چند کیر زماتی سیاستدان…

آل انڈیا مسلم لیگ کی بیالیس سالہ تاریخ میں ایک بھی مثال نہیں ملتی جس میں قائد اعظم نے جلسے کی قیادت کی ہو۔ لوگوں کا لہو گرم رکھنے کے لیے دھواںدھار تقرر کی ہو، سڑکوں اور روڈ راستوں پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کا سامنا کیا ہو اور تصادم میں آئے ہوں۔

فقیر کی بات آپ تحمل سے سنیں۔ آستینیں مت چڑھائیں۔ ازروئے محاورہ کسی عوامی جلسے میں لوگوں کے ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر کے سامنے تقریر کرتے ہوئے قائد اعظم نے کبھی مہاتما گاندھی، پنڈت جواہرلال نہرو اور دیگر کانگریسی قیادت کے خلاف نازیبا زبان استعمال نہیں کی تھی۔ ہندوستان میں علما اور دانشوروں کی ایک بہت بڑی تعداد ہندوستان کے بٹوارے کے حق میں نہیں تھی، قائد اعظم نے ان کو کبھی غدار نہیں کہا تھا۔ ان کے خلاف کبھی توہین آمیز کلمات منہ سے نہیں نکالے تھے۔ کم گو تھے۔ سیاستدانوں کی طرح لوگوں پر نظر پڑتے ہی بولنا شروع نہیں کردیتے تھے۔ ضرورت سے زیادہ ایک لفظ نہیں بولتے تھے۔ تنہائی پسند تھے۔ اکیلا رہنا ان کو اچھا لگتا تھا، میں قائد اعظم کو سیاستدان کی بجائے مدبر یا سٹیٹس مین  سمجھتا ہوں۔

ایک سیاستدان لازمی طور پر امور مملکت پر دسترس نہیں رکھتا لیکن ایک مدبر، امور مملکت پر دسترس رکھنے والا شخص، سیاست کی سائنس کا مکمل ادراک رکھتا ہے۔ اس لیے آج کے زیر بحث موضوع سے میں قائد اعظم کو دور رکھنا چاہتا ہوں۔ ہندوستان کے بٹوارے پر انگریز کو راضی کرنا آل انڈیا مسلم لیگ کے سیاستدانوں کے بس کی بات نہیں تھی۔ انیس سو بیس، اور اکیس کے آس پاس قائد اعظم خفا ہوکر واپس انگلستان چلے گئے تھے۔ سراسیمگی کے عالم میں آل انڈیا مسلم لیگیوں کو سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ انگریز سے گفت و شنید جاری رکھیں، توکس طرح جاری رکھیں؟ ان کے پاس انگریزی زبان پرعبور رکھنے والا قائد اعظم کے پائے کا مدبر اور کوئی نہیں تھا۔ دو برس بعد لیاقت علی خان ایک وفد لے کر لندن گئے۔ وفد میں رعنا لیاقت علی خان،سر عبداللہ ہارون اور دوچار دوسرے مسلم لیگی شامل تھے۔ قائد اعظم واپس آئے اور ایک مدبر ہونے کے ناتے گفت و شنید اور بحث مباحثوں میں استدلال کو سیاست میں بروئے کار لائے۔ اپنا نقطہ نظر بیان کرنے کے لیے ان کو کسی نے بھی چیختے چلاتے اور ڈائس پر مکے مارتے ہوئے نہیں دیکھا تھا۔ تحمل ان کی غیر معمولی کامیابیوں کا سب سے بڑا سبب تھا۔ وہ پہلے مدبر اور بعد میں سیاستدان تھے۔ قائد اعظم نے سیاست کے دوران کبھی شرافت کو ہاتھ سے جانے نہیں دیا تھا۔ بہتر ہے کہ آج کل کی سیاست سے ان کو ہم محفوظ رکھیں۔
پاکستان کی سیاست میں پہلے کیرزماتی سیاستدان شیخ مجیب الرحمٰن تھے۔ ان کو دیکھنے اور سننے کے لیے پورا مشرقی پاکستان دیوانہ وار جلسہ گاہوں کا رخ کرتا تھا۔ بیمار اور ناداروں کو چھوڑ کر شاید ہی کوئی بچہ، بوڑھا، جوان، مرد، عورت گھر پر بیٹھنا جائز سمجھتے ہوں۔ وہ سب شیخ مجیب الرحمٰن کی کیرزماتی کشش سے کھنچے ہوئے ، نہجوم در ہجوم جلسوں میں پہنچ جاتے تھے۔ یاد رہے کہ مشرقی پاکستان کی آبادی مغربی پاکستان کی آبادی سے زیادہ ہوتی تھی۔ مغربی پاکستان میں چار صوبے پنجاب، بلوچستان، صوبہ سرحد (اب پختون خوا) اور سندھ ہوتے تھے۔ ایک اکیلا مشرقی پاکستان کا صوبہ ان سب پر بھاری ہوتا تھا۔ قومی اسمبلی میں ان کی سیٹیں بھی زیادہ ہوا کرتی تھیں۔ مشرقی پاکستان کی زیادہ سیٹوں پر ہم جیسے عام اللہ سائیں کے آدمی بیٹھے ہوئے ہوتے تھے۔ ان کو دیکھ دیکھ کر مغربی پاکستان کے چاروں صوبوں کے سردار، جاگیردار، رئیس، وڈیرے، خان اور سردار تلملا اٹھتے تھے۔ مشرقی پاکستان کے پاس ایک کیرزماتی شخص شیخ مجیب الرحمٰن ہوتے تھے کہنے والے کہتے ہیں کہ شیخ مجیب الرحمٰن کے پاس ایسا کرشماتی کیرزما تھا کہ وہ اگر چاہتے تو مردوں میں جان ڈال سکتے تھے، یہ کہنے والے کہتے ہیں۔ میں نہیں کہتا۔

مشرقی پاکستان مردم خیز حصہ تھا پاکستان کا۔ ایک سے بڑھ کر ایک پڑھے لکھے دانشور سیاستدان ہوتے تھے۔ مشرقی پاکستان میں نورالامین، خواجہ ناظم الدین، حسین شہید سہروردی، ابو الحسن سرکار، فضل الحق بھاشانی، محمد علی بوگرا اور اسی اعلیٰ پائے کے دوسرے کئی ایک سیاستدان مشرقی پاکستان کی سیاست پر چھائے ہوئے تھے۔ مگر شیخ مجیب الرحمٰن میں کچھ اور تھا۔ قدرت نے اسے کیرزما سے نوازا تھا۔ کیرزما بھی ایسا ویسا نہیں۔ سننے والوں نے ٹھاٹھیں مارتے سمندر کی باتیں سنی ہیں۔ میری نسل نے شیخ مجیب الرحمٰن کے سامنے لوگوں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر دیکھا تھا۔ نہ جانے کیسا جادو تھا۔ شیخ مجیب الرحمٰن میں کہ لوگ اس کے ایک اشارے پر جان نچھاور کرنے کے لیے تیار رہتے تھے۔ ان کو بابائے بنگلہ دیش کہا جائے تو شاید غلط نہیں ہو گا۔

دوسرا کیرزماتی شخص جس کو ہم نے پاکستان پر چھایا ہوا دیکھا تھا، وہ تھے ذوالفقار علی بھٹو۔ ان کے جلسے جلوسوں میں لاتعداد اور بے حساب لوگ دیوانہ وار دیکھے جاتے تھے۔ ان کو تقریر کرنے کا فن سکھایا تھا معراج محمد خان نے۔ ایک مرتبہ اسٹیج پر آنے کے بعد لوگوں کا سمندر دیکھ کر ذوالفقار علی بھٹو دنگ رہ گئے تھے۔ معراج محمد خان نے ایک جملہ ان کے گوش گزار کیا تھا۔ اور وہ جملہ ذوالفقار علی بھٹو کا ہر دلعزیز جملہ بن کر سامنے آیا تھا۔ لوگوں کی طرف اشارہ کرتےہوئے معراج محمد خان نے کا تھا ’عوام آپ کی طاقت کا سرچشمہ ہیں‘۔

بے نظیر بھٹو کی شخصیت بھی کیرزماتی تھی، لیکن جو کیرزما ہم نے الطاف حسین میں دیکھا، اس جیسا کیرزما ہم نے صرف شیخ مجیب میں دیکھا تھا۔ شیخ مجیب کے بعد ہم نے صرف ایک الطاف حسین پر لوگوں کو جان نچھاور کرنے کے جذبے سے مامور دیکھا تھا۔ آپ الطاف حسین سے لاکھ اختلاف رکھیں، مگر پاکستان کی 75 سالہ تاریخ میں پھر کبھی الطاف حسین جیسا کیرزماتی شخص ہم نے نہیں دیکھا۔ لوگ ان کی ہیرو کی طرح پرستش  کرتے تھے۔ ان کیلئے مرمٹنے کو تیار رہتے تھے۔ کبھی کبھی تو وہ دیومالائی کردار لگتے تھے۔ میں نےان کا عروج اور ان کی جلا وطنی دیکھی ہے۔ کیرزماتی لوگوں کے بارے میں ایک بات مشترک ہے۔ کیرزماتی لوگ زیادہ تر المناک موت مرتے ہیں، جیسے مہاتما گاندھی، اندرا گاندھی، شیخ مجیب الرحمٰن، ذوالفقار علی بھٹو اوران کی بیٹی بےنظیر بھٹو۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

loading...