موجودہ اور سابق وزیر داخلہ کی نوک جھونک: جمہوری سفر کو مسدود نہ کیا جائے

سیاسی تصادم اور  انتقامی کارروائیوں کے بارے میں ملک کے موجودہ اور سابقہ وزرائے داخلہ   رانا ثنا اللہ اور شیخ رشید کے بیانات ملک میں  موجودہ  سیاسی ہیجان میں اضافہ کریں گے۔  شیخ رشید  نے وائس آف امریکہ  کے علاوہ میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے کہا ہے کہ  لانگ مارچ کے دوران ملک میں خوں ریزی ہوسکتی ہے۔ جبکہ رانا ثنا اللہ نے اس بیان کو  مضحکہ خیز قرار دے کر  کہا ہے کہ شیخ رشید جیسے لوگ   فتنہ پرور ہوتے ہیں لیکن وہ اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہوں گے۔

رانا ثنا اللہ  نے شیخ رشید کے انٹرویو پر ٹوئٹ  پیغامات میں تبصرہ کرتے ہوئے   کہا  ہے کہ’ قومی خزانہ لوٹنے اور ملک کو معاشی  طور سے بانجھ کرنے کا حساب  لئے   بغیر انتخاب نہیں ہوں گے۔  یہ فیصلہ اب ہمیں  کرنا  ہے کہ الیکشن کا موزوں ترین وقت کون سا ہے‘۔   واضح رہے کہ شیخ رشید نے وائس آف امریکہ  کی اردو  سروس کو ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ  ’طاقت ور حلقوں کی ضمانت ملنے پر عمران خان  جلد انتخابات کے لئے وزیر اعظم  شہباز شریف کے ساتھ بات چیت کے لئے تیار ہیں‘۔  شیخ رشید کا یہ بیان  عمران خان کی طرف سے ماضی میں اختیار کئے گئے  اس رویہ کے برعکس ہے کہ  وہ شہباز شریف اور ان کے’ بدعنوان‘  ساتھیوں سے کسی قیمت پر بات نہیں کریں  گے۔ شیخ رشید چونکہ   ذومعنی اور کسی حد تک گمراہ کن گفتگو کرنے کے عادی ہیں ، اس لئے اس انٹرویو میں سامنے آنے والے  خیالات کو تحریک انصاف  کا حتمی یا اصولی مؤقف  نہیں مانا جاسکتا۔ اس کے علاوہ شیخ رشید اگرچہ  سیاسی سفر میں  کئی برس سے عمران خان کے  ساتھ  رہے ہیں لیکن وہ بہر حال  تحریک انصاف کے رکن نہیں ہیں اور نہ ہی کسی مرحلہ پر عمران خان نے انہیں اپنا ترجمان مقرر کیا  ہے۔ البتہ اگر شیخ رشید کا بیان درون خانہ ہونے والے مباحث کی جزوی عکاسی بھی کرتا ہے تو یہ  اس لحاظ سے ایک مثبت اشارہ ہے کہ ایک دوسرے کی گردن دبوچنے کی بات کرنے والے سیاسی لیڈر  بات چیت پر آمادگی ظاہر کررہے ہیں۔

وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ بھی   سخت گیر مؤقف اور ہتھکنڈوں کی شہرت رکھتے ہیں۔   شیخ رشید کی طرف سے   بات چیت کے ذریعے  موجودہ سیاسی بحران کا حل تلاش کرنے کے اشارے پر ان  کا رد عمل ، اسی   طرز عمل کی عکاسی کرتا ہے۔ وہ وزیر داخلہ بننے کے بعد سے مسلسل سخت  پالیسی اختیار کرنے اور  کسی بھی طرح سیاسی مخالفین کا منہ بند کرنے کی  باتیں کرتے رہے ہیں۔  چند روز پہلے وزیر اعظم شہباز شریف کے دورہ سعوی عرب کے دوران مسجد نبوی  میں ان کے وفد کے خلاف احتجاج اور بدکلامی کے بعد بھی انہوں نے  تحریک انصاف پر الزام عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ اس احتجاج کی منصوبہ بندی کرنے اور اس میں شرکت کرنے والوں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔ اب انہوں نے الزام لگایا ہے کہ ’ شیخ رشید کوپتہ ہے کہ مسجد نبوی ﷺ پر ہونے والے توہین آمیز واقعے کے ماسٹر مائنڈ وہ خود ہیں۔ انہوں نے رمضان کے پہلے عشرے میں جدہ کے سپینسر ہوٹل میں پی ٹی آئی عہدیداروں کے ساتھ مل کر سازش تیار کی۔   اپنی خود غرضی اور ہوس میں اپنے بھتیجے کو بھی نہیں بخشا۔ خود مزے سے پنڈی میں عید منارہے ہیں اور ان کا بھتیجا ان کی سازش کی وجہ سے  عید جیل میں کاٹ رہا ہے‘۔

فیصل آباد کے علاوہ ملک بھر میں متعدد مقامات پر عمران خان ، شیخ رشید اور تحریک انصاف کے متعدد رہنماؤں کے خلاف توہین مذہب کی شقات  کے تحت  ایف آئی آر درج کروائی گئی ہے۔ رانا ثنااللہ اس  مقدمے کو حتمی انجام تک پہچانے کا ارادہ بھی ظاہر کرچکے ہیں۔ اگرچہ شہباز شریف کی اتحادی حکومت کے بعض عناصر کی جانب سے سیاسی مقاصد کے لئے مذہبی ہتھکنڈا اختیار کرنے کو مسترد کیا گیا ہے۔ اب سابق وزیر داخلہ کے ساتھ بیان بازی   کا مقابلہ کرتے ہوئے رانا ثناللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ سابق حکمرانوں  سے قومی دولت لوٹنے کا  حساب لئے بغیر انتخابات منعقد نہیں ہوں گے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اب عمران خان نہیں بلکہ شہباز شریف کی حکومت  یہ فیصلہ کرے گی کہ نئے انتخابات کب  ہوں گے۔  

رانا ثنااللہ کا یہ بیان دو حوالوں سے تشویشناک ہے۔ ایک تو موجودہ اسمبلیوں کی مدت آئیندہ برس کے وسط تک پوری ہوجائے گی۔ اس  طرح اگلے سال  کے  دوران بہر صورت نگران  حکومت  قائم کرنا ضروری ہوگا تاکہ جولائی تک انتخابات کروالئے  جائیں۔ البتہ  اگر رانا ثناللہ  کے بیان کو بنیاد مانا جائے تو یہ شبہ کیا  جاسکتا ہے کہ موجودہ حکومت موجودہ اسمبلیوں کی مدت میں توسیع کے کسی منصوبہ پر بھی غور کررہی ہے یا ایسے قانونی و آئینی ر استے تلاش  کئے جائیں گے کہ انتخابات مزید ایک آدھ سال کے لئے مؤخر ہوں  جائیں۔ لامحالہ ایسا اقدام کرتے ہوئے ملکی معیشت اور  سیاسی عدم استحکام کا حوالہ دیا جائے   گا لیکن ایسا کوئی اقدام خطرات سے خالی نہیں ہوگا۔ عمران خان کی طرف سے موجودہ حکومت میں شامل لیڈروں کے خلاف  چلائی گئی کردار کشی کی مہم کی وجہ سے  اور ماضی میں سرزد ہونے والی غلطیوں کے باعث  کسی بھی عذر کی بنیاد  پر انتخابات مؤخر کرنے کا  کوئی بھی فیصلہ سنگین سیاسی نتائج کا حامل ہوگا۔  لوگ موجودہ جمہوری نظام  اور آئینی اداروں کے کردار پر پہلے ہی شبہات کا شکار ہیں۔ عمران خان  بیرون سازش  کے نعرے لگاتے ہوئے ان شبہات کومسلسل  راسخ کررہے ہیں۔  ایسی صورت میں حکومت کو اسمبلیوں کی موجودہ مدت ختم ہونے سے پہلے آئینی  تقاضوں کے مطابق  عام انتخابات کا اعلان کرنا چاہئے۔

اس بیان کا دوسرا قابل تشویش پہلو سابقہ حکمرانوں کے خلاف معاشی بدعنوانی کے الزامات میں اقدامات  کا ارادہ ظاہر کرناہے۔  مختلف حلقے یہ اشارے دے رہے ہیں کہ آئیندہ چند ہفتوں میں مقدمات قائم کرنے اور گرفتاریوں کے امکانات موجود ہیں۔ رانا ثناللہ  نے بھی معاشی بدعنوانیوں کا  حساب لینے کی بات کرکے درحقیقت اسی شیطانی چکر کو جاری رکھنے کا اشارہ دیا ہے جو ایک کے بعد دوسری سیاسی حکومت نے سابقہ حکمرانوں اور سیاسی مخالفین  پر مقدمات قائم کرنے  کی صورت میں جاری رکھا ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت چار برس کے دوران کوئی قابل ذکر کارکردگی نہیں دکھا سکی۔  دیگر عوامل کے علاوہ ا س کی سب سے اہم وجہ یہی تھی کہ عمران خان اور ان کے ساتھیوں کی ساری توجہ  مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے لیڈروں کے خلاف مقدمات قائم کرنے اور اس بنیاد پر ان کی کردار کشی پر مبذول رہی۔  ان  اقدامات میں خود رانا ثناللہ کے خلاف منشیات کی اسمگلنگ  کا مضحکہ خیز اور بے بنیاد مقدمہ  قائم کرنا اور جیل میں ان کے لئے اذیت ناک حالات پیدا کرنا شامل تھا۔  ایسی صورت حال  کا  سامنا کرنے والا کوئی بھی شخص موقع ملنے پر اپنے خلاف اقدام کرنے والوں سے ’بدلہ‘ لینے کی خواہش رکھے  گا۔ لیکن  انتقام   لینے کا یہ سلسلہ بند کئے بغیر ملک میں وسیع تر سیاسی مفاہمت کا ماحول پیدا نہیں ہوگا اور نہ ہی جمہوری قوتیں طاقت ور ہوسکیں گی۔

شہباز شریف نے وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالنے کے  فوری بعد کہا تھا کہ وہ’ ملکی معاشی بحالی کی طرف توجہ مبذول کرنا چاہتے ہیں۔ وہ کسی کے خلاف انتقامی کارروائی کرنا نہیں چاہتے ۔ البتہ قانون اپنا راستہ خود بنائے گا‘۔   کوئی یہ مطالبہ نہیں کرسکتا کہ کسی بھی شخص کی کسی قانون شکنی کا احتساب نہ ہو۔ لیکن  اب یہ اصول طے ہونا چاہئے کہ سیاسی طور سے کسی محکمہ کے نگران وزیر یا عہدیدار کو کسی بھی شخص کے خلاف کارروائی کرنے کا اختیار حاصل نہ ہو۔ بلکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو قانون کے مطابق کسی سیاسی اثر و رسوخ سے بالا ہوکر فیصلے کرنے اور  کارروائی  کا حق و اختیار حاصل ہو۔ اسی طرح سیاسی بیانات یا  مظاہروں کے ذریعے عدالتوں کو دباؤ میں  لانے کی بجائے، ملکی عدلیہ کو   خوشگوار ماحول میں کام کرنے کا موقع دیا جائے، حکومت وقت کے پاس ہمیشہ یہ موقع ہوتا ہے کہ قانونی راستہ  میں حائل دشواریوں کو دور کیاجائے، تحقیقاتی اداروں کی  صلاحیت کو بہتر بنایا جائے اور عدالتوں میں  زیادہ جج مقرر کرکے عدالتی کارروائی کی مدت کم کرنے کی کوشش کی جائے۔ اب رانا ثناللہ اور شہباز شریف کے پاس یہ موقع ہے۔ اب بھی اگر انہوں نے  ماضی کا منفی طرز عمل اختیار کیا تو اصلاح احوال کے لئے انہیں شاید ایک اور موقع نہ مل سکے۔

شیخ رشید کی طرف سے جلد انتخابات کے  لئے عمران خان کی شہباز شریف سے بات چیت کے امکان کا اشارہ  حوصلہ افزا خبر  تو ہے لیکن سابق وزیر داخلہ نے  جیسے اسٹبلشمنٹ کو فریق بنانے کی کوشش کی ہے ، اس سے ان کی بات کا وزن بھی کم ہوتا ہے اور سابقہ حکمرانوں کا یہ افسوسناک رویہ بھی سامنے آتا ہے کہ اسٹبلشمنٹ ( سابق وزیر اطلاعات فواد چوہدری فوج اور عدلیہ کو اسٹبلشمنٹ قرار دیتے ہیں) کسی  بھی طرح  انہیں ایک بار پھر اقتدار تک  پہنچنے میں مدد فراہم کرے۔ سیاسی  لیڈروں کے اسی رویہ کی وجہ سے    عسکری قیادت کے ماورائے آئین اقدامات کا سلسلہ بند نہیں  ہو پاتا۔  عمران خان  اپنے خلاف عدم اعتماد کی کامیابی کی ذمہ داری اسٹبلشمنٹ پر ڈالتے ہیں ۔ اس الزام  سے یہ تو ثابت نہیں ہوتا کہ  فوج نے عمران خان کو ہٹا کر شہباز شیف کو وزیر اعظم بنوانے کا فیصلہ کیا تھا البتہ  اس رائے کی تصدیق ہوتی ہے کہ  تحریک انصاف کی پے در پے غلطیوں کی وجہ سے اسٹبلشمنٹ کے لئے مسلسل اسے تحفظ فراہم کرنا مشکل ہوگیا تھا ۔ اسی لئے ’غیر جانبدار‘ رہنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ اسی لئے عمران خان نیوٹرل ہونے کو حیوانی صفت اور خود کو خیر اور سیاسی مخالفین کو شر قرار دینے پر زور دیتے رہے ہیں۔

تحریک انصاف کی قیادت اگر  اقتدار سے محروم ہونے کے صدمہ  پر قابو پاکر   مستقبل میں اپنی پارٹی کے سیاسی کردار کے حوالے سے بڑی تصویر پر غور کرسکے تو اسٹبلشمنٹ کا نیوٹرل ہوجانا سب سیاسی لیڈروں کے لئے ایک اچھی خبر ہے۔   سیاسی لیڈر اس موقع کا  فائدہ اٹھانے کی بجائے اگر ایک بار پھر اسٹبلشمنٹ کو ’ضامن‘ بننے  یا مداخلت کرنے پر مجبور کریں گے،  تو یہ جمہوریت دشمن رویہ  ہوگا۔  تحریک انصاف کو ملک میں تصادم کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمہ کا راستہ تلاش کرنا چاہئے۔ اسی طرح اتحادی حکومت کو بھی تحریک انصاف یا عمران خان کی طرف سے سیاسی مفاہمت کے کسی بھی اشارے پر سنجیدگی سے  غور کرنا چاہئے۔ یہی ملک کو بحران سے نکالنے کا واحد  معقول راستہ ہے۔

loading...