مجھے کیوں نہیں بچایا

عمران خان صاحب آج کل دھڑا دھڑ جلسے کر رہے ہیں اور حسبِ معمول گرج برس رہے ہیں۔ وہ بھرپور کوشش کر رہے ہیں کہ انھیں گرفتار کر لیا جائے تاکہ ان کی مقبولیت میں مزید اضافہ ہو۔ وہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ دونوں کو اشتعال دلا رہے ہیں۔

وہ جو باتیں تھوڑے ملفوف انداز میں کرتے تھے، اب کُھل کے کر رہے ہیں۔ مقصد اشتعال دِلانا ہے ۔ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کو چاہیئے کہ تحمل سے کام لیں ورنہ ملک انارکی کے گڑھے میں گِر جائے گا۔ حکومت کو چاہیئے کہ عمران خان کو گرفتارگرنے سے گُریز کرے۔ اُنہیں آزادی سے جلسے کرنے دے۔ وہ اپنے لیئے خود جال بُنیں گے اور خود پھینکیں گے۔ اور پھرخود اُس میں گِریں گے۔

عمران خان کا طرز عمل تو ملک کو خانہ جنگی کی طرف لے جا رہا ہے۔ وہ بار بار انتخابات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ نون لیگ کے متعدد رہنما بھی یہی کہہ رہے ہیں لیکن کیا انتخابات اس مسئلے کا حل ہیں تو میرا جواب نفی میں ہے۔ کیونکہ عمران خان اگر حکومت میں نہ آئے تو بھی ہیجان پیدا کرتے رہیں گے. اور حکومت میں آ گئے تو اس بیانیے پہ چل کے پاکستان کو سیاسی سفارتی اور معاشی تنہائی کا شکار کر دیں گے۔

میرا نہیں خیال کہ وہ دو تہائی اکثریت لے سکیں گے۔ ایسی صورت میں پھر معلق پارلیمان وجود میں آئے گی اور آج کی اتحادی پارٹیاں پھر سے اتحاد کر کے عمران خان کا حکومت میں آنے کا راستہ روک سکتی ہیں۔ ایسے میں کیا وہ چین سے بیٹھیں گے؟  ہر گز نہیں ۔ وہ سڑکوں پہ رہیں گے. اور اگر وہ کسی طریقے سے اِقتدار میں آگئے تو جس آزاد خارجہ پالیسی کا وہ ذکر کرتے ہیں، اس پہ عمل کرنے کا کیا پروگرام ہے یہ وہ کہیں نہیں بتاتے۔ بس جذباتی نعرے اور غیر حقیقی خواب۔

ہماری قوم میں امریکہ مخالف جذبات دہائیوں سے موجود ہیں ۔  اسلام سے وابستگی بھی لازوال ہے۔ عمران خان ان دونوں چیزوں کو کمال مہارت سے اپنے حق میں استعمال کر رہے ہیں۔  جس طرح امریکہ کو وہ کُھلم کُھلا للکار رہے ہیں، اس سے آزادی کا دعویٰ کر رہے ہیں، کیا اس کے متبادل کا انتظام کر لیا گیا ہے؟  امریکہ اور پاکستان کے سیاسی، معاشی اور دفاعی اشتراکِ کار کی ایک طویل تاریخ ہے۔ ہماری سب سے زیادہ ایکسپورٹ ٹیکسٹائل سے وابستہ ہیں اور سب سے بڑا خریدا امریکہ ہے۔  اگر امریکہ اس خریداری کو کم کرلے تو کیا عمران خان کے پاس اس کا متبادل ہے؟

 پاکستان کا 70 فی صد سے زائد اسلحہ امریکی ہے۔ ایک معمولی سے معمولی پُرزہ بھی امریکہ سے آتا ہے۔ کیا ہم یہ ضروریات خود پوری کر سکتے ہیں؟  ہمارے طالب علموں کی بڑی تعداد وظائف پہ امریکہ میں ہے۔ اُن کے لئے بے شمار مسائل پیدا ہوں گے۔ اب آئیے معیشت کی طرف۔ ہماری معیشت مکمل طور پہ آئی ایم ایف کے کنٹرول میں ہے۔ اور آئی ایم ایف امریکہ کے کنٹرول میں۔

 عمران خان نے ساڑھے تین سالوں میں کوئی ایسا انقلابی قدم نہیں اُٹھایا جو آئی ایم ایف کے چُنگل سے آزادی کا پیغام دیتا ہو۔ بلکہ اُن کی حکومت نے بھی دھڑا دھڑ قرضے لئے۔ دوسری حکومتیں تو سی پیک کو دلیل کے طور پہ استعمال کرتی ہیں، زرداری صاحب نے یہ شروع کیا۔ اور نواز شریف نے مضبوط کیا۔ بجلی کے منصوبے شروع کئے۔ شاہراہیں بنائیں۔ وہ جن ڈیمز پہ عمران خان نے اپنی تختیاں لگائی ہیں، اُن پہ ابتدائی کام سارا انہی غداروں نے کیا۔ زرداری کی حکومت نے ایران گیس پائپ لائن پہ کام کیا۔ تحریک انصاف کی حکومت نے تو کوئی بھی بڑا منصوبہ خود شروع نہیں کیا۔جس کی بنیاد پہ وہ دعوی' کر سکے کہ وہ آئی ایم ایف سے آزادی کی راہ پہ گامزن تھی۔

اُن کے پاس تو اپنا کوئی معاشی ماہر بھی نہیں تھا۔ وہ غداروں کی پارٹی کے وزرائے خزانہ بدل بدل کے لاتے رہے۔  شوکت ترین صاحب کو تو وہ نیب کے کیس ختم کروا کے جھاڑ پونچھ کے لائے۔ آنہوں نے آتے ہی کہا کہ آپ کی کوئی معاشی سمت ہی نہیں ہے، کیا تحریک انصاف ان صلاحیتوں کے ساتھ امریکہ سے آزادی چاہتی ہے۔

 سعودی عرب بھی ہماری مدد کرنے سے پہلے امریکہ کی طرف دیکھتا ہے۔ امارات بھی ایسے ہی کرتی ہیں تو کیا چین ہمیں بیل آؤٹ کر سکتا ہے؟  اگر وہ بیل آؤٹ کر وا بھی دے تو کیا وہ مفت میں کرے گا۔ کیا ہم پھر چین سے آزادی کی جنگ لڑیں گے؟ پھر فیٹف کی تلوار ہمارے سر پہ لٹک رہی ہے۔ اور فیٹف بھی امریکہ کے زیر اثر ہے۔ وہ بھی جب تک نہیں چاہے گا ہم اس لسٹ سے باہر نہیں آ سکتے۔

تحریک انصاف کے پاس نہ معاشی پروگرام ہے۔ نہ وہ مزید وسائل پیدا کر سکتے ہیں۔ نہ کوئی اور پروگرام جو ملکی ترقی کا باعث بنے۔ لیکن وہ ملک میں آزادی کے نام پہ ہیجان اور خانہ جنگی کی فضا پیدا کئے ہوئے ہیں۔ باتیں وہ امریکہ سے آزادی کی کرتے ہیں لیکن حالت یہ ہے کہ وہ ہر بات اسٹیبلشمنٹ پہ ڈال کے خود اقرار کر رہے ہیں کہ وہ محض کٹھ پُتلی تھے۔ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کا ایک کٹھ پتلی امریکہ سے ٹکر لینے کا بیانیہ بیچ رہا ہے۔ اُن کے اپنے بقول فوج عدالتوں اور سیاستدانوں نے مل کے اُن کو امریکی سازش کے تحت نکالا۔ اُس امریکہ کی پہنچ دیکھیں، اُس نے ریموٹ کے ذریعے ہی اُنہیں چلتا کر دیا۔ اب انہیں یہ دُکھ ہے کہ فوج نے انہیں بچایا کیوں نہیں ۔ فوج نیوٹرل کیوں تھی۔ جیسے نوازشریف کہتے تھے مجھے کیوں نکالا۔ اب امریکہ(اِن کے بقول ) انہیں سڑکوں پہ لے آیا ہے اور یہ پوچھتے پھر رہے ہیں کہ مجھے کیوں نہیں بچایا؟

loading...