عمران خان سیاسی جنگ کیسے جیت سکتے ہیں؟

تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان نے ایک ٹوئٹ پیغام میں فوری انتخابات کو قومی مسائل کا حل قرار دیا ہے۔ نہ جانے وہ کس بنیاد پر انتخابات کو ملک کے معاشی،  آئینی اور سیاسی  مسائل کا حل سمجھتے ہیں جبکہ انہیں پیدا کرنے میں وہ خود اور ان  کے تمام ساتھی سیاست دان یکساں طور سے شریک ہیں۔ انتخابات  کے نتیجہ میں بھی انہی چہروں اور پارٹیوں نے اسمبلیوں کو رونق بخشنی ہے۔

ساڑھے سال تک حکومت کرنے کے باوجود عمران خان یہ باور کرنے میں ناکام ہیں کہ ملکی مسائل نعرے لگانے اور ایک دوسرے پر لعن طعن سے حل نہیں ہوتے ۔ ان کے لئے مسائل کی نوعیت اور سنگینی کے حساب سے حکمت عملی بنانے او ر اس پر عمل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔  یوں تو پاکستان کو جن حقیقی مسائل کا سامنا ہے، وہ قومی سیاسی پارٹیوں کے ایجنڈے میں کہیں دکھائی نہیں دیتے۔ یہاں پارٹیوں کا ایجنڈا تقریروں، بیانات اور پریس کانفرنسوں کے ذریعے سامنے لائے  جانے والے  لیڈروں کے خیالات کو قرار دیا جارہا ہے کیوں کہ  کسی ملکی پارٹی کو نہ تو اپنی سیاسی پارٹی کا کوئی پروگرام یا منشور باقاعدہ طور سے پیش کرنے  کی ضرورت محسوس ہوتی ہے اور نہ  ہی کسی  خاص صورت حال اور مسئلہ کی موجودگی میں مختلف سیاسی پارٹیاں اپنی پوزیشن واضح کرکے یہ بتاتی ہیں کہ وہ اس مسئلہ کو کیسے حل کرسکتی ہیں۔ عمران خان اس وقت ان معنوں میں قومی مسائل سے  فراریت کا راستہ اختیار کئے ہوئے ہیں کہ عدم اعتماد کے بعد سے انہوں نے اپنے پارٹی ارکان کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت سے روکا ہؤا ہے۔  حالانکہ یہی واحد طریقہ تھا کہ وہ  قومی مسائل میں ہاتھ بٹانے کے لئے عوام کے منتخب نمائیندوں کے  طور پر اپنا جائز سیاسی  و پارلیمانی کردار ادا کرتے ۔

قومی اسمبلی سے تحریک انصاف کے استعفوں کا معاملہ کسی اصول پر استوار نہیں ہے۔ درحقیقت عمران خان سمیت ان کی پارٹی کے سب ارکان اسمبلی استعفوں  کا ڈھونگ رچانے کے باوجود ان تمام سہولیات  و مراعات سے فائدہ اٹھا رہے ہیں جو کسی بھی رکن قومی اسمبلی کو حاصل ہوتی ہے۔  لیکن سیاسی نعرے بازی میں عمران خان کے علاوہ ملک کا ہر سیاسی گروہ چور لٹیرا اور مفاد پرست ہے۔  اس موقع پر رکن قومی اسمبلی کے طور  پر اپنی ذمہ داری  پوری نہ کرنے کے  باوجود   تنخواہ، مراعات اور سہولتیں حاصل کرنا کسی بھی اخلاقی  اصول یا  سیاسی روایت کے تحت جائز نہیں ہوسکتا۔ لیکن یہ طریقہ چونکہ عمران خان کی سیاست کے لئے سود مند سمجھا جارہا ہے لہذا وہ اس پر کسی شرمندگی  کے بغیر عمل کررہے ہیں۔   یہی وجہ ہے کہ ہر معاملہ میں موجودہ حکومت، اداروں یا عدلیہ کو مورد الزام ٹھہرانے کے عادی عمران خان نے ابھی تک  تحریک انصاف کے ارکان قومی اسمبلی کے استعفے قبول نہ  کرنے پر کوئی احتجاج ریکارڈ کروانے یا دباؤ ڈالنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ حالانکہ وہ اس وقت ہر چھوٹی بڑی بات پر فوج کو نیوٹرل اور عدلیہ و الیکشن کمیشن کو  جانبدار قرار دے کر  دباؤ میں لانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن قومی اسمبلی سے استعفوں کے معاملہ میں انہوں نے ایسا کوئی دباؤ ڈالنا مناسب نہیں سمجھا۔  حالانکہ بظاہر وہ اپنے حامیوں کو یقین دلا رہے ہیں کہ وہ  اسمبلیوں کو ناکارہ سمجھتے ہیں ، اسی لئے عدم اعتماد کے موقع پر ہی  تحریک انصاف کے اراکین مستعفی ہوگئے تھے لیکن  اس طریقہ سے ملک کے سیاسی نظام سے لاتعلقی اختیار کرنے کے باوجود وہ ’نامزد حکومت نامنظور‘ کا نعرہ لگا کر بھی اس نظام کے ساتھ جڑے رہنا چاہتے ہیں جو انہیں سیاسی طور سے مین اسٹریم میں شامل رکھے۔ اسی  لئے انہوں نے صوبائی اسمبلیوں سے استعفے دینے کا اعلان نہیں کیا بلکہ خیبر پختون خوا کی حکومت کو اپنا سیاسی فرنٹ مین بناکر ملکی سیاسی انتظام پر اثر انداز ہونے کی کوشش بھی  کرچکے ہیں۔

پنجاب اسمبلی  کے حالات اور وہاں جاری رہنے والی چپقلش بھی درحقیقت  کسی بھی قیمت پر  سیاسی اختیار تک  دسترس ہی کی کہانی بیان کرتی ہے۔ اب   منحرف ہونے والے ارکان کے کے نااہل ہونے کے بعد  ان نشستوں پر ہونے والے ضمنی انتخابات میں بھرپور طریقے سے حصہ لینے اور کسی بھی قیمت پر کامیاب ہونے کی کوشش کی جارہی ہے۔ حالانکہ اگر تحریک انصاف مرکز میں اپنا پارلیمانی کردار ادا کرنے سے گریز کررہی ہے تو اس کا  ایک ہی مطلب ہے کہ انہیں موجودہ انتظام اور اس کے تحت چلائے جانے والے معاملات  پراعتماد نہیں ہے۔  لیکن وہ  پنجاب میں سیاسی اقتدار پر براہ راست قابض رہ کر اس انتظام میں حصہ دار بھی رہنے چاہتے ہیں تاکہ آئیندہ انتخابات سے پہلے صوبائی انتظامی مشینری   اور دستیاب مالی وسائل کے ذریعے  اپنی پارٹی کے لئے سیاسی قبولیت کا ماحول پیدا کرسکیں۔ عمران خان خوب جانتے ہیں کہ کسی بھی انتخاب میں کامیابی کے لئے محض بدعنوانی کے نعرے کافی نہیں ہوں گے اور نہ ہی ملک میں    ان کی اندھادھند تقلید کرنے والے حامیوں  کی  کوئی  ایسی  قابل ذکرتعداد موجود ہے جو   انتخابات میں عمران خان کے ’کلےّ ‘کو ووٹ دے کر  تحریک انصاف کو دو تہائی اکثریت دلوا سکتی ہے۔

عمران خان کو علم ہونا چاہئے کہ پارلیمانی کامیابی کے لئے انہیں بہر صورت اپنے حامیوں کے علاوہ مختلف علاقوں میں اثر و رسوخ رکھنے والے  مقامی لیڈروں کا ساتھ درکار ہوگا۔ عرف عام میں انہیں ’الیکٹ ایبلز‘ کہا جاتا ہے ۔ وہ اب تک اپنے خلاف عدم اعتماد اور  پنجاب میں پرویز الہیٰ کی ناکامی کا ذمہ دار انہی الیٹ ایبلز کو قرار دے کر  گریہ و زاری کرتے ہیں۔ لیکن   ملکی سیاست میں کامیابی کے لئے وہ بہر صورت انہی عناصر کے ساتھ ہتھ جوڑی پر مجبور ہوں گے۔  ایسے جوڑ توڑ کے لئے صوبائی حکومتیں کلیدی اہمیت کی حامل ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عمران خان اور پرویز الہیٰ کسی بھی قیمت پر  پنجاب اسمبلی میں اکثریت حاصل کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔  پنجاب  کے وزیر اعلیٰ کے انتخاب کے لئے سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد یہ  کامیابی مزید اہم ہوگئی ہے۔  عدالت عظمی نے حکم دیا ہے کہ  17 جولائی کو تحریک انصاف کے نااہل ارکان کے حلقوں میں ضمنی انتخاب کے بعد  وزیر اعلیٰ کے لئے اعتماد کا ووٹ 22 جولائی کے اجلاس میں لیا جائے۔ اس اجلاس میں حمزہ شہباز کو شکست دینے  کے لئے ضروری ہوگا کہ تحریک انصاف اور   پرویز الہیٰ کے حامی  ان نشستوں میں سے اکثریت پر کامیابی حاصل کرلیں۔ یہ ہدف حاصل کرنا آسان نہیں ہوگا۔

یہی وجہ ہے کہ عمران خان نے ابھی سے دھاندلی کا الزام لگانے کے لئے میدان ہموار کرنا شروع کردیا ہے۔ گزشتہ روز اسلام آباد کے جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے ان ضمنی انتخابات میں کامیابی کو ضروری قرار دیا اور ساتھ ہی اعلان کیا کہ ہمارے مخالفین کو ’امپائر‘ کی حمایت بھی حاصل ہے لیکن اس کے باوجود  ہم نے انہیں شکست دینی ہے۔ امپائر کی انگلی کے بارے میں چونکہ عمران خان کا تجربہ  دیگر رہنماؤں سے بہت زیادہ ہے ، اس لئے ان کی بات کا یقین بھی کرنا پڑتا  ہے لیکن  ساتھ ہی یہ بھی دیکھنا پڑے گا کہ  اس بار  وہ امپائر کی انگلی کسے قرار دے رہے ہیں؟  امپائر تو  ملک میں ایک ہی ہے۔  اسی لئے اس کے نیوٹرل ہونے کا غم عمران خان سے برداشت نہیں ہوتا۔ لیکن پنجاب کے ضمنی انتخابات میں اگرتحریک انصاف کوئی ایسی قابل ذکر کامیابی  حاصل نہ کرسکی  جو ایک بار پھر وزارت اعلیٰ   عمران خان کی جھولی میں ڈال دے تو ان کی تنقید کا سب سے بڑا نشانہ الیکشن کمیشن ہوگا لیکن وہ درپردہ عسکری حلقوں سے شکوہ شکایت بھی کرتے رہیں گے۔ عمران خان کی تقریر سے البتہ یہ واضح ہوگیا ہے کہ   وہ خود بھی جانتے ہیں کہ انتخابات مسئلہ کا حل  نہیں ہیں بلکہ یہ اہم  ہے میچ والے دن امپائر کس امید وار کے حق میں انگلی اٹھانا  ’وسیع تر قومی مفاد ‘ میں ضروری سمجھتا ہے۔

اس صورت حال کا ادراک کرتے ہوئے ہی اب ملکی اداروں کو للکارنے  کی بجائے  عمران خان اب ان کی منت سماجت پر اتر آئے ہیں۔ گزشتہ روز اسلام آباد کے جلسہ میں انہوں نے کہا کہ  ’ تم چاہتے ہو ہم اپنے اداروں اور عدلیہ کے خلاف کھڑے ہوجائیں۔ لیکن جان لو کہ قوم بھی میری ہے اور پولیس بھی میری ہے۔ میں ایک مقصد کے لیے نکلا ہوں اور یہ کہ امپورٹڈ حکومت نامظور‘۔  اس جملے کے  آخری فقرے کو اگر یوں پڑھا جائے تو عمران خان کا مافی الضمیر  واضح ہوجائے گا کہ ’مجھے دوبارہ وزیر اعظم بنوا دو‘۔  یہی وجہ  ہے کہ  اسی تقریر میں انہوں نے درمندانہ اپیل کی ہے  کہ ’ قوم کا اداروں کو پیغام ہے،  ابھی بھی وقت ہے ان چوروں سے ملک کو بچالو‘۔ یہ ملک کی سب سے بڑی سیاسی قوت کہلانے والی پارٹی کے لیڈر کا حال ہے۔ وہ عوام کے نام پر اداروں یعنی فوج  پر زور دے رہا ہے  کہ انتخابی و آئینی نظام حکومت  کو تسلیم کرنے کی بجائے،  غیر آئینی و غیر جمہوری طریقے سے  کسی بھی طرح عمران خان کو اقتدار میں لانے  کا  راستہ ہموار کریں ۔

ستم ظریفی  تویہ ہے کہ جو قوتیں  عمران خان کو ہٹانا ملکی مفاد کے لئے ضروری سمجھتی تھیں، وہ انہیں واپس لانے کے لئے کیوں اپنا زور  لگائیں گی؟ ایسے میں تو عمران خان کے لئے سب سے مفید حکمت عملی یہ ہوتی کہ وہ فوج و عدلیہ سے اپیل کرتے کہ وہ بہر صورت غیر جانبدار رہیں اور ملک میں منصفانہ انتخابات کو یقینی بنانے کی ضمانت دیں۔ اس کی بجائے وہ اداروں سے  تقاضہ کررہے ہیں  کہ  وہ قانون و آئین  کی پرواہ کئے بغیر  بس کسی بھی طرح ان تمام لوگوں پر سیاست حرام قرار دیں جنہیں عمران خان نے ’ڈاکو اور ملک دشمن ‘  کہہ دیاہے۔ اس پرچہ ترکیب استعمال کے تحت تو  غداروں اور حب الوطنوں کی متعدد فہرستیں تیار کرنا پڑیں گی۔  ملک کے ہر گروہ اور ہر لیڈر کی اپنی فہرست ہوگی۔

یہ درست ہے کہ عمران خان اپنی سیاسی زندگی کی سب سے مشکل لڑائی لڑ رہے ہیں لیکن اگر وہ اس لڑائی میں ملک میں  باقی رہنے والی رہی سہی جمہوی روایت اور آئین کے  برائے نام احترام کو  بھی پامال کرنا  چاہتے ہیں تو ملکی سیاسی تاریخ  میں ان کا نام   سیاہ حروف سے لکھا جائے گا۔ عمران خان  کی سیاست کے  لئے سب سے اہم یہ ہے کہ وہ یہ طے کریں کہ مستقبل میں سیاست کا طالب علم ان کے دور کو کیسے یاد کرے گا۔ کیا انہیں عوام دوست اور جمہوریت کی جد و جہد کرنے والوں میں شامل کیا جائے گا یا انہیں ذاتی حرص کے لئے آئین شکنوں اور عوامی حق حکمرانی کو پامال کرنے والوں میں  شمار  کیا جائے گا۔ شہباز حکومت کی دشمنی میں عمران خان اگر یہ فیصلہ نہ کرسکے تو  انتخابات ہوں یا نہ ہوں،وہ اپنی نام نہاد سیاسی جنگ ہار چکے ہیں۔

loading...