پارلیمانی جمہوریت اور فلور کراسنگ کی شق

جمہوریت اور آمریت محض دو سسٹم نہیں ہیں، یہ اقدار کے دو مختلف تہذیبی و فکری دھارے یا زاویے ہیں۔ آگے چل کر جن کے مختلف النوع تقاضے ہیں۔

مثال کے طور پر ایک شخص خود کو جمہوری الذہن کہتا ہے لیکن اس کے عمومی سیاسی رویے میں جبر کا عنصر نمایاں ہے یا وہ اختلاف رائے کو پسند نہیں کرتا یا انسانی حقوق اور ضمیر کی مطابقت میں آزادی رائے کو وقعت و اہمیت نہیں دیتا تو اسے کسی طرح بھی ایک جمہوری شخص قرار نہیں دیا جا سکتا۔ چاہے وہ کتنے بڑے انتخابی پراسس سے نکل کر ہی برسراقتدار کیوں نہ آیا ہو۔ اس سلسلے میں جرمن چانسلر ہٹلر کی مثال پوری دنیا کے سامنے ہے یا اٹالین لیڈر مسولینی کی شخصیت و سیاست کا جائزہ لیا جا سکتا ہے جو بظاہر جمہوری انتخابی پراسس سے برسراقتدار آئے تھے، لیکن اپنی آمرانہ ذہنیت کے باعث دنیا کے بدترین ڈکٹیٹر قرار پائے۔

اسی طرح دنیا میں کئی لوگ بظاہر ڈکٹیٹر تھے اور وہ آمرانہ سیاسی نظام میں ہی حکمرانی پر فائز ہوئے لیکن ان کی ذہنیت سفاکانہ و ظالمانہ نہیں تھی۔ اس لئے انہوں نے اپنے سماج میں انسانی حقوق اور آزادیوں کا چلیں ایک حد تک ہی سہی پاس و لحاظ ضرور ملحوظ خاطر رکھا۔ چائنہ اور سوویت یونین کے بدترین سوشلسٹ آمرانہ و سفاکانہ سسٹم میں بھی ہم ڈنگ ژیائو پنگ اور گورباچوف جیسی شخصیات کا جائزہ اس تناظر میں لے سکتے ہیں۔ جن کی قدرے کھلی اپروچ سے جبر میں دبی ان کی اقوام یا ان کے عوام مستفید ہوئے۔ اس پس منظر میں ہم اپنے ملک میں برسر اقتدار آنے والے ڈکٹیٹروں اور نام نہاد جمہوریوں کے طرز فکر و عمل کا تفصیلی جائزہ باریک بینی سے لے سکتے ہیں۔

جناح صاحب اور لیاقت علی سے ہم شروع ہو جاتے ہیں۔ جناح صاحب تو خیر بانی پاکستان ہیں اس لئے ان کی سوچ اور اپروچ کا فکری و نظری جائزہ حاوی طبقات بڑی جسارت قرار دیں گے۔ جس ملک میں بھٹو جیسی غیر جمہوری ذہنیت کے پوسٹ مارٹم کو حقارت سے دیکھا جاتا ہو وہاں کسی اور ’’عظیم ہستی‘‘ یا ’’ہستیوں‘‘ کے متعلق لب کشائی کیسے کی جاسکتی ہے؟ یہاں بظاہر ہندوؤں کو بت پرست اور خود کو مواحد قرار دیتے ہوئے تفاخر کیا جاتا ہے لیکن اگر سچائی سے باریکی میں جائیں تو معلوم ہو گا کہ عقیدتوں کے جتنے بت ہم لوگوں نے ہر گلی محلے تک بنا رکھے ہیں، شاید دنیا کی کوئی قوم اس کوالٹی میں بھی ہمارا مقابلہ نہ کرسکےگی۔

ہمارے موجودہ جمہوری پارلیمانی سسٹم میں فلور کراسنگ پر تادیب کا قانون موجود ہے حالانکہ یہ ایک ڈیبیٹ ایبل ایشو ہے کوئی عالمگیر سچائی نہیں۔ دنیا کی بہت سی ثقہ بند و مضبوط جمہوریتوں میں اس نوع کی کوئی قدغن ممبران پارلیمینٹ پر نہیں ہے۔ وہ منتخب ہاؤس میں اپنی پارٹی اور اس کے قائد سے اپنے ضمیر کی مطابقت میں اختلاف رائے کرتے ہوئے یا اپنے حلقے کے عوام یا ووٹرز کی بدلتی امنگوں کی روشنی میں کوئی بھی موقف اپنا سکتے ہیں۔ اور ان پر اس نوع کی جبری تلوار نہیں لٹک رہی ہوتی کہ وہ تاحیات نااہل ہو جائیں گے یا اپنی سیٹ سے محروم کر دیے جائیں گے۔ اس نوع کی اپروچ کو پارٹی کے اندر آمریت یا جبر کے معنوں میں لیا جاتا ہے۔ ہمارے جیسے ملک میں جہاں جمہوریت بوجوہ ہنوز خاصی کمزور ہے اور یہاں لوگ ضمیر کی بجائے مفادات کے جھانسے میں آجاتے ہیں یا اس کے خاصے امکانات رہتے ہیں، جس سے کسی بھی سیاسی پارٹی کا حکومتی استحکام ہمہ وقت خطرے میں رہ سکتا ہے۔ اس لئے دونوں بڑی پارٹیوں کی باہمی مشاورت سے یہ آئینی شق متعارف کروائی گئی کہ اگر کوئی رکن اسمبلی پارٹی پالیسی یا قیادت کے فیصلے کو نظرانداز کرتے ہوئے اس کے خلاف ووٹ دے گا تو اس کے بعد الیکشن کمیشن ایک پورے پراسس کی تکمیل کرتے ہوئے اسے ڈی سیٹ کر سکے گا تاکہ وہ دوبارہ اپنے حلقہ نیابت سے رجوع کرتے ہوئے یا ان کا نیا اعتماد لیتے ہوئے معزز ایوان کا ممبر منتخب ہوسکے۔

بحیثیت ممبر اسمبلی اس نے جو ووٹ دیا تھا وہ اس کا استحقاق تھا اور وہ کاؤنٹ ہوگا البتہ چونکہ اس نے پارٹی قیادت یا پالیسی کے فیصلے سے انحراف کیا ہے، اس لئے تادیب یہ رکھی گئی ہے کہ وہ ڈی سیٹ ہونے کے بعد تازہ مینڈیٹ لے کر آئے۔ یہ ڈی سیٹ کیا جانا گویا ایک طرح سے سزا ہے کہ آپ نے ضمیر کی جو بھی آواز تھی پارٹی ڈسپلن کو کیوں ملحوظ خاطر نہیں رکھا۔ یہ سزا یونہی منہ اٹھائے لاگو نہیں کی جاسکتی بلکہ معزز ممبر اسمبلی کا یہ آئینی استحقاق ہے کہ صفائی کا موقع دیتے ہوئے پوری طرح اس کی شنوائی کی جائے ۔ درویش یہ کہہ سکتا ہے کہ یہ کڑا پارٹی ڈسپلن ایک طرح سے سسٹم کو بہتر چلانے کی عملی سیاسی مجبوری ہے ورنہ یہ عالمگیر جمہوریت کی کوکھ سے جنم لینے والا بنیادی انسانی و اخلاقی اصول نہیں ہے۔ بلکہ بڑی حد تک اس کے برعکس ہے کیونکہ جمہوریت کا خمیر ضمیر کی آواز، انسانی حقوق و افکار کی کامل آزادیوں سے جڑا ہوا ہے۔

اس سب کے برعکس ہماری سوسائٹی میں فلور کراسنگ کی قانونی و سیاسی شق کو یوں بڑھا چڑھا کر ایسا گھناؤنا فعل یا جیسے کوئی بہت بڑا اخلاقی جرم ہو پیش کیا جاتا ہے۔ مانا کہ اس کے انتخاب میں شخصی مقبولیت کے ساتھ پارٹی پاپولیرٹی کا عنصر شامل ہوتا ہے، اس لئے تو اسے ڈی سیٹ کی سزا دی جاتی ہے۔ مگر ہمارے کھلاڑی یا اس کی جماعت نے ان دنوں اس قانونی شق کے حوالے سے جس نوع کا ردعمل دیا ہے، وہ اس قانونی خلاف ورزی سے کہیں زیادہ گھناؤنا غیر اخلاقی، غیر سیاسی اور غیر جمہوری ہے۔ تمہارے بچوں کی شادیاں نہیں ہوں گی، سکولوں میں تمہارے بچوں کو دوسرے بچے طعنے دیں گے، انہیں پڑھنے نہیں دیں گے، اس سے بھی بڑھ کر تم اپنے حلقے میں نکل نہیں سکو گے۔ یہ تو ایک طرح سے عوام کو دہشت اور تشدد پر اکسانے کی غیر آئینی و غیر انسانی ناقابل برداشت حرکت ہے۔

معزز الیکشن کمیشن نے جو حالیہ فیصلہ دیا ہے، یہ قطعی واضح ہے جب فلور کراسنگ ہوئی ہی نہیں، کسی ایک پارٹی ممبر نے تحریک عدم اعتماد میں ووٹ نہیں ڈالا تو ریفرنس بے معنی ہو گیا۔ اب یہ نیا شوشہ کہ کمیشن کے دو ممبران کم ہیں گریبان میں جھانک کر دیکھیں کہ اس میں کس کی کوتاہی ہے۔ جب گزشتہ ساڑھے تین سالوں سے آپ کی حکومت تھی اور آپ کو قائد حزب اختلاف کی طرف سے باضابطہ طور پر یہ کہا بھی گیا۔ تو آپ نے پوری رعونت دکھاتے ہوئے قائد حزب اختلاف سے ملنا پسند نہ فرمایا۔ خود کردہ را علاج نیست۔ اب جائیں اپیل میں اور چکھ لیں اس کا بھی مزا۔

البتہ آزاد میڈیا کی ذمہ داری ہے کہ حالیہ دنوں ان معزز ممبران اسمبلی کے خلاف جو نفرت انگیز زبان استعمال کی گئی ہے اور عوام کو ان کی اہانت پر جس بدتہذیبی سے اکسایا گیا ہے اس کا محاکمہ کرے ۔

loading...