کچھ تو بتائیں سرکار

جب بھی بچے آپ سے سوال پوچھیں، پھر وہ سوال چاہے کتنا ہی چبھتا ہوا کیوں نہ ہو، آپ بچوں کو ٹھیک سے جواب دیں۔ ان کو ٹالنے اور ٹرخانے کی کوشش مت کریں۔

آپ جن سوالوں کے جواب دینا مناسب نہیں سمجھتے، وہ سوال کونپلوں کی طرح ہوتے ہیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ سوال گھنے تناور درختوں میں بدل جاتے ہیں۔ ہمارے بچے تناور درختوں کے جنگل میں کھو جاتے ہیں۔ ویسے بھی سوال پوچھنا یا پھر کسی مسئلہ، معاملے، واردات پر سوال اٹھانا انسان کی فطرت ہے۔ اور اس فطرت کو انسان کا بنیادی حق مانا جاتا ہے۔ اس حق کی نفی معاشرے میں گھٹن کے احساس کو بڑھا دیتی ہے۔ لوگوں کو سچ بتائیں۔ ان کو اصل حقائق سے آگاہ کریں۔ جب آپ حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہیں، یا کچھ بھی بتانے سے انکار کرتے ہیں تب آپ لامحالہ افواہوں کا سبب بنتے ہیں۔

افواہیں اس قدر پھوٹ پڑتی ہیں کہ ہر افواہ پر سچ کا گمان ہونے لگتا ہے۔ آج کل ایک افواہ ہم سینئر سٹیزنز کے بارے میں گشت کررہی ہے۔ عام طور پر معاشرے میں دو طرح کے سینئر سٹیزنز ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو اپنا کاروبار کرتے ہیں اور بزرگ ہوجانے کے بعد بھی اپنے کاروبار سے وابستہ رہتے ہیں۔ دوسری نوعیت میں سرکاری اور نیم سرکاری اداروں سے ریٹائر ہونے والے سینئر سٹیزنز آتے ہیں۔ ان کا گزر بسر پنشن پر ہوتا ہے۔ میرا تعلق دوسری نوعیت کے سینئر سٹیزنز سے ہے۔ افواہ گردش میں ہے کہ اگر سینئر سٹیزنز نے کورونا سے بچاؤ کا حفاظتی ٹیکہ لگانے سے انکارکردیا تو ان سینئر سٹیزنز کی پنشن روک دی جائے گی۔ میں ایک سینئر سٹیزن اس سلسلہ میں کچھ جاننا اور سمجھنا چاہتا ہوں اور کچھ سمجھانا چاہتا ہوں۔

اس وقت پاکستان میں چار پانچ قسم کی ویکسین کے ٹیکے لگائے جارہے ہیں۔ ایک تو اعلیٰ قسم کی ویکسین کے ٹیکے ہیں جوکہ حکام، اسمبلی ممبران، وزرا، دبنگ افسران اور ان کی فیملی کو لگائے جارہے ہیں یا لگ چکے ہیں۔ اس نوعیت کی ویکسین کے حفاظتی ٹیکے ہم عام آدمیوں کو نہیں لگائے جاتے۔ ہم عام آدمیوں کو مانگے تانگے اور امداد میں ملنے والی ویکسین کے حفاظتی ٹیکے لگائے جاتے ہیں۔ ایک اور بات جس کی تصدیق میں لازمی سمجھتا ہوں۔ حکام اور دبنگ افسران کو جب حفاظتی ٹیکے لگائے جاتے ہیں تب وہاں ڈاکٹروں کی ٹیم موجود ہوتی ہے۔ ٹیکے لگانے والے عام کارکن نہیں ہوتے جن کو صرف سوئی لگانے کی ناقص تربیت دی گئی ہے۔ وہ قطعی نہیں جانتے کہ ٹیکہ لگاتے ہوئے یا ٹیکہ لگانے کے بعد مریض کی حالت اچانک بگڑ جائے تو کیا عمل اختیار کیا جائے۔ ایسی صورت میں وہ بھاگ کھڑے ہوتے ہیں۔ اعلیٰ حکام اور دبنگ افسران کو کوالی فائیڈ نرسیں ٹیکہ لگاتی ہیں۔ تب ڈاکٹر صاحبان بذات خود وہاں موجود ہوتے ہیں۔

ہمیں ویسے بھی حکام اور دبنگ افسران کے لئے خصوصی ترجیحات پر کوئی اعتراض نہیں۔ اگر خصوصی ترجیحات منہا کردی جائیں تو پھر ہم میں اور حاکموں اور دبنگ افسران میں کیا فرق رہ جائے گا؟ عوام الناس کو کیسے پتہ چلے گا کہ حاکم کون ہیں اور محکوم کون ہیں۔ آپ امدادی کھیپ میں ملنے والی ویکسین کا حفاظتی ٹیکا لگا کر امریکہ نہیں جاسکتے۔ جانا دور کی بات ہے، امریکی آپ کو امریکہ کے قریب سے بھی گزرنے نہیں دیں گے۔ اسی طرح سعودی عرب والے آپ کو سعودی عرب کی ہوا تک لگنے نہیں دیں گے۔

میرا بچگانہ سوال ہے کہ اس وقت پاکستان میں کتنے قسم کی ویکسین دستیاب ہے؟ کس ملک میں بنائی گئی ویکسین کا حفاظتی ٹیکہ لگوانے کے بعد آپ کو کتنے ممالک میں آنے جانے کی اجازت ہوگی؟ ایک سینئر سٹیزن ہونے کے ناتے کون طے کرے گا کہ پانچ قسم کی دستیاب ویکسین میں سے مجھے کس نوعیت کی ویکسین کے حفاظتی ٹیکے لگوانے چاہئیں؟ ہم بوڑھے طرح طرح کے امراض میں مبتلا ہوتے ہیں۔ حفاظتی ٹیکہ لگانے سے پہلے کیا ڈاکٹروں کا ایک پینل میرا مکمل چیک اپ کرے گا؟ حفاظتی ٹیکے کے میرے امراض کے باعث ری ایکشن ہونے کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ سنا ہے کہ حفاظتی ٹیکہ لگواتے ہوئے ہمیں بتایا جاتا ہے، غالباً تحریری طور پرکہ ٹیکے کے ابتر اثرات کے نتیجے میں اگر آپ کی موت واقع ہوجائے یا آپ کسی نئے مرض میں مبتلا ہوجائیں، اس کے لئے حکومت پاکستان، ویکسین بنانے والا ادارہ، ٹیکہ لگانے والا شخص ذمہ وار نہیں ہوں گے۔ کیا یہ درست ہے؟

ایک اہم بات جو ہم بوڑھے سمجھنا چاہتے ہیں۔ سرکار کے سیانوں سے گزارش ہے کہ ہمیں سمجھائیں۔ سر، سنا ہے کہ کورونا بیماری کے اسباب ابھی تک راز بنے ہوئے ہیں۔ اور سر، ہم نے یہ بھی سنا ہے کہ دنیا کے نامور ڈاکٹر کورونا کے مریضوں کے لئے موثر علاج ایجاد کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ کیا یہ درست ہے؟ تو پھر کھانسنے اور بہتی ہوئی ناک والوں کو پکڑ کر اسپتالوں میں کیوں داخل کیا جارہا ہے؟ سنا ہے کہ اس نوعیت کے لاوارث مریضوں پر طرح طرح کے نت نئے نسخے اور دوائیں آزمائی جاتی ہیں؟ اس نیک کام میں دنیا بھر کے دوست اور دشمن ممالک شامل ہیں۔ ہم کمتر لوگ سمجھتے ہیں کہ اس مرتبہ دوائیں اور ویکسین چوہوں، خرگوشوں اور گنی پگز پر آزمانے کے بجائے ہم جیسے بے سرو ساماں لوگوں پر آزمائی جارہی ہیں۔ کیا یہ درست ہے؟ باقی ماندہ سوال سرکار سے پھر کبھی پوچھیں گے۔

آج تک کتنے لوگ پاکستان میں کورونا کی وجہ سے ﷲ کو پیارے ہوچکے ہیں؟ اصل بات کچھ اور ہے سرکار… کوئی وجہ تو ہے کہ کٹر دشمن ممالک بھی کورونا کی وجہ سے ایک پیج پر نظر آرہے ہیں! جاتے جاتے آخری سوال پوچھنے کی گستاخی کررہا ہوں۔ آپ جانتے ہوں گے سرکار۔ یہ کورونا کی وبا انسان کی ایجاد ہے یا ﷲ نے بھیجی ہے؟

(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

loading...