بارہویں صدی کے بعد مسلم سائنس کا زوال: حقیقت یا افسانہ

ن م راشد صاحب نے شاید اس قسم کی بات کی تھی کہ ایک زمانہ تھا جب انسان کتابوں کی کمی کی وجہ سے جاہل رہ جاتا تھا، اب کتابوں کی زیادتی کی وجہ سے۔

علمی دنیا میں معلومات کی کمی کی بنا پر بعض اوقات کچھ آرا قائم کر لی جاتی تھیں اور بدقسمتی یہ ہوتی کہ وہ بہت مشہور بھی ہو جاتی تھیں۔ جب ایک غلط بات مشہور ہو جائے تو اس کی تردید بہت مشکل ہو جاتی ہے بلکہ اکثر اوقات تو کار لاحاصل بن جاتی ہے۔انیسویں صدی میں مشہور فرانسیسی دانشور ارنسٹ ریناں نے بیان کیا کہ بارہویں صدی عیسوی کے بعد مسلمانوں کا سائنس میں زوال شروع ہو گیا تھا اور اس زوال کی ذمہ داری غزالی پر عائد ہوتی ہے۔ موسیو ریناں کو یہ رعایت دی جا سکتی ہے کہ اس نے ناکافی معلومات کی بنیاد پر یہ رائے قائم کی کیونکہ اس وقت مسلمانوں کی علمی تاریخ کے متعلق نہ کوئی تحقیق ہوئی تھی اور نہ کوئی کتابیں شائع ہوئی تھیں۔ لیکن جب تقریباً سوا سو سال بعد 2007 میں مشہور نوبل انعام یافتہ سائنسدان سٹیون وائن برگ بھی اسی بات کا اعادہ کرتا ہے تو افسوس ہوتا ہے۔ چلیے سائنس کی تاریخ وائن برگ کا میدان نہیں لیکن پھر بھی ایک متنازعہ مسئلہ پر رائے زنی کرنے سے پہلے اس شعبہ علم کی تازہ ترین صورت حال معلوم کرنے میں کوئی ہرج نہیں ہوتا۔

پچھلے تقریباً ستر برس میں سائنس میں مسلم عہد کے دوران میں ہونے والے کام پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے۔ درجنوں کتابیں چھپ چکی ہیں اور سینکڑوں تحقیقی مقالات لکھے جا چکے ہیں۔ کئی انسائیکلوپیڈیا شائع ہو چکے ہیں۔ اگر اس تمام کاوش کو نظر انداز کرتے ہوئے اکیسویں صدی کی دوسری دہائی میں بھی کچھ لوگ پرانی رائے سے چمٹے رہنا پسند کرتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ وہ دلائل اور شواہد کی بنا پر رائے میں تبدیلی کرنے کو پسند نہیں کرتے یا انہیں معلومات کی فراوانی کے باوجود اپنی نظریاتی وابستگی کی بنا پر ترمیم پسند کہلانا پسند نہیں۔ اس مقام پر یہ اعتراف کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ پندرہ سولہ برس پہلے تک میں خود بھی اسی موقف کا موید تھا لیکن اب کچھ آوارہ خوانی کے بعد اپنی رائے سے رجوع کر چکا ہوں۔ اس تحریر میں بیان کردہ معلومات میری کسی ذاتی تحقیق کا نتیجہ نہیں بلکہ میرے مطالعے کے افادات ہیں۔

ہمارے پیش نظر دو سوال ہیں :
1۔ کیا بارہویں صدی عیسوی کے بعد سائنس مسلمانوں کے ہاں زوال و انحطاط کا شکار ہو گئی تھی؟
2۔ کیا اس زوال و انحطاط کی ذمہ داری غزالی پر عائد ہوتی ہے؟

اس وقت میں صرف پہلے سوال کے جواب میں کچھ شواہد پیش کرنا چاہتا ہوں۔ جہاں تک دوسرے سوال کا تعلق ہے اس کو کسی اور وقت کے اٹھا رکھتا ہوں۔ پہلا سوال تاریخ سے متعلق ہے۔ اس رائے کے مشہور ہونے کی چند وجوہات ہیں۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں تھا کہ مسلمانوں نے بارہویں صدی تک سائنس میں بہت پیش رفت کی تھی کیونکہ کوپرنیکس نے ان پانچ مسلمان سائنس دانوں کا نام لے کر اپنی کتاب میں ذکر کیا تھا: البتانی (م 929 ) ، الزرقلہ (الزرقالی۔ م 1100 ) ، ابن رشد، (م 1198 ) ثابت ابن قرۃ (م 910 ) البطروجی (م 1192 )

ان میں ثابت ابن قرہ کے علاوہ باقی چاروں کا تعلق اندلس کے ساتھ تھا اور ثابت مسلمان نہیں بلکہ صابی تھا۔ بارہویں صدی میں سپین کے شہر طلیطلہ (ٹولیدڈو) میں عربی کتابوں کے لاطینی زبان میں ترجموں کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔ جزیرہ سسلی میں بھی کافی تراجم ہوئے تھے۔ نور الدین ابو اسحاق البطروجی آخری فرد تھا جس کا لاطینی زبان میں ترجمہ ہوا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ اس کے بعد ترجمے کی روایت دم توڑ گئی۔ چونکہ تراجم کا کام بند ہو گیا تھا اس لیے یہ سمجھ لیا گیا کہ اس کے بعد مسلمانوں نے سائنس میں کوئی قابل ذکر کام نہیں کیا۔

کیا بارہویں صدی عیسوی کے بعد یورپ کا مسلمانوں سے اخذ و استفادہ کا سلسلہ مکمل طور پر منقطع ہو گیا تھا؟ اس سوال کا جواب نفی میں ہے۔ یہ بات درست ہے کہ براہ راست تراجم تو نہیں ہوئے لیکن ایک اور کام شروع ہوا جسے سرقہ اور چربہ کہنا غلط نہ ہو گا۔ بیسویں صدی میں ہونے والی تحقیقات کے نتیجے میں یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ عہد وسطیٰ کے یورپ میں بہت سی معروف کتابیں دراصل عربی کتابوں کے تراجم ہیں۔ اس ضمن میں بہت سا کام ترک نژاد سکالر ڈاکٹر فواد سیزگین نے کیا ہے۔انہوں نے کئی جلدوں میں مسلم عہد میں مختلف سائنسی علوم پر لکھی جانے والی کتابوں کی ببلیوگرافی تحریر کی ہے۔ افسوس یہ ہے کہ ان کام جرمن زبان میں ہے جو ابھی تک انگریزی میں ترجمہ نہیں ہوا۔ ان کے عربی لیکچرز کا اردو زبان میں ترجمہ شائع ہو چکا ہے۔ ڈاکٹر سیزگین نے ثابت کیا ہے کہ لاطینی زبان میں اگرچہ تراجم کا سلسلہ بند ہو چکا تھا لیکن بازنطینی سلطنت میں یونانی زبان میں تراجم کا سلسلہ جاری رہا تھا۔ بحر اسود کے ساحل پر واقع شہر ترابزون اور قسطنطنیہ دو بڑے مراکز تھے۔

یونانی زبان میں کچھ ایسی کتابیں بھی دریافت ہوئی ہیں جن کا عربی متن اب کہیں موجود نہیں۔ مثلاً سن 1295 میں تبریز کا ایک آرتھوڈوکس پریسٹ قسطنطنیہ چلا گیا اور وہاں اس نے عبد الرحمان الخازنی کی مرتب کردہ سلجوق سلطان سنجر کے نام منسوب زیج سنجری کا یونانی میں ترجمہ کیا۔ زیج علائی جسے عبد الکریم شیروانی الفہاد نے بارہویں صدی کے وسط میں عربی میں مرتب کیا، لیکن اس کا عربی متن کہیں موجود نہیں، یہ صرف یونانی ترجمے کی صورت موجود ہے۔ اسی طرح نصیر الدین طوسی کی زیج ایل خانی بھی یونانی میں ترجمہ ہوئی۔ تیرہویں صدی کے وسط کا ایک شخص ہے جس کا نام شمس الدین بخاری ہے۔ یہ نام صرف فارسی اور عربی زیجوں کے یونانی تراجم میں ملتا ہے۔ چنانچہ ان تراجم سے بازنطینی سلطنت میں اسٹرونومی کا دوبارہ احیا ہوا۔

پروفیسر جارج ثعلبہ نے اپنی کتاب اور مضامین میں واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ کس طرح مسلمان ہیئت دانوں کی تحریروں تک اہل یورپ کی رسائی ہوئی۔ یورپ کے کتب خانوں میں اور بالخصوص ویٹیکن کی لائبریری میں 25 ہزار سے زائد عربی مخطوطات ہیں۔ مکمل ترجمے کی ضرورت ہی نہیں تھی کیونکہ کوپرنیکس سے پہلے، اس کے ہم عصر اور اس کے بعد بھی وہاں ایسے باصلاحیت افراد موجود تھے جو عربی پڑھ سکتے تھے۔ اساتذہ عربی کتابیں پڑھ کر لاطینی میں پڑھاتے تھے۔ لائبریری میں کتنی ہی عربی کتابیں ہیں جن پر لاطینی زبان میں لکھے گئے حواشی اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ ان کا کس قدر ذوق و شوق سے مطالعہ کیا جاتا تھا۔

بیسویں صدی میں یورپ اور امریکہ کی یونیورسٹیوں میں تاریخ سائنس کے شعبہ جات قائم ہونا شروع ہوئے۔ اب لوگوں نے قرون وسطی کے دور میں لکھی جانے والی کتابوں کو پڑھنا، مرتب کرنا، ترجمہ کرنا اور شائع کرنا شروع کیا تو معلوم ہوا کہ جس دور کو تاریک دور کہا جاتا تھا وہ اتنا بھی تاریک نہیں تھا۔ ان صدیوں میں بھی یورپ میں کسی قدر سست رفتاری سے سائنسی علوم پر کام جاری رہا تھا لیکن مسلم تہذیب میں تو سولہویں صدی تک سائنسی تحقیق کا کام کافی شد و مد سے جاری رہا تھا۔مسلم دور میں لکھی گئی بہت سی کتابیں ضائع ہو چکی ہیں لیکن جو موجود ہیں ان کا بھی جدید دور میں بہت کم مطالعہ کیا گیا ہے۔ چند کتابیں جو شائع ہوئی ہیں وہ بھی بس اتفاقی دریافتوں کا نتیجہ ہیں۔ ایسی ہی ایک اتفاقی دریافت نے غزالی کے بعد کے مسلم عہد کی سائنسی دریافتوں کے یورپ پر اثرات کو سمجھنے کا ایک نیا باب وا کر دیا۔

سن 1957 میں ایڈورڈ کینیڈی امریکن یونیورسٹی آف بیروت میں ریاضی کا پروفیسر تھا۔ اس نے اتفاقاً چودھویں صدی کے علاؤالدین ابن الشاطر کا، جو دمشق کی جامع مسجد میں موقت تھا، ایک مخطوطہ دریافت کیا۔ اس وقت تک سائنس کے مورخین اس مخطوطے اور اس کے مصنف کے نام سے واقف نہیں تھے۔ کتاب کا مطالعہ کرتے ہوئے کینیڈی نے اس میں نظام شمسی کے غیر بطلیموسی ماڈل دریافت کیے۔ اس نے براؤن یونیورسٹی میں اپنے استاد اوٹو نوگے باور کو، جس نے کئی جلدوں میں بابل کے عہد سے لے کر موجودہ دور تک اسٹرومی کی مستند تاریخ لکھی ہے، جب وہ ماڈل دکھائے تو وہ حیران ہوا کہ یہ تو وہ ماڈل ہیں جن کے بارے میں سمجھا جاتا تھا کہ وہ کوپرنیکس کی کتابوں میں پہلی دفعہ نمودار ہوئے ہیں۔مورخین سائنس کے لیے یہ بات اس حد تک ناقابل یقین تھی کہ جب ایک کانفرنس میں اس مخطوطے کے مشمولات کو بیان کیا گیا تو کتنے ہی شرکا احتجاجاً واک آؤٹ کر گئے تھے۔ اس کے بعد کینیڈی اور اس کے شاگردوں نے اس پر متعدد مقالات تحریر کیے ہیں۔

تحقیق مزید آگے بڑھی تو معلوم ہوا کہ کوپرنیکس کے ہاں محض ابن الشاطر ہی نہیں بلکہ نصیر الدین طوسی، موید الدین العرضی اور قطب الدین شیرازی کے وضع کردہ ماڈل بھی بعینہ موجود ہیں۔ ان ماڈلوں کے کوپرنیکس کی اسٹرونومی پر اثرات کا جائزہ لینے کے بعد اسٹرونومی کی تاریخ لکھنے والے دو امریکی مصنفین، نوگے باور اور نوئیل سورڈلو، نے یہ اہم نکتہ اٹھایا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ آیا کوپرنیکس ان سے واقف تھا یا نہیں بلکہ سوال یہ ہے کہ مراغہ کی رصد گاہ میں تخلیق پانے والے علم تک اس کی کب، کہاں اور کس طریقے سے رسائی ہوئی تھی؟

ستر کی دہائی میں نیوگے باور اور سورڈلو نے ویٹیکن کی لائبریری میں ایک یونانی مخطوطہ دریافت کیا جس میں ’طوسی کپل‘ اور طوسی کا قمری ماڈل موجود ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ مخطوطہ سقوط قسطنطنیہ کے بعد یورپ پہنچا۔ کوپرنیکس عربی نہیں جانتا تھا لیکن یونانی جانتا تھا۔ 1500 کے لگ بھگ یہ ماڈل اٹلی کے علمی حلقوں میں زیر بحث تھے۔

ان تحقیقات سے یہ بات بلا شائبہ تردید کہی جا سکتی ہے کہ غزالی کے بعد چار صدیوں تک سائنس بالخصوص اسٹرونومی (علم ہیئت) میں ترقی کا سفر جاری رہا۔ ہلاکو خان نے 1259 میں نصیر الدین طوسی کی فرمائش پر مراغہ کے مقام پر رصد گاہ قائم کی جو تقریباً 60 سال تک قائم رہی۔ وہاں تین نسلوں نے تربیت حاصل کی۔ اس کے سٹاف میں ایک چینی ریاضی دان بھی تھا۔ بازنطینی سلطنت سے ایک مسیحی بھی وہاں اسٹرونومی کی تعلیم حاصل کرنے آیا تھا۔

مسلمان اہل علم بطلیموس کے نظام کا تنقیدی جائزہ لے رہے تھے اور اس کی اصلاح کے لیے کوشاں تھے۔ چونکہ کائنات کے طبیعی/فلسفیانہ اور ریاضیاتی بیانات میں تفاوت نمایاں ہو رہا تھا اس لیے ضروری سمجھا گیا کہ نئے ریاضیاتی ماڈل وضع کیے جائیں۔ اس کام کی بنیاد ابن الہیثم (م 1040 ) نے اپنی کتاب ”الشکوک علی بطلیموس“ میں رکھی۔ اس کے بعد بطلیموس سے اختلاف کرنے والوں میں نمایاں نام طوسی (م 1274 ) ، موید الدین العرضی (م 1266 ) ، قطب الدین شیرازی (م 1311 ) ، ابن الشاطر (م 1375 ) ، علی بن محمد القوشجی (م 1474 ) اور شمس الدین الخفری (م 1525 ) نمایاں ہیں۔

مسلم عہد پر تحقیق کرنے والوں میں ایک بہت نمایاں نام ترک نژاد سکالر پروفیسر جمیل راغب کا ہے جو اب کینیڈا کی میگل یونیورسٹی سے وابستہ ہیں۔ پروفیسر راغب نے ثابت کیا ہے کہ علم ہیئت میں اوریجنل تحقیق کا کام سولہویں صدی تک جاری رہا ہے۔ اس میں ایک نمایاں نام علی بن محمد القوشجی کا ہے۔ وہ پندرہویں صدی میں سمرقند میں الغ بیگ کی رصدگاہ میں کام کرتا تھا۔ اس کے قتل کے بعد وہ ایران اور اناطولیہ سے ہوتا ہوا سلطان محمد فاتح کی دعوت پر استنبول چلا گیا اور وہاں قائم ہونے والی رصد گاہ کا سربراہ مقرر ہوا تھا۔ پروفیسر راغب نے یہ حیرت انگیز انکشاف کیا ہے کہ علی قوشجی کا وضع کردہ سیارہ عطارد کا ماڈل بطلیموس سے مختلف ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہی ماڈل ریجیومونٹانوس (م 1476 ) کے ہاں بھی بعینہ پایا جاتا ہے۔ قوشجی اور ریجیومونٹانوس ہم عصر ہیں۔ ایک اعتبار سے وہ کوپرنیکس کا دادا استاد تھا۔ اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ تقریباً شمس مرکزی نظریہ تک پہنچ گیا تھا۔ کوپرنیکس نے بلاحوالہ ریجیومونٹانوس سے استفادہ کیا تھا۔ اسی لیے کہا گیا ہے کہ اگر وہ کام کوپرنیکس کے علم میں نہ ہوتا تو شاید وہ شمس مرکزی نظریہ پیش کرنے کے قابل نہ ہوتا۔

اب قوشجی کے وضع کردہ ماڈل کا ریجیومونٹانوس کے ہاں پایا جانا اس بات کا کافی ثبوت ہے کہ مسلمانوں کے علوم کی یورپ میں منتقلی کی رفتار کافی تیز ہو چکی تھی۔

پروفیسر فائز جمیل راغب نے یہ اہم سوال اٹھایا ہے کہ ان تمام حقائق کی دریافت کے دریافت کے بعد کیا اہل علم کی اکثریت نے اپنی پرانی آرا سے رجوع کر لیا ہے؟ افسوس یہ ہے کہ اس سوال کا جواب نفی میں ہی دینا پڑے گا۔ زیادہ تر لوگ استفادہ کا اقرار کرنے کے بجائے اسے توارد قرار دینے پر بضد ہیں۔ توارد ممکن ہو سکتا ہے لیکن ایک مسئلہ ہے۔ قوشجی نے اگر ایک غیر بطلیموسی ماڈل بنایا تھا تو اس کے پیچھے پانچ سو سال پر محیط بطلیموسی نظام کی تنقید و اصلاح کی بہت مضبوط علمی روایت موجود تھی۔ پروفیسر راغب کا کہنا ہے کہ ریجیومونٹانوس کے ماڈل کو اگر متوازی ترقی قرار دیا جائے تو پھر اس ناقابل یقین مفروضے کو بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ جو کچھ مسلمانوں نے پانچ سو سال کی تحقیق و جستجو سے حاصل کیا تھا، یورپی لوگوں نے صرف پچاس سال کے عرصے میں اس پر عبور حاصل کر لیا تھا۔

ان تمام تحقیقات کے نتائج سامنے آنے پر پروفیسر جارج ثعلبہ نے غزالی کے بعد کی چار صدیوں کو بجا طور پر مسلم سائنس کا عہد زریں قرار دیا ہے۔ تمام شواہد اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ سولہویں صدی تک مسلم دنیا میں سائنس پر کام ہو رہا تھا، اس لیے اس کو مکمل طور پر زوال قرار دینا یا سائنس کے فقدان کا دور قرار دینا درست نہیں۔ اس دور کی تصنیفات کا بڑا حصہ نہ ابھی تک چھپا ہے اور نہ ان کا وسیع پیمانے پر مطالعہ کیا گیا ہے، اس لیے ہو سکتا ہے آئندہ آرا بہت کچھ مختلف ہوں۔

ایک وضاحت:

اس تحریر کا تعلق سائنس کی تاریخ سے ہے۔ اس کا مقصد کوپرنیکس کو نیچا دکھانا نہیں ہے۔ کوپرنیکس کا کام ایک عظیم انقلابی جست تھی جس کا کوئی اور حوصلہ نہیں کر سکا تھا۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ مسلمان ہیئت دان دہلیز تک پہنچ چکے تھے لیکن اسے عبور کرنے کا حوصلہ نہ کر پائے یا وہ ارسطو کی اتھارٹی کو چیلنج نہ کر سکے۔ نیوٹن نے کہا تھا کہ اگر وہ کچھ زیادہ دور تک دیکھ سکا تھا تو اس کا سبب یہ ہے کہ اپنے بہت قد آور پیش رووں کے کندھوں پر کھڑا تھا۔ یہی بات کوپرنیکس کے متعلق بھی کہی جا سکتی ہے۔ ٹامس کوہن کے الفاظ میں اسٹرونومی میں جو پیراڈائم شفٹ واقع ہوا، اس کا کریڈٹ ہمیشہ کوپرنیکس کے نام سے وابستہ رہے گا۔

پس نوشت:

اوپر ڈاکٹر فواد سیزگین کی کتاب کا ذکر ہوا ہے۔ اس کا حوالہ درج کر رہا ہوں۔ اگرچہ یہ کتاب اب پرانی ہو چکی ہے لیکن اس میں بیان کردہ معلومات بہت وقیع ہیں: ”تاریخ علوم میں تہذیب اسلامی کا مقام“ ۔ اردو ترجمہ ڈاکٹر خورشید رضوی۔ ادارۂ تحقیقات اسلامی۔ اسلام آباد۔ 1994 ۔ آخر میں مسلم عہد پر تحقیق کرنے والے چند سکالرز کے نام انگریزی میں درج کر رہا ہوں تاکہ اگر کوئی خود تحقیق کرنا چاہے تو اسے دشواری نہ ہو۔ انٹرنیٹ کا احسان ہے کہ ان تمام محققین کا کام بسہولت دستیاب ہے۔

( Edward Kennedy, Noel Swerdlow, Otto E. Neugebauer, A. I. Sabra, George Saliba, Roshdi Rashed, F. Jamil Ragep)

Biographical encyclopedia of astronomers

یہ انسائکلوپیڈیا انٹرنیٹ پر دستیاب ہے۔ اس میں غزالی کے بعد سولہویں صدی تک کتنے ہی اہم ناموں کا تذکرہ دیکھا جا سکتا ہے۔

(بشکریہ: ہم سب لاہور)

loading...