مذہبی منافرت اور تشدد کا کلچر

ہم من حیث القوم خُدا اور رسول ﷺ کے مجرم ہیں کیونکہ ہم نے ایک ایسا غیر مذہبی  معاشرہ تعمیر کیا ہے جو اقرار باللسان  پر قائم ہے   اور جس میں بد قسمتی سے  تصدیق بالقلب کی کوئی گنجائش نہیں۔  اور اس جہالت اور گمرہی میں ہم سب شریک ہیں کیونکہ ہم سب منافقت کی کشتی کے سوار ہیں۔

ہم مذہب کے نام پر اس لیے بد امنی پھیلاتے ہیں تاکہ اس کو چھپانے کے لیے اسلام کے امن کا دین ہونے  کا ثبوت مہیا کر سکیں۔  سبحان اللہ لیکن ہم  کون ہیں اور کیاہیں۔ قرانِ کریم نے نے انسانون کو جس  تین طبقوں میں تقسیم کیا ہے، ہم اُن میں سے کس ذیل میں آتے ہیں؟  وہ تین طبقے مومن، مناافق اور کافر کے ہیں اور ہماری  شناخت قرآن کے اس بیانیے سے  ہوتی ہے:

(حوالہ) اور بعض لوگ ایسے ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ ہم  خدا اور روزِ آخرت پر  ایمان رکھتے ہیں حالانکہ وہ  ایمان نہیں رکھتے۔ یہ  خُدا اور  مومنوں کو دھوکہ دیتے ہیں مگر یہ اپنے سوا کسی کو دھوکہ نہیں دیتے۔ البقر۔ ۸،۹

جب ناموسِ رسول ﷺ کے ضمن میں ہم اپنے  طرزِ عمل  کا جائزہ لیں اور اپنے معاشرے مین رائج رویوں اور لوگوں کے طرزِ عمل کو دیکھیں تو واضح ہوگا کہ ہم نبی ﷺ کے احکامات کی تو پابندی تو کرتے نہیں مگر  نعروں اور جذباتی اظہار میں نبی ﷺ پر وارے اور   صدقے ہونے میں کوئی کسر اُٹھا نہیں رکھتے ۔ ہم اُس بگڑے ہوئے بچے کی طرح ہیں جو اپنے باپ سے ہتا ہے کہ  ابا جی، میں آپ کی بڑی عزت کرتا ہوں مگر آپ کا کہنا نہیں مان سکتا۔ بالکل اسی طرح  ہم نبی ﷺ پر اپنی جان اور اپنا مال قربان کرنے کا  دعویٰ تو کرتے ہیں مگر نبی ﷺ کے احکامات  کو بڑے بے شرمی اور بے غیرتی سے  رد کر دیتے ہیں۔ ہمارے اس معاشرتی طرزِ عمل  کا  منظر نامہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اس کی چند چیدہ مثالیں دیکھیے:

۱۔ نبی ﷺ کا ارشاد ہے کہ اپنے مسلمان بھائی سے مسکرا کر ملنا صدقہ ہے اور ہمارے علماء کی اکثریت  بھی اتنی غریب ہے کہ وہ یہ صدقہ نہیں دے پاتی بلکہ اس کے بر عکس عام مسلمان سے ملتے ہوئے چہرے پر خشونت پہن لیتی ہے ، کیونکہ وہ  خود  اپنی ذات میں فرعون بن چکے ہوتے ہیں۔

۲۔ نبی ﷺ کا ارشاد ہے کہ الراشی و المرتشی فی النار کہ رشوت لینے  اور رشوت  دینے والے دوزخی ہیں اور ایک دوزخی معاشرے کے  لوگ ایک طرف نبی ﷺ کے حکم کی انتہائی بے شرمی سے  خلاف ورزی کرتے ہیں اور دوسری طرف اپنی جہالت کا ڈھول پیٹتے  عاشقِ رسول ﷺ کا تاج اپنے سر پر سجا لیتے ہیں۔

۳۔ اشیا میں ملاوٹ کرنے والے کو نبی ﷺ نے اپنی اُمت سے خراج کردیا ہے مگر یہی لا اُمتی، نبی ﷺ کے  خود ساختہ  محافظ بن کر فساد پھیلاتے ہیں۔  اور یہ نہیں جانتے کہ اللہ کی زمین پر فساد پھیلانا گناہ ہے۔  مگروہ کم فہم لوگ اپنے پاپ کو  پُن  اور گناہ کو  راستبازی سمجھتے ہیں اور یہ ایک جاہل معاشرے کی کھلی نشانی ہے۔

یہ معاشرہ ایک بے لگام بھیڑ ہے جس کا ہر شخص، عالم، مفتی، منصف اور جلاد بنا پھرتا ہے۔  بیشتر لوگ ایک دوسرے کے  فرقہ واریت کی بنیاد پر دشمن ہیں اور عورتوں اور کم سن بچوں پر ظُلم کرنے میں یہ بھیڑ سے سے آگے  بلکہ  سرِ فہرست ہے۔  یہ وہ  معاشرہ ہے جہاں لوگ  قانون اور لا قانونیت کے درمیان فرق کرنا نہیں جانتے۔  وہ یہ نہیں جانتے کہ قانون کی پابندی ہی  مسلمان اور انسان ہونے کی بنیادی شرط ہے َ اس ضمن مین قرآن نے واضح کیا ہے کہ قانون شکنی ظُم ہے:  سورہ ء بقر میں اُس پہلے قانون کو ذکر ہے جو ہمارے جد امجد اادم علیہ السلام کو دیا گیاتھا اور اُس کی اولاد کو اس کا امین ٹھیرایا تھا: کتاب اللہ میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

اور ہم نے کہا اے آدم! تم اور تمہاری  بیوی جنت میں رہو  اور جہاں سے چاہو بے روک ٹوک  کھاؤ پیو  لیکن (قانون) اُس  درخت کے پاس نہ جانا ورنہ ظالموں میں سے ہو جائیں گے۔ البقر۔۵۳

یعنی حکم قانون ہے اور قانون کی خلاف ورزی ظُلم ہے۔

اور اس سے آگے سبت والوں کے قصے میں بیان کیا گیا ہے کہ  جب اُنہیں ہفتے کے روز مچھلیاں پکڑنے سے منع کیا گیا  مگر اُنہوں نے اس قانون کی پابندی نہ کی تو اُنہیں  سزا کے طور پر بندر بنا دیا گیا۔  یعنی وہ معاشرہ جو  قانون شکنی کرتا ہے انسانی منصب کھو بیٹھتا ہے۔  اور ہر قسم کی قانون شکنی ہمارا روز مرہ ہے جس نے پاکستان کو بندرستان بنا دیا  ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ حکمران ادارے ، خواہ وہ مذہبی ہوں، عسکری ہوں، انتظامی ہوں یا عدلیہ کے ججوں پر مشتمل ہوں،  سب مل کر لاقانونیت  کے سرپرست بنے ہوئے ہیں۔ ابھی ہمارے یہاں ججوں کے حلفی بیانوں کے نام پر جو تماشہ ہو رہا ہے  وہ ہمارے منعاشرے کی بے راہروی اور غیر ذمہ داری کی روشن ترین مثال ہے۔

 ہمارے ملک میں آٹھ دس لاکھ سجدیں ہیں جن کا کام بندے کو اللہ اور اُس کے رسول سے جوڑ کر رکھنا ہے لیکن اس کے بجائے وہ لوگوں کو ایک دوسرے سے توڑ کر فرقوں میں بانٹ رہے ہیں جو ملت کی وحدت کو پارہ  پارہ کرنے کی بد ترین سازش ہے۔  اس کے نتیجے میں مسلمان مسلمان کا دشمن بن گیا ہے اور  اللہ اور رسول  ﷺکے دین کے خلاف اس سازش کو  ناموسِ رسول  ﷺ سے جوڑا جا رہا ہے۔  حالانکہ دین کا کام لوگوں کو جوڑنا ہے توڑنا ہے۔  مولانا روم کی گواہی ہے:

تو برائے وصل کردن آمدی

نے برائے وصل کردن آمدی

کہ ہمیں اس زمیں پر مل جل کر رہنے کے لیے اتارا گیا ہے، ایک دوسرے سے نفرت کرنے  اور ایک دوسرے کو متحارب گروہوں میں بانٹنے کے لیے نہیں۔ اسی لیے اللہ نے ولا تفرقوٓ کا ھکم جاری کیا کہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑے رہو اور آپس میں تفرقہ  نہ ڈالو۔  لیکن  ہم تفرقہ بازوں کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے کیا لینا دینا۔ ہم تو اپنے ہاتھ سے نوشتے لکھ کر  اللہ اور رسول ﷺ کے نام کردیتے ہیں اور ایسی ایسی افسانہ طرازی کرتے ہیں کہ عرش اعظم سے بھی تُف کی صدا سنائی دیتی ہے لیکن ہمیں کیا۔ ہم نے تو آج ہی  ملکِ خدادا میں عورتوں کو سر عام برہنہ کر کے ان کا جلوس نکالا ہے اور  اس کارِ خیر میں بڑے بڑے با ریش لوگ بھی شریک  ہوئے ہیں۔ کہو سبحان اللہ۔

ہمارے گلی کوچوں میں جس طرح  دن رات اسلام کی مقدس اقدار کی بے حُرمتی ہو رہی ہے وہ ہمارے  لیے کوئی نیک فال نہیں مگر ہم سب  اس  صورتِ حال کے آگے بے بس ہیں اور  ہم میں اتنی تاب نہیں کہ اس ملک میں کوئی مثبت تبدیلی لا سکیں۔ جون ایلیا نے کہا تھا:

یہ بستی ہے مسلمانوں کی بستی

یہاں کارِ مسیحا کیوں کریں ہم

loading...