بالی وڈ کا بدلتاہوا نظریہ اظہار اور فلم کشمیر فائلز

فلم’کشمیر فائلز‘ریلیز ہوچکی ہے ۔ اس فلم کا موضوع کشمیری پنڈتوں کی نسل کشی پر مبنی ہے جس کو بہت بڑھا چڑھاکر اور تاریخی حقائق کے برخلاف پیش کیا گیاہے ۔

گوکہ ہم نے ابھی تک فلم  نہیں دیکھی لیکن اس فلم پر آرہے مختلف فلم مبصرین کے تبصروں کو ضرور سنا اور پڑھاہے ۔ ان تبصروں سے یہ اندازہ ہوتاہے کہ ’کشمیر فائلز‘ کشمیری پنڈتوں کے درد کے احساس سے زیادہ اس درد کو بیچ کر پیسہ کمانے کے لیے بنائی گئی ہے ۔ یوں بھی اس وقت ہندوستان میں تاریخی حقائق کو مسخ کرنے کا کام عروج پر ہے ۔ ’تھانا جی ، دی وارئیر، پدماوت، سوریہ ونشی  اور کشمیر فائلز تک فلموں کا ایک طویل سلسلہ ہے جس میں تاریخی حقائق کو مسخ کرکے عوام کے ذہنوں کو اپنے ایجنڈے کے مطابق ڈھالنے کا کام کیا گیاہے ۔

یہ بات یرقانی تنظیمیں بہت واضح الفاظ میں کہہ چکی ہیں کہ ہم ہندوستان میں لکھی گئی تاریخوں سے مطمئن نہیں ہیں اور چاہتے ہیں کہ بھارت کا اتیہاس دوبارہ لکھاجائے ۔ اتیہاس لکھنے کے لیے تو بہت مطالعے اور عرق ریزی کی ضرورت ہوتی ہے لیکن فلمیں بنانے کے لیےفقط ’راشٹرواد‘ ،’دیش بھکتی ‘ اورکثیر سرمایہ درکار ہوتاہے ۔ تاریخی حقائق  پیش کرنے کے لیے مطالعہ اور مطالعہ کے لیے دیدہ ریزی کی فرصت کس کے پاس ہے ۔ اس لیے کچّی پکی فلمیں منظر عام پر آرہی ہیں جن کا مقصد ہندوستان کی جمہوریت کو کمزور کرنا اور ایک مخصوص ایجنڈے کو پیش کرکے دل و دماغ میں نفرت کا زہر بھرنا ہے ۔
اس وقت فلاپ ایکٹرز اور ڈائریکٹرز کا بنیادی ایجنڈہ یہ ہے کہ وہ یرقانی تنظیموں کے آلۂ کار بن کر زیادہ سے زیادہ پیسہ اور شہرت کمانا چاہتے ہیں ۔ انہیں اس سے کوئی سروکار نہیں ہوتا کہ فلم کا موضوع کیاہے۔ اس موضوع کی واقعیت اور حقیقت کیاہے ۔ آیا فلم تاریخی حقایق کے مطابق ہے یا نہیں ۔ انہیں زیادہ سے زیادہ فیس اور فلم کی تشہیر سے مطلب ہوتاہے ۔ اس کے لیے بالی وڈ کے تمام فلاپ لوگوں نے مل کر یرقانی پرچم کے تلے پناہ تلاش کرلی ہے ۔ اکشے کمار جیسا تھرڈ کلاس ایکٹر آج بالی وڈ کا اسٹار بنا ہوا ہے جس کے پاس ایکٹنگ کرنے کے لیے زیادہ کچھ نہیں ہے ۔ اسی طرح اجے دیوگن جیسا کامیاب ایکٹر بھی فلاپ فلموں سے تنگ آکر یرقانی ایجنڈے کا شکار ہوگیا ۔’سوریہ ونشی ، تھانا جی اور بھوج ‘ جیسی فلمیں اس دعویٰ پر دلیل ہیں ۔ کنگنا رناوت اور انوپم کھیر جیسے ایکٹر بھی اسی راہ پر ہیں ۔ انوپم کھیر تو ایسا متعصب ایکٹر ہے جس نے بالی وڈ کی فضا کو مکدر کرنے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا ۔ اس نے کشمیری پندتوں کے درد کو اپنی کامیابی کی سیڑھی بنالیاہے ۔ انوپم کھیر کی مفاد پرستی کے قصے کسی سے مخفی نہیں ہیں ۔ وہ اپنے ذاتی فائدہ کے لیے کچھ بھی کرسکتاہے اور کسی بھی حد تک گرسکتاہے ۔

کشمیر فائلز کے ڈائریکٹر وویک اگنی ہوتری بالی وڈ میں اپنا مقام بنانے کے لیے ایک زمانے سے جدوجہد کررہے ہیں ۔ ان کے پاس فلاپ فلموں کی ایک لمبی فہرست ہے جن میں ’چاکلیٹ، دے دھنادھن گول، ضد، ہیٹ اسٹوری اور جنونیت جیسی فلمیں شامل ہیں ۔ کشمیر فائلز کے ذریعہ وویک اگنی ہوتری کو شہرت اور پیسہ دونوں مل جائیں گے لیکن عزت ہرگز نہیں ملے گی ۔ تاریخ انہیں ایک متعصب اور فرقہ پرستی کو فروغ دینے والے ڈائریکٹر کے طورپر یاد رکھے گی ۔
کشمیر فائلز میں جس طرح مکتب تشیع کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی ہے، وہ بھی ناقابل فراموش ہے ۔ ظاہر ہے وویک اگنی ہوتری اور انوپم کھیر جیسے لوگوں کو شیعیت کی تاریخ معلوم نہیں ہوگی ۔ انہیں اس حقیقت کا قطعی علم نہیں ہوگا کہ اہل تشیع نے ظالم اور جابر حکمرانوں کےہاتھوں کتنے ظلم اٹھائے ہیں ۔ کشمیری پنڈتوں کی کہانی ان کے مقابلے میں ہیچ ہے۔ آج بھی دنیا میں سب سے زیادہ شیعہ ٹارگیٹ کلنگ کا شکارہورہے ہیں ۔ مگر کشمیر فائلز میں کشمیری پنڈتوں پر ہوئے ظلم و تشدد کا الزام شیعوں کے سر منڈھنے کی کوشش کی گئی ہے جو تاریخی حقائق کے منافی ہے ۔ کشمیری پنڈتوں پر جن لوگوں نے ظلم کیاہے یقیناً وہ کسی خدائی مذہب کے پیروکار نہیں ہوسکتے ۔ کشمیر پنڈتوں کو انصاف ملنا چاہیے ۔ مگر انصاف کے لیے تصوراتی پیمانے مقرر نہ کیے جائیں بلکہ حقائق کی بنیاد پر بات ہو۔ اسلام کے نام پر بے گناہوں کا قتل عام کرنے والے مسلمان نہیں ہوسکتے ۔ اسی طرح ’رام ‘ کے نام پر مسلمانوں کی نسل کشی کرنے والے ہرگز ہندو نہیں ہوسکتے ۔

فلم میں آیت اللہ خمینیؒ کی تصویر کو ’الجہاد‘ کے نعروں کے درمیان دکھاکر یہ پیغام دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ کشمیری پنڈتوں پر ہوئے ظلم و بربریت میں شیعہ مرجعیت نے اہم کردار ادا کیاہے ۔ اس جھوٹ کو پیش کرنے سے پہلے فلم کی یونٹ کو آیت اللہ خمینی کی حیات اور انقلابی جدوجہد کا مطالعہ ضرور کرنا چاہیے تھا ۔ مگر جو لوگ مہاتما گاندھی کی تاریخی جدوجہد کو مشکوک نگاہوں سے دیکھتے ہوں وہ امام خمینی ؒ کے انقلابی افکاراور تحریک کو کیسے برداشت کرسکتے ہیں ۔ اس لیے وویک اگنی ہوتری اور ان جیسے لوگوں سے اس سے سوا کچھ امید بھی نہیں کی جاسکتی ۔ ظاہر ہے کشمیر فائلز کی کہانی وویک اگنی ہوتری کی تحریر کردہ اسکرپٹ نہیں ہے بلکہ انہیں یرقانی تنظیموں سے لکھا لکھایا ایجنڈہ ملاہے جسے انہوں نے اسکرین پر پیش کردیا ہے اور بس!

اس گومگو کیفیت کا شکار سنجے لیلا بھنسالی جیسے ڈائریکٹر بھی ہیں تو پھر تنہا وویک اگنی ہوتری ہی کو مجرم کیسے ٹہرایا جاسکتاہے ۔ اس وقت پورا بالی ووڈ زعفرانی ہوچکاہے ۔ ان کے افکارو نظریات بدل رہے ہیں ۔ اب بالی وڈ سیکولر اور لبرل نظریات کا آئینہ دار نہیں بلکہ فاشسٹ طاقتوں کے ایجنڈہ کا پیروکار ہے ۔
ہم کشمیر فائلز کی ٹیم سے اس بات پر قطعی نالاں نہیں ہیں کہ انہوں نے کشمیری پنڈتوں کے درد اور ان پر ہوئے تشدد کو اسکرین پر کیوں پیش کیا۔ ہرگز نہیں ! ظلم بہر حال ظلم ہے ،  خواہ وہ کسی بھی مذہب اور ذات کے لوگوں پر ہوا ہو۔ کشمیری پنڈتوں کے درد کا احساس کوئی دوسرا ہرگز نہیں کرسکتا کیونکہ دوسروں نے اس درد کو جھیلا نہیں ہے ۔ البتہ وہ لوگ ضرور اس درد کا احساس کرسکتے ہیں جنہوں نے دنیا کی سب سے بڑ ی جمہوریت میں نسل کشی کا منظر دیکھاہے ۔ یقیناً کشمیری پنڈتوں کے درد کو گجرات کے مسلمان محسوس کررہے ہوں گے ۔ آیا وویک اگنی ہوتری’ گجرات فائلز‘ بناسکتے ہیں ؟  

گجرات کے مسلمانوں کی نسل کشی پر بکثرت مواد موجود ہے ۔ اس تاریخی فساد کے شواہدین زندہ ہیں ۔ فساد کے حقائق کو بیان کرتی ہوئی کتابیں موجود ہیں ۔ جن سرکاری افسروں کی ناک کےنیچے یہ سب ہوا ، وہ ابھی حیات ہیں ۔ کشمیری پنڈتوں کے درد کو ہاشم پورہ اور مظفر نگر کے مسلمانوں نے محسوس کیا ہوگا ۔ ایک بار وویک اگنی ہوتری کو ہاشم پورہ اور مظفر نگر فساد کے متاثرین سے بھی ملاقات کرنی چاہیے ۔ دہلی اور تری پورہ کے لوگوں سے ملنا چاہیے ۔ گودھرا، بھاگلپور، سلطان پور اور آسام کے مسلمانوں سے بات کرنی چاہیے ۔ ہمیں معلوم ہے کہ وویک اگنی ہوتری ہرگز ایسا نہیں کرسکتے ۔ گجرات کے مسلمانوں کا درد بیان کرنے کے لیے پتھر کا کلیجہ اور وبھوتی نرائن رائے جیسا بیباک اور سیکولر قلم چاہیے ۔ رعنا ایوب کا صحافتی اور متلاشی ذہن چاہیے ۔

کشمیر فائلز سے متعلق ہر انسان ایک بات دہراتا نظر آرہاہے کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت میں اتنا بڑا قتل عام ہوا اور کسی کو اس کی کانوں کان بھنک تک نہیں لگی ۔ کوئی انکوائری نہیں ہوئی ۔ کسی کو انصاف نہیں ملا ۔ جو لوگ یہ جملے دہرارہے ہیں انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت میں تنہا کشمیری پنڈتوں کے ساتھ یہ ظلم نہیں ہوا۔ ظلم کو بیان کرنے کا یہ دہرا معیار کیوں ہے ؟ ہندوستانی مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے ساتھ کتنا گھناؤنا سلوک ہواہے اور ہورہاہے۔ کیا یہ ظلم کے دائرے میں نہیں آتا ۔ یاد رکھیے جب تک ظلم کےتئیں منافقانہ رویہ اپنا یاجائے گا ، ظالم شکلیں بدل بدل کر آتے رہیں گے اور قتل عام کا سلسلہ کبھی تھمے گا نہیں ۔

بہرحال کشمیر فائلز ہندوستان میں نفرت کو فروغ دینے کی پہلی کوشش نہیں ہے ۔ یہ سلسلہ جاری ہے ۔ ہر دوسری فلم مسلمانوں کے خلاف نفرت کا اظہار کرتی ہے یا پھر ’اچھے ‘ اور ’برے ‘ مسلمان کے فرق کو دکھاتی نظر آتی ہے ۔ یعنی اچھا اور برا ہونا بھی صرف مسلمانوں سے مخصوص ہوگیا ہے ۔ کسی دوسرے مذہب اور ذات میں اچھے اور برے لوگ نہیں ہوتے ۔

دیکھئے نفرت کا یہ سلسلہ کہاں جاکر تھمتا ہے اور ہندوستان کی جمہوریت کواس کا کتنا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔

(بشکریہ: گرد و پیش ملتان)

loading...