سری لنکا کا معاشی بحران ٹھیک ہونے سے پہلے بدتر ہو گا: وزیراعظم

  • ہفتہ 14 / مئ / 2022

سری لنکا کے نئے وزیر اعظم انیل وکرما سنگھے نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ملک میں بدحالی اور بدامنی کو جنم دینے والا معاشی بحران ’ٹھیک ہونے سے پہلے مزید بدتر ہو گا۔‘

سری لنکا کو ایندھن کی قلت اور خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا سامنا ہے۔ حالات اتنے خراب ہو چکے ہیں کہ کچھ سری لنکن شہری ایک وقت کا کھانا چھوڑنے پر مجبور ہیں۔ حکومت نے جس طرح سے بحران سے نمٹنے کی کوشش کی ہے، اس حوالے سے عوام میں شدید غصہ پایا جاتا ہے اور یہی چیز پرتشدد مظاہروں کا باعث بنی۔ مظاہروں کو کم کرنے کے لیے اپوزیشن رکن رانیل وکرما سنگھے کو نیا وزیرِاعظم بنایا گیا تھا۔ وہ چھٹی مرتبہ ملک کے وزیر اعظم بنے ہیں۔

عہدہ سنبھالنے کے بعد اپنے پہلے انٹرویو میں وکرماسنگھے نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ یہ یقینی بنائیں گے کہ سری لنکا میں رہنے والے خاندان دن میں تین وقت کا کھانا کھا سکیں۔

نئے وزیر اعظم کے مطابق سری لنکا کی معیشت برباد ہو چکی ہے تاہم سری لنکن عوام کے لیے ان کا پیغام تھا کہ ’صبر کریں، میں چیزوں کو واپس پہلے والی صورتحال پر لے آؤں گا۔‘ صدر گوتابایا راجا پکسے نے جمعرات کو وکرما سنگھے سے حلف لیا۔ زیادہ تر لوگ ان کے وزیراعظم بننے سے کوئی خاص خوش نہیں کیونکہ انہیں راجا پاکسے خاندان کے بہت قریبی سمجھا جاتا ہے۔

اپنے انٹرویو میں وکرما سنگھے نے کہا کہ وہ صدر راجا پاکسے سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرنے والے مظاہرین کے جذبات سے اتفاق کرتے ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ایسا نہیں ہوگا ’الزام لگانے سے کچھ حاصل نہیں ہو گا، میں یہاں لوگوں کی حالت بہتر بنانے آیا ہوں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ وہ راجا پاکسے حکومت کی تمام پالیسیوں کو تبدیل کررہے ہیں۔ انہوں نے عالمی برادری سے بھی مدد کی اپیل کی۔ ہمیں ایک سال کے لیے آپ کی مدد کی ضرورت ہے، جو کچھ بھی ہم آپ سے ادھار لیں گے، وہ واپس کر دیں گے۔ ملک کی حالت بہتر کرنے میں ہماری مدد کریں۔ ہم ایشیا کی سب سے بڑی اور پرانی جمہوریت ہیں۔

سری لنکا کی معیشت زبوں حالی کا شکار ہے۔ خوراک، ادویات اور ایندھن ختم ہو چکے ہیں یا انہیں خریدنا استطاعت سے باہر ہو چکا ہے۔ پٹرول سٹیشنز پر ٹینک بھرنے کے انتظار میں کچھ لوگ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

1948 میں برطانیہ سے آزادی حاصل کرنے کے بعد سے یہ اس جزیرہ نما ملک میں آنے والا یہ بدترین معاشی بحران ہے۔

loading...