دوڑتے رہو، ورنہ مر جاؤ گے

یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں مارگلہ پہاڑیوں میں دوڑا کرتا تھا۔ اوپن یونیورسٹی اسلام آباد میں میرے کولیگ، میرے دوست، اردو کے پروفیسر کو جب پتہ چلا کہ میں مارگلہ کی پہاڑیوں میں دوڑا کرتا ہوں تب ایک روز انہوں نے کہا تھا: ’آپ مارگلہ کی پہاڑیوں میں دوڑا نہیں کرتے۔ آپ مارگلہ کی پہاڑیوں میں دوڑ لگاتے ہو‘۔

اس بات کو پچاس پچپن برس گزر چکےہیں۔ اس دوران میرے دوست، میرے کولیگ، اردو کے پروفیسر بھی گزر چکے ہیں۔ اب وہ اس دنیا میں نہیں رہے۔ مجھے آج تک پتہ نہیں چل سکا کہ دوڑنے اور دوڑ لگانےمیں کیا فرق ہے۔ دونوں صورتوں میں آپ کو دوڑنا پڑتا ہے۔ حال ہی میں صحت کے موضوع پر میں نے ایک لیکچر دیا تھا۔ لیکچر کے بعد سوال جواب کے دوران ایک نوجوان نے کہا: ’سر، آپ ٹھیک سے چل نہیں سکتے۔ ڈگ لگاتے رہتےہیں۔ پھر آپ مارگلہ کی پہاڑیوں پر دوڑتے کیسے تھے؟‘ نوجوان کے علم میں اضافہ کرتے ہوئے میں نے کہا تھا: ’میں ماں کے پیٹ سے بوڑھا پیدا نہیں ہوا تھا۔ 60برس پہلے میں آپ کی طرح نوجوان تھا‘۔

خواہ مخواہ بات کو طول دینے کی بجائے بات مختصر کرتے ہوئے آپ کو بتا دوں کہ میں کسی زمانے میں مارگلہ کی پہاڑیوں پر دوڑا کرتا تھا۔ دوڑنے کے دوران کئی مرتبہ دلچسپ واقعات، دلچسپ ماجرے سے واسطہ پڑتا تھا۔ اس زمانے میں اسلام آباد کی آبادی ایک لاکھ سے کم، ستر اسی ہزار کے لگ بھگ تھی۔ زیر تعمیر شہر میں جا بجا چھوٹے چھوٹے جنگل ہوتے تھے۔ ان میں ہاتھی، گینڈے، شیر کو چھوڑ کر طرح طرح کے جانور رہتے تھے۔ سورج غروب ہو جانے کے بعد جانوروں کے غول کے غول چھوٹے چھوٹے جنگلوں سے باہر نکل آتے تھے۔ ویران راستوں پر گھومتے پھرتے تھے۔ اگر کوئی شیشہ اکا دکا گزرنے والی گاڑی کے نیچے آجائے تو سڑک پر چھ سے بارہ انچ لمبے سفید اور کالےکانٹے ہزاروں کی تعداد میں بکھر جاتے تھے۔ کہتے تھے کہ مارگلہ کی پہاڑیوں پر جنوں اور چڑیلوں کا بسیرا تھا۔

ایک لمبے عرصہ تک مارگلہ کی پہاڑیوں پر دوڑتے ہوئے مجھے کبھی کسی جن یا چڑیل سے واسطہ نہیں پڑا مگر جب سرکاری دفاتر مکمل ہونے کے بعد استعمال میں آنےلگے تب ان دفاتر میں کئی بار میرا سامنا جنوں، بھوتوں اور راکھشسوں سےہوا۔ کبھی کبھار کوئی چڑیل میرے متھے لگ جاتی تھی لیکن مارگلہ پہاڑیوں پر دوڑتے ہوئے میرا سامنا کبھی کسی جن بھوت اور چڑیل سے نہیں ہوا تھا۔ یہ مارگلہ پہاڑیوں کو بدنام کرنے کی سازش ہے۔ آپ تو جانتے ہیں کہ پاکستان سازشوں میں گھرا ہوا ملک ہے۔ مجھے خوش فہمی تھی، اور اب تک مجھے خوش فہمی ہے کہ میں گیدڑ سے زیادہ تیز دوڑ سکتا ہوں۔

کسی کتھا میں آپ کو میں نے بتایا تھا کہ ہم انسانوں میں کسی نہ کسی جانور سے ملتی جلتی خصلتیں ہوتی ہیں۔ مجھ میں گیدڑ کی خصلتیں ہیں۔ میں اول درجہ کا ڈرپوک ہوں۔ کبھی کسی کے ساتھ پھڈا نہیں کرتا۔ کسی کو ناراض نہیں کرتا۔ کسی کی مخالفت نہیں کرتا۔ سب کی ہاں میں ہاں ملاتا ہوں۔ اگر کوئی مجھ سے میرا حق چھین لے، تب بھی میں ناراض نہیں ہوتا۔ کبھی کچھ غلط ہو رہا ہو، میں نہیں دیکھتا۔ آنکھوں پر ہاتھ رکھ دیتا ہوں۔ کہیں کچھ غلط کہا جا رہا ہو، میں نہیں سنتا۔ کانوں پر ہاتھ رکھ دیتا ہوں۔ اس خوف سےکہ بہت کچھ غلط سلط دیکھنے اور سننے کے بعد منہ سے اختلافی الفاظ نہ نکل جائیں۔ میں منہ پرہاتھ رکھ دیتا ہوں۔

نہ کچھ دیکھو، نہ کچھ سنو اور نہ کچھ کہو۔ گیدڑ کی سی زندگی گزار دو۔ مارگلہ کی پہاڑیوں پر دوڑتے ہوئے ایک روز مجھے تب تعجب ہوا جب ایک گیدڑ دوڑتے ہوئے مجھ سے آگے نکل گیا۔ میں خود کو دوڑنےمیں تمام گیدڑوں سے تیز سمجھتا تھا، مگر گیدڑ میرا استاد نکلا۔ مجھ سے آگے نکل جانے کے بعد وہ ایک جگہ رک گیا۔ میں جب اس کے قریب پہنچا۔ وہ میرے ساتھ، میر ی رفتار سے دوڑنے لگا۔ اس نے پوچھا: ’دو ٹانگوں والے گیدڑ تیرا پرابلم کیا ہے؟ کیوں ٹٹو کی طرح سرپٹ دوڑے چلا جا رہا ہے؟‘

’تمیز سے بات کر چار ٹانگوں والے گیدڑ‘۔

اسے ڈانٹتے ہوئے میں نے کہا: ’چار ٹانگوں والے گیدڑ کو زیب نہیں دیتا کہ دو ٹانگوں والے گیدڑ سے فری ہونے کی کوشش کرے‘۔ ’اچھا ہے کہ تم نے مجھے میری اوقات یاد دلوا دی‘۔ گیدڑ نے پشیمان ہوتےہوئے کہا ’اچھا یہ بتاؤ تم بھاگ کیوں رہے ہو؟ تمہارے پیچھے کیا بھیڑیے اور لگڑ بگے لگے ہوئے ہیں؟‘ میں نے کہا:’پہلے تم بتاؤ کہ تم کیوں بھاگ رہے ہو؟‘ ’مجھ سے ہر بڑا اور توانا جانور مجھے مار کر کھا جانے کے چکر میں ہے‘۔ گیدڑ نے کہا: ’یہ جنگل کا قانون ہے۔ میں جان بچانے کے لئے بھاگ رہا ہوں‘۔

یہ تو ہم انسانوں کا قانون ہے۔ میں نے کہا:’ہمارے ہاں منصب والا بی منصب کو برباد کر دیتا ہے‘۔ گیدڑ نے پوچھا: ’کیا کوئی منصب والا تمہارے پیچھے پڑا ہوا ہے‘۔ میں نے کہا: ’میں خود منصب دار ہوں‘۔ گیدڑ نے پوچھا:’پھر کیوں بھاگتے پھرتے ہو؟‘ میں نے کہا:’ڈاکٹر نے کہا ہے کہ اگر بھاگوں گا نہیں تو مر جائوں گا‘۔ ’مرنا تو تمہیں، مجھے پرندوں کو ہر صورت، ہر حال میں ہے‘۔ گیڈر نے کہا: ’جو آتا ہے۔ اسے جانا پڑتا ہے۔ جو طلوع ہوتا ہے، اسے غروب ہونا پڑتا ہے۔ جو چیز تعمیر ہوتی ہے، وہ دھیرے دھیرے مسمار بھی ہوتی ہے۔ تم دوڑو، چاہے نہ دوڑو، ایک دن تمہیں مرنا ہے۔ یہاں سے جانا ہے‘۔ حیرت سےگیدڑ کی طرف دیکھتے ہوئے میں نے پوچھا: ’تم گیدڑ ہو، یا فلسفی ہو‘۔

’میں فلسفی ہوں‘۔ گیڈر نے کہا ’تمہارے ملک اور معاشرے کا ماحول دیکھ کر میں گیدڑ بن گیا ہوں۔ اسی میں میری عافیت ہے‘۔

(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

loading...