’نمبردار کا نیلا‘ پھر کھل گیا

ہندوستان کا بٹوارہ جدید عالمی تاریخ کے بڑے واقعات میں شمار ہوتا ہے۔ تقسیم کے بعد جو علاقے بھارت کے حصے میں آئے، 1941  کی مردم شماری میں وہاں مسلمانوں کی تعداد چار کروڑ 24 لاکھ تھی جو کہ 1951  میں تین کروڑ چون لاکھ رہ گئی۔

 گویا ستر لاکھ مسلمان اپنی جنم بھومی سے رخصت ہوئے یا فسادات کی نذر ہو گئے۔ اس سے بڑا نقصان یہ تھا کہ پیچھے رہ جانے والی مسلم آبادی اپنی سیاسی قیادت اور تمدنی قوت سے محروم ہو گئی۔ مولانا ابوالکلام آزاد، بیرسٹر آصف علی اور ڈاکٹر ذاکر حسین موجود تھے لیکن نوآزاد بھارت کی مسلم سیاست بے پتوار ہو گئی۔ اس اندھیرے میں روشنی کی ایک کرن ادب، موسیقی اور فلم کی دنیا میں نمودار ہوئی۔ کالم میں فہرست سازی کے لیے جگہ نہیں ہوتی اور اگر ہو بھی تو بسم اللہ خان، بیگم اختر، محمد رفیع، نرگس، قرۃ العین حیدر اور شمس الرحمن فاروقی کو کس فہرست میں رکھا جائے؟ 1957 میں ضلع سیتا پور میں جنم لینے والے سید محمد اشرف بھی اسی صف سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس باکمال کہانی کار کے فکشن میں اس بلا کا تنوع ہے کہ انہیں کسی خاص اسلوب یا مکتب سے منسوب کرنا ممکن نہیں۔ ان کے کردار اپنے اجتماعی پس منظر میں اس طرح جذب ہو جاتے ہیں کہ سید صاحب کو فرد نہیں بلکہ سانس لیتی گلیوں اور ہمکتی بستیوں کا مصور سمجھا جاتا ہے۔

سید محمد اشرف کا ناولٹ ’نمبردار کا نیلا‘ 1997  میں شائع ہوا۔ گاؤں کے نمبردار صاحب نے نیل گائے کا بچہ پال لیا ہے جسے لاڈ میں نیلا کہا جاتا ہے۔ نمبردار سے نسبت ہے تو نیلا صاحب کی بڑی شان ہے۔ نمبردار صاحب کو گوارا نہیں کہ ان کے عزیز نیلے کے گلے میں رسی باندھی جائے۔ نیلا صاحب گاؤں میں بے مہار گشت کرتے ہیں۔ پھل والے کا ٹھیلا آنکا۔ آدھے پھل کھا لیے، باقی خراب کیے۔ موج آئی تو کسی غریب دھوبن کی کٹیا پر چڑھ دوڑے۔ نیلا صاحب کی ستم رانیوں کا نشانہ بننے والے فریاد لے کر پہنچتے تو نمبردار کے حکم سے الٹا پٹائی کرا کے لوٹتے۔ نیلا کی شکایت کرنے کا مطلب خود نمبردار صاحب کی ذات والاتبار پر انگلی اٹھانا تھا۔ انجام یہ کہ نیلا صاحب کی طاقت ایسی بڑھی کہ ایک روز انہوں نے خود نمبردار صاحب کی حویلی ہی کو سینگوں پر رکھ لیا۔
اس کہانی کی باز آفرینی ہماری قومی تاریخ کے تناظر میں خاص معنی رکھتی ہے۔ ہمارے نمبردار صاحب بھی نیلا پالنے کا ذوق رکھتے ہیں۔ نمبردار صاحب کے اس شوق کے کچھ چنیدہ قصے سن لیجیے۔ پاکستان کے بانی قائداعظم محمد علی جناح کا کردار بے داغ تھا اور لباس بے شکن۔ برطانوی دستور پسند سیاست کی روایت میں تربیت پائی تھی۔ جدوجہد آزادی میں آئینی کشمکش کے مذہبی تشخص کے باوجود تعصب سے ماورا تھے۔ ہندوستانی مسلمانوں نے قدامت پسند مذہبی قیادت کو مسترد کر کے روشن خیال جناح کا انتخاب کیا تھا۔ پاکستان بننے کے بعد نمبردار کی نیت بدل گئی۔ جمہوریت کے خوف سے مشرع اور متقی نیلا پال لیا۔ آج پون صدی بعد نیلا صاحب کی طاقت کا یہ عالم ہے کہ جہاں سینگ جھکائے، نمبردار صاحب بھاگ کر کونے میں چھپ جاتے ہیں۔ لال مسجد اور فیض آباد چوک تو ایک طرف، 2016  میں نیلا صاحب نے براہ راست نمبردار صاحب کو ٹکر رسید کر دی۔ ایک عرصہ پارسائی کی ہلدی سے ٹکور کرتے رہے۔
پاکستان میں حزب اختلاف نے فروری 1966 میں ایک دو روزہ کانفرنس کا ڈول ڈالا۔ مقصد یہ تھا کہ متحد ہو کر آمریت کی مزاحمت کی جائے۔ اس کانفرنس میں سید ابوالاعلیٰ مودودی، نوابزادہ نصراللہ خان، چوہدری محمد علی، سردار شوکت حیات، مولوی فرید احمد، یحییٰ بختیار اور خواجہ محمد رفیق جیسے قد آور رہنما شریک تھے۔ ایک سرکاری اہلکار کے اشارے پر عوامی لیگ کے سربراہ شیخ مجیب الرحمن نے چھ نکات پیش کر کے کانفرنس سبوتاژ کر دی۔ ایوب حکومت نے ایک طرف چھ نکات کی تشہیر کا اہتمام کیا، دوسری طرف چھ نکات کے مخالف رہنماؤں کا گلا دبایا۔ شیخ مجیب الرحمن نمبردار کا نیلا تھے جس نے اگرتلہ سازش سے مقبولیت پکڑ کر متحدہ پاکستان دو ٹکڑے کر دیا۔ اس حادثے کے باوجود نمبردار صاحب کے شوق میں کمی نہیں آئی۔ ایک طرف قدامت پسند جماعتیں جمع کر کے مذہب کے نام پر انتشار کا نیلا تشکیل دیا۔ دوسری طرف افغان جہاد میں نیلوں کا ریوڑ تیار کیا۔ اول الذکر نیلے نے جمہوریت کی نیا ڈبوئی اور افغان نیلے نے 1989  کے بعد اپنا رنگ دکھایا۔ اس دوران فرقوں کے نام پر نیلوں کی افزائش نسل کی گئی۔ ایک لسانی نیلے کی مدد سے ملک کے سب سے بڑے شہر کو قتل گاہ بنا دیا۔ اچھا خاصا ترقی پذیر ملک دنیا میں معاشی بدحالی، سیاسی انتشار اور بنیاد پرستی کا نشان بن گیا۔
نوے کی دہائی میں نمبردار صاحب نے حویلی کے مغربی اور مشرقی احاطو ں میں اصطبل تعمیر کر کے نیلوں کی نئی نسل پالنا شروع کی۔ مشرقی احاطے کے نیلے کو بالآخر 2004  میں نکیل ڈالنا پڑی۔ مغربی احاطے میں نیلا بدستور دندنا رہا ہے۔ نمبردار صاحب کی شفقت کسی خاص نیلے سے تعلق نہیں رکھتی۔ ان کا اصل مقصد اہل شہر پر اپنی ہیبت بٹھانا ہے۔ دیوقامت نیلے کی چتاؤنی دے کر شہر پر حاکمیت قائم رکھنا ہے۔ اسی شوق کے تسلسل میں اکتوبر 2011 میں ایک نحیف و نزار نیلا گود لیا۔ اچھی خوراک اور ناز برداریوں سے رنگ روپ نکھر آیا تو گلی کوچوں میں نیلا صاحب کی نمائش شروع ہوئی۔ نمبردار صاحب نیلے کے سر پر ہاتھ پھیرتے تو نیلا اس وارفتگی سے نمبردار کی طرف دیکھتا گویا یک جان دو قالب کی تصویر دکھا رہا ہو۔

 بالآخر یہ نیلا بھی نمبردار صاحب کی جان کا لاگو ہو گیا۔ اب تو کھلے عام دھمکیاں دیتا ہے۔ قصبے میں کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ نمبردار صاحب کے گھر میں نیلے سے ربط باطنی پایا جاتا ہے۔ یہ ایک نئی صورتحال ہے۔ نمبردار صاحب کی اپنی دنیا ہے مگر جدید نیلے کے اطوار بھی جداگانہ ہیں۔ سید محمد اشرف کی کہانی نامکمل ہے۔

(بشکریہ: ہم سب لاہور)

loading...