اسٹبلشمنٹ نیوٹرل نہیں ہے

عمران خان کے ترجمان  شہباز گل نے  گزشتہ روز سابق صدر آصف زرداری اور مشہور تاجر ملک ریاض کے درمیان آڈیو ریکارڈنگ    کو جعلی اور جھوٹی قرار دیا ہے۔ اس ریکارڈنگ کے مطابق ملک ریاض سابق صدر کو عمران خان  کی طرف سے ’مصالحت  کرنے‘ کا پیغام پہنچا رہے ہیں لیکن آصف زرداری کہتے ہیں کہ ’ یہ ممکن نہیں ہے ، اب دیر ہوچکی ہے‘۔

ہر چھوٹی بڑی خبر پر سخت اور منہ توڑ جواب دینے کے عادی تحریک انصاف کے ترجمانوں نے البتہ  گزشتہ روز ہی انگریزی روزنامہ ڈان میں شائع ہونے والی اس خبر پر  کوئی تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے جس میں تفصیل سے بتایا گیا ہے کہ ملٹری اسٹبلشمنٹ کے لئے تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی خطرناک صورت حال اور  معیشت کو لاحق خطرات کو برداشت کرنا ممکن نہیں تھا۔ اس لئے ایک سابق جنرل، ایک ریٹائرڈ چیف جسٹس اور ایک بڑے بزنس مین کے ذریعے عمران خان سے مذاکرات کئے گئے اور انہیں لانگ مارچ اور دھرنا ختم کرنے پر آمادہ کیا گیا۔ ان مذاکرات میں ہی عمران خان نے مطالبہ کیا کہ جون کے دوران انتخابات کا اعلان کیا جائے۔ اس مبینہ یقین دہانی کے بعد عمران خان نے اسلام آباد کے ڈی چوک تک جانے یا ددھرنا دینے سے گریز کیا اور   جمعرات کی صبح  شاہراہ دستور پر ایک مختصر تقریر کے بعد دھرنا  ملتوی کردیا۔ اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ وہ حکومت کو 6 روز کا وقت دے رہے ہیں، اس دوران اگر انتخابات کی تاریخ کا اعلان نہ کیا گیا تو وہ پھر ایک بڑا ہجوم لے کر اسلام آباد آئیں گے‘۔

بعد  کے دنوں میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے عمران خان نے وضاحت کی ہے کہ انہوں نے خوں ریزی سے بچنے کے لئے دھرنا نہ دینے کا فیصلہ کیا تھا تاہم اگر  انتخابات کے بارے میں ان کا مطالبہ منظور نہ کیا گیا تو وہ پھر بیس لاکھ لوگوں کا ہجوم لے کر اسلام آباد کا رخ کریں  گے۔ تاہم متعدد مبصرین اس بات پرمتفق ہیں کہ  ایک بار  لانگ مارچ  اور دھرنا کی کوشش میں ’ناکامی‘ کے بعد شاید عمران خان کے لئے بہت جلد کوئی بڑا احتجاج منظم کرنا ممکن نہیں ہوگا۔    عمران خان کو دھرنے سے روکنے کے لئے اسٹبلشمنٹ کی کوششوں کی خبریں سامنے آنے کے بعد یہ واضح ہوگیا ہے کہ نہ تو اسٹبلشمنٹ نے اپنے سیاسی کردار سے ’توبہ‘ کی ہے اور نہ ہی ملکی سیاسی طاقتیں ابھی  بلوغت کی اس سطح  تک پہنچ پائی ہیں کہ  وہ اسٹبلشمنٹ یا عدالتوں کی  مدد  کے بغیر ہی  اپنے سیاسی اہداف حاصل کرنے کی کوشش  کریں۔

حیرت ہے  کہ جو معاملات اسٹبلشمنٹ  کی درپردہ مداخلت یا سپریم کورٹ کی ’ثالثی‘ کے ذریعے حل  کروائے جارہے ہیں،  ان پر تمام سیاسی پارٹیاں براہ راست ایک دوسرے کے ساتھ مل کر بات کرنے پر تیار نہیں ہوتیں۔ سیاسی اشرافیہ کی مفاد پرستی اور سیاسی جماعتوں میں  جمہوری مزاج کی عدم موجودگی کی وجہ سے  ہی یہ  ممکن ہوتا ہے۔ موجودہ حالات میں یہ افسوسناک صورت حال مشاہدہ کی جاسکتی ہے کہ حکومت اور اپوزیشن یکساں طور سے  اسٹبلشمنٹ اور عدالتوں کو سیاسی معاملات میں گھسیٹنے کی کوشش کررہی ہیں تاکہ کسی بھی طرح اپنا پلہ بھاری رکھا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ ملکی میڈیا کے تقریباً سب تجزیہ نگار یا الیکٹرانک میڈیا کے اینکر مسلسل اسٹبلشمنٹ کی اہمیت  کو نمایاں کرتے رہتے ہیں۔ جس پارٹی کےحامیوں کو لگتا ہے کہ فوج کا جھکاؤ اس کی طرف نہیں ہے، وہ اس کے خلاف  بیان بازی اور الزام تراشی کا سلسلہ شروع کردیتی ہے اور جسے فوج کے سہارے کی امید ہوتی ہے ، وہ  اس کی وکیل بن کر دلائل کے انبار لگاتی ہے۔  اب بھی  ایک طرف حکومت فوج  سے مطالبہ کررہی ہے کہ  معیشت سنبھالنے اور امور مملکت چلانے کے لئے اسے مکمل اعانت فراہم کی جائے۔  تودوسری طرف چند ماہ پہلے تک اسٹبلشمنٹ  کے ساتھ پینگیں بڑھانے والی تحریک انصاف فوجی قیادت کی کردار کشی میں کسی بھی حد تک جانے پر آمادہ دکھائی دیتی ہے۔  اس کے باوجود جب   کوئی حکم نما پیغام ملتا ہے تو  عمران خان جیسے دلیر کو بھی بھیگی بلی بنتے دیر نہیں لگتی۔

اسٹبلشمنٹ   سے  اعانت حاصل کرنے  کا  بیان موجودہ حکومت کے متعدد ترجمان بار بار دے چکے ہیں۔  لیکن کوئی اس سوال  پو غور کرنے یا اس کا جواب دینے کی کوشش نہیں کرتا کہ منتخب حکومت تو ملکی انتظامی معاملات میں قانونی و آئینی طور سے  ’مختار کل‘ کی حیثیت رکھتی ہے ، پھر اسے اپنے ہی زیرنگرانی کام کرنے والے ایک عسکری   محکمے  سے مدد و تعاون کی ضمانت کیوں مانگنا پڑتی ہے اور اس کی درخواست کیوں کی جاتی  ہے؟ اس کی سادہ سی وجہ یہی ہے کہ  سیاسی پارٹیاں عوام کی حمایت کو درحقیقت ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کرتے ہوئے، فوج کو ہم خیال و ہمنوا بنانا چاہتی ہیں تاکہ سسٹم پر اثر انداز ہوکر کسی بھی طرح  اقتدار پر قبضہ جاری رکھا جائے۔  بدقسمتی سے پاکستان کی تاریخ میں آج تک کوئی ایسا  وزیر اعظم نہیں آسکا جو  اسٹبلشمنٹ کے سیاسی کردار  کو مسترد کرتے ہوئے اپنا مقدمہ  براہ راست عوام کی عدالت میں پیش کرنے کا حوصلہ کرسکتا۔ اس  کم حوصلگی کی وجہ  فوج کی بندوق نہیں ہے بلکہ سیاسی پارٹیوں کا  اقتدار حاصل کرنے کا لالچ ہے۔ عمران خان کے خلاف عدم اعتماد لانے کا مقصد ’قوم کو بڑی تباہی سے بچانا‘ نہیں تھا بلکہ فوج اور  عمران خان کے درمیان پیدا ہونے والی سرد مہری کا فائدہ اٹھا کر  خود اقتدار سنبھال کر کچھ ایسا انتظام کرنا تھا جس میں ان پارٹیوں کی مستقبل کے انتخابات میں  کامیابی   کا انتظام ہوسکے۔

ورنہ کون نہیں جانتا کہ   عمران خان کی غیر مقبول حکومت  ختم کرنے کے بعد شہباز شریف کی قیادت میں ایک کمزور حکومت قائم کرکے کون سا وزیر اعظم   ملک کے انتہائی پیچیدہ اور مشکل معاشی معاملات  درست کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ خاص طور سے جب کسی بھی پارٹی کی طرف سے  مسائل کی تشخیص کرکے ان کا شافی حل  باقاعدہ سیاسی ایجنڈے کے طور پر بھی پیش نہ کیا گیا ہو۔  عمران خان نے بلاشبہ سیاسی بیان بازی کو شدت پسندی کا ایک نیا لب و لہجہ  دیا ہے لیکن اب حکومت سنبھالنے والی  سیاسی جماعتیں بھی موقع ملنے پر سابق حکومت پر الزامات کے تیر برسانے میں ہی عافیت سمجھتی ہیں۔ ملک کا وزیر اعظم قوم سے پہلے خطاب میں محض  عمران خان کی کردار کشی اور تحریک انصاف کی  کمزوریوں کا ذکر  کرکے اپنے ہونے کا جواز فراہم کرنا چاہتا ہے۔ یہی رویہ دراصل سیاست دانوں کو کمزور اور ملک کے غیر منتخب اداروں کو بااثر اور طاقت ور بناتا ہے۔

باہمی الزام تراشی کی  ایک  انتہا عمران خان کی طرف سے سیاسی مخالفین کو ہر نازیبا لقب سے نوازنا ہے تو اس کی دوسری انتہا یہ ہے کہ ملک کا وزیر اعظم شہباز شریف ،  پیپلز پارٹی کے معاون چئیرمین آصف زرداری اور ملک ریاض کی  ایک ’غیرمصدقہ‘  آڈیو ریکارڈنگ پر اپنے  ٹوئٹ میں تبصرہ کرنا ضروری سمجھتا ہے۔  ایک دوسرے پر ایسے الزام لگاتے ہوئے یہ سیاسی لیڈر درحقیقت عوام کو بے شعور اور سیاسی طور سے  نااہل سمجھنے کا اعلان کررہے ہوتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ وہ جو بھی بیان دیں گے ان کے حامی اسے مان کر سیاسی مخالفین کے خلاف نفرت پھیلانے کا کام شروع کردیں گے۔   اسی سیاسی مزاج نے ملک میں اس وقت شدید سیاسی تقسیم پیدا کردی ہے اور ایک یا دوسری پارٹی کے حامی ایک دوسرے کے ساتھ مکالمہ کرنے کی بجائے محض دشنام طرازی کو ہی  مسئلہ کا حل سمجھنے لگے ہیں۔  یہی صورت حال  فوج یا عدلیہ کو سیاست میں کردار ادا کرنے کا حوصلہ دیتی ہے۔

اب عمران خان نے     سپریم کورٹ سے  کہا ہے کہ وہ  ان کے پرامن احتجاج کے حق کی ضمانت فراہم کرے۔ یعنی  وہ اسٹبلشمنٹ کے نمائیندوں کی مداخلت پر  بہت دھوم  سے شروع کئے گئے دھرنے کا اعلان واپس لے سکتے ہیں لیکن پر امن احتجاج کے لئے براہ راست ملک کی سیاسی قیادت سے بات چیت کو اپنی توہین سمجھتے ہیں۔  آج پشاور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے ایک بار پھر اداروں سے براہ راست  مداخلت کی  اپیل کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ  ’ ملک کو تباہی سے بچانے کی ذمے داری پوری قوم کی ہے۔  اداروں کی یہ ذمے داری ہے جو اپنے سامنے یہ تماشا ہوتا دیکھ رہے ہیں‘۔ سابق وزیرِ اعظم عمران خان نے ایک بار پھر معتبر اداروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ’آج جو کچھ ملک کے ساتھ ہو رہا ہے کیا وہ ایسے ہی ملک کو تباہی کی طرف جاتا دیکھتے رہیں گے‘۔  انہوں نے الزام لگایا کہ ’موجودہ حکومت الیکشن کمیشن میں اپنی مرضی کے تقرریوں کے علاوہ چیئرمین نیب بھی مرضی کا لا رہی ہے۔ اوورسیز پاکستانیوں کو  ووٹ کے حق سے محروم کر دیا گیا ہے۔ لہذٰا ان معاملات کو بھی عدالت میں چیلنج کیا جائے گا‘۔ 

اگر ملک کے سابق وزیر اعظم اور اپنے تئیں ملک کے سب سے مقبول سیاسی لیڈر کے بیان کا بغور مطالعہ کیا جائے تو اسے سیاست  دانوں کا ’اعتراف شکست‘ کہا جاسکتا ہے۔  اداروں سے مداخلت کی  بھیک مانگنے سے پہلے عمران خان یا دوسرے سیاست دان یہ جواب کیوں فراہم نہیں کرتے کہ اگر سیاسی لیڈر   ملکی حالات درست کرنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتے ، پھر انہیں سیاست میں منہ مارنے اور ملکی معاملات خراب کرنے میں کردار  ادا کرنے کی کیا ضرورت ہے؟  کیوں وہ نوجوان قیادت اور نئے خون کو ملکی معاملات سنبھالنے کا موقع نہیں دیتے؟ اس سوال کا جواب سوائے ذاتی طمع و حرص کے کیا دیا جاسکتا ہے۔

فوج نے اگرچہ سیاست سے دور رہنے کا بار بار اعلان کیا ہے لیکن موجودہ حالات میں سیاست میں اس کا  سٹیک سب سے زیادہ ہے۔ افسوس کا مقام  یہ ہے کہ اب ملک کی عدلیہ بھی  اقتدار کی اس بندر بانٹ میں  خود اپنی اہمیت منوانے کی کوشش کررہی ہے۔  قانون و آئین کے تحت فیصلے کرنا تو خیر  عدالتوں کا کام ہے ہی  لیکن  فاضل ججوں نے گزشتہ کچھ عرصہ سے  مختلف سیاسی مقدمات میں  ’ریمارکس‘ کے نام پر   اپنے سیاسی  مقاصد  کااعلان کرنا بھی شروع کیا ہؤا ہے۔ اعلیٰ عدلیہ کے معزز جج حضرات کو ملکی سیاست  میں  مزید بھونچال پیدا کرنے کی بجائے اپنی  آئینی حدود  کو سختی سے پہنچاننے اور ان کے اندر رہتے ہوئے کردار ادا کرنے کی کوشش کرنا ہوگی۔ اس مقصد کے لئے قانونی نکات  کی تفہیم کے  لئے ریمارکس تو قابل فہم ہوسکتے ہیں لیکن  سیاسی نوعیت کے ریمارکس  ملک میں سنسنی  پیدا  کرتے ہیں۔ یوں لگنے لگتا ہے کہ فاضل جج حضرات  بھی اب فوج کی طرح کسی  وسیع تر قومی مفاد کے بارے میں ’اپنا سیاسی ایجنڈا‘ سب سے زیادہ قابل عمل سمجھتے ہیں۔

 ملک کے سیاست دانوں   کی ہوس اقتدار  تو شبہ سے بالا تر ہے لیکن  اس ہوس کی بنیاد پر جب اسٹبلشمنٹ یعنی فوج اور سپریم کورٹ سیاست دانوں کے کاندھوں پر رکھ اپنے مفاد کی بندوق داغنے کی کوشش کریں  گی تو حالات  میں بہتری  پیدا نہیں ہوگی۔  اس وقت ملک  بدترین  معاشی بحران  کا سامنا کررہاہے۔ لیکن  سب سیاسی و غیر سیاسی قوتیں مل کر اس کی بہتری کے  لئے  حالات سازگار کرنے کی بجائے،  سیاسی ، آئینی، و انتظامی بحران پیدا کرکے ملکی معیشت کے لئے ایک ایسا گہرا گڑھا کھود رہی ہیں جس میں سب سے پہلے اسٹبلشمنٹ کی طاقت غرق ہوگی۔   ایسے میں آئی ایس پی آر کی طرف سے محض سیاسی بیانات سے گریز     کو  اسٹبلشمنٹ کا نیوٹرل یا غیر جانبدار ہونا نہیں کہا جاسکتا۔

loading...