موعودہ پاکستان کی تلاش

پاکستان ایک نیم ہندو معاشرت  کا مُلک ہے اور ہم سب خیر سے  اس  خُداداد معاشرے کے نیم ہندو لوگ ہیں۔  ٹھہریے، میری یہ بات پڑھ کر کسی ردِ عمل میں مبتلا ہونے اور مجھے بیوقوف یا کم فہم قرار دینے میں عجلت کی ضرورت نہیں۔

یہی بات اس سے پہلے ہمارے اسلاف بھی کرتے آئے ہیں۔ مثلاً اقبال نے کہا :

وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنود

تم مسلماں ہو؟ جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود

اقبال نے صاف صاف اور واشگاف کہہ دیا  کہ  برِ صغیر کا مسلمان تمدنی طور پر ہندو ہے اور اس کی وضاحت اقبال نے اپنے ذاتی حوالے سے بھی کی ہے۔ فرمایا:

مرا بنگر کہ در ہندوستاں دیگر نمی بینی

برہمن  زادہ ای، رمز آشنائے روم و تبریز است

(مجھے دیکھ کہ  ہندوستان میں تو کوئی دوسرا مجھ سا نہ پائے گا کہ میں برہمن کا بیٹا ہوں مگر مولانا رومؒ اور حضرت شمس تبریزیؒ کی رمز سے واقف ہوں)

مولانا رومؒ نے تو ہندوستانی مسلمان کو بھی ہندو ہی لکھا ہے ۔ ہمارے اس  ہندو تمدن کا  سب سے بڑا گواہ  ہمارا ذات پات کا مروجہ نظام  ہے  جو منو سمرتی سے ماخوذ ہے  جس میں منو نے  ہندوؤں کو چار ذاتوں میں بانٹا ہے جو علیٰ الترتیب  برہمن، کھشتری، ویش اور شودر یا اچھوت ہیں۔ اور اسی پیٹرن پر ہمارے یہاں دہقانی معاشرے میں چودھری اور کمّی کی تقسیم ہے  جبکہ اب جدید شہروں میں یہ  تقسیم اشرافیہ اور غُربافیہ  کی شکل اختیار کر رکھی ہے اور اشرافیہ اپنے سوشل سٹیٹس کو اپنی شناخت اور اعزاز سمجھتی ہے ۔ یہ تقسیم آئے دن ضرب کھا کر  عوامی سطح پر  مزید خانوں میں بٹتی چلی جا رہی ہے۔

جدید پاکستانی معاشرے میں خود کو کمی طبقے سے شناخت کرنا  عیب سمجھا جاتا ہے اور لوہار کے بیٹے خود کو کسان کی اولاد کہلونا پسند کرتے ہیں تاکہ زمینداری کے سُرخاب کا پر اُنہیں نفسیاتی  تسکین دے سکے، حالانکہ لوہار ہونا اعزاز کی بات ہے کیونکہ اللہ کے ایک پیغمبر داؤود علیہ السلام کا یہی پیشہ تھا۔  اگر ہم اس  صورتِ حال کو خطبہ حجتہ الوداع  کی روشنی میں دیکھیں  تو ہمیں گورے کالے، عربی عجمی اور آقا اور غلام کے درمیان امتیاز روا رکھنے منع کیا گیا ہے کیونکہ تمام مسلمان اپنے رب العالمین کے حضور ایک ہیں:

نہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نواز

ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود و ایاز

مگر آج کی نام نہاد مسلمان معاشرت میں  اشرافیہ اور غُربافیہ کا آپس میں اخوت کا رشتہ ممکن ہی نہیں رہا۔ مثال کے طور پر شہباز شریف خود کو خادمِ اعلیٰ کہتے ہیں کیونکہ نبی ﷺ کا ارشاد ہے کہ  سید القومِ خادمہم ۔ کہ قوم کا سردار قوم کا خادم ہوتا ہے  اور اگر ایسا ہے تو قوم کے ہر فرد اور خادم کا معیارِ زندگی ایک ہونا چاہیے مگر  لاہور کی گوالمنڈی کے اک عام  شہری کا  خُدامِ عوام سے  اخوت کا حقیقی رشتہ  نہیں ہے  بلکہ یہ ایک فرضی رشتہ ہے  جو باتوں باتوں میں  ہی اپنی موت مرجاتا ہے۔ ایسے میں جب ہم مدینے کی ریاست کی بات کرتے ہیں تو خود اپنے ہی مونہہ پر تھپڑ مارتے ہیں ۔ ایسے دعاوی پر تو وہ پنجابی کہاوتیں صادق آتی ہیں جن میں کہا گیا ہے:

ذات دی کوڑھ کُرلی تے چھتیراں نوں جپھے

یا ایک اور کہات میں کہا گیا ہے: اُتّوں میاں تسبی تے وچوں میاں کسبی

اردو زبان میں بھی اسی قسم کے  متعدد اظہار ہیں جیسے:

شکل مومناں، کرتوت  کافراں

یہ محاورے، کہاوتیں اور ضرب الامثال  عوامی سوجھ بوجھ کی نشانیاں ہیں  مگر ہمارا  معاملہ من حیث الانسان  یہ ہے کہ ہم  نسیان کے  عارضے  میں مبتلا ہیں ۔ یہ وہ وائرس ہے جو ڈینگی اور کوویڈ  سے بھی خطرناک ہے جس نے ہمارے مذہبی وجود کو  بیمار کرکے رکھ دیا ہے اور یہ وائرس ہمارے کردار کو کھاتا چلا جاتا ہے۔  نسیان نے ہمیں  فاتر العقل بنا دیا ہے۔  اور جب ہم کوئی کام کرنے لگتے ہیں تو بھول جاتے ہیں کہ خُدا حاضر و ناظر ہے اور وہ ہمارے کرتوتوں کو دیکھ رہا ہے۔ ہم خُدا کی موجودگی میں بلکہ خُدا کے مونہہ پر  جھوٹ بولتے ہیں،  اور ہمیں بالکل بھی شرم نہیں آتی۔  پھر شیطانی چرخہ گھومنے لگتا ہے اور ہم  اپنے جھوٹ کو تحفظ دینے  اور  کوے کو ہنس ثابت کرنے کے لیے  طرح طرح کی دلیلیں گھڑتے ہیں  اور چیونٹی کو ہاتھی بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔

ہم نے جس معاشرے میں  آنکھ کھولی اور پروان چڑھے  وہاں اوپر کی کمائی کا جھونگا ہمیشہ ہمارے رزق کا حصہ رہا ہے۔  اسی اوپر کی کمائی نے ہمیں کُنڈے لگا کر بجلی چوری کرنے کی ترغیب دی ، اشیا اور ادویات  میں ملاوٹ  کرنا سکھایا اور ہمیں یاد نہ رہا کہ ملاوٹ کرنا نبی ﷺ کی اُمت سے اخراج کا پرمٹ ہے۔ ملاوٹ کرنے والا لا اُمتی  ہے۔ بہن اور بیٹی کا وراثت میں حق  غصب کرنے کی پٹّی پڑھائی  اور برسوں کی اس گمراہی  اور غلط روی نے  ہمارے کفر کو اسلام بنادیا ہے۔  لیجیے، مجھے ایک شاعر یاد آ گیا:

تحقیق کی باتیں ہیں یہ الہام نہیں ہے

مُلّا ہیں بہت شہر میں، اسلام نہیں ہے

اب میرا سوال یہ ہے کہ جب نبی ﷺ  کے احکامات پر سو فیصد عمل نہیں کرتے تو ہم سو فیصد مسلمان نہیں ہیں  بلکہ جزوی یا نمائشی مسلمان ہیں  کیونکہ قرآن نے  واضح کر رکھا ہے  کہ کتاب اللہ کے ایک حصے کو ماننا اور دوسے حصے سے انکار کفر کے ذیل میں آتا ہے اور ہم کفر کی انہی زمینوں کے ذیلدار ہیں  مگر ہمارا دعویٰ ہے کہ  ہم اُمتِ خیر ہیں  اور سب سے بیترین اُمت ہیں۔  ہم اپنے ہر گناہ اور جرم کا اقرار کر کے دعویٰ کرتے ہیں  کہ:

خوار ہیں، بد کار ہیں، ڈُوبے ہوئے ذلت میں ہیں

کچھ بھی ہیں لیکن ترے محبوب کی اُمّت تو ہیں

لاحول ولاقوۃ۔  ہمیں اس قسم کی ژاژ خائی  کرتے ہوئے یاد ہی نہیں رہتا  کہ محبوبِ خُدا ﷺ کی اُمت خوار، بدکار اور ذلت میں ڈوبی ہوئی ہو ہی نہیں سکتی۔ بلکہ وہ نیک  اور عزت مند ہوتی ہے۔  اور  بے چارے غریب مسلمان  اس پاکستان کی تلاش میں در بدر  پھر رہے ہیں  جہاں سچ مچ اسلام نافذ ہے۔

loading...