ہمارے ہاتھ پاؤں باندھے گئے تو عوام سے رجوع کریں گے: رانا ثنا اللہ

  • ہفتہ 21 / مئ / 2022

وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ اگر وزیراعظم میاں شہباز شریف کو سپورٹ کیا جائے اور یہ سپورٹ ہر طرف سے ہو تو قوم کو یقین ہے کہ وہ ملک کو برے حالات سے نکال سکتے ہیں۔

تاہم اگر ہمارے ہاتھ پاؤں باندھے گئے اور ہمیں کام کرنے سے روکا گیا تو ہم اتحادیوں کو اعتماد میں لے کر عوام سے رجوع کریں گے۔ لاہور میں میڈیا سےگفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا کہ مریم نواز سے متعلق عمران خان کے بیان پر میرا نقطہ نظر مختلف ہے۔ میں یہ کہوں گا کہ ہمارا تعلق مشرقی معاشرے سے ہے ہماری اپنی روایات ہے، خواتین کی عزت کو پامال کرنے والے ہمارے معاشرےمیں نہیں ملتے۔

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے جس گھٹیا سوچ کا اظہار کیا ہے، اس حوالے سے ان کا تجربہ مجھے خراب لگتا ہے۔ قبل از وقت انتخابات اور انتخابات سے متعلق مریم نواز کے بیان پر سوال کے جواب میں رانا ثنا اللہ کا کہنا تھاکہ اب تک حکومت اور تمام تر اتحادی جماعتوں کا یہ فیصلہ ہے کہ حکومت اپنی مدت مکمل کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ میں اور وزیر اعظم شہباز شریف بارہا دہرا چکے ہیں کہ ہم اپنے اتحادیوں کو سرپرائز نہیں دیں گے جو بھی فیصلہ کیا جائے گا باہمی مشاورت سے کیا جائے گا۔ معاملہ یہ ہے کہ اس وقت جو حالات پیدا کیے جا رہے ہیں اور جو ملک کے معاشی حالات ہیں، اس میں آئی ایم ایف کا کردار ہم نے نہیں بنایا ہے۔ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ ہم نے نہیں کیا تھا، لیکن اگریہ معاہدہ بحال نہیں رکھا جاتا تو اس ملک کی معاشی صورتحال کو بحال کرنا کوئی معجزہ ہی ہوسکتا تھا۔

تیل کی قیمتوں کو آئی ایم ایف کے مؤقف کے مطابق بڑھا کر اگر آپ غریب آدمی کے منہ سے نوالہ چھینیں گے تو یہ بھی پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو گوارا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر وزیراعظم میاں شہباز شریف کو سپورٹ کیا جائے اور یہ سپورٹ ہر طرف سے ہو تو قوم کو یقین ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف ملک کو ان حالات سے نکال سکتے ہیں، اور سے پہلے بھی کئی بار نکالا ہے، جب ایٹمی دھماکے ہوئے اس وقت بھی یہ ہی صورتحال تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر ایسا ہوگا کہ ہمارے ہاتھ پاؤں باندھے جائیں اور ہمیں مختلف طریقوں سے روکا جائے، ہماری کارکردگی کو روکا جائے اور ہماری کارکردگی پر شک و شبہات کا اظہار کریں تو ہوسکتا ہے ہم اپنے اتحادیوں کو اعتماد میں لے کر عوام سے رجوع کریں۔

ماضی میں مریم نواز کے حوالے سے اُن کے ہی بیان سے متعلق سوال کے جواب میں وزیر داخلہ نے کہا کہ یہ اس وقت کی بات تھی جب میرے اور سلمان تاثیر کے درمیان تنازعات چل رہے تھے۔ اس وقت سلمان تاثیر صاحب نے ایف آئی آر کو ایڈٹ کر کے اس کی کاپی تقسیم کی تھی۔

انتخابات کے حوالے سے نواز شریف کے خیالات پر پوچھے گئے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف چاہتے ہیں کہ مہنگائی کا بوجھ عوام پر نہ پڑے اور ہمیں کام کرنے دیا جائے اور اتحادیوں سے جو بھی گفتگو ہورہی ہے وہ ہمارے پارٹی لیڈر کی قیادت میں ان کی منشا کے مطابق ہورہی ہے۔

عدالتوں پر اثر انداز ہونے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہمارے خلاف جھوٹے مقدمے بنائے گئے۔ مقدمے کے اندراج، تفتیش اور مقدمے کی کارروائی کے دوران ہمارے ساتھ نا انصافی کی گئی۔ اس کے پیچھے شہزاد اکبر تھے۔ شہزاد اکبر کی پوری ٹیم اب بھی موجود ہے، اگر یہ سمجھتے ہیں پچھلے 4 سالوں میں کیس کی بہترین تفتیش ہوئی ہے تو شہزاد اکبر کو بھی لا کر بٹھا دیں، میں عدالت کی عزت و احترام سے غافل نہیں ہوسکتا۔

رانا ثنا اللہ نے کہا کہ عدالت کو اختیار ہے کہ وہ ازخود نوٹس لیتے ہوئے فوری فیصلہ دےسکتے ہیں، لیکن میرا سوال یہ ہے کہ ازخود نوٹس اس بات کا بھی ہونا چاہیے کہ رات 12 بجے ایک جج کو کہا گیا کہ حنیف عباسی کو سزا دو، سزا دینے سے انکار کرنے پر ان کا تبادلہ کردیا اور تیسرے دن ان کا چارج چھڑوالیا گیا۔ نئے جج کو تعینات کر کے حنیف عباسی کو سزا دی گئی، میرے کیس میں جج کا تبادلہ واٹس ایپ پر کیا گیا۔ ہمارا عدالت سے مطالبہ ہے کہ فرح خان تقرر و تبادلے پر پیسے لیا کرتی تھی، اس پر بھی ازخود نوٹس لیا جائے۔

ہم آئندہ سماعت پر جب عدالت عظمیٰ کے سامنے پیش ہوں گے تو درخواست جمع کروائیں گے کہ ہم نے ان پانچ یا چھ ہفتوں کے دوران جو جو کیا ہے آپ ایک ایک ٹرانزیکشن کا جائزہ لیں، جہاں آپ سمجھتے ہیں کہ نا انصافی ہوئی ہے ہم اس سے نمٹیں گے۔ لیکن پچھلے 4، 5 سالوں میں جو کچھ ہوا ہے اس پر بھی ازخود نوٹس لینا چاہیے۔

loading...