منقسم معاشرے کی نفسیات

جون کی 16 تاریخ تھی اور 1858 کا برس۔ امریکہ میں سینٹ کے انتخابات منعقد ہو رہے تھے۔ وسط مغربی ریاست الینوائے کے دارالحکومت سپرنگ فیلڈ میں ری پبلکن پارٹی کا کنونشن ریاستی امیدوار چننے کے لیے جمع تھا۔ فیصلہ ہوا کہ ابراہم لنکن ری پبلکن پارٹی کی طرف سے ڈیموکریٹک پارٹی کے اسٹیفن ڈوگلس کا مقابلہ کرے گا۔

 اس زمانے میں غلامی کا سوال امریکی سیاست کا محور تھا اور ابراہم لنکن کو غلامی کا دوٹوک مخالف سمجھا جاتا تھا۔ اپنی نامزدگی کے بعد تقریر کرتے ہوئے لنکن نے بائبل کے ایک استعارے سے ماخوذ ایسا جملہ ادا کیا جس نے آئندہ امریکی سیاست اور معاشرت کی راہیں متعین کر دیں۔ اس نے کہا تھا:

a house divided against itself cannot stand.

 (ایک منقسم گھر قائم نہیں رہ سکتا)۔ بظاہر لنکن کا مفہوم یہ تھا کہ اگر کچھ امریکی ریاستوں میں غلامی غیرقانونی ہو اور کچھ ریاستوں میں اسے جائز قرار دیا جائے تو امریکی وفاق سلامت نہیں رہ سکے گا۔ 19 ویں صدی کے امریکا میں غلامی کے سوال کو قومی سلامتی سے جوڑنا ایسا ہی تھا کہ اختر حسین جعفری کے لفظوں میں، جہاں سولی کے نقطے پر پیمبر بات کرتے ہیں۔ لنکن یہ انتخاب ہار گیا لیکن اپنے حریف ڈوگلس کے ساتھ اس موضوع پر سات مباحثوں نے ایک گمنام وکیل کو ایسی شہرت عطا کر دی کہ لنکن نہ صرف 1860 کا صدارتی انتخاب جیت کر وائٹ ہاؤس پہنچا بلکہ اس نے خانہ جنگی میں غلامی کی حامی جنوبی ریاستوں کو بھی شکست دی اور یکم جنوری 1863 کو غلامی کے خاتمے کا تاریخی فرمان بھی جاری کیا۔ آج کے امریکا میں قومی وحدت، معاشی ترقی اور نسلی انجذاب کے ڈانڈے الینوائے کے اس دیہاتی وکیل کی بصیرت سے ملتے ہیں جسے نیویارک کے بزعم خود مہذب دانشور ’نیم شائستہ‘ سمجھتے تھے۔
ان دنوں ہمارے ہاں بھی قطبی تقسیم (پولرائزیشن)

کا آسیب گلی کوچوں میں آوارہ ہے۔لانگ مارچ اور خانہ جنگی کی آوازیں بھی سنائی دے رہی ہیں۔ عمران خان صاحب نے غلامی سے آزادی کا علم بھی اٹھا رکھا ہے۔ ہمارا المیہ مگر اختر جعفری ہی نے لکھ رکھا ہے۔ فصیل صبحِ ممکن پر مجھے چلنا نہیں آتا لنکن انسانی مساوات کے اخلاقی اصول پر کھڑا تھا۔ ہمارے مہربانوں کو شکوہ ہے کہ ریاستی ادارے ان کے حق میں غیر دستوری مداخلت کیوں نہیں کرتے۔ ہمارے پائوں الٹے تھے، فقط چلنے سے کیا ہوتا ہماری قطبی تقسیم نئی نہیں۔ یہ وسائل کی تقسیم کے لیے فیصلہ سازی میں ریاستی اختیار پر جمہور کی بالادستی کا سوال ہے۔ یہ سوال ہمارے ملک کو استعاراتی معنوں ہی میں نہیں، واقعتاً دولخت کر چکا ہے۔  یہ بحث الگ ہے کہ ہم نے اس خوفناک تجربے سے کوئی سبق حاصل نہیں کیا۔ 71 کی آگ دوسرے کنارے پر لگی تھی۔ ہمارے شہر تک تو اس کا دھواں تک نہیں پہنچنے دیا گیا۔ شعور کی نظربندی علم دریاؤہے۔
جمہوریت اختلاف رائے سے عبارت ہے۔ اگر یہ اختلاف رائے اس انتہا پر پہنچ جائے جہاں مکالمے کی مدد سے سمجھوتے اور مفاہمت کا امکان ختم کر دیا جائے، اختلافی آواز ناقابلِ قبول دشمنی قرار پائے تو قطبی تقسیم عوام میں ناقابلِ عبور فاصلے پیدا کر دیتی ہے۔ انسانی تجربہ بتاتا ہے کہ سیاسی عصبیت میں مفاہمت کی بجائے تصادم جاہ پرست سیاسی رہنمائوں کے مفاد کی آبیاری کرتا ہے۔ معیشت اور معاشرت کے پیچیدہ معاملات کو کسی ایک مفروضے بلکہ غیر حقیقی سوال میں منجمد کر کے جذباتی وابستگیوں کا کھیل کھیلا جاتا ہے۔ قطبی تقسیم کو دلیل، شواہد اور قابل تصدیق حقائق سے غرض نہیں ہوتی۔ ممکنہ اشتراک کے زاویوں کو نظرانداز کر کے اختلافی نکات پر زور دیا جاتا ہے۔ غیر جانب دار اور معروضی معلومات پر پردہ ڈال کے آتش بیانی کو ہوا دی جاتی ہے۔ اجتماعی فراست کی بجائے استخراجی خود راستی کا ڈھول پیٹا جاتا ہے۔ خود کو حق اور دوسروں کو باطل قرار دے کے ’ہم‘ اور ’وہ‘ کی لکیر کھینچی جاتی ہے۔

2018 میں

 jonathan weiler  اور  marc hetherington نے prius or pick-up کے عنوان سے ایک دلچسپ کتاب لکھی تھی۔ جس میں چار سادہ سوالات کی مدد سے قطبی تقسیم کے جذباتی پہلو پر روشنی ڈالی گئی تھی۔ پڑھنے والوں سے پوچھا گیا تھا کہ وہ اپنے بچوں میں کون سی خوبیاں دیکھنا چاہتے ہیں (1 ) آزادی یا بڑوں کا احترام (2) حکم برداری یا خود انحصاری (3) تجسس یا تقلید (4 ) ہمدردی یا معاشرتی رکھ رکھاؤ۔ مصنفین نے اڑھائی سو صفحات پر پھیلی بحث سے یہ نتیجہ نکالا کہ بڑوں کے احترام، حکم برداری، تقلید اور معاشرتی رکھ رکھاؤ کو اہمیت دینے والے افراد غیر لچک دار بلکہ جامد نقطہ نظر رکھتے ہیں۔ دوسری طرف آزادی، خود انحصاری، تجسس اور انسانی ہمدردی جیسی اقدار سے لگاؤرکھنے والے مفاہمت اور رواداری کی طرف مائل ہوتے ہیں۔

جوناتھن اور مارک نے قطبی تقسیم کو نظریاتی حقانیت کی بجائے جذباتی رویوں سے منسوب کیا ہے۔جاننا چاہیے کہ قطبی تقسیم سے قوموں میں نفرت، غصہ اور تفرقہ جنم لیتے ہیں۔ معاشرے میں اتفاق رائے، سمجھوتے اور برداشت کی ثقافت ختم ہو جاتی ہے۔ قطبی تقسیم معیشت پر منفی اثرات ڈالتی ہے۔ جمہوری اقدار کا احترام ختم ہو جاتا ہے۔ نظام عدل پر اعتماد اٹھ جاتا ہے۔ معاشرہ عدم برداشت، امتیازی سلوک، باہم اعتماد کے بحران اور تشدد کا شکار ہو جاتا ہے۔ غالب گروہ اپنے مخالفین کو صفحہ ہستی سے مٹا دینے پر کمر باندھ لیتا ہے جبکہ اختیار سے محروم طبقا ت ناامید ہو کر جمہوریت بلکہ سیاست ہی سے بیگانہ ہو جاتے ہیں۔

 ہم نے امریکا میں ٹرمپ کی سیاست کا انجام دیکھا۔ ان دنوں یوکرائن میں ولادی میر پیوٹن خاک چاٹ رہا ہے۔ بھارت میں جمہوریت تفرقے کی رسی سے معلق ہے اور ہمارے اپنے ملک کا حال آپ بہتر جانتے ہیں:
جہاں تاراج ہے کھیتی
جہاں قریہ اجڑتا ہے
طناب راہ کٹتی ہے، کہیں خیمہ اکھڑتا ہے
وہاں سے دور ہے بچہ کہ اس کے پاؤں
دریاؤں کے رستے سے ابھی ناآشنا ہیں
اور اس کا باپ گونگا ہے

(بشکریہ: ہم سب لاہور)

loading...