اپنے ہیروز کو اپنوں سے بچائیں

ہم سب کے اپنے اپنے ہیروز ہوتے ہیں۔ لفظ ہم سے میری مراد ہے مسلمان، ہندو، سکھ، عیسائی، یہودی وغیرہ وغیرہ۔سب کے اپنے اپنے ہیروز ہوتے ہیں۔

ہمارے ہاں لفظ ہیرو کو شوبز سے منسوب کردیا گیا ہے۔ لفظ ہیرو سنتے ہی ہمارے ذہن میں فلموں کے ہیرو ابھر آتے ہیں۔ ٹیلی وژن ڈراموں میں مرکزی کردار کرنے والوں کی شکلیں دکھائی دینے لگتی ہیں۔ اچھل کود کرکے گانے اور ناچنے والوں کے پروگرام خیالوں میں ٹیلی کاسٹ ہونے لگتے ہیں۔ اس نوعیت کے ردعمل نے لفظ ہیرو کے معنی اور مفہوم کو سطحی کردیا ہے۔ حالانکہ لفظ ہیرو ان کے لیے موزوں اور موافق ہوتاہےجوکچھ غیر معمولی کر دکھاتے ہیں۔ مثال کے طور پر کرکٹ کے کھیل میں وکٹ کیپر بیٹس مین کے طور پر امتیاز احمد میرے ہیرو ہیں۔

آج کل کے میچز میں محمد رضوان کو بیٹنگ اور وکٹ کیپنگ کرتے ہوئے دیکھ کر مجھے میرے ہیرو امتیاز احمد بہت یاد آتے ہیں۔ میں نے ان کو کھیلتے ہوئے دیکھا تھا۔ کھیل کے میدان کے علاوہ میں نے ان کو روزمرہ کی زندگی میں دیکھا تھا۔ ان کے بارے میں بہت کچھ جاننے کے لیے میں نے تحقیق کی تھی۔ مطالعہ کیا تھا۔ وہ مجھے اس قدر اچھے لگتے تھے اور آج تک اچھے لگتے ہیں کہ لگتا ہے کہ میں ان کی قربت میں،ان کے سایے میں زندگی گزار رہا ہوں۔ مجھے اس بات کا احساس رہتا ہے کہ میں ایسا کام نہیں کروں جو امتیاز احمد نہیں کرتے تھے۔

آج سے ساٹھ ستر برس پہلے جب امتیاز احمد کرکٹ کھیلا کرتے تھے تب ڈیجیٹل ڈیوائسز کا کھیلوں میں عمل دخل نہیں ہوتا تھا۔ فاسٹ بالرز کی گیند پر بیٹس مین کو ایل بی ڈبلیو قرار دینا، یا وکٹ کیپر کے ہاتھوں کیچ ہونے کی اپیل کے بعد امپائر کا بیٹس مین کو آؤٹ دینا مشکل کام ہوتا تھا۔ اگرکبھی گیند امتیاز احمد کے بیٹ کو چھوکر وکٹ کیپر کے ہاتھوں میں چلی جاتی تو وہ ایک لمحے کے لیے وکٹ پر نہیں ٹھہرتے تھے۔ امپائر کے فیصلے سے پہلے خود پویلین کی طرف روانہ ہوجاتے تھے۔

بے انتہا عقیدت اور احترام کے باوجود میں نے کبھی غیر منطقی باتیں امتیاز احمد سے منسوب نہیں کی ہیں۔ اس دور کے لوگوں نے اڑا رکھا تھا کہ امتیاز جب کور ڈرائیو کرتے

 ہاک تھے تب گیند ٹیڑھی کردیتے تھے اور امپائرز کو کھیل روک کر گیند بدلنی پڑتی تھی۔ ایسی مافوق الفطرت باتیں امتیاز احمد کے ساتھ منسوب کرنا مجھے تب بھی اچھا نہیں لگتا تھا اور اب بھی اچھا نہیں لگتا ہے۔ اڑانے والوں نے یہ بھی اڑا رکھا تھا کہ امتیاز احمد جب چھکا لگاتے تھے تب گیند گراؤنڈ سے باہر روڈ راستوں پر جاگرتی تھی۔ کھڑی ہوئی اور چلتی ہوئی گاڑیوں میں ڈینٹ ڈال دیتی تھی۔ یہ بھونڈی اور احمقانہ باتیں ہیں۔ اس نوعیت کے نامعقول اور ناروا قصوں سے آپ اپنے ہیرو کا قد کاٹھ نہیں بڑھاتے۔ بلکہ آپ اپنے ہیروز کی تضحیک کرتے ہیں۔ لوگوں کو اپنے ہیرو پر ہنسنے کا موقع دیتے ہیں۔ کچھ لوگ اس قدر آگے بڑھ جاتے تھے کہ بغیر کسی جھجک کے دعویٰ کرتے تھے کہ امتیاز احمد حکیم اور طبیب بھی تھے۔ ان کے ہاتھ میں کراماتی شفا تھی۔ بیماروں کافی سبیل اللہ علاج کرتے تھے۔

ایک ہیرو کوچاہنے والوں میں کچھ پڑھےلکھے، دانشور، پروفیسر، ڈاکٹر، انجینئر، سائنسدان، ادیب، شاعر اور فہم و ادراک کے دھنی ہوتے ہیں۔ اور بہت بڑی تعداد میں مجھ جیسے کم تعلیم یافتہ، ذہنی طور پر نامعقول، جو اپنے ہیرو کے بارے میں سنی سنائی، مافوق الفطرت باتوں اور قصوں پر یقین رکھتے ہیں اور منطق سے مبرا کارناموں پر اندھا اعتبار اور اعتقاد رکھتے ہیں۔ وہ ناقابل فہم باتوں کو مرچ، مسالے لگا کر آگے بڑھاتے ہیں۔ اپنے گھڑے ہوئے قصے کہانیوں کو معتبر سمجھتے ہیں۔ چھوٹا موٹا شک ظاہر کرنے والے کواپنے ہیرو کا دشمن اور مخالف سمجھتے ہیں اور اسے سبق سکھانے اور ٹھکانے لگانے کے درپے ہوجاتے ہیں۔

ہیرو کے کم پڑھے ہوئے معتقد اور چاہنے والے تعداد میں اس قدر زیادہ ہوتے ہیں کہ ہیرو کے پڑھے لکھے، معتبر، دانشور معتقد ان کو، منطق سے مبرا باتوں سے منع کرنے کی جرات نہیں رکھتے۔ وہ ان پڑھ یا کم پڑھے لکھے معتقدوں کو قائل نہیں کرسکتے کہ وہ اپنے ہیرو کے بارے میں مبالغے سے کام نہ لیں۔ آپ سمجھنے بجھانے کی خاطر ان سے یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ لغو باتیں ہیں کہ امتیاز احمد جب بیٹنگ کرنے آتے تھے تب لوگ اپنی گاڑیاں اسٹیڈیم سے بہت دور پارک کرتے تھے کیوں کہ امتیاز احمد جب چھکا لگاتے تھے تب لامحالہ گیند اسٹیڈیم کے گرد ونواح میں پارک گاڑیوں پرجاگرتی تھی اور گاڑیوں میں ڈینٹ ڈال دیتی تھی۔ بڑھاوے کی باتوں سے روکنے پر وہ مرنے مارنے پر اتر آتے ہیں۔ وہ اب بھی ایک دیو مالائی بات پر اعتبار کرتے ہیں کہ کئی مرتبہ جب امتیاز احمد نے چھکا لگایا تھا، تب گیند لوٹ کرزمین پر آنے کے بجائے آسمانوں میں غائب ہوجاتی تھی۔

معتقدوں نے علامہ اقبال کو اس قدر سیاست میں گھسیٹا ہے کہ ان کی حیثیت بطور شاعر معدوم ہوکر رہ گئی ہے۔ عام آدمی کے لیے وہ صرف سیاستدان ہوکر رہ گئے ہیں۔ وہ اس اقبال کو نہیں جانتے جس نے کہا تھا: ’ تورہ نورد شوق ہے، منزل نہ کرقبول/ لیلی بھی ہم نشیں ہوتو محمل نہ کر قبول۔

کئی مرتبہ ایسا بھی ہوتا رہا ہے کہ ہیرو کی شہرت سے متاثر ہوکر مجھ جیسے کم علم اس کے معتقد ہوجاتے ہیں۔ ان کے بارے میں سنی سنائی باتوں کو مرچ مسالے لگا کر آگے بڑھاتے رہتے ہیں۔ ایک معتقد وجدانی کیفیت میں لوگوں کو بتارہے تھے کہ خلیل جبران روزے نماز کے پابند تھے، تہجد گزار تھے۔ کئی مرتبہ حج اورعمرے کی سعادت حاصل کرچکے تھے۔ ان کا اخلاص اور اخلاق دیکھ کر کئی عیسائی اور یہودی مسلمان ہوگئے تھے۔ اللہ کے کسی بندے نے انکے کان میں کہا: ’ بھائی صاحب، خلیل جبران عیسائی تھے‘۔

کچھ بعید نہیں کہ ایسے معتقد ہمیں قائل کردیں کہ قائد اعظم بہت بڑے پہلوان بھی تھے۔ انہوں نے اپنے دور کے بڑے بڑے پہلوانوں کو پچھاڑ ڈالا تھا۔ اللہ ہمیں اور ہمارے ہیروز کو اپنی پناہ میں رکھے۔

(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

loading...