انصاف کا مقتل

پاکستان سچ مچ ایک معجزہ ہے۔ یہ وہ ملک ہے جو 1971 سے وہ نہیں رہا جو 1947  میں تھا ۔ سقوطِ ڈھاکہ کے بعد اس کی ایک آنکھ، ایک کان، ایک بازو اور ایک ٹانگ  کٹ گئی مگر ہم نے اس آدھے کو پورا ہی مان لیا  اور یہی ہمارے تصورِ انصاف کی بنیاد ہے کہ ہم ہر آدھے کو پورا سمجھتے چلے آتے ہیں۔ 

صفائی جو ہمارا نصف ایمان ہے مگر ہم  اُس کو بھی صفائی کے بغیر پورا سمجھتے ہیں ۔  ہمارا تصورِ انصاف یہ ہے کہ ہم نصف کو پورا سمجھتے ہیں۔  اعدادوشمار کو سامنے رکھا جائے  تو مشرقی پاکستان اکثریتی  بازو یا صوبہ تھا  جس کے الگ ہو جانے کے بعد مغربی  پاکستان اقلیتی صوبہ رہ گیا  مگر ہم نے اُسے پورا اکستان تسلیم کر لیا۔  یہ وہ طفل تسلی ہے جو سن اکہتر سے ہم خود کو دیتے چلے آ رہے ہیں  اور ہم اپنی طفل تسلی پر صدقِ دل سے قائم ہیں۔  بالکل اسی طرح جیسے ہم اسلام کے دعویدار ہیں مگر  ہمارے ہاں وہ مسلمان موجود نہیں  جس کے اخلاق، گردار اور طرزِ تکلم سے  خُلقِ محمدی ﷺ کی مہک آتی ہو۔  جیسے ہمارے ہاں تحریکِ انصاف تو موجود ہے مگر  انصاف کہیں نہیں۔ ہمارے یہاں کے منصف صاحبان  جنہیں انگریزی میں جج کہا جاتا ہے، سو موٹو کے چمپیئن ہیں  مگر کبھی کسی جج نے  خطِ غُربت سے نیچے سسکتے  اور فاقوں مرتے  لوگوں پر سوموٹو نہیں لیا۔  اور شاید اس لیے کہ اُن کے اپنے کچن خواک کی افراط  سے سرشار ہیں ۔ ان کی گاڑیاں سرکاری پٹرول پیتی ہیں  اور رہنے کے لیے سرکاری بنگلے موجود ہیں  مگر اُنہیں عام لوگوں کو انصاف مہیا کرنے کی فکر نہیں۔

ججوں کا یہ  کردار کوئی نئی بات نہیں۔ ہر عہد میں اسلام کی چھتر چھاؤں میں  ایسے جج موجود رہے ہیں جن کے بارے میں کسی غالبِ جدجد نے کہا تھا:

ہیں یہ منصف کچھ نظر آتے ہیں کچھ

دیتے ہیں دھوکہ یہ  بازی گر کھلا

میرے مرشد مُلا نصرالدین نقشبندی نے  ایک ایسے ہی جج کا قصہ بیان کیا  ہے جو شہر بھر میں عدل و انصاف  بانٹنے والا ہیرو  مشہور تھا۔ ہوا یوں کہ ایک رات ملا نصر الدین  جب پڑوس کے شہر سے واپس گھر لوٹ رہے تھے تو اُنہوں نے دیکھا کہ  شہر کا چیف جسٹس  شہر کے باہر درختوں کے ذخیرے میں  شراب کے نشے میں دھت پڑا ہے  اور  اُس کا گھوڑا پاس کھڑا جج صاحب کو حیرت سے دیکھ رہا ہے۔  جج صاحب کی دستار اور  جُبّہ زمین پر پڑے  جج صاحب کو بد دعائیں دے رہے ہیں۔  مُلا جی جج صاحب کو پکارا تو  جج کے گلے سے غُراہٹیں سنائی دیں  اور انہوں نے ملا کو دھتکار دیا۔  چنانچہ مُلا نے جج کو تو نظر انداز  کردیا  مگر اُس کا جبہ اور دستار کمال عقیدے سے بوسہ دے کے اُٹھا لیے اور لے کر گھر چلے گئے۔  جب صبح  کے وقت جج صاحب کا نشہ ہرن ہوا اور وہ جاگے تو اپنے اردگرد  جبہ اور دستار نہ پا کر گھبرا تو گئے مگر ہمت کر کے گوڑے پر سوار گھر چلے گئے۔ صبح کے وقت جب عدالت جانے کی گھڑی آئی تو  نئی دستار اور نیا جبہ زیبِ تن کیا اور  عدالت میں جلوہ افروز ہوئے اور اپنے روبکار سے کہا کہ اُن کی دستار اور جبہ چوری ہو گئے ہیں  تو روبکار نے اطلاع دی کہ وہ دونوں چیزیں ملا نصرالدین زیبِ تن کیے شہر میں پھر رہے ہیں۔

 جج صاحب نے حکم دیا کہ ملا نصرالدین کو گرفتار کر کے پیش کیا جائے۔  چنانچہ  حکم کی تعمیل ہوئی اور مُلا جی  عدالت میں پیش کیے گئے۔ جج نے مُلزم مُلا سے پوچھا کہ  یہ پگڑی اور جُبہ کس کے ہیں  تو ملا جی نے بیان میں کہا کہ جناب جس شہر میں آپ جیسا منصف ہے وہاں ایک جاہل، نا ہنجار شراب کے نشے میں یوں دھت پڑا تھا کہ اسے تن بدن کا ہوش نہ تھا۔ یہ جبہ اور دستار ہوا کے دوش پر اڑتے پھر رہے تھے، میں نے یہ اس لیے سنبھال لیے کہ کہیں کوئی چور انہیں نہ لے جائے اور اب میں ان کے مالک کی تلاش  میں شہر میں پھر رہا تھا کہ مجھے پیادے پکڑ کر یہاں لے آئے۔  یہ سُن کر جج صاحب نے ملا کو رہا کردیا اور وہ جبہ و دستار جیت کر گھر لوٹ گئے۔ ایسا ہوتا ہے انصاف۔ اور مُلا کے جانے کے بعد جج صاحب انصاف تقسیم کرنے میں لگ گئے۔

ایسی ہی ایک حکایت شیخ سعدی نے بھی رقم کی ہے کہ کسی شہر میں مسندِ عدل پر ایک بڑا خُدا ترس جج پر متمکن تھا۔وہ اتنا عادل  اور رحمدل تھا کہ چلتا بھی ننگے پاؤں تھا کہ کہیں کوئی چیونٹی بھی اُس کا جوتے کے تلوے  کی ضرب سے ہلاک نہ ہو جائے۔  لیکن اُس شہر کا المیہ یہ تھا  کہ شہر میں بچے گم ہوجایا کرتے تھے اور پھر ان مسنگ چلڈرن کا کوئی سراغ نہ ملتا۔  لوگ بے حد پریشن تھے۔ کچھ والدین ایک درویش کے پاس پہنچے اور اُس کے آگے رونا رویا کہ گم شدہ بچے نہیں ملتے۔ آپ دعا فرمائیے کہ وہ بلا جو نازل ہو کر بچوں کو اُٹھا لے جاتی ہے۔ اُس سے چھٹکارا مل جائے۔  اس پر درویش نے کہا کہ اپنے جج کی تلاشی لو تو بچے مل جائیں گے۔ چنانچہ مظلوم والدین نے پولیس کی سربراہی میں جج صاحب کے گھر پر چھاپہ مارا تو  اور  جج ہاؤس کی تلاشی لی گئی تو اس گھر کے نیچے ایک تہ خانہ ملا جس میں کچھ بچے زندہ اور کچھ کی ہڈیاں مل گئیں۔  اور اس طرح شہر والوں پر انصاف کا راز افشا ہوگیا۔

ہمارے ہاں بھی کچھ ایسی ہی صورت حال ہے  اور ہم نہیں جانتے کہ کوئی ملا نصرالدین یا کوئی درویش ان منصفوں کی منصفی کے  راز کا پردہ فاش کر سکے گا یا نہیں یا یہ ملک یونہی انصاف کا مقتل بنا رہے گا۔ اب آخر میں ایک  غزل پیش کرتا ہوں:

گورکنوں اور کفن فروشوں کی بستی ہے

قبریں مہنگی ہیں پر موت بہت سستی ہے

آدم خورہیں اک دوجے کو کھاتے ہیں ہم

عفریتوں کے اس میلے میں کیا مستی ہے

چاٹ رہی ہے جو دھرتی کی دیواروں کو

وہ یاجوج علیٰ ماجوج سی اک ہستی ہے

ان شہروں کی قسمت میں پہلے ہی دن سے

ظُلم، تشدد، دہشت اور چیرہ دستی ہے

جیون ایک صراط ہے بس تم چلتے جانا

یہی بلندی ہے مسعود یہی پستی ہے

loading...