سوشل میڈیا کا سیاسی جادو؛ فلپائن اور پاکستان

یہ کیسے ممکن ہوا؟  فلپائن کے صدارتی  الیکشن میں ماضی کے بد ترین آمر اور کرپشن  کے مرکزی کردار کا  بیٹا اسی ملک میں سب سے زیادہ ووٹ لے کر  صدر منتخب ہوجائے۔ ایشیاء میں اس زمانے میں بد ترین آمریت کئی ملکوں میں رائج تھی۔  فلپائن میں 1986  میں شدید  عوامی ردِعمل اور مزاحمت نے اس  آمر کو بھاگنے پر مجبور کیا۔

اس کے  ہم نام بیٹے فرڈینینڈ مارکوس جونئیر کی عمر اس وقت 28  سال  تھی۔ ملک سے فرار ہونے کے بعد  جبر اور کرپشن کی ایسی ایسی غضب کہانیاں سامنے آئیں کہ خدا کی پناہ!  سونے اور ڈالرز کے انبار کے تخمینے تو ایک طرف، عوام  مارکوس کی اہلیہ  کے شاہانہ ٹھاٹھ باٹھ  کے بارے میں جان  کر انگشت بدنداں رہ گئے۔  کرپشن اور دولت سمیٹنے کی داستانیں اس قدر عام ہوئیں کہ مارکوس اس زمانے کی سیاسی  تاریخ کا ایک خوفناک کردار  ٹھہرا۔  کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ اس پسِ منظر  کے ساتھ عوام کے دھتکارے ہوئے شخص کا بیٹا  36سال بعد اس ملک میں عوامی حمایت کے ساتھ الیکشن  جیت کر صدر منتخب ہوگا، اور وہ بھی اپنی  حریف کے مقابلے میں دوگنا ووٹ لے کر!

یہ سب کیسے ممکن ہوا؟ یہ جاننا فلپائن اور پاکستان جیسے ممالک کی سیاسی حرکیات  سمجھنے کے  لئے انتہائی ضروری ہے۔ مارکوس کے بعد  آنے والی  حکومتوں میں کرپشن اور اقربا پروری  مسلسل حاوی رہی۔  مارکوس  کے حامی  جمہوری نظام میں دھیرے دھیرے داخل ہو کر فیصلہ سازی میں شریک ہونے لگے۔حافظے کچھ سستانے لگے تو  مارکوس فیملی کے بارے میں ہمدردی اور مٹی پاؤ جیسے جذبات نے سیاسی فضا  کو ایسا بدلا کہ مارکوس فیملی کو ملک میں واپس آنے کی اجازت دے دی گئی۔  فلپائن  میں گزشتہ بیس پچیس سالوں  کے دوران  عدم استحکام، معاشی بدحالی، غربت، عدم مساوات، جرائم اور منشیات کے کاروبار میں خوفناک  اضافہ ہوا۔ سیاسی اشرافیہ انتہائی منقسم اور  ان مسائل کے حل میں ناکام رہی۔

اس دوران سیاست  اور معاشرت  میں ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل و سوشل میڈیا نے روایتی  سیاسی ابلاغ  کے طور اطوار اور انداز ہی بدل ڈالے۔  فلپائن میں پاکستان کی طرح ووٹرز کی نصف سے زائد  تعداد  نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ سوشل میڈیا  پر  کم و بیش چار گھنٹے  روزانہ صرف کرنے والے  بیشتر ووٹرز کی پیدائش مارکوس کے فرار کے بعد کی ہے۔ ان کے حافظے میں اس دور کی تلخ یادوں کا مدہم  سا نشان ضرور  تھا مگر بھلا ہو سوشل میڈیا اور اس کے استعمال کی مہارت کا کہ  پچھلی دو  دِہائیوں کے دوران  سوشل میڈیا پر مارکوس کا دور بدترین آمریت، اقرباء پروری اور کرپشن  میں لتھڑا ہونے کا باوجود ایک سنہری دور کے دور پر نوجوان ووٹرز کے ذہن میں رچ بس گیا۔

 ماہرین اور ناقدین  حیران ہیں کہ کل کی تاریخی  حقیقت سوشل میڈیا کے طفیل  بالکل الٹ  نقش کروا دی گئی۔ مارکوس فرڈینینڈ جونیئر اب اسی ملک میں ضمیر پر کسی بوجھ کی بجائے دھڑلے سے اپنے خاندان کے شاندار ماضی  کی بگھی پر سوار اسی صدارتی محل میں پھر سے براجمان ہو گئے۔ اور ہاں؛ ان کی نائب صدر ساتھی موجودہ صدر کے بیٹی ہیں

پاکستان میں  ووٹرز  کی اکثریت نوجوانوں پر مشتمل ہے، مزید یہ کہ ان کی ایک خاصی تعداد شہری علاقوں کی رہائشی ہے۔ موبائل فون اور سوشل میڈیا کے ساتھ ان کا تعلق روزانہ گھنٹوں پر مشتمل ہے۔ ان میں سے اکثریت روایتی میڈیا  سے کہیں زیادہ  سوشل میڈیا پر اعتبار کرتے ہیں۔ ان کا سچ وہی ہے جو وہ دن میں بار بار  سوشل میڈیا پر سنتے اور دیکھتے ہیں۔ان کا متبادل سچ  تاریخ کے کھرے  سچ سے بالکل الٹ ہو سکتا ہے۔

 میر جعفر اور میر صادق مغلیہ سلطنت کے دورِِ  زوال  کی تاریخ کے  کردار ہیں جو 1707 میں  اورنگزیب  عالمگیر  کی  وفات سے شروع ہوا،  سازشیں، ریشہ دوانیاں  اور وفاداریاں بدلنا معمول بنا تو کمزور مرکز سے کئی ریاستون نے خودمختاری اختیار کر لی۔  اسی دور میں انگریز اور فرانسیسی کولونیل مہمات پر ملکوں ملکوں نقب لگا رہے تھے۔  بر صغیر  میں   انگریزوں  نے پاؤں جما ئے اور  1857 کے  بعد مکمل طور پر قابض ہو گئے۔  بنگال اور میسور  ریاست نے اپنی بقاء کے لئے فرانسیسیوں کو آواز دی۔ اس دوران سازشوں اور وفاداریوں کی ایک  طویل تاریخ ہے، احمد شاہ ابدالی کو افغانستان سے حملہ کرنے کی ترغیب بھی  یہیں سے دی گئی۔

تاریخ کے سفاک سچ  بیان   کرنے کی بجائے ہماری نصاب کی کتابوں میں میر  جعفر اور میر صادق کے کرداروں کو یوں بڑھا چڑھاکر بیان کیا گیا جیسے صرف ان کی وفاداری کی تبدیلی ہی انگریزوں کے  مکمل قبضے کی وجہ بنی۔  اور ہاں اس زمانے میں  نوابوں اور ریاستوں کے پاس باقاعدہ اور منظم لشکر یک محدود تعداد میں ہوتے تھے۔  پیشہ ور  جنگجو سرداروں  کے  اپنے چھوٹے چھوٹے لشکر  معمول کی بات  تھی جو  پیسے، مالِ غنیمت یا  فتح کی  صورت میں جاگیروں کے عوض میدان میں  باقاعدہ فوج کے ساتھ اترتے تھے۔   عین جنگ کے دوران وفاداری بدل کو دوسرے فریق سے جا ملنا یا  ساز باز کرکے جنگ کا پانسہ پلٹنا معمول تھا۔ اڑھائی سو سال بعد  آج زوال کی واحد وجہ میر جعفر اور میر صادق  کے سر باندھ کر ایک  متبادل سچ بیانئے کی  صورت میں ایک پارٹی کی جانب سے   عام  کیا جا رہا ہے۔  اس سچ کی پروموشن  کے لئے  سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل میڈیا پر ابلاغ کی تمام نزاکتوں کا بھرپور  استعمال  ہو رہا ہے ۔  نتیجہ یہ ہے کہ سیاسی بحث ایک جنگی ماحول میں بدل گئی ہے۔ گورننس،   کرپشن، بے  ر وزگاری، بے حال معیشت،   مہنگائی جیسے مسائل اب مین اسٹریم میڈیا کا  محور نہیں ہیں۔  چور، ڈاکو، لٹیرے،  غدار، سازشی  دونوں جانب کا مشترکہ ابلاغی ہتھیار ہیں۔

 فلپائن کی طرح  پاکستان میں بھی  متبادل سچ کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ ملکی  معیشت دیوالیہ ہونے کو ہے مگر کسے فکر ہے اور کیوں ہو؟  دشمن خوش ہیں کہ تمام ادارے متنازع  ہو رہے ہیں۔  ایسے  میں سری لنکا جیسا حادثہ ہو گیا یا فلپائن جیسی ہوا چلی تو کون فیصلہ کرے گا کہ کس کا دوش تھا  اورکس  کا نہیں۔اپنی اپنی سیاسی اناؤں سے کوئی بھی ہٹنے کو تیار نہ ہوا تو کسی انہونے حادثے کو زیادہ انتظار کرنا پڑے گا

loading...