کسی میں تو دم ہے

آج کل لگاتار اچھی خبریں سننے کو مل رہی ہیں۔ اچھی خبروں میں ایک اعلیٰ خبر یہ بھی سننے کو مل رہی ہے کہ عدالتِ عظمیٰ نے ناجائز تجاوزات اور سرکاری زمینوں پر تعمیراتی مافیا نے جو عمارتیں تعمیر کی ہیں، ان کو گرانے کا حکم دے دیا ہے اور اس کے ساتھ متروکہ املاک پر قبضوں کا سختی سے نوٹس لیا ہے۔

متعلقہ اداروں سے کہا گیا ہے کہ وہ متروکہ املاک پر قبضوں کی ایک معتبر فہرست عدالتِ عظمیٰ کو پیش کریں۔ میں سمجھتا ہوں کہ کراچی میں مشہور زمانہ ہندو جم خانہ پر قبضہ کے خلاف درخواست کی سماعت کے دوران متروکہ املاک پر بےدریغ قبضوں کا معاملہ عدالتِ عظمیٰ کے نوٹس میں آیا ہے۔ بٹوارے سے پہلے برصغیر میں ایسی کوئی واردات رونما نہیں ہوتی تھی جس سے انسانیت کا سر شرم سے جھک جائے مگر بٹوارے کے بعد برصغیر کا حال قابل ستائش نہیں ہے۔ آزادیٔ اظہار کی سرحدوں کا مجھے بخوبی علم ہے۔ برصغیر میں آئے دن ہمیں سننے اور دیکھنے کو ایسی ایسی وارداتیں مل رہی ہیں کہ انسانیت کا سر ہمیشہ کیلئے جھک گیا ہے۔مگر اب بھی برصغیر میں کچھ گنتی کے لوگ ایسے ہیں جو ناجائز کو جائز بنانے والوں کے لئے مزاحمت کا بہت بڑا سبب بن کر سامنے آ رہے ہیں۔

اسی حوالے سے کراچی میں ہندو جم خانہ پر ناجائز قبضہ کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ اول تو ہندو جم خانہ متروکہ املاک نہیں ہے، کیونکہ ہندو جیم خانہ ہندو کمیونٹی کی املاک ہے۔ مختلف اداروں کے ہتھے چڑھنے کے بعد سندھ حکومت نے ہندو جم خانہ پر قبضہ کرلیا تھا۔ جنرل مشرف کے دور میں سندھ سرکار نے پانچ ہزار روپے ماہانہ کرائے  پر ہندو جم خانہ ایک پرائیویٹ ادارے کے حوالے کردیا تھا۔ ہندو جم خانہ اب تک ان کے استعمال میں ہے۔ معاملہ عدالتِ عظمیٰ کے زیر غور ہے۔یہاں پر میں ایک چونکا دینے والے نکتہ کی طرف عدالتِ عظمیٰ کی توجہ مبذول کروانا چاہتا ہوں۔ میں کراچی کے عمر رسیدہ رہے سہے گنتی کے آخری چند لوگوں میں سے ایک ہوں۔ میں چشم دید گواہ ہوں۔ ہندو جم خانہ مختصر مگر دیدہ زیب عمارت تک محدود نہیں تھا۔ جیم خانہ کے پچھواڑے میں ایک پویلین ہے۔ پویلین کے سامنے ہندو جم خانہ کا عالیشان وسیع و عریض کرکٹ گراؤنڈ ہوتا تھا۔ یہ وہی گراؤنڈ تھا جہاں پر سندھ کے پہلے ٹیسٹ کرکٹر جے ناؤمل کھیلا کرتے تھے۔ وہ 1926کی آل انڈیا ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کے ممبر تھے۔ تب کراچی میں مختلف ثقافتوں اور عقیدوں کے لوگ رہتے تھے۔ ان کی اپنی اپنی کرکٹ ٹیمیں اور کرکٹ گراؤنڈ ہوتے تھے۔

مثلاً ہندو جم خانہ کے قریب مسلم جیم خانہ ہوتا تھا بلکہ اب بھی ہے مگر وہاں کرکٹ میچز نہیں بلکہ شادیاں ہوتی ہیں۔ پارسیوں کا کرکٹ گراؤنڈ کراچی پارسی انسٹیٹیوٹ میں ہوتا تھا۔ پارسی ٹیم نے پاکستان کی پہلی کرکٹ ٹیم کو اوپننگ بیٹس مین روسی ڈنشا دیا تھا۔ اسی پارسی گراؤنڈ پر فرسٹ کلاس کرکٹ میچ میں 499رن بنا کر حنیف محمد نے عالمی ریکارڈ قائم کیا تھا، جو کئی برس بعد ویسٹ انڈیز کے کرکٹر برائن لارا نے 500رن بنا کر توڑا تھا۔ بین الصوبائی میچز کے لئے سندھ کرکٹ ٹیم میں مسلمان، ہندو، پارسی اور عیسائی ٹیموں کے چیدہ چیدہ کھلاڑی شامل ہوتے تھے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ قبضہ مافیا کھیلوں کے میدانوں پر قبضہ جمانے کے بعد اپنے استعمال میں لے آئے ہیں۔ ممبئی کے مشہور زمانہ آزاد میدان کی طرح کراچی کے پاس پولو گراؤنڈ ہوا کرتا تھا۔ نام تو پولو گراؤنڈ تھا، مگر وہاں پر بے شمار نوعمر اور نوجوان کرکٹ کھیلا کرتے تھے۔ اب وہاں پبلک پارک کے نام پر جو کچھ بھی بنا ہوا ہے، وہ پارک نہیں ہے۔

صدر کراچی میں جہانگیر پارک کے نام سے کرکٹ گراؤنڈ ہوا کرتا تھا جہاں دس ٹیمیں پریکٹس کرتی تھیں۔ ہفتہ وار میچز منعقد ہوتے تھے۔ رانجی ٹرافی کی طرح کراچی کے اسکولوں کے درمیان ہونے والے روبی شیلڈ کرکٹ ٹورنامنٹ کے زیادہ تر میچز جہانگیر پارک کے علاوہ کراچی پارسی انسٹیٹیوٹ مسلم جیم خانہ کراچی کوئن ایسوسی ایشن گرائونڈ اور ہندو جم خانہ میں کھیلے جاتے تھے۔ حنیف محمد، مناف، اکرام الٰہی، والس میتھائس، خالد وزیر، انتخاب عالم اور دیگر نامور کھلاڑی روبی شیلڈ سے ابھر کر سامنے آئے تھے۔ کراچی کوئن کرکٹ گرائونڈ، پرانی نمائش کے قریب ہوا کرتا تھا۔ اب وہاں پر نہ جانے کیا بنا ہوا ہے۔ صدر میں جہانگیر پارک کرکٹ گراؤنڈ مغل شہنشاہ جہانگیر سے منسوب نہیں تھا۔

یہ کرکٹ گراؤنڈ کراچی کے پارسی سخی جہانگیر کوٹھاری نے بنوایا تھا۔ انہوں نے ہی کلفٹن کا مشہور گنبد سرخ راجستھانی پتھر کی سیڑھیاں اور پاتھ وے راہ داری بنوائی تھی۔ اب جہانگیر پارک میں باغیچہ بنایا گیا ہے جہاں مختلف مافیاؤں کا سایہ منڈلاتا رہتا ہے۔ کراچی کامرس کالج کے کرکٹ گراؤنڈ پر پولیس نے قبضہ جما رکھا ہے۔ صدر کے علاقے سے غلط پارکنگ کی وجہ سے اٹھائی گئی گاڑیوں پر جرمانے کی لین دین کا کاروبار کامرس کالج کے کرکٹ میں چلتا رہتا ہے۔سر، ہندو جم خانہ کے کرکٹ گراؤنڈ پر سندھ سرکار نے پاکستان بننے کے فوراً بعد قبضہ کرلیا تھا۔ اب وہاں تین منزلہ بھدی عمارتوں کا جنگل بنا ہوا ہے، جہاں کراچی پولیس کی نفری رہتی ہے۔

گراؤنڈ کے احاطے میں ڈی آئی جی ٹریفک اور عورتوں کا تھانہ بھی کام کر رہا ہے۔ سر، یہ سینکڑوں فلیٹ متروکہ نہیں، بلکہ ہندو کمیونٹی کی املاک پر بنے ہوئے ہیں۔

(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

loading...