نئی پرانی کہانی

آج ایک روز کیلئے سیاست کو جانے دیجئے۔ آج ایک پرانی کہانی سنئےاور پھر اس کہانی پر غور کیجئے۔ اس نوعیت کی کہانیاں ہر دور میں، ہر معاشرے میں، ہر ملک میں، ہرزبان میں لکھی گئی ہیں۔

آپ نے کئی مرتبہ یہ کہانی پڑھی ہوگی یا اس کہانی کے بارے میں سنا ہوگا۔ کوئی حرج نہیں ہے اگر اس کہانی کو بار بار پڑھا جائے، لکھا جائے، اور اس کہانی کے بارے میں سوچا جائے۔ کسی قسم کا کوئی مضائقہ نہیں ہے ۔ ویسے بھی سوچنے پر بندش کی گنجائش نہیں ہے۔ دنیا کا کوئی قانون آپ کوسوچنے سے روک نہیں سکتا ۔ آپ خود بھی اپنی سوچ پر پابندی نہیں لگا سکتے۔ سوچ خود مختار عمل ہے۔ ہمیں اچھی سوچ آتی ہے، بری سوچ آتی ہے، ڈراؤ نی سوچ آتی ہے۔
مجھے حیرت ہوتی ہے ان ڈاکٹروں پر جو ڈپریشن کے مریضوں کو مشورہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ بھائی، بس سوچا مت کرو۔ اگر آپ انکشاف کردیں کہ ڈاکٹر صاحب میں جان بوجھ کرسوچتا نہیں، سوچ بے دریغ مجھے آتی رہتی ہے۔ ڈاکٹر صاحب ایسی دوا تجویز کریں گے کہ آپ پہروں گم سم بیٹھے رہیں گے۔ چپ چاپ دیواروں کو تکتے رہیں گے۔ اس تمہید کا مقصد ہے کہ آپ پرانی کہانی سنیں۔ اور کہانی کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کریں۔

ایک تھا غریب آدمی۔ دنیا بھر کے غریب آدمی بچے بہت پیدا کرتے ہیں۔ اس طرح وہ غربت کی چکی چلاتے رہتے ہیں اور گھن کی طرح خود بھی چکی میں پس جاتے ہیں۔ ہمارے غریب آدمی کے بے شمار بچے تھے۔ کبھی کبھی وہ غریب پڑوسی کے بچوں کو اپنے بچے سمجھتا تھا اور اپنے بچوں کو غریب پڑوسی کے بچے سمجھتا تھا۔ مستقل روزی روٹی کمانے کا اس کے پاس ذریعہ نہیں تھا۔ محنت مزدوری کرتا تھا۔ بچوں اور اپنے لیے دو وقت کی روٹی کمالیتا تھا۔ اگر بیمار پڑجائے تو فاقوں کی نوبت آتی تھی۔ ایک روز غریب آدمی کی ملاقات ایک ساہوکار سے ہوئی ۔ ساہوکار نے مشورہ دیتے ہوئے غریب آدمی سے کہا ، میں تمہیں ایک سو روپے ادھار دیتا ہوں۔ تم اپنا کوئی چھوٹا موٹا کاروبار کرلو۔ جب تمہارے پاس ایک سوروپے جمع ہوجائیں تب تم رقم لوٹا کراپنا ادھار اتار لینا۔ تب تک تم مجھے دس روپے یومیہ سود دیتے رہنا۔ غریب آدمی کو مشورہ اچھا لگا۔ اس نے ساہوکار سے ایک سوروپے قرض لیا۔ ریڑھی لگا کر کبھی مونگ پھلی،  کبھی گنڈیریاں،بیچنے لگا۔ جب تک واجب الادارقم ایک سوروپے ساہوکار کو دے کر قرض سے مستثنیٰ ہوجائے، غریب آدمی یومیہ دس روپے سود کی مد میں ساہوکار کو دیتا رہا۔ دس دن گزر گئے ۔ غریب آدمی ایک سو روپے قرض کے عوض ساہوکار کو یومیہ دس روپے سود کے حساب سے ایک سوروپے دے چکا تھا۔ دس دن اور گزر گئے ۔ غریب آدمی پابندی سے دس روپے یومیہ ساہوکار کو دیتا رہا۔ اس طرح ایک سوروپیہ قرض کے عوض وہ دوسو روپے ساہوکار کو دے چکا تھا۔ دس دن اور گزر گئے،غریب آدمی ایک سوروپے قرض کے عوض ساہوکار کو تین سوروپے ادا کر چکا تھا۔

چالیس دن گزر گئے، پچاس دن گزر گئے، ساٹھ دن گزر گئے۔ غریب آدمی واجب الادا قرض کی رقم مبلغ ایک سوروپے اکھٹے کرنے میں ناکام رہا۔ سمجھوتے کے مطابق وہ دس روپے یومیہ کے حساب سے ساہوکار کو سود دیتا رہا۔ ساٹھ دن گزر جانے کے بعد غریب آدمی لیے ہوئے قرض کی رقم ایک سوروپے کےعوض ساہوکار کو چھ سوروپے دے چکا تھا۔ پھر بھی وہ ساہوکار کا مقروض تھا۔ ایک سودن گزر گئے۔ غریب آدمی ایک سوروپے قرض کی رقم کے عوض ایک ہزار روپے سود کی مد میں ساہوکار کو دے چکا تھا۔ ایک سال گزر گیا۔ مقروض غریب آدمی یک مشت قرض اتارنے کے لیے ایک سوروپے واجب الادا رقم جمع کرنے میں ناکام رہا۔ وہ دس روپے یومیہ سود پابندی سے ادا کرتا رہا۔

ایک سال کے تین سوپینسٹھ دنوں میں وہ ساہوکار کو تین ہزار چھ سو پچاس روپے سود دے چکا تھا۔ دس برس گزر گئے ۔ غریب آدمی واجب الادا ایک سو روپے قرض کے عوض ساہوکار کو چھتیس ہزار پانچ سوروپے سود کی مد میں دے چکا تھا۔ غریب آدمی کام کرتے کرتے تھک چکا تھا۔ اس کی کمر دہری ہوگئی تھی۔ لوگ اسے کبڑا مقروض کہہ کرپکارتے تھے۔ اور پھر ایسا نامراد وقت بھی آیا جب غریب آدمی دس روپے یومیہ سود دینے کے قابل نہ رہا۔ وہ پانچ روپے یومیہ سود دیتا رہا ۔ اس طرح واجب الادا قرض کی رقم پھلتے پھولتے ایک سوروپے سے بڑھ کر دوسو، اور دوسو سے بڑھ کرچار سوہوگئی۔ غریب آدمی نے ایک ایک کرکے گھر کا سارا سامان بیچ دیا، مگر وہ قرض کی یک مشت ادائیگی کرنے میں ناکام رہا۔

سنا ہے کہ کسمپرسی کی حالت میں کبڑے مقروض نے اپنے بچے بردہ فروشوں کے ہاتھ بیچ دیے۔ دل برداشتہ بیوی نے کنویں میں چھلانگ لگا کرخودکشی کرلی۔ بدحواس کبڑا مقروض ایک پاگل خانے میں زندگی کے آخری ایام گزار رہا ہے۔ وہ اچانک کان پرہاتھ رکھ کر آواز لگاتا ہے: ’ آلو لے لو، پیاز لے لو، چھوٹے چھوٹے بچے لے لو‘۔

یہ ہے وہ سودی نظام جس کی مسلمان، ہندو، سکھ ، عیسائی، یہودی، اور دیگر عقیدوں کے پیروکاروں نے سخت مخالفت کی ہے۔ پس ماندہ سے پس ماندہ ممالک میں بھی ایسا استحصالی نظام ڈھونڈے سے نہیں ملے گا۔ ہے کوئی ایک بینک پاکستان میں جو ایسے گھناؤنے سودی سلسلے کی سرپرستی میں ملوث ہو؟

انگریزی لفظ انٹرسٹ کے معنی صرف سود نہیں ہے۔ ایک سے زیادہ معنی ہیں اس انگریزی لفظ انٹریسٹ کے۔ سوچئے ، سوچنے پربندش نہیں ہے۔

(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

loading...