مریم نواز سے متعلق ریمارکس پر عمران خان کو معافی مانگنی چاہیے: ہیومن رائٹس کمیشن

  • ہفتہ 21 / مئ / 2022

عمران خان کے مریم نواز سے متعلق ریمارکس تنقید کی زد میں ہیں۔ ہیومن رائٹس کمیشن نے ایک بیان میں عمران خان پر زور دیا ہے کہ اُنہیں اس بیان پر مریم نواز سے معافی مانگنی چاہیے۔

سوشل میڈیا پر جمعے کی شب سے ہی عمران خان کی مخالفت اور حق میں ٹرینڈز چلائے جا رہے ہیں اور مختلف سیاسی رہنما بھی سربراہ تحریکِ انصاف کے بیان پر ردِ عمل ظاہر کر رہے ہیں۔

جمعے کو ملتان میں جلسۂ عام سے خطاب کے دوران عمران خان نے مریم نواز کے بارے میں کہا کہ ’مجھے کسی نے مریم نواز کی تقریر بھیجی جس میں مریم نے اتنی دفعہ، اس جذبے اور جنون سے میرا نام لیا کہ میں مریم کو کہوں گا کہ تھوڑا دھیان کرو کہیں تمہارا خاوند ہی نہ ناراض ہوجائے۔ اتنی مرتبہ میرا نام لینے پر ‘۔

عمران خان کے ریمارکس پر ہیومن رائٹس کمیشن نے ایک بیان میں عمران خان پر زور دیا ہے کہ اُنہیں اس بیان پر مریم نواز سے معافی مانگنی چاہیے۔

ہیومن رائٹس کمیشن کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ اُنہیں اپنے سیاسی مخالفین پر تنقید کے دوران گفتگو کے آداب سیکھنے چاہئیں۔ لہذٰا وہ نہ صرف مریم بلکہ تمام خواتین سے معافی مانگیں۔

 پاکستان کے سوشل میڈیا پر عمران خان کے خلاف دو ٹرینڈ بھی چل رہے ہیں جس میں صارفین اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے اس بیان کی مذمت کر رہے ہیں۔ مریم نواز کے والد اور سابق وزیراعظم نواز شریف نے اپنے ایک بیان میں الزام لگایا کہ عمران خان نے اخلاقیات اور معاشرے کو تباہ کردیا ہے۔

 وزیراعظم پاکستان اور مریم نواز کے چچا شہباز شریف نے اپنے بیان میں کہا کہ مریم نواز کے خلاف قابل افسوس زبان درازی پر پوری قوم بالخصوص خواتین مذمت کریں۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف زرداری نے عمران خان کے بیان کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ جن عزت داروں کے گھروں میں مائیں، بہنیں ہوں وہ اس طرح کی زبان استعمال نہیں کرتے۔

آصف زرداری نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ خدارا اس سیاست میں اتنے نیچے نہ گرجائیں۔ مائیں، بہنیں، بیٹیاں سب کی سانجھی ہوتی ہیں۔ کاش اب بھی کوئی چیف جسٹس کو پرسنل آبزرویشن کا خط لکھے اور وہ نوٹس لیں۔

 خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی وکیل نگہت داد نے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ عمران خان کو خواتین کے خلاف متعصبانہ تبصروں پر معافی مانگنی چاہیے۔ پاکستان تحریک انصاف کی رہنما اور سابق وزیر شیریں مزاری ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ آپ نے ''جھوٹ بولنے والی مریم، ان کے قبیلے اور رانا ثنا سے معافی کا مطالبہ کیا جب وہ عمران خان کی اہلیہ کے خلاف غلط زبان استعمال کر رہے تھے؟ ایسی منافقت اور دوہرا معیار‘۔!

صحافی حامد میر نے کہا کہ عمران خان نے ملتان کے جلسے میں ایک خاتون سیاست دان کی سیاسی تنقید کے جواب میں جو مذاق کیا وہ کسی بااخلاق شخص کو زیب نہیں دیتا۔ اس مذاق کے فوری بعد انہوں نے ایک حدیث سنانا شروع کردی، یہ منافقت نہیں تو کیا ہے؟

 صحافی مجیب الرحمٰن شامی نے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ عمران خان آپ نے ملتان جلسے میں مریم نواز کو جس طرح مخاطب کیا اور جو کچھ کہا وہ آپ کے شایاں شان نہیں ہے۔ آپ اپنے الفاظ واپس لیں اور آئندہ محتاط رہنے کا عہد کریں۔

 صحافی اطہر کاظمی نے ٹوئٹر پر عمران خان کے بیان کے دفاع میں کہا کہ وہ جنہوں نے تین برس تک مسلسل بشریٰ بی بی کو ٹارگٹ کیا۔ کردار پر انگلیاں اٹھائیں، جادو گرنی کہا، عمران خان کے ہر فیصلے کو ان سے جوڑا، تبصروں، خبروں میں ان کے خلاف اخلاق باختہ باتیں کی۔ ان سب دوستوں، خواتین کے حقوق کے علمبرداروں کو اخلاقیات کے دورے پڑنے کا وقت ہوا چاہتا ہے۔

 

loading...