کون سا جج عوام کے ساتھ انصاف کرے گا؟

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس    اطہر من اللہ نے کہا ہے کہ وہ کسی ایسے طریقے کو نہیں مانتے جو ملکی آئین کے مطابق نہ ہو۔ ملک میں آئین نافذ ہے اور سارے فیصلے اسی کی روشنی میں طے ہورہے ہیں۔ اب لوگ چاہے جو بھی کہتے رہیں ، ہمارے نزدیک تو اس آئین کے تحت منتخب وزیر اعظم ہی کو  ایسے ریاستی اقدامات کا جواب دینا  پڑے گا جن میں عوام کے بنیادی انسانی حقوق متاثر ہوتے ہیں۔ جسٹس من اللہ  کی یہ آبزرویشن لاپتہ افراد کے ایک مقدمہ کی سماعت کے دوران  سامنے آئی ہے۔

درخواست گزاروں نے صحافی  مدثر محمود نارو اور پانچ دیگر افراد کی بازیابی کے خلاف درخوستیں دائر کر رکھی ہیں۔  اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو یہ پریشانی لاحق تھی کہ عدالتی استفسار کے باوجود کوئی حکومتی ادارہ ذمہ داری لینے پر تیار نہیں ہے اور نہ ہی زیر حراست افراد کو عدالت میں پیش کیا جارہا ہے۔ اسی ایک نکتہ پر اصرار کرتے ہوئے جسٹس اطہر من اللہ نے حکم دیا ہے کہ اگر حکومت 9 ستمبر کو ہونے والی سماعت میں   اس مقدمہ  سے  متعلق  لاپتہ افراد  کو عدالت میں پیش کرنے  میں ناکام رہتی ہے تو وزیر اعظم کو خود پیش ہوکر وضاحت کرنا پڑے گی کہ لاپتہ افراد کے معاملہ میں حکومت کیوں بے اختیار ہے اور اس سلسلہ میں کیوں قانون و آئین کے مطابق عمل نہیں ہوتا۔  عدالتی کارروائی کے دوران پیپلز پارٹی کے لیڈر اور اس کیس میں عدالتی معاون فرحت اللہ بابر نے  اصرار کیا کہ ’ یہ معاملہ ریاست کے اندر ریاست کا ہے۔ اس کا ایک ہی حل ہے کہ وزیر اعظم کو طلب کرکے ان سے جواب لیا جائے۔ کسی دوسرے اہلکار کو بلانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا‘۔ 

لاپتہ افراد کا معاملہ نیا نہیں ہے اور نہ ہی   سرکاری سطح پر غائب کئے گئے افراد کے بارے میں جسٹس اطہر من اللہ پریشانی ظاہر کرنے والے پہلے جج ہیں۔ اس سے پہلے سپریم کورٹ میں بھی یہ معاملہ زیر غور رہا ہے اور یادش بخیر  سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری اس حوالے سے روزانہ  کی بنیاد پر سرکاری افسروں کو بلا کر لعن طعن کیا کرتے تھے۔ اس  وقت   اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے عہدے پر فائز اطہر من اللہ اس زمانے میں  انہی  سابق چیف جسٹس کے ترجمان اور میڈیا میں نمائیندے کے طور پر بھی کام کرتے رہے تھے۔ جسٹس اطہر من اللہ  کو عدلیہ بحالی تحریک میں  عوامی حقوق کے لئے آواز بلند کرنے اور سابق آمر جنرل پرویز مشرف کی آئین شکنی کے خلاف بات کرنے سے اولین شہرت حاصل ہوئی تھی۔  جسٹس صاحب نے آج بھی پرویز مشرف  کی کتاب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’چیف ایگزیکٹو نے اپنی کتاب میں لکھ دیا کہ یہ ریاستی پالیسی تھی ۔  اس چیف ایگزیکٹو نے 9 سال تک ملک پر حکومت کی تھی‘۔

جسٹس اطہر من اللہ    جس چیف ایگزیکٹو کا  ذکر  کررہے ہیں، ان کا نام جنرل پرویز مشرف ہے اور وہ اس وقت دوبئی کے ایک ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔   جسٹس من اللہ   نے اسی مقدمہ کی سماعت کے دوران  29 مئی کو ایک حکم میں حکومت سے کہا تھا کہ ’وہ سابق چیف ایگزیکٹو پرویز مشرف اور ان کے بعد حکومت کرنےوالے تمام وزرائے اعظم کو   جبری گمشدگیوں کی غیر اعلانیہ منظوری دینے پر نوٹس جاری کرے‘۔  اس حکم  کو اگر اسی طرح سمجھا جائے جیسے  اسلام آباد ہائی کورٹ کے فاضل چیف جسٹس ملکی آئین کی تفہیم کا اعلان کررہے ہیں تو اس کا یہ مطلب اخذ کیاجائے گا کہ  عدالت نے وفاقی حکومت کو حکم دیا تھا کہ  وہ  پرویز مشرف اور ان کے بعد حکومت کرنے والے تمام لیڈروں کو ایک غیر قانونی کارروائی   کے الزام میں نوٹس جاری کرے یعنی  ان سے دریافت کیا جائے کہ کیوں نہ آپ کے خلاف ملکی آئین کی خلاف ورزی  اور اپنے اختیار سے تجاوز کرنے پر مقدمہ قائم کیا جائے؟ اگر اس تفہیم کو پیش نظر رکھا جائے تو  چیف جسٹس اطہر من اللہ یہ بھی بتا دیتے کہ اس کارروائی کے لئے حکومت کو کتنی مدت دی گئی تھی اور  مقدمہ کی مزید سماعتوں کے دوران اس حکم پر عمل درآمد کے بارے میں رپورٹ کیوں طلب نہیں کی گئی۔

اس حوالے سے تو یہ  دلچسپ سوال  بھی پیدا ہوتا ہے کہ جو  معزز عدالت آئین کی بالادستی کا کوہ گراں  اپنے کاندھوں پر اٹھانے اور بہر طور  پارلیمنٹ کو بااختیار اور اس کی چنی ہوئی حکومت کو  ذمہ دار  قرار  دینے پر اصرار کررہی ہے، اس نے خود ہی  ان سب سابق حکمرانوں کو  نوٹس جاری کرنے کا اہتمام  کیوں نہیں کیا۔ عدالتی نوٹس  کا اگر خاطر خواہ جواب موصول نہ ہوتا تو چیف جسٹس اطہر من اللہ پرویز مشرف، یوسف رضا گیلانی، پرویز اشرف، نواز شریف، شاہد خاقان عباسی اور عمران خان  کے خلاف آئینی شقات  کی خلاف ورزی کرتے  ہوئے بطور چیف ایگزیکٹو اپنے فرائض کی انجام دہی میں ناکامی کا الزام عائد کرکے متعلقہ حکام کو  نشان زدہ شقات کے تحت مقدمہ قائم کرنے  کی ہدایت  جاری کرسکتے تھے۔ جس وزیر اعظم کو  عدالت ہی میں بے بس اور ’ریاست کے اندر ریاست‘ والی صورت حال کا شکار قرار دیا جارہا ہے، آخر اسے عدالت میں بلوا کر ایسا کون سا اعتراف کروالیا جائے گا جس کے بارے میں  معزز عدالت اور اس کے فاضل معاون پہلے سے نہیں جانتے۔ جسٹس اطہر من اللہ کی خوش  گمانی کا تو یہ عالم ہے کہ  سماعت کے دوران انہوں نے یہ بھی فرمایا ہے   کہ ’آئی ایس آئی  حکومت کا صرف  ایک ڈپارٹمنٹ ہے اور براہ راست وزیر اعظم کے کنٹرول میں ہے۔ عدالت پبلک آفس ہولڈرز کو اپنی ذمہ داری شفٹ کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔ اگر وزیر اعظم کسی بات سے منع کرے تو وہ اسے مانیں گے۔   یہ عدالت صرف اس کو تسلیم کرے گی جو آئین میں لکھا ہے آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ پارلیمنٹ اور حکومت بے بس ہیں‘؟

اگر آئی ایس آئی وزیر اعظم کو جواب دہ ہے تو  کیا وجہ ہے کہ  وزیر اعظم سے پہلے عدالت عالیہ  دیگر محکموں  اور وزارتوں کی طرح آئی ایس آئی کے سربراہ کو  طلب کرکے اس ساری صورت حال پر استفسار کیوں نہیں  کرلیتی تاکہ  سال ہا سال سے اپنے پیاروں کی جدائی کا غم برداشت کرنے والے درخواست دہندگان کو  مزید انتظار کی صعوبت و پریشانی سے بچایا جاسکتا۔ اس کے برعکس لاپتہ افراد کے معاملہ پر آئین کا حوالہ دے کر بڑی  بڑی باتیں کرنے کے بعد عدالتی کارروائی  کئی کئی ہفتے کے لئے ملتوی کردی جاتی ہے۔ اس کیس کی سماعت مئی کے بعد جون اور اب جولائی میں ہوئی تھی۔ اب اسے 9ستمبر تک ملتوی کردیا گیا ہے۔   کیا انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا معاملہ اتنا اہم بھی نہیں ہے کہ  کسی قانون شکنی پر  رات گئے اور چھٹی والے دن عدالت لگانے کا قصد کرنے والے جج حضرات اس معاملہ  پر بھی تیزی سے کارروائی کرتے  ہوئے کوئی واضح اور دوٹوک حکم جاری کردیں؟ کیا ایسا تو نہیں ہے کہ جیسے ملک کا ‘منتخب  ‘ وزیر  اعظم اپنے بااختیار ہونے کا بھرم قائم رکھنے کے لئے   وعدے کرنے  پر ہی مجبور  ہے، اسی طرح اعلیٰ عدالتوں کے جج بھی اپنی حدود کو تو سمجھتے ہیں لیکن  عوام کی تشفی کے لئے  پرزور ریمارکس دینے اور انسانی حقوق ، قانون و آئین  کی باتیں کرکے کسی بھی طرح وقت پورا کرنے کی سعی کرتے ہیں؟

لاپتہ افراد کیس میں شہباز شریف کو طلب کرنے سے کیا ہوگا؟ وہ تو اپنے ’وزیر اعلیٰ‘ صاحبزادے کے ہمراہ عدالتوں کی عزت قائم رکھنے کے لئے منی لانڈرنگ کیس میں ضلعی سطح کے ایک جج کی عدالت میں بھی متعدد بار پیش ہوکر  پرزور مگر عاجزانہ تقریر کرچکے ہیں۔ شہباز شریف تو بس   اسی تقریر میں مزید عاجزی شامل کریں گے اور  چیف جسٹس ہائی  کے عہدے کی مناسبت سے   القابات   کی شان و شکوہ  میں اضافہ کرلیں گے۔ اس سے نہ ریاست کے اندر ریاست کا کوئی ثبوت سامنے آئے گا اور نہ ہی کسی ایسے ذمہ دار کا سراغ مل سکے گا جسے فاضل جسٹس اطہر من اللہ جبری  لاپتہ ہونے والے افراد کے معاملہ میں قصور وار قرار دینا چاہتے ہیں۔

اس کے باوصف  عدالتوں کو اگر  قانونی پیچیدگی، سیاسی مجبوری یا  آئینی بالادستی  کا بھرم قائم رکھنا ہے تو اس سال کے شروع سے ہونے والی سیاسی ہل چل اور عمران خان کے خلاف عدم اعتماد سے  لے کر ایک منتخب حکومت تبدیل کرنے کے لئے امریکی سازش تک کے سیاسی سفر کا ایک طائرانہ جائزہ لے لینا چاہئے۔  پاکستان میں لاپتہ افراد کا معاملہ اس ملک کے عوام کے آئینی حقوق سے جڑا ہؤا ہے۔ ایک ادارہ بالا دست ہے اور اس نے قومی مفاد کی حفاظت کے نام پر  سیاسی نظام سے لے کرانتظامی اختیار پر اپنا تصرف قائم کیا ہؤا ہے۔  یوں تو عسکری ادارے سیاسی معاملات سے بریت اور غیر جانبداری کا اعلان کرتے ہیں اور مجبور سیاسی لیڈر کے طور پر ملک کا وزیر اعظم اور ان کے ساتھی بھی اسے راست اقدام مانتے ہوئے جمہوریت کی بالادستی کا نعرہ بلند کرتے ہیں۔ لیکن   یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ دنیا کا کون سا ایسا ملک ہوگا  جہاں قومی اسمبلی کی نصف نشستوں پر ارکان استعفوں کا اعلان کرچکے ہوں لیکن  اسپیکر ایسی لولی لنگڑی اسمبلی کو باقاعدہ کارروائی کا مجاز قرار دینے پر مصر ہو۔ ملک کے سب سے بڑے صوبے کی اسمبلی تین ماہ  سے جزو معطل بنی ہوئی ہو اورسپریم کورٹ اس معاملہ پر غور کرتے ہوئے کوئی قانونی  فیصلہ سنانے کی بجائے  سیاسی فریقوں کے درمیان مفاہمت کروانے کو ہی  بہت بڑی عدالتی کامیابی سمجھتی ہو۔

یا کون سا ایسا  ملک ہوگا جس میں ایک خصوصی عدالت 6 سال تک کام کرے، اس کی متعدد سماعتیں ہوں،  اعلیٰ  عدالتوں  کے کئی جج اس کی سربراہی کرچکے ہوں۔ طویل عدالتی کارروائی اور درجنوں سماعتوں کے بعد  ملکی آئین کی خلاف ورزی کرنے پر 17  دسمبر 2019 کو ایک سابق فوجی آمر کو موت کی سزا سنائی جائے لیکن لاہور ہائی کورٹ کا ایک سہ رکنی بنچ چند سماعتوں کے بعد ہی 13 جنوری  2020 کو اس فیصلہ کو مسترد کرتے ہوئے اس خصوصی عدالت کو ہی غیر آئینی قرار دے دے۔    اس کے بعد سے کسی  کو خبر نہ ہوسکے کہ اس ملک میں آئین کی نگرانی کرنے والی کوئی سپریم کورٹ  بھی ہے  جو اس فیصلہ کے خلاف اپیل  پر غور کا اختیار رکھتی ہے۔  یا پھر کون سا ایسا ملک ہوگا جس کی قومی اسمبلی ایک متفقہ قرار داد کے ذریعے سابق وزیر اعظم ذوالفقارعلی بھٹو کو  دی گئی پھانسی کی سزا کو  ’عدالتی قتل‘   قرار دے لیکن ملک کی سپریم کورٹ اس فیصلہ  کے  خلاف دائر کردہ ریفرنس پر ایک دہائی گزرنے کے بعد بھی کوئی  حکم جاری کرنے سے قاصر رہی ہو۔

آئین کی موجودگی اور اس کی نگران پارلیمنٹ اور عدالتوں کی موجودگی کے  باوجود اس ملک کے  22 کروڑ لوگوں کے بنیادی حقوق  کو یرغمال بنایا گیا ہے ۔ حتی کہ  ’ووٹ کو عزت دو‘ جیسے بنیادی جمہوری نعرے کو  لطیفہ بنا لیا جائے اور عدم اعتماد   کے ذریعے اقتدار سے محروم ہونے والا سابق وزیر اعظم اداروں یعنی فوج اور عدلیہ  پر الزام عائد کرتا  ہو۔ وہ   ان اداروں سے مطالبہ کرتا ہو کہ وہ غیر جانبداری چھوڑیں اور ملکی نام نہاد جمہوری حکومت کا تیاپانچا کریں۔ چند ہزار لاپتہ افراد تو  انسانی حقوق مسترد کرنے کی علامت بنے ہوئے ہیں کیوں کہ طاقت ور ریاستی ادارے ایک صوبے کے عوام کی مرضی کے مطابق فیصلوں کو قومی مفاد کی خود ساختہ تشریح کے خلاف سمجھتے ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ یہاں وزارت عظمی کے عہدے پر فائز رہنے والا شخص بھی  مجبور محض ہے اور نہیں جانتا کہ کس روز کس راستے سے کوئی بندوق بردار داخل ہوگا اور اسے گھر سدھارنے کا حکم سنا دیا جائے گا۔ یا کہاں کب کون سی سازش کی جائے گی کہ  عوام کا نمائیندہ کہلانے والا کوئی شخص  ماہی بے آب کی طرح تڑپے گا لیکن اس کی آواز سننے والا کوئی نہیں ہوگا۔

اب  جسٹس اطہر من اللہ ایسے ہی ایک وزیر اعظم سے   لاپتہ افراد کی بازیابی کا وعدہ لینا چاہتے ہیں۔  شہباز شریف کا کیا جاتا ہے وہ  تیل و گیس کی عدم موجودگی میں لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کا وعدہ کرسکتے ہیں تو چیف ایگزیکٹو کی شان رکھنے کے لئے  لاپتہ افراد کا مسئلہ حل کرنے کا  وعدہ بھی ضرور  کرلیں گے۔ کیا اسلام آباد ہائی کورٹ ایسے کسی وعدے پر اعتبار کرلے گی؟ کیا اس کے بعد اپنے حقوق مانگنے والوں کو غدار قرار دینے کا سلسلہ تھم جائے گا؟  یہ ایک ایسی  انہونی ہے  جو آئین کے مردہ لفظوں کو دہرا کر  وقوع پزیر نہیں ہوگی۔ اس کے لئے اس ملک کے عوام کو ان کا حق نمائیندگی واپس کرنا پڑے گا۔ اس ملک کا کون سا جج  عوام  کے ساتھ انصاف کرنے کا حوصلہ کرے گا؟

45 سال پہلے 5 جولائی کو  جنرل ضیا نے ایک منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر  ظلم و جبر کی طویل رات مسلط کی تھی۔  ضیا کی سانحاتی موت کے باوجود  عوام کی تقدیر پر چھایا استبداد کا اندھیرا کم نہیں ہؤا۔  اس تاریکی کو  ختم کرنے کے لئے ضمیر کی روشنی درکار ہوگی۔   یہ روشنی ہر آنے والے دن کے ساتھ معدوم ہورہی ہے۔ ایسے میں ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دیتا۔ لاپتہ افراد کا سراغ کون لگائے گا؟

loading...