مستقل رہائش گاہ

آپ سب کے لئے ایک بہت بڑی خوشخبری ہے۔ یہ حیران کن خوشخبری اگر میں آج آپ کو نہیں سناتا، پھر بھی چند دنوں بعد یہ خوشخبری اخبارات اور ٹیلیوژن چینلز پر ریلیز ہونےوالے اشتہارات کے ذریعے آپ تک پہنچ جاتی۔ آپ تو جانتے ہیں کہ پہل کرنے کا موقع میں ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔

لہٰذا حیرت انگیز خبر آپ تک پہلے پہنچانے کا موقع میں ہاتھ سے جانے نہیں دوں گا۔ سب سے پہلے غیر معمولی خوشخبری آپ تک پہنچانے کے بعد میں سکون سے سو سکوں گا۔ پاکستان کی ایک بیمہ کمپنی یعنی انشورنس کمپنی نے بیمہ کی غیر معمولی اور چونکا دینے والی پالیسیاں پہلی بار متعارف کرانے کا قطعی فیصلہ کر لیا ہے۔ یہ بیمہ کمپنی پاکستان اور دنیا کی پہلی بیمہ کمپنی ہے جس نے اس نوعیت کی انوکھی بیمہ پالیسیاں بنائی ہیں۔ چونکہ ہم جبلتاً تخلیقی لوگ ہوتے ہیں اس لئے ہمارے یہاں بہت کچھ غیر معمولی ہوتا ہے۔

مثلاً ہماری جمہوریت دنیا بھر کی جمہوریتوں سے مختلف ہوتی ہے۔ پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں ملک کا پریزیڈنٹ مدت پوری کرنے کے بعد اسمبلی کا ممبر بننے کی خواہش رکھتا ہے اور اس پر عمل کر کے دکھاتا ہے۔ میرے کہنے کا مطلب ہے کہ جبلتاً تخلیقی لوگ ہونے کے ناطے ہمارے ہاں بہت کچھ غیر معمولی ہوتا ہے۔ ہماری بیمہ کمپنیاں بھی غیر معمولی نوعیت کی بیمہ پالیسیاں متعارف کراتی رہتی ہیں۔ کچھ کمپنیوں کے پاس ہمارے بچوں اور بچیوں کی شادی کے لئے دلچسپ پالیسیاں ہوتی ہیں۔ آپ کوصرف اتنا طے کرنا ہوتا ہے کہ آپ کو کتنی عمر میں بچی کی اور کتنی عمر میں بچے کی شادی خانہ آبادی کروانی ہے۔ باقی سب کچھ آپ بیمہ کمپنی پر چھوڑ دیجئے۔ آپ کے ذمہ فقط بیمہ پالیسی کی پابندی سے ہر ماہ قسط کی ادائی ہوتی ہے۔

تعلیمی پالیسی میں آپ کو صرف عہدہ بتانا پڑتا ہے۔ مثال کے طور پر پچھلے ہفتہ آپ کے ہاں جو بیٹا پیدا ہوا ہے آپ اس کو کس عہدہ پر فائز دیکھنا چاہتے ہیں؟ ڈاکٹر، انجینئر، کمشنر، انکم ٹیکس آفیسر، تھانیدار، کسٹم کلکٹر، پٹواری، پولیس سپرنٹنڈنٹ؟ کس عہدہ پر آپ اپنے ہونہار کو فائز دیکھنا چاہتے ہیں۔ بیمہ پالیسی میں آپ کو صرف اپنے بیٹے کے لئے عہدہ کا انتخاب کرنا ہے۔ اس کے بعد آپ سب کچھ بیمہ کمپنی پر چھوڑ دیجئے۔ آپ بس پابندی سے پالیسی کی قسط ہر ماہ دیتے رہیے۔

ایک بیمہ کمپنی نے آپ کو ایم پی اے، ایم این اے اور سینیٹر بنانے کی پالیسی متعارف کروائی ہے۔ پالیسی لینے کے بعد آپ خوب کھائیں، پئیں اور موج کریں۔ آپ کو اسمبلی کا ممبر بنانے کا کام آپ بیمہ کمپنی پر چھوڑ دیجئے۔ آپ نے چاہے اسکول کی شکل کبھی نہیں دیکھی ہو۔ کبھی کتاب کو چھوا تک نہ ہو، بیمہ کمپنی آپ کو اعلیٰ تعلیم یافتہ، ذہین، دانا، زیرک ثابت کر کے دکھائے گی۔ تعریفوں کے پل باندھ باندھ کر ووٹروں کو آپ کے حق میں ووٹ دینے پر آمادہ کرے گی۔ آپ کے مدمقابل کے خلاف بیمہ کمپنی منفی حکمت بنائے گی۔ آپ کے لئے بوگس ووٹوں کا بندوبست کرےگی۔ انتخابات میں آپ کو کامیاب کرنے کے لئے مذکورہ بیمہ کمپنی کچھ بھی کر گزرے گی۔ اس نوعیت کی بیمہ پالیسیاں ہمارے ہاں کئی ایک بیمہ کمپنیوں کے پاس موجود ہیں۔ مگر میں جس غیر معمولی بیمہ پالیسی کے بارے میں آپ کو خوشخبری سنانا چاہتا ہوں، وہ انوکھی نوعیت کی ہے۔ آپ سنئے۔

آپ نے دیکھا ہوگا کہ تعمیراتی صنعت میں زمین مربوں یا اسکوائرفٹ یا اسکوائر گز کے حساب سے بکتی ہے۔ آپ اپنی ضرورت کے مطابق مکان بنانے کے لئے تین مرلے کا پلاٹ خریدتے ہیں، پانچ مرلے کا پلاٹ لیتے ہیں۔ اسی گز پیمائش کا پلاٹ لیتے ہیں، ایک سو بیس گز کا پلاٹ خریدتے ہیں۔ یہ سنی سنائی اور دیکھی بھالی بات ہے۔ مشاہدے کی بات ہے مگر آپ نے دو گز زمین بکتے ہوئے نہیں سنی ہوگی۔ جی ہاں۔ مشہور زمانہ ایک بیمہ کمپنی دو گز زمین پر ہمارے لئے مستقل رہائش کی بیمہ پالیسی لے آئی ہے۔ آپ اپنی پسند کی جائے وقوع دیکھیں، پسند کریں اور اپنے لئے دوگز زمین بک کروالیں، یعنی خرید لیں۔

وہ لوگ ہمارے لئے ہماری آخری رہائش گاہ تیار رکھیں گے۔ آخری رہائش گاہ کی دیکھ بھال کریں گے۔ اطراف میں نازبو، گلاب اور موتیہ کے گل بوٹے لگائیں گے۔ آبیاری کریں گے، ماحول صاف ستھرا رکھیں گے، دو دو گز کی رہائش گاہیں سلیقہ سے، ترتیب سے، قطار در قطار بنی ہوئی ہوں گی۔ سب رہائش گاہیں سفید اور سبز ماربل کی بنی ہوئی ہوں گی۔ درمیان میں ہر طرف سبزہ زارہوگا۔ عارضی رہائش گاہ چھوڑنے کے بعد مستقل رہائش گاہ کے لئے آپ کو دھکے کھانے نہیں پڑیں گے۔ آپ اپنی الاٹ کروائی ہوئی، دیکھی بھالی مستقل رہائش گاہ میں شفٹ ہو جائیں گے یہاں آکر آپ کو بہت اچھا لگے گا۔

(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

loading...