آئی ایس آئی کے ذریعے سیاست کرنے کا اعتراف

سابق وزیر اعظم  عمران خان نے ایک  پوڈ کاسٹ انٹرویو میں دعویٰ کیا ہے کہ مسلم لیگ (ن) گزشتہ سال جولائی سے ہی ان کی حکومت کے خلاف اقدام کرنے کی  منصوبہ بندی کررہی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ   وہ  لیفٹیننٹ  جنرل فیض حمید کو  بدستور آئی ایس   آئی کا سربراہ رکھنا چاہتے تھے ۔ ان کا  کہنا ہے کہ ’مشکل سیاسی حالات میں انٹیلی جنس ایجنسی کا سربراہ  سیاسی قیادت کے  کان اور آنکھیں ہوتا ہے‘۔ انہوں نے   اس معاملہ پر آرمی چیف سے پیدا ہونے والے اختلافات   کی تفصیل بھی بتائی۔

عمران خان کا یہ بھی کہنا ہے کہ  وہ میرٹ سے ہٹ آرمی چیف تبدیل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے تھے  اور نہ ہی جنرل فیض حمید کو آرمی چیف بنانے کی خواہش کے بارے میں خبریں درست ہیں۔  البتہ  اس انٹرویو کے دوران  وہ واضح جواب نہیں دے سکے کہ پھر اسٹبلشمنٹ سے کب اور کس معاملہ پر اختلافات پیدا ہوئے۔ عمران خان  الزام عائد کرتے ہیں کہ امریکی سازش کی وجہ سے ان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لائی گئی اور کامیاب ہوئی تھی ۔ گزشتہ شب پوڈ کاسٹ انٹرویو کے علاوہ آج میانوالی میں عام جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے  ایک بار پھر الزام لگایا کہ  انہیں امریکہ میں تیا رکی گئی سازش کی وجہ سے  اقتدار سے محروم کیا گیا  کیوں کہ امریکہ انہیں روس کے دورہ سے روکنا چاہتا تھا۔ اسی طرح وہ چین کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کی وجہ سے بھی ان کی حکومت سے ناراض تھا۔

اس بحث کا  یہ پہلو بھی دلچسپی سے خالی نہیں ہے کہ موجودہ حکومت کا دعویٰ ہے کہ عمران خان کے دور حکومت میں چین کے علاوہ  عرب ملکوں کے ساتھ پاکستان کے تعلقات سرد مہری کا شکار ہوئے تھے۔ اب ان تعلقات کو بہتر بنانے اور مزید سرمایہ کاری  لانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے  حال ہی میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کا دورہ کیا ہے اور دونوں مواقع پر طرفین نے  باہمی معاشی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ متحدہ عرب امارات کا  ایک وفد مالی معاملات اور سرمایہ کاری کا جائزہ لینے کے  لئے پاکستان کا دورہ بھی  کرچکا ہے۔ سعودی عرب سے بھی اسی قسم کے تعاون کی امید کی جارہی ہے۔ وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل  نے بتایا ہے کہ پاکستانی حکومت نے سعودی حکام سے درخواست کی ہے کہ  وہ فوری طور سے اسٹیٹ بنک میں زر مبادلہ کے ذخائر کو سہارا دینے کے لئے رکھے  گئے 3 ارب ڈالر واپس نہ لے۔ بلکہ خبروں کے مطابق ان میں مزید دو ارب ڈالر اضافہ کرنے کی درخواست بھی کی گئی ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف معاشی روابط میں تیزی لانے کے لئے جلد ہی چین کا دورہ بھی کرنا چاہتے ہیں  تاکہ سی پیک کے رکے ہوئے متعدد منصوبوں  کے لئے سرمایہ کاری  پر اتفاق رائے ہوسکے۔ ایسا کوئی  بھی اقدام نئی حکومت کے مالی  بوجھ کو کم کرے گا اور ملک میں بڑے منصوبے شروع ہونے سے روزگار کے مواقع میں اضافہ کا  امکان بھی  پیدا ہوگا۔

چینی کمپنیوں  کی سرمایے کی حسب  معاہدہ بروقت واپسی  میں تعطل  درحقیقت چین کے ساتھ پاکستانی تعلقات میں سرد مہری کی بنیادی وجہ بنی رہی ہے۔  عمران خان کی حکومت اس صورت حال کو بہتر بنانے میں  کامیاب نہیں ہوسکی  حالانکہ اس نے آئی ایم ایف کے علاوہ  متعدد دیگر ذرائع سے کثیر قرض حاصل کئے تھے۔  رپورٹوں  کے مطابق اگست 2018 سے لے کر  اپریل 2022 کے دوران  وفاقی حکومت نے  49 ارب ڈالر قرض لیا۔ اسی رپورٹ کے مطابق صرف گزشتہ 9 ماہ میں  15 ارب ڈالر قرض لیا گیا۔ اس کے باوجود  ادائیگیوں   کے توازن میں خسارہ بڑھتا رہا اور ملک معاشی طور سے تعطل کا شکار رہا۔ شہباز شریف حکومت  خاص طور سے چین کے ساتھ تعلقات مستحکم کرکے اور سی پیک منصوبوں کو فعال بنا کر اس کمی کو پورا کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ 

اس پس منظر میں  سمجھنے کی کوشش کی جائے تو عمران خان کا یہ دعویٰ  بے سر و پا نعرے  بازی  سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتا کہ امریکہ نے ان  کی حکومت کے خلاف  روس اورچین کے ساتھ تعلقات کی وجہ سے  سازش تیار کی تھی ۔ اور اپوزیشن جماعتوں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے  امریکی ڈالروں کے ذریعے ان کی حامی ارکان کو  ’خرید‘ کر تحریک عدم اعتماد منظور کروائی تھی۔    یہ بات بھی واضح ہے کہ  9 اپریل کو   تحریک عدم اعتماد  تحریک انصاف کی اتحادی پارٹیوں کے  تعاون سے منظور ہوسکی تھی۔  عدم اعتماد کے حق میں تحریک انصاف کے کسی منحرف رکن قومی اسمبلی نے ووٹ نہیں دیا تھا۔ اسی  سے امریکی ڈالروں سے  منحرف ارکان خریدنے کا دعویٰ غلط ثابت ہوجاتا ہے۔ اسی طرح  پاکستان کے روس  و چین سے تعلقات کے حوالے سے عمران خان کے دعوے بھی گمراہ کن ہیں۔

روس کا دورہ کرنے کی منصوبہ بندی سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کی تھی ۔   بیجنگ اولمپکس کے دوران  روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف سے درخواست کرکے عمران خان کے دورہ ماسکو کی  دعوت حاصل کی گئی تھی۔ اس وقت پاکستان کو عالمی سطح پر شدید  سفارتی تنہائی کا سامنا تھا۔ حکومت اس تاثر کو ختم کرنے کے لئے کسی اہم ملک میں  وزیر اعظم کا  سرکاری دورہ  کروانا چاہتی تھی۔  روس کو یوکرائن کے خلاف فوجیں جمع کرنے کی وجہ سے امریکہ و  مغربی ممالک کے شدید دباؤ کا سامنا تھا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن یوکرائن پر حملہ کرنے کا ارادہ کرچکے تھے  البتہ اسلام آباد عمران خان کے دورہ کا انتظام کرتے ہوئے یہ قیاس نہیں کرسکا کہ ماسکو اس دورہ کو اپنی سفارتی کامیابی کے لئے  ترپ کے پتے کے طور پر استعمال کرسکتا ہے۔  یہی  وجہ ہے کہ  24 فروری کو جب  روس نے یوکرائن پر حملہ کیا تو عمران خان اپنے وفد سمیت ماسکو میں موجود تھے۔ اگلے ہی روز ان کی  روسی صدر سے طویل  ملاقات ہوئی جسے روسی میڈیا نے’  تمام معاملات معمول کے مطابق‘ کی خبر بنا کر پیش کیا۔

روس کا دورہ  نہ تو عمران خان کی سفارتی کامیابی تھی اور نہ ہی اس دورہ کی وجہ سے پاکستان اور روس کے تعلقات میں کوئی بریک تھرو دیکھنے میں آیا۔   ماسکو  نے  عمران خان کی طرف سے امریکی سازش کے الزامات کا سفارتی فائدہ اٹھانے کے لئے ایک بیان ضرور جاری کیا لیکن عدم اعتماد کے بعد نئی حکومت قائم ہونے پر  روس نئی  پاکستانی حکومت کا خیر مقدم کرنے والے اولین ملکوں میں شامل تھا۔ اسی طرح یہ دعویٰ بھی بے بنیاد ہے کہ  امریکہ چین کے ساتھ تعلقات کی وجہ سے عمران حکومت کے خلاف سازش کررہا تھا ۔ شہباز حکومت بیجنگ کے ساتھ تعلقات  کو وسعت دینے میں زیادہ سرگرمی کا مظاہرہ کررہی ہے۔  گویا  عمران خان کے بقول امریکہ سازش کے ذریعے اور  کثیر دولت  صرف کرکے جس حکومت کو اقتدار میں لایا ہے وہی اس کے بنیادی اہداف کے خلاف کام کررہی ہے۔ اور پاک چین تعلقات اور سی پیک منصوبہ میں وسعت کے لئے کام کررہی ہے۔  یہ عجیب سازش ہے کہ   وہ  جس مقصد  سے کی گئی، نتائج اس کے برعکس آرہے ہیں ۔  معمولی سوجھ بوجھ سے کام لیا جائے تو دیکھا جاسکتا ہے کہ امریکہ کا نام لے کر سازشی کوششوں کا پرچار درحقیقت عوام کے جذبات سے کھیلنے اور انہیں گمراہ کرنے کے سوا کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ یہی وجہ ہے عمران خان اور تحریک انصاف اس معاملہ پر نہ تو قومی سلامتی کمیٹی کے بیان کو تسلیم کرتے ہیں اور نہ ہی کسی بھی قسم کی تحقیقات پر راضی  ہوتے  ہیں۔

اب پوڈ کاسٹ انٹرویو میں عمران خان نے واضح  طور سے تسلیم کیاہے کہ ان کے خلاف عدم اعتماد کی کوششیں گزشتہ سال جولائی سے ہورہی تھیں۔ اسی لئے وہ آئی ایس آئی  کے پسندیدہ سربراہ کو تبدیل کرنے کے خلاف تھے اور  اس معاملہ پر آرمی چیف کے ساتھ تنازعہ کا آغاز کیا۔  اس  اعتراف سے عمران خان امریکی سازش کے اپنے ہی دعوؤں کو خود ہی مسترد کررہے ہیں۔ کیوں کہ وہ اس سے پہلے یہ کہتے رہے ہیں کہ 7 مارچ کو امریکی انڈر سیکرٹری ڈونلڈ لو نے دھمکی دی اور 8  مارچ کو  تحریک عدم اعتماد قومی اسمبلی میں پیش کردی گئی۔ ان کے الفاظ میں ’اس سے  امریکی سازش اور سیاسی  لیڈروں کا اس میں ملوث ہونا ثابت ہوجاتا ہے‘۔ تاہم اب وہ کہہ رہے ہیں کہ یہ منصوبہ بندی گزشتہ سال جولائی سے ہی ہورہی تھی ، اسی لئے وہ  جنرل فیض حمید کو  آئی ایس آئی کا سربراہ رکھنا چاہتے تھے کیوں کہ مشکل سیاسی حالات میں یہ ادارہ حکومت کی مدد کرتا ہے۔

عمران خان کے اس اعتراف  کے بعد  یہ بھی تو  کہا جاسکتاہے کہ   آرمی چیف نے جنرل فیض حمید کے عمران خان کی طرف جھکاؤ کو دیکھتے ہوئے یا سیاسی معاملات میں غیر ضروری مداخلت کی وجہ سے انہیں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہو؟  اس تناظر میں تو یہ ایک درست فیصلہ تھا  ۔ خاص طور سے  عسکری قیادت  بار بار ’غیر جانبدار‘ ہونے کا جو  اعلان کررہی ہے، اس کی روشنی میں بھی  جنرل فیض حمید جیسے ’جانبدار‘ شخص  کو آئی ایس آئی سے  علیحدہ کرنا ضروری سمجھا گیا ہو۔  عمران خان کا بھی تو یہی کہنا ہے کہ فوجی قیادت سیاسی معاملات میں مداخلت نہ کرے۔ اس سے پہلے  موجودہ حکومت اور سابقہ اپوزیشن پارٹیاں بھی یہی کہتی رہی ہیں۔  تو پھر اختلاف کس بات پر ہے؟ عمران خان کے غم و غصہ کی ایک ہی وجہ سمجھ میں آتی ہے کہ وہ فوج کی تابعداری میں وزیر اعظم بنے رہنے میں مضائقہ نہیں سمجھتے لیکن یہ چاہتے تھے کہ ان کے اقتدار کو عسکری سایہ فراہم کیا جائے تاکہ اپوزیشن کی سیاسی جد و جہد ناکام ہو اور اس کے لیڈروں  کو ناجائز اور بے بنیاد مقدمات میں  ملوث کیا جاتا رہے۔    نیکی اور خیر کا موازنہ  کروانے والا لیڈر اس ناانصافی اور غیر جمہوری طریقہ کو کس اخلاقیات اور اصول  کی بنیاد پر جواز فراہم کرے گا؟

عمران خان کی سیاسست کسی اصول پر استوار نہیں ہے۔  ان کے حامیوں  کو اس سے غرض نہیں  کہ ان کا لیڈر جھوٹ بولتا ہے،  توشہ خانہ سے چوری کرتا ہے،   فرح گوگی جیسے دوستوں کو تحفظ فراہم کرتا ہے اور  قومی دولت لوٹنے  کی اجازت دیتا ہے۔ انہیں  بس یہ اچھا لگتا ہے کہ عمران خان دوسروں کو بار بار چور کہتا ہے ۔ اسٹبلشمنٹ  نے  دہائیوں کی پروپیگنڈا مہم کے ذریعے شریف و زرداری خاندان کے خلاف جو فضا بنائی ہے ، وہ اب عمران خان کے جھوٹ کی تائد میں استعمال ہورہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کل تک  جو لوگ اے ٹی ایم کہلاتے تھے اور جن سے  عمران خان کے راز و نیاز کے معاملات چلتے تھے ، اب اسی علیم خان اور جہانگیر ترین کو بدعنوان اور مفاد پرست قرار دیا جارہا ہے لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں کہ   ان مفاد پرست لوگوں کو ساتھ لے کر چلنے والے کو کیا نام دیا جائے گا؟

عمران خان  نے آئی ایس آئی کے ذریعے سیاست کرنے کا اعتراف کیا ہے۔ کسی متوازن جمہوری معاشرہ میں ایسا اعتراف کرنے والا کوئی لیڈر ساری زندگی کسی عوامی عہدہ پر فائز نہیں ہوسکتا۔ لیکن عمران خان بدستور ’سچ‘ کی علامت  بن کر  ’عوامی طاقت‘ سے انقلاب برپا کرنے اور جہاد  جاری رکھنے کی باتیں کررہے ہیں۔  وہ ملک میں  فساد پیدا کرنے کے سوا کچھ نہیں کرسکیں گے۔ اس فساد سے بچنے کے لئے عمران خان کا حقیقی چہرہ دیکھنے اور ان کے جھوٹ کی پرتیں اتارنا ضروری ہے۔

loading...