سازش ہوئی یا نہیں ، نعرہ بک رہا ہے

حکومت نے عمران خان  اور تحریک انصاف کی طرف سے ان کی حکومت کے خلاف  تحریک عدم اعتماد  کو امریکی سازش قرار دینے کے معاملہ کی تحقیقات کے لئے   کمیشن بنانے کا اعلان کیا ہے۔ وزیر اطلاعات مریم اورنگ زیب نے  بتایا ہے کہ  اس کمیشن  کے ٹرمز آف ریفرنس کابینہ میں  طے کرنے کے بعد کسی ایسے شخص کو کمیشن کا سربراہ بنایا جائے گا جس کی غیر جانبداری پر کسی کو شبہ نہ ہوسکے۔

اس بیان کے فوری بعد ہی سابق وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے  حکومت کے قائم کردہ کسی بھی کمیشن کو قبول کرنے سے انکار کیا  ہے اور  سپریم کورٹ کی نگرانی میں تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ حکومت کو جان لینا چاہئے کہ سازش کا نعرہ  اب عمران خان کا سیاسی سلوگن ہے۔ اس کا مقابلہ کرنے کے لئے    فوری اقدام کی ضرورت ہے  تاکہ اس بے بنیاد نعرے کے غبارے سے ہو انکل سکے۔ حکومت کو معلوم ہو کہ سازش ہوئی یا نہیں لیکن یہ نعرہ اب خوب بک رہا ہے۔  حکومت کو  یہ رجحان  تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔

پاکستان میں اس وقت سیاسی  رائے اس حد تک تقسیم ہے کہ  حکومتی ترجمان کا یہ دعویٰ    قابل عمل دکھائی نہیں دیتا کہ کوئی ایسا شخص تلاش کیا جاسکتا ہے جس کی غیر جانبداری پر حکومت اور تحریک انصاف یکساں طور سے متفق ہوسکیں۔  اس  ایک نکتہ پر ہی بنیادی اختلاف موجود ہے کہ  امریکہ میں سابق پاکستانی سفیر  اسد مجید کی امریکی انڈر سیکرٹری ڈونلڈ لو کے ساتھ ہونے والے والی ملاقات کے  بعد بھیجے گئے  مراسلے میں کسی سازش کی خبر  دی گئی تھی یا امریکی سفارت کار کی  غیر محتاط گفتگو کا ذکر تھا جسے  پاکستان کے داخلی معاملات میں مداخلت تصور کیا گیا۔  عمران خان پوری شدت سے یہ الزام لگاتے رہے ہیں کہ   اس خط سے غیر ملکی سازش  کا انکشاف ہؤا  تھا ۔ اسی سازش کے ذریعے اپوزیشن لیڈروں کو ساتھ ملاکر  وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لائی گئی اور منظور بھی کروا لی گئی۔  اس کے برعکس حکومت اور سرکاری اداروں  نے اس رائے کو مسترد کیا ہے۔

قومی سلامتی کمیٹی نے عمران  خان کی وزارت عظمی  کے آخری دنوں  میں  پہلی بار اس   سفارتی مراسلہ پر غور کیا تھا۔ 31مارچ کو منعقد ہونے والے اس اجلاس  کے اعلامیہ میں  ’ملکی معاملات میں مداخلت ‘ پر امریکہ کو احتجاجی مراسلہ بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ عمران خان اس بیان کو اپنے دعوے  کی تائد کے طور پر پیش کرتے رہے ہیں۔ تاہم ان کی حکومت  کے خاتمے  اور شہباز شریف کی سربراہی میں نئی حکومت قائم ہونے  کے بعد  آئی ایس پی آر کے سربراہ میجر جنرل بابر  افتخار  نے  اس تاثر کو مسترد کیا تھا کہ  قومی سلامتی  کمیٹی نے اس مراسلہ کی بنیاد  پر  حکومت کے خلاف کسی سازش کا ذکر کیا تھا۔ انہوں نے یہ  بھی کہا  کہ حکومت چاہے تو  سلامتی کمیٹی کے اس اجلاس  کی روداد عام ملاحظے کے لئے  فراہم کردی جائے تاکہ عوام یہ جان سکیں کہ اس اجلاس میں کیا بات ہوئی تھی۔ عام طور سے یہ قیاس کیا جاتا ہے کہ   عمران خان کی سربراہی میں منعقد ہونے والے سیکورٹی کمیٹی کے اجلاس میں  حکومتی ارکان عسکری قیادت کو اس نکتہ پر قائل کرنے کی کوشش  کرتے رہے  تھے کہ   مذکورہ خط درحقیقت سازش  کی خبر دیتا ہے ، اس لئے اسے اسی طرح تسلیم کیاجائے۔ تاہم عسکری قیادت نے انٹیلی جنس رپورٹس کے علاوہ اس خط کے متن کو  سازش  کی اطلاع کے طور پر تسلیم کرنے سے انکار کیا تھا۔ حکومت اور عسکری قیادت میں اس اختلاف  کی پردہ پوشی کے لئے  امریکہ سے  اندرونی معاملات میں مداخلت  کرنے پر احتجاج کا فیصلہ کیا گیا۔

تحریک انصاف نے  قومی سلامتی کمیٹی کے اس اعلامیہ کو بھی اپنے مؤقف کی تائد قرار دیا اور اپوزیشن کی عدم اعتماد کو بدستور سازش اور بیرونی دولت سے  ارکان اسمبلی خریدنے کی کوشش  کہا جاتا رہا۔   بعد کے دنوں میں آئی ایس پی  آر نے واضح طور سے سازشی  تصور کی تردید کی تو تحریک انصاف نے مداخلت اور سازش  کے مطالب کو خلط ملط کرکے یہ دعویٰ کرنا شروع کیا کہ یہ درحقیقت سازش ہی تھی کیوں کہ سازش کے بغیر مداخلت نہیں ہوسکتی۔  اسی پس منظر میں شہباز شریف کی حکومت نے اپریل کے آخر میں قومی سلامتی کمیٹی کے  اجلاس میں ایک بار پھر اس مراسلہ پر غور کیا ۔ اس اجلاس میں سفیر اسد مجید بھی شریک ہوئے جنہوں  نے مذکورہ خط تحریر کیا تھا۔ 22 اپریل کو منعقد ہونے والے اس اجلاس کے اعلامیہ   میں آئی ایس پی آر کے مؤقف کی تائد میں  ایک بار پھر واضح کیا گیا کہ  پاکستان میں سیاسی تبدیلی کے لئے کوئی سازش نہیں کی گئی۔  تاہم تحریک انصاف نے حسب سابق اس وضاحت کو ماننے سے انکار کردیا ۔ سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی کے ہمدرد  یہ ٹرینڈ چلاتے رہے کہ سفیر اسد مجید نے   سلامتی کمیٹی کو سازش کے بارے میں مطلع کردیا اور وہ اپنے مؤقف پر ڈٹے ہوئے ہیں۔

گویا ملک میں قومی سلامتی کے سب سے اہم ادارے  میں سیاسی حکومت ، وزارت خارجہ اور  عسکری قیادت کی طرف سے سازش کو دوٹوک انداز میں مسترد کرنے کا بھی کوئی اثر نہیں ہؤا اور عمران خان کی سرکردگی میں سازشی نظریہ کی تبلیغ کی جاتی رہی۔ ’ امپورٹڈ حکومت نامنظور‘ کا ٹرینڈ  اس نقطہ نظر کو درست ثابت کرنے کے لئے چلایا جارہا ہے۔ اس سے پہلے سابق ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی طرف سے   تحریک عدم اعتماد  مسترد کرنے کی  رولنگ کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے سپریم کورٹ نے بھی اصولی طور پر یہی مؤقف ظاہر کیا تھا کہ بادی النظر میں حکومت کے خلاف کوئی سازش نہیں ہوئی لیکن ڈپٹی اسپیکر کے علاوہ وزیر اعظم اور صدر مملکت نے آئینی تقاضوں کے خلاف ضرور اقدامات کئے تھے۔  اس معاملہ کی سماعت کے دوران  سپریم کورٹ کے ججوں کا مؤقف تھا کہ  عدالت عظمی  بین املکی معاملات میں دخل اندازی نہیں کرنا چاہتی۔  تاہم جب سپریم کورٹ نے قاسم سوری کی رولنگ کے خلاف  فیصلہ دیا اور عدم اعتماد پر ووٹنگ کروانے کا حکم جاری کیا تو تحریک انصاف نے سپریم کورٹ  پر بھی تنقید شروع کردی تھی اور  اعلیٰ عدلیہ کے ججوں  کو اسٹبلشمنٹ یا سیاسی پارٹیوں کے ہمدرد قرار دیا گیا تھا۔ عمران خان چند روز پہلے تک دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ ’میں نے کون سا جرم کیا تھا کہ عدالتیں رات گئے کھولی گئیں‘۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ   عید کی  چھٹیوں میں جب اسلام آباد ہائی کورٹ کو فواد چوہدری اور عمران خان کے ہمدرد اینکرز کی درخواستوں پر سماعت کے لئے کھولا گیا تو تحریک انصاف نے اس پر کسی حیرت کا اظہار نہیں کیا۔

یہ بات اب واضح ہوچکی ہے کہ عمران خان کے لئے اسد مجید کا سفارتی مراسلہ ایک  سیاسی ہتھکنڈا ہے۔ ان کی موجودہ عوامی تحریک غیر ملکی سازش، امریکہ دشمنی اور اپوزیشن لیڈروں  سے عداوت پر استوار ہے۔  ان کے لئے یہ کوئی اصولی معاملہ نہیں ہے۔ نہ ہی اس وقت انہیں اس بات کی  پرواہ ہے  کہ اس مہم جوئی سے پاکستان کی سفارتی پوزیشن کمزور ہوگی، اس کے سفارت کاروں کو غیر ملکی دارالحکومتوں میں مشکلات کا سامان ہوگا اور اس  سے  ملک کے دوررس مفادات متاثر ہوں گے۔ وہ کسی بھی طرح موجودہ حکومت کو ناکام بنانے کی مہم چلا رہے ہیں ۔ اس لئے نہ تو کسی ادارے کی تردید سے کوئی فرق پڑتا ہے اور نہ ہی سازش کے انکار کو انکار سمجھا جاتا ہے۔

  دوسری طرف  شہباز شریف کی حکومت  کا خیال تھا کہ اقتدار سے محروم ہونے کے بعد  عمران خان کے دعوؤں پر کان دھرنے والا کوئی نہیں ہوگا۔ اسی لئے  سازشی نظریہ کی بیخ کنی کے لئے   کوئی فوری اقدام کرنا ضروری نہیں سمجھا گیا۔ البتہ جب عمران خان نے مقبول عوامی رابطہ مہم کا کامیاب آغاز کیا تو قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس بلا کر سازش   کی تردید کا اہتمام کیا گیا۔  عمران خان اس دوران اپنے  حامیوں کو اپنی غیر جانبدارانہ خارجہ پالیسی   کی بنا پر امریکی مخالفت پر قائل کرچکے تھے۔ حکومت آئی ایس پی آر کے اس بیان کے مطابق  31 مارچ  کو منعقد ہونے والے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کی روداد  بھی شائع نہیں کرسکی۔ اس کا دوسرا طریقہ یہ تھا کہ امریکی وزارت خارجہ سے  سفیر اسد مجید اور انڈر سیکرٹری  ڈونلڈ لو  کی بات چیت کے نوٹس کا مسودہ عام کرنے کی اجازت طلب کی جاتی تاکہ اس معاملہ پر سیاسی پوائینٹ اسکورنگ کا سلسلہ بند ہوتا۔

حکومت نے تحریک انصاف اور عمران خان کے شدید دباؤ کی وجہ سے ہی اب  سفارتی مراسلہ کی تحقیقات کے لئے   کمیشن قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ تاہم تیزی سے تبدیل ہوتی سیاسی صورت حال میں یہ فیصلہ بہت تاخیر سے کیا گیا ہے۔ تحریک انصاف کسی بھی صورت کسی  حکومتی کمیشن کو تسلیم نہیں کرے گی کیوں  کہ اس طرح اس  کے سیاسی نعرے  کی بنیاد ختم ہوجائے گی۔   اس معاملہ کو انجام تک پہنچانے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ حکومت بھی سپریم کورٹ سے  درخواست کرے کہ اس مراسلہ کا جائزہ لے کر وہ  وضاحت کرے کہ اس میں کس حد تک ملکی حکومت کے خلاف سازش کا ذکر ہے اور  کیا یہ ثابت ہوتا ہے کہ  امریکہ نے پاکستانی سیاسی قیادت کو رشوت دے کر عمران خان کے خلاف  سیاسی اقدام کروایا تھا۔    حکومت  اگر فوری طور سے یہ اقدام کرسکے تو عمران خان خود اپنے دعوؤں اور نعروں کے جال میں پھنس سکتے ہیں۔ کیوں کہ وہ  خود بھی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو اس حوالے سے خط لکھ چکے ہیں اور یہ اعلان بھی کرچکے ہیں کہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال  قابل اعتبار ہیں۔  تاہم اگر حکومت نے مزید تاخیر کی اور عمران خان کے سیاسی   ہتھکنڈوں کو فوری طور سے ناکام بنانے کی کوشش نہ کی گئی تو سیاسی ضرورتوں کے تحت عمران خان سپریم کورٹ یا اس کے چیف جسٹس  پر عدم اعتماد کااعلان  بھی کرسکتے ہیں۔

شہباز شریف اور ان کی حلیف پارٹیوں کو اندازہ  ہونا چاہئے کہ موجودہ حکومت انتہائی کمزور بنیاد پر کھڑی ہے۔  شہباز شریف کے انتخاب کے بعد سے قومی اسمبلی کا اجلاس نہیں ہوسکا ۔ تحریک انصاف کے ارکان نے استعفے  دیے ہوئے ہیں لیکن اس معاملہ کو بھی مسلسل تعطل کا شکار کیا جارہا ہے۔ اول تو عبوری مدت   کی حکومت لینے کے لئے ایک انتہائی غیر مقبول اور  ناکام حکومت کو فارغ کرنا سیاسی لحاظ سے ناقابل فہم اقدام تھا۔  اب  اگر عمران خان کی سیاست کا جواب مؤثر سیاسی ہتھکنڈوں اور   دکھائی دینے والی معاشی  کامیابیوں کی  صورت میں نہ دیا جاسکا تو نااہلی اور ناکامی کا جو طعنہ ایک ماہ پہلے تک تحریک انصاف کی حکومت کو  دیا جاتا تھا ، آئیندہ انتخابات میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کو اس  کا سامنا کرنا ہوگا۔

loading...