فوج کی غیر جانبداری کوعمران خان نامی کمبل چمٹ چکا ہے

فوج اور سیاست کا معاملہ’  میں کمبل کو چھوڑتا ہوں ، کمبل مجھے نہیں چھوڑتا ‘ والا ہوچکا ہے۔ مسئلہ صرف اتنا ہے کہ اسٹبلشمنٹ نے بڑی محنت سے یہ کمبل طویل المدت  سکون و اطمینان کے لئے تیار کیا تھا  تاکہ  عوام میں اثر و رسوخ رکھنے والی دونوں اہم پارٹیوں کو  بے اثر کرکے  ملک پر حکمرانی کا خواب عمران خان کے کاندھے استعمال کرتے ہوئے پورا کیا جاتا رہے۔

سابق وزیر اعظم  کی ناکارہ گورننس، معاشی بدانتظامی، سفارتی بدحواسی اور ناقابل اعتبار بیان بازی کی وجہ سے یہ بوجھ   بیچ راستے ہی  میں اٹھانا دشوار ہوگیا۔  اسی دشواری کی وجہ سے ایک بار پھر انہی پارٹیوں سے رجوع کیا گیا اور  عمران خان کی مسلسل بوجھ  بنتی ہوئی حکومت سے نجات پانے کے لئے تحریک عدم اعتماد کا ڈول ڈالا گیا۔ اب فوج کے ترجمان اور  تحریک انصاف کے بعد حکومت سنبھالنے والی سیاسی جماعتیں دعویٰ کرتی ہیں کہ یہ سیاسی فیصلہ تھا  جس میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش نہیں کی گئی۔ فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے مارچ کے دوران ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ ’فوج سیاسی معاملات میں غیر جانبدار ہے ۔ سیاسی امور ملک کی سیاسی پارٹیاں اور پارلیمنٹ ہی طے کرے گی۔ فوج نہ تو اس میں مداخلت کرے گی اور نہ ہی فوج کو سیاسی مباحث میں گھسیٹا جائے۔  اسی بیان کو زیادہ شدت سے گزشتہ روز  ایک پریس ریلیز کے علاوہ میجر جنرل بابر افتخار  کی میڈیا ٹاک میں   بیان کرنے کی کوشش کی گئی۔   پریس ریلیز میں خاص طور سے پشار کے کور کمانڈر  لیفٹیننٹ جنرل  فیض حمید کے حوالے سے ہونے والی باتوں کو نامناسب قرار دیتے ہوئے  ملکی سیاسی قیادت سے کہا گیا تھا کہ وہ فوج کو سیاست میں ملوث نہ کریں اور انتخابات منعقد کروانے کے علاوہ دیگر تمام امور پر مل جل کر فیصلے کرلیں۔

حکمرا ن سیاسی جماعتوں کو  فوج کی اس خواہش سے کوئی مسئلہ نہیں ہے لیکن عمران خان  وہ کمبل  بن چکا ہے جس سے جان چھوٹنا مشکل ہوچکا ہے۔ اس کی دو وجوہات ہیں:

1)فوج نے بڑے لاڈ سے عمران خان کی  پرورش کی تھی اور انہیں دس سال تک حکومت میں رکھنے کے سہانے  سپنے دکھائے گئے  تھے اور وعدے کئے گئے تھے۔ عمران خان سمجھتے ہیں کہ ان سے کئے ہوئے وعدے وفا نہیں کئے گئے۔ اب ان کا طرز عمل یہ واضح کررہا ہے کہ اگر مجھے اقتدار سے نکالا گیا ہے تو میں کسی  کو بھی   ملک پر حکومت نہیں کرنے دوں گا۔  اگر میری کمزوریوں کو عیاں کیا گیا ہے تو میں  اقتدار کی گردشوں میں جاری سب ڈراموں کا راز برسر عام افشا کروں گا۔ انہوں نے  اپنا ایک ایسا مضبوط فین  کلب بنا لیا ہے جس کے لئے نہ دلیل کی اہمیت ہے اور نہ ہی حجت یا حقائق کام کرتے ہیں۔ وہ عمران خان کے کہے کو حرف آخر مانتے ہیں اور آنکھیں بند کرکے  اسی راستے پر چلنے کے لئے تیار ہیں جو عمران خان انہیں دکھا رہا ہے۔  یہ راستہ فی الوقت تباہی اور   ملک کے لئے   شدید معاشی   و سماجی بحران کا راستہ ہے۔ تاہم عمران خان کو اس بات کی پرواہ نہیں ہے کہ ان کے  غیر ذمہ دارانہ طرز عمل سے ملک و  قوم کو کیا نقصان پہنچ رہا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ  ان کا ’حق‘ ان کے دشمنوں کو دلوادیا گیا ہے۔ اس لئے جب تک   ’اقتدار  بانٹنے والی فورسز‘ اپنی غلطی تسلیم کرکے   عدم اعتماد سے پیدا  ہونے والی غلطی کو درست نہیں کرتیں ، اس وقت تک وہ چین سے نہیں بیٹھیں گے۔

کمپنی کی سہولت کے لئے انہوں نے غلطی سدھارنے کا پرچہ ترکیب استعمال بھی تیار کیا ہے اور اسے جستہ جستہ عام  کررہے ہیں۔  وہ کہتے ہیں کہ فوری انتخابات منعقد کروائے جائیں۔   تاہم انتخابات سے عمران خان کی مراد  کسی آئینی طریقہ کے تحت عوام  کو اپنے  نمائیندے  چننے کا موقع دینا نہیں ہے۔ بلکہ  وہ نئے اور فوری انتخابات میں 2018 کے انتخابات کا  ’ ری پلے‘ چاہتے ہیں۔   2018 سے پہلے چونکہ ان کے منہ کو اقتدار کا ’خون‘ نہیں لگا تھا ، اس لئے وہ کسی بھی قیمت پر محض  وزیراعظم بن کر بھی خوش تھے۔ لیکن اب ان کا ’مطالبہ‘  ہے کہ غلطی سدھارنے کے لئے انہیں ہر قیمت پر  قومی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت لے کر دی جائے تاکہ وہ جیسے چاہیں آئین تبدیل کریں اور جس طرح چاہیں مخالفین کو اپنے عتاب کا نشانہ بنائیں۔  عمران خان نہایت ڈھٹائی سے نہ  صرف فوج کو چیلنج  کر رہے ہیں کہ انہیں مدخلت کتکے اقتدار دلوایا جائے  بلکہ یہ دعویٰ بھی کررہے ہیں  کہ  انہیں اس سے کم کوئی حل قبول نہیں ہوگا۔  اسے سادہ اور عام فہم لفظوں میں  یوں بیان کیا جاسکتا ہے کہ ’یا تو مجھے  مکمل اختیار دلوا کر میرے ہاتھوں پاکستان کو تباہ  کروایا جائے یا پھر میں اپنے حامیوں کو اشتعال دلا کر خود ہی اسلام آباد کی اینٹ سے اینٹ بجا دوں گا‘۔ تازہ ترین تقریروں میں انہوں نے یہی دعویٰ کیا ہے۔

2) عمران خان کے جارحانہ طرز عمل کی دوسری بڑی وجہ یہ ہے کہ انہیں اقتدار سے ہٹا کر جوحکومت قائم  ہوئی  ہے، وہ بے حد کمزور  ہے ۔  حکومت میں شامل  پارٹیوں  کے باہمی اختلافات مسلسل حکومتی کارکردگی میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔   ایک  ماہ گزرنے کے باوجود شہباز شریف  کوئی اہم سیاسی، معاشی، انتظامی یا سفارتی فیصلہ نہیں کرسکے۔ حکومت کی معاشی حکمت عملی یا  تو عمران خان کے آخری دنوں میں کئے گئے عاقبت نااندیشانہ فیصلوں   سے بندھی ہے (عالمی مارکیٹ میں  تیل کی مسلسل بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باوجود بجٹ تک پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت کو منجمد کرنے کا اعلان) یا پھر آئی ایم ایف  پروگرام کی بحالی سے مشروط ہے۔  آئی ایم ایف نے   6ارب ڈالر کے موجودہ پیکیج  میں 2 ارب ڈالر کا اضافہ اصولی طور سے مان لیا ہے لیکن  اس حوالے سے معاہدہ کے لئے  شرائط طے ہونا ابھی باقی ہے۔  جب تک آئی ایم ایف  کا  مالی معاہدہ بحال نہیں ہوتا، اس وقت تک عرب ممالک، چین اور دیگر عالمی مالیاتی اداروں سے  بھی کسی قسم کی امداد یا قرض ملنے  کی امید نہیں ہے۔ انتظامی و سیاسی لحاظ سے شہباز حکومت کی بے عملی کا اس سے بڑا مظاہرہ کیا ہوگا کہ  وزیر اعظم نصف درجن وزیروں کو لے کر نواز شریف کی اجازت لینے کے لئے دو روز کے لئے لندن جا بیٹھا ہے  جبکہ پاکستان میں روپے کی قدر  خطرناک حد تک کم ہوگئی اور حصص کی قیمتیں گررہی ہیں۔ 

اس ایک اقدام سے شہباز شریف نے اپنی حکومت کے بودے پن کو پوری طرح عیاں کردیا ہے ۔ اس سے ایک طرف مارکیٹ بے چینی کا شکار ہوئی ہے تو دوسری عمران خان جیسے اپوزیشن لیڈر کو للکارنے  ، نت نئے دعوے کرنے اور سازش کے نظریہ کو نئے انداز میں پیش کرنے کا موقع ملا ہے۔  حکومت میں شامل دونوں بڑی پارٹیوں کو عسکری قیادت کی سرپرستی میں گزشتہ دو دہائیوں کے دوران مطعون کرنے  کی ایک باقاعدہ اور منظم مہم چلائی گئی  تھی۔  دس سال سے اس کی باگ ڈور عمران خان کے ہاتھ میں  تھی۔  عمران خان نے  شریف خاندان اور زرداری کو چور اچکا ثابت کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا اور ساڑھے تین سالہ اقتدار کے دوران وہ یہی منتر پڑھ کر لوگوں  کو بے وقوف بناتے رہے۔   اس دوران  بڑی چالاکی سے عمران خان کا ایماندار اور اصول پرست شخص کے طور پر بت بنایا گیا ۔ حالانکہ نہ وہ  کسی اصول کو مانتے ہیں اور  نہ ہی ان کی ایمانداری مسلمہ ہے۔ توشہ خانہ کے تحائف کو عالمی منڈی میں بیچنا اور فرح گوگی کے کردار کے حوالے سے سامنے آنے والی معلومات    دیانت داری کے اس   دھوکہ کا محض ہلکا سا رخ دکھاتی ہیں۔ اگر اس پہلو سے مزید کام کیا گیا تو عمران  حکومت کے دوران کئے جانے والے گھپلوں کی المانک کہانیاں سامنے آئیں گی۔ اس کے باوجود سوشل میڈیا کی طاقت، عمران خان کی ذاتی اپیل اور خاص طور سے دونوں بڑی پارٹیوں کے لیڈروں کے بارے میں منفی پروپیگنڈا کی  مہم نے انہیں بدستور    ’عوام کا ہیرو ‘ بنایا ہؤا ہے۔

 فوج کے ترجمان ’غیر جانبداری‘ کااعلان کرتے ہیں لیکن عمران خان  ٹوئٹ پیغام اور  اپنی سابقہ انسانی حقوق کی وزیر شیریں مزاری کے ذریعے یہ ثابت کررہے ہیں کہ ’غیر جانبداروں‘ کو بتا دیا گیا تھا کہ حکومت تبدیل ہونے سے ملک کو شدید معاشی چیلنج کا سامنا ہوگا لیکن جو اس   حکومت تبدیلی  کی کوشش کو روک سکتے تھے انہوں نے نام نہاد نیوٹرل ہونے کا اعلان  کردیا۔ گویا تحریک انصاف کی قیادت اعلان کررہی ہے کہ فوجی ترجمان جو بھی کہتا رہے ، ہم تو فوج کو  اس وقت تک سیاست  میں گھسیٹیں گے جب تک وہ ہمیں دوبارہ اقتدار میں نہیں لاتی۔  اس کے بعد حسب سابق فوج کو ایک پیج کا ساتھی کہہ کر ایک بار پھر یہ اعلان کیا جاسکتا ہے کہ ’ آرمی چیف تو میرے نیچے ہے‘۔ مسئلہ صرف  یہ ہے کہ عمران خان صرف بطور وزیر اعظم ہی آرمی چیف کو ماتحت  نہیں رکھنا چاہتے بلکہ ان کا اعلان ہے کہ’وہ بہر صورت  میرے تابعدار رہیں کیوں کہ  میرے پاس ان لوگوں کے بہت سے راز ہیں‘۔

آج شام بنی گالہ میں میڈیا کے نمائیندوں سے باتیں کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم نے ایسے کچھ ناگفتہ بہ راز  افشا کئے ہیں یا گلے شکووں کی پٹاری کھولی ہے ۔  عمران خان  نے دعویٰ کیا  کہ’ اسٹیبلشمنٹ سے پیغامات آ رہے ہیں لیکن میں کسی سے بات نہیں کررہا۔ میں نے ان لوگوں کے نمبر بلاک کر دیے ہیں۔ جب تک الیکشن کا اعلان نہیں ہوتا، تب تک کسی سے بات نہیں ہو گی‘۔  عمران خان نے یہ بھی کہا کہ نیب اور عدلیہ پر ہمارا اثر نہیں تھا لیکن جن کا اثر تھا، اگر وہ چاہتے تو آٹھ سے دس لوگوں کو سزائیں ہوجاتیں۔  اگر یہ ’احتساب‘ ہوجاتا تو حالات مختلف ہوتے۔ انہوں نےیہ انکشاف بھی کیا  کہ ’ ہمیشہ ایسے فیصلے ہوتے رہے کہ میری حکومت کمزور رہے۔  ابتدا میں ہی ن لیگ کے 30 ایم پی ایز پنجاب میں ہمارے ساتھ مل کر فارورڈ بلاک بنانا چاہتے تھے۔ اگر فارورڈ بلاک بن جاتا تون لیگ کی سیاست ختم ہو جاتی لیکن ان ایم پی ایز کو طاقتور حلقوں نے پیغام دیا کہ جہاں ہیں، وہیں رہیں‘۔

یہ  مشتے نمونہ از خروارے کے مصداق ابھی آغاز ہؤا ہے۔   ملک کا ایک سابق وزیر اعظم جو عوام کی طاقت سے ریاست کے پائے ہلادینے کے دعوے کررہا ہے ، درحقیقت  ہر اس کام کو جائز قرار دے رہا ہے جس میں اس کا فائدہ ہو۔ فلور کراسنگ کے حوالے سے آئینی شق 63 اے کا معاملہ سپریم کورٹ میں لے جانے والا عمران خان  یہ جائز سمجھتا ہے کہ فوج کی مدد سے دوسری پارٹیوں کے لوگ توڑ کر اس کے ہاتھ مضبوط کئے جائیں۔  وہ یہ دعویٰ بھی کررہا ہے کہ ملکی عدلیہ یا نیب جیسےآئینی ادارے کی کوئی  خود مختار حیثیت  نہیں ہے بلکہ یہ فوج کے توسط سے کنٹرول ہوتے ہیں۔

عمران خان کی یہ باتیں  فوج کے آئینی کردار کو تبدیل کرنے پر اصرار کے علاوہ ملکی عدلیہ کی خود مختاری اور وقار پر براہ راست حملہ ہے۔  لیکن ملک کی نصف حکومت لندن میں بیٹھی ہے اور جی ایچ کیو اپنے ترجمان کے ذریعے  اپیلیں کررہا ہے کہ فوج کو ’غیر جانبدار‘ رہنے دیا جائے۔    عدلیہ اپنی ’خود مختاری ‘ ثابت کرنے کے کے لئے  تحریک انصاف کے لیڈروں کو تحفظ فراہم کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ حکومت، عدلیہ اور تمام اداروں نے عمران خان کی صورت میں  ملکی آئینی  انتظام اور ریاستی استحکام کو لاحق خطرے کو بھانپ کر اس کا فوری اور مؤثر تدارک  نہ کیا تو    یہ ملک  کے لئے نہایت بری خبر ہوگی۔

loading...