دنیا تمہارے لیے ہی نہیں ہمارے لیے بھی تو بنی ہے

اچھے وقتوں میں صرف دسمبر کا مہینہ ہی پاکستانی مردوں اور نیم دانشوروں پر گراں گزرتا تھا اور وہ عشقیہ و ڈیڑھ عشقیہ شاعری کرتے پائے جاتے تھے۔

گزرتے وقت کے ساتھ خدا نے کلسنے کلپنے کو فروری اور مارچ بھی عطا کر دیے۔ فروری کے غم سے کسی طرح گزرے ہی تھے کہ مارچ کا صدمہ لے بیٹھا۔ اب صورت حال یہ ہے کہ اچانک ایک اجنبی نمبر سے فون آتا ہے اور اس سے پہلے کہ کچھ علم ہو آپ خود کو کسی لائیو پروگرام میں عورت مارچ پر گیان بانٹتے ہوئے پاتے ہیں۔

گیان کا پاٹ ابھی ادھورا ہوتا ہے کہ اینکر صاحب کسی جملے کو پکڑ کر سخت قسم کی ڈانٹ پلاتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ اصل میں عورت کے مسائل کیا ہیں۔ اس کے ساتھ ہی آپ پروگرام سے بیک بینی ودوگوش باہر نکال دیے جاتے ہیں۔

یہاں سے کھسیائے جب سوشل میڈیا کا رخ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ پاکستانی عورت کے بجائے اصل میں مرد مظلوم ہیں اور اُنہیں زندگی کے کسی نہ کسی موڑ پر کسی عورت نے بری طرح ہراساں کیا ہے۔ کمنٹس میں موجود لذیذ تبصروں اور رال ٹپکاتے جملوں سے اصلی تے وڈا سچ ابل رہا ہوتا ہے۔ لطف تب آیا جب ایک صاحب نے ایک سیریز کے لیے اچھوتا خیال دیا۔ ایک عورت جو کہ این جی او چلاتی ہے اور وہ بھی عورتوں کے حقوق کے لیے، مزید برآں امریکہ سے پڑھ کے آئی ہے تو یہاں آتے ہی ایک غریب، حسین اور بے روزگار نوجوان کی عزت لوٹ لیتی ہے۔

برا وہ تب مانے جب اس خیال کو سن کر بے ساختہ ہاسا نکل گیا۔ اُنہیں کم سے کم مجھ سے یہ امید نہ تھی۔ ہاسا تب بھی نہیں رکتا جب ہزار پانچ سو عورت مارچ کرنے والی خواتین سے 11 کروڑ سے بھی زیادہ خائف مرد اُنھیں ہر رنگ کی گالی دیتے ہیں۔

اس برس ایک طرف تو مسکان ڈے منانے کے نعرے لگ رہے ہیں اور دوسری طرف حکومت ہی کے کئی پلیٹ فارمز سے عورتوں کے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے والوں کو نہ صرف بڑھاوا دیا جا رہا ہے بلکہ کئی تقریبات بھی منعقد ہو رہی ہیں۔ لوگ بے چارے بھی کیا کریں؟ سالہا سال جس عورت کو ’چپ رہو‘ کا سبق پڑھایا گیا اس نے چٹر پٹر بولنا شروع کر دیا۔ جس کی مرضی کا اظہار بھی دوسرے ہی کرتے آئے تھے اس نے اپنے جسم پر اپنی مرضی چلانے کا اعلان کر دیا۔

جس کی ناں کو ہاں سمجھتے تھے اس نے کہا کہ ناں کا مطلب ہے ناں۔ دنیا جتنی تمہاری ہے اسی قدر ہماری بھی ہے، ہنسنے رونے، گانے، ناچنے، جینے، مرنے پر جس قدر تمھارا حق ہے اسی قدر ہمارا بھی ہے۔ دنیا تمہارے لیے ہی نہیں ہمارے لیے بھی تو بنی ہے۔

یہ طرز تخاطب بھی نیا ہے اور یہ لہجہ بھی اجنبی۔ کچھ دن نہیں دہائیاں لگیں گی سمجھنے میں۔ مگر سچ کا سلسلہ یہ ہی ہے کہ دیر سے سہی، خود کو منوا کر رہتا ہے۔ آواز اٹھتی رہے گی، بات چلتی رہے گی، پتھر کی دیوار پر دستک دینے سے ہاتھ تھک بھی جاتے ہیں اور بظاہر پتھر اپنی جگہ سے ہلتے بھی نہیں لیکن دستک دیتے رہنے کا بہانہ تو موجود رہتا ہے۔

یوں بھی دیوار میں در بنانے کے لیے دستک کی نہیں تیشے کی ضرورت ہوتی ہے۔ تیشہ اٹھانے والے ہاتھوں کو سلام، عورت کے حق میں اٹھنے والی ہر آواز کو سلام۔

(بشکریہ: بی بی سی اردو)

loading...