نظام کی وقعت معلوم کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔

کیا اس سیاسی عاصم باجوہ کے مبینہ اثاثوں کی تفصیلات افشا کرنے والے صحافی کے تانے بانے ہمسایہ ملک کی خفیہ ایجنسی سے جوڑ کر، اس کا تعارف ملک و ریاست اور اداروں کے خلاف کام کرنے والے کے طور پر کرایا جاتا ؟ یا اس دوران کوئی سرکاری آفسر اپنے سیاحتی ایڈونچر کی وجہ سے خبروں کی زینت بنتا؟  کیا سوشل میڈیا پر بھی سیاستدان عاصم باجوہ کے احتساب کے مطالبات والے تمام ٹرینڈز غداروں اور بھارتی ایجنٹوں کی اختراع قرار دے کر اس کو ملک کے خلاف ایک پروپیگنڈا تصور کیا جاتا ؟

کیا بات بے بات غُل وغوغاں کے عادی اینکروں، تجزیہ نگاروں اور کالم نگاروں کی تحقیقاتی آنکھیں عاصم نامی اس سیاستدان کے ’کرتوت‘ پر چندھیا جاتیں؟ یا  یہ سیاسی شخصیت اتنی خوش قسمت ہوتی کہ جانے مانے ٹاک شوز میں اس کے حضور سہمے سہمے سوالات رکھ کر ان کے جوابات پر’صدقے‘ واری جانے جیسے غیر فطری مناظر ناظرین کو دیکھنے کو ملتے ؟ کیا سیاست سے جڑے عاصم کا دیا گیا تردیدی بیان تمام  نیوز چینلز پر خامیوں سے پاک نظر آتا ؟ اور ٹی وی چینلز سیاسی عاصم کے برحق ہونے کی دہائیاں دیتے نظر آتے؟

کیا نیب سیاسی عاصم باجوہ  پر لگے اختیارات کے ناجائز استعمال اور آمدن سے زائد اثاثوں کے الزامات سے کنی کتراتا دیکھائی دیتا ؟ کیا سیاسی عاصم کو بھی شواہد اکھٹے کرنے کے غرض سے حراست میں لینے کے عمل کو ناممکنات میں تصور کیا جاتا ؟ کیا برسوں تک قوم کو کرپشن کے مضر اثرات کا سبق ازبر کرانے والے وزیراعظم سیاستدان عاصم باجوہ کا استعفی مانگنے کی بجائے ’پیسہ ان کے باپ کا‘ قرار دیتے دکھائی دیتے؟

کیا کابینہ کے ایجنڈے بھی سیاستدان عاصم کے احوال سے خالی ہوتے ؟ اور وزرا اور مشیر کی زبانوں پر اس عاصم کے اعمال کے بند بندھے دکھائی دیتے ؟ کیا حریف سیاستدانوں  کا رویہ سیاسی عاصم باجوہ کے لئے مصلحانہ  ہوتا۔  کیا عدالتیں سیاستدان عاصم باجوہ کے کیس میں بھی احتیاط کا مظاہرہ کرتیں ؟ اور ادارہ سیاسی عاصم پر اپنی پرفارمنس دکھانے کے لئے ہر بڑی دولت کے پیچھے جرم جیسے جواز نہ ڈھونڈ پاتیں ؟

کیا معاشرے کا باشعور طبقہ کہلانے والی سول سوسائٹی میدان سیاست کے اس عاصم باجوہ کے خلاف احتساب کے مطالبات والے بینرز اور پوسٹرز آٹھا کر سڑکوں پر آنے سے ہچکچاتیں؟  

 قائداعظم ؒ  کے دستور ساز اسمبلی کے پہلے پالیسی خطاب سے لےکر حالیہ وزیراعظم کے آخری خطاب کو سنیں تو یہ سب رہنما کرپشن کی لعنت سے قوم کو نجات دلانے کا تہیہ تو کرتے نظر آئیں گے ، پر یہ ممکن کیسے ہوگا۔ جب غیر سیاسی عاصم باجوہ جیسے لوگوں کو جوابدہ ہی نہ سمجھا جاتا ہو ؟

loading...