کیسے کروں فخر بھارتی ہونے پر؟

گزشتہ پندرہ دنوں میں بھارتی شہریوں نے کچھ ایسے کارنامے انجام دیے کہ جھومنے کو دل چا ہ رہا تھا۔ مصنفہ گیتانجلی شری کو ان کے ہندی زبان میں لکھے ناول کے لیے بکر پرائز سے نوازا گیا اور دہلی کی جامعہ ملیہ اسلامیہ یونوسٹی میں زیر تعلیم ایک خاتون نے ملک کے سب سے مشکل ترین امتحان میں پوزیشن حاصل کر کے اعلیٰ بیوروکریسی میں جگہ بنائی۔

ابھی میں سوچ ہی رہی تھی کہ بھارتی کہلوانے پر فخر جتانے کے لیے کہاں جاؤں؟ اسی دوران معلوم ہوا کہ آج کل کے بھارت میں، جب ایسے اشخاص کوئی کارنامہ انجام دیں، تو بس خاموش رہنا ہوتا ہے۔ آج کے دور میں کسی بھی شخص کی پرکھ اس کی قابلیت سے نہیں بلکہ اس بات سے کی جاتی ہے کہ اس کا تعلق کون سے نظریے اور کس مذہب سے ہے؟ گویا اس سے زیادہ اہم کوئی چیز ہے ہی نہیں۔ لہذا فی الحال میں نے فخر کرنے کا ارادہ ملتوی کر دیا ہے۔

کیا ہوا کہ شری ہندی زبان کے پہلی مصنفہ ہیں، جنہیں اس اعزاز سے نوازا گیا ہے۔ اور تو اور دہلی کی جامعہ ملیہ اسلامیہ، جس پر مبینہ طور پر ملک کے ساتھ غداری کرنے والوں کی تربیت کرنے کا الزام لگایا گیا تھا، کی ہمت کیسے ہوئی کہ اس نے اس سال بھارت کو انڈین سول سروس کا ٹاپر دے دیا؟ یہ تینوں واقعات ایک دوسرے سے بلکل مختلف ہیں لیکن ان میں، جو بات مشترک ہے، وہ یہ ہے کہ ان میں سے کسی کو بھی وہ پذیرائی نہیں ملی، جس کے وہ حق دار تھے۔

چونکہ نگہت زرین ایک مسلمان خاتون ہیں، مرکزی حکومت کے تحت جامعہ کے ساتھ ملیہ اور اسلامیہ جڑا ہے جبکہ گیتا نجلی کا تعلق ایک اور ’مشکوک‘ ادارے جواہر لعل نہرو یونیورسٹی (جے این یو) سے ہے، اس لیے بظاہر ان کو نظر انداز کیا گیا۔ آخر کیسے ایسی مصنفہ کی پذیرائی کی جاتی، جو انتہاپسندوں اور دائیں بازو کے نظریات پر تنقید کرتی رہی ہیں۔ عموماً جب کبھی کوئی کھلاڑی کسی بین الاقوامی مقابلے میں بھارت کے لیے تمغہ لے کر آتا ہے، تو اس کے واپس آنے کے بعد حکومت اس کھلاڑی کے عزت افزائی اور حوصلہ افزائی کے لیے کئی ایوارڈز اور انعامات کا اعلان کرتی ہے۔ مثلاً جب نیرج چوپڑا ٹوکیو اولمپکس میں جیولین تھرو میں گولڈ میڈل جیت کر واپس آئے تو کئی صوبوں کی حکومتوں نے ان کے لیے نقد انعام کا اعلان کیا۔ بہت سے نجی اداروں بشمول کچھ ایئر لائنز اور آٹوموبائل کمپنیوں نے بھی ان کو انعامات سے نوازا۔

جب بیڈمنٹن کھلاڑی سائنا نہوال نے 2015 میں آل انگلینڈ اوپن بیڈمنٹن چیمپئن شپ جیتی تو حکومت ہند کے تحت آنے والی کھیلوں کی وزارت نے ان کے لیے 25 لاکھ روپے کے نقد انعام کا اعلان کیا۔ صوبہ ہریانہ حکومت نے تو ان کو سرکاری ملازمت دینے کا اعلان کیا تھا۔ جب بھی کبھی کوئی کھلاڑی تمغہ جیت کر آتا ہے، اس وقت بھارتی کابینہ میں تقریباً ہر وزیر سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کھلاڑی کو مبارکباد دینے کی دوڑ میں اول آنا چاہتا ہے۔ لیکن نگہت کب واپس آئیں، پتہ ہی نہیں چل سکا۔ میں کئی روز تک وزیروں، مشیروں اور افسران کے سوشل میڈیا پیج دیکھتی رہی کہ کہیں تعریف و توصیف کا ایک ہی جملہ دیکھنے کو ملے تاکہ میں فخر کر سکوں۔

زیادہ حیرت تو اس بات پر ہوئی کہ ایک طرف، جہاں نگہت اور اس کی کامیابی کو نظر انداز کیا جا رہا تھا، دوسری طرف تلنگانہ صوبہ کے ہی دو کوہ پیماؤں، مالاوتھ پورنا اور آنند کمار سادھنا پلی کو دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ کی بلندیوں پر چڑھنے میں کامیابی حاصل کرنے پر مبارکبادوں کا ایک سلسلہ چل رہا تھا۔ صوبے کے وزیر اعلیٰ کے چندر شیکھر راؤ نے ان کو 25 لاکھ روپے کے نقد انعام سے نوازنے کا اعلان کیا۔ یہاں تک کہ ان کے کوچ بی شیکھر بابو کو بھی 25 لاکھ روپے نقد انعام سے نوازا گیا۔ لیکن نگہت کو اس کے حصے کی تعظیم حاصل کرنے کے لیے اس وقت تک انتظار کرنا پڑا، جب تک کہ کچھ مقامی اخبارات نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ تب ہی تلگانہ حکومت نے نقد انعام اور حیدرآباد میں کچھ زمین دینے کا اعلان کیا۔

اب آئیے چلتے ہیں گیتانجلی شری اور دائیں بازو کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ہندی زبان کے منافقانہ جنون کی طرف۔ شری پہلی بھارتی ہیں، جن کی ہندی زبان میں لکھی ان کی کتاب ریت سمادھی نے بین الاقوامی بکر پرائز جیتا ہے۔ اب تک حکومت میں سے کسی کی طرف سے بھی تعریف یا مبارکباد کا ایک لفظ بھی سننے کو نہیں ملا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی، جو اکثر ٹویٹر پر مبارکباد کے پیغامات لکھتے آئے ہیں، انہوں نے بھی ابھی تک شری کو مبارکباد نہیں دی ہے۔

بی جے پی حکومت اور اس کی نظریہ ساز راشٹریہ سوین سیوک سنگھ (آر ایس ایس) ہندی زبان کی سرپرست اور محافظ ہونے کا دعویٰ کرتی آئے ہیں اور ہندی کو غیر ہندی بولنے والی صوبوں میں بھی ایک طرح سے مسلط کرنے کی کوشش کرتے آ رہے ہیں۔ ان کو تو شری کی کامیابی کا جشن منانا چاہیے تھا لیکن افسوس کی بات ہے کہ انہوں نے بھی ان کی کامیابی کو نظر انداز کر کے ہندی زبان کے سرپرست ہونے کے دعوے پر ہی سوالیہ نشان کھڑے کیے۔ کیا جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے ساتھ منسلک ہونا اتنا بڑا جرم ہے؟

شری اپنی تحریروں میں بھارت کی فرقہ وارانہ سیاست کو ہدف تنقید بناتی آئی ہیں۔ بابری مسجد کے مسمار ہونے کے بعد لکھے گئے اپنے ناول ’ہمارا شہر‘  لکھ کر فرقہ وارانہ تشدد کی مذمت کی ہے۔ جے این یو کی طرح جامعہ ملیہ اسلامیہ کی بھی حالیہ کامیابی نے حکومت نے نظر انداز کیا۔ جس طرح جے این یو کو بائیں بازو کی جماعتوں کا گڑھ سمجھا جاتا ہے، اسی طرح آر ایس ایس بی جے پی جامعہ کو ایک ایسے مرکز کے طور پر دیکھتی ہے، جو ’جہادیوں اور ملک دشمنوں‘ کا گڑھ ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ جامعہ مسلمانوں کی ہے اور اس لیے اس کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

دو سال قبل اس یونیورسٹی کے طلباء نے متنازعہ شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) جو شہریت دینے کے دوران مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک کرتا ہے، کے خلاف احتجاج کیا تھا۔ بدلے میں ہندو قوم پرستوں نے اس باوقار یونیورسٹی کو ’’جہادی فیکٹری‘‘ قرار دیا۔ لیکن جامعہ نے نفرت پھیلانے والوں سے اس کا بدلہ بھی خوب لیا ہے۔ یونیورسٹی کے سینٹر فار کوچنگ اینڈ کیرئیر پلاننگ کی طالب علم شروتی شرما نے سول سروس امتحان میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ وہ جلد ہی فارن سروس جوائن کرنے والی ہیں۔ شرما کوئی مسلمان تو نہیں بلکہ اعلیٰ ذات کی ہندو ہیں مگر جامعہ کے ساتھ ان کی وابستگی کی وجہ سے ان کی کامیابی کو نظر انداز کرنا ضروری ہو گیا تھا تاکہ کسی کو فخر کرنے کا موقع نہ ملے۔ معلوم ہوا کہ پچھلے آٹھ سالوں سے اس ادارے نے بھارت کو ڈھائی سو سے زائد ٹاپ افسران دیے ہیں۔

آج کے دور میں جب ملک میں مذہبی عدم برداشت نئی بلندیوں کو چھو رہی ہے اور یہ سمجھا جا رہا ہے کہ جامعہ مسلمانوں کا ادارہ ہے لیکن اس کے باوجود یہ ادارہ اعلیٰ بیوروکریٹس سے ملک کو نواز رہا ہے اور ان کامیابیوں نے بہت سے نفرت کے سوداگروں کے چہرے پر کالک مل دی ہے۔

گزشتہ دو ہفتوں کے دوران رونما ہونے والے ان تین اہم واقعات نے ایک بات کو یقینی طور پر واضح کر دیا ہے کہ حکومت اور اس کے نظریاتی کارکن ان لوگوں کے، جو ان کے نقطہ نظر کی تائید نہیں کرتے، کے حوصلے پست کرنے کی کتنی ہی کوشش کریں، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

حکومت کے نقطہ نظر سے متفق نہ ہونے والوں کو کتنی ہی مشکل کا سامنا کیوں نا کرنا پڑے، محنتی اور قابلیت رکھنے والوں کو کوئی نہیں روک سکتا۔

(بشکریہ: ڈی ڈبلیو اردو)

loading...