تحریکِ انصاف کی لیڈر شیریں مزاری کو گرفتار کرلیا گیا

  • ہفتہ 21 / مئ / 2022

اسلام آباد پولیس نے تحریکِ انصاف کی رہنما شیریں مزاری کو اسلام آباد سے گرفتار کر لیا ہے۔ سابق وفاقی وزیر کی بیٹی ایمان مزاری نے والدہ کی گرفتاری کی تصدیق کی ہے۔

اسلام آباد پولیس کے مطابق ڈاکٹر شیریں مزاری کے خلاف ڈیرہ غازی خان میں سرکاری اراضی پر قبضے کا الزام تھا اور اینٹی کرپشن پنجاب اس معاملے کی تحقیقات کر رہا تھا۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ڈاکٹر شیریں مزاری کو خواتین پولیس اہل کار گاڑی سے نکالنے کی کوشش کر رہی ہیں اور وہ مزاحمت کر رہی ہیں۔ بعدازاں خواتین پولیس اہلکار زبردستی اُنہیں اپنے ساتھ لے گئیں۔

سابق وفاقی وزیر انسانی حقوق کو اسلام آباد میں اُن کی رہائش گاہ کے باہر سے حراست میں لیا گیا۔ مقامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فواد چوہدری نے الزام لگایا کہ شیریں مزاری کو گرفتاری سے قبل زدوکوب کیا گیا۔ تحریکِ انصاف کے رہنما فرخ حبیب نے بھی الزام لگایا کہ گرفتاری سے قبل شیریں مزاری پر تشدد کیا گیا جس کی وہ مذمت کرتے ہیں۔

شیریں مزاری کی صاحبزادی اور انسانی حقوق کی کارکن ایمان زینب مزاری نے الزام لگایا ہے کہ اُن کی والدہ کو اغوا کیا گیا۔ لہذٰا وہ موجودہ حکومت کا پیچھا کریں گی۔ سابق وفاقی وزیر شیخ رشید احمد نے مقامی نیوز چینل 'جیو' سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شیریں مزاری کی گرفتاری ابتدا ہے۔ یہ لوگ عمران خان کو بھی گرفتار کرنا چاہتے ہیں جس سے ملک میں افراتفری اور انارکی پھیلے گی۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنما ملک احمد خان نے ڈاکٹر شیریں مزاری کی گرفتاری پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ شیریں مزاری کے خاندان نے غریب کسانوں کی سینکڑوں کنال اراضی پر قبضہ کررکھا ہے۔ شیریں مزاری کی گرفتاری سے حکومت کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ لاہور میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے ملک احمد خان کا کہنا تھا کہ یہ مقدمہ مارچ میں درج ہوا تھا اور اس وقت مسلم لیگ (ن) کی حکومت نہیں تھی۔

ڈاکٹر شیریں مزاری کی گرفتاری کا معاملہ ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ ہے اور مختلف سیاسی رہنما اور تجزیہ کار اس معاملے پر اظہارِ خیال کر رہے ہیں۔ تحریکِ انصاف کے رہنما ڈاکٹر شفقت محمود نے بھی ڈاکٹر شیریں مزاری کی گرفتاری کی مذمت کی ہے۔ ایک ٹوئٹ میں اُن کا کہنا تھا کہ لاہور میں آج تحریکِ انصاف کے کارکن احتجاج کریں گے۔

سینئر تجزیہ کار طلعت حسین نے ٹوئٹ میں دعویٰ کیا کہ اُن کی پنجاب اور مرکز میں حکام سے بات ہوئی ہے، وہ شیریں مزاری کی گرفتاری سے لاتعلقی کا اظہار کر رہے ہیں۔ وہ یہ پتا چلانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ کس نے کیا ہے۔ سینئر تجزیہ کار مظہر عباس کہتے ہیں کہ موجودہ حکومت میں ڈاکٹر شیریں مزاری پہلی سیاسی قیدی ہیں۔ مظہر عباس کا کہنا تھا کہ سیاسی قیادت اور حکومتیں ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنے کو تیار نہیں۔

خیال رہے کہ سابق وفاقی وزیر عمران خان حکومت کے جانے کے بعد ٹوئٹر پر خاصی سرگرم رہی ہیں۔ وہ موجودہ حکومت کے علاوہ ریاستی اداروں کو بھی تنقید کا نشانہ بناتی رہی ہیں۔

loading...