کچھ نصیحتیں

پچھلے چھیاسی برس سے وعظ، نصیحتیں، درس سنتے سنتے میرے بھیجے کی ہارڈ ڈسک بھر گئی ہے۔ اب میرے بھیجے میں مزید مشوروں اور صلاحوں کیلئے گنجائش نہیں ہے۔

اگلے وقتوں میں ایسی صورتحال کو کہتے تھے ہائوس فل، میں نے سوچا ہے کہ سر میں نئی سوچ، نئے خیالات، نئی بات کیلئے جگہ بنانی چاہئے ۔ سر یعنی کھوپڑی بذات خود بڑی ہونہیں سکتی۔ لہذا کھوپڑی کو کھنگالنا پڑے گا۔ نصیحتوں، مشوروں اور اپدیشوں کے انبار کو سر سے نکالنا پڑے گا۔ میں نے اس کا طریقۂ کار سوچ لیا ہے۔ یہ میری اپنی سوچ نہیں ہے ۔ یہ پاکستانی حاکموں کی سوچ ہے جوکہ میں نے یعنی ایک محکوم نےاڑالی ہے۔ پچھلی کئی دہائیوں سے ایک دور کے حاکم اقتدار سے ہاتھ دھونے کے بعد بیرونی قرض کا بوجھ آنے والی نئی حکومت کے کندھوں پر ڈال جاتے ہیں۔ پاکستان میں حکومتیں تبدیل ہوجاتی ہیں، مگر حالات وہی رہتے ہیں۔ یعنی حکومتیں تبدیل ہوجاتی ہیں۔ مگر حالات تبدیل نہیں ہوتے ۔ آنے والی حکومت پچھلی حکومتوں کےلیے ہوئے قرض میں مزید قرض ملاکر آنے والی نئی حکومتوں کے سر تھوپ جاتی ہے۔

ویسے بھی سیانے کہہ گئے ہیں کہ بوجھ اتنا اٹھانا چاہیے جتنا سہار سکیں۔ ہم سب اپنی اپنی حد بندیوں اور احاطوں میں پیدا ہوتے ہیں۔ ہم سب کی زندگیوں میں کچھ بھی لامحدود نہیں ہے۔ قدرت نے فرداً فرداً ہم سب کے لیے حدیں اور انتہائیں مقرر کردی ہیں۔ قدرت نے آپ کو بے تحاشا دولت اور آسانیوں سے نوازا ہے۔ مگر آپ ایک ہی وقت میں دوتین چار مکانوں میں نہیں رہ سکتے۔ آپ ایک ہی وقت میں دس غسل خانوں میں نہا نہیں سکتے۔ آپ ایک ہی وقت میں دس پلنگوں پر لیٹ نہیں سکتے۔ آپ ایک ہی وقت میں ایک سے زیادہ کرسیوں پر بیٹھ نہیں سکتے۔ آپ ایک وقت میں ایک سے زیادہ گاڑیوں میں سفر نہیں کرسکتے۔ یہ ہو نہیں سکتا کہ آپ کا سر کسی الگ تھلگ گاڑی میں سفر کررہا ہو اور آپ کی ٹانگیں کسی دوسری گاڑی میں اور بانہیں کسی تیسری گاڑی میں سفر کررہی ہوں اور آپ کا دھڑ کسی چوتھی گاڑی میں سفر کررہا ہو ۔ یہ ہو نہیں سکتا۔ آپ ایک ہیں۔ آپ عدد واحد ہیں۔ آپ خود کو بانٹ نہیں سکتے۔ آپ خود کو تقسیم نہیں کرسکتے۔

ہم جب دنیا سے رخصت ہوتے ہیں تب ایک ہی لحد میں اترتے ہیں۔ ایک ہی چتا میں جلتے ہیں۔ میرے لیے دوقبریں نہیں بن سکتیں۔ میرے لیے دوچتائیں نہیں جل سکتیں۔ ہم ایک ہوتے ہیں، اکیلے ہوتے ہیں، عدد واحد ہوتے ہیں۔ جب آخری سفر پر روانہ ہوتے ہیں تب بھی اکیلے ہوتے ہیں۔ دوسرا کوئی ہمارا ہم سفر نہیں ہوتا۔ یہ ڈرائونی باتیںمیں اپنی طرف سے آپ کو نہیں سنا رہا ۔ اس نوعیت کی باتیں میں نے اپدیشوں، لیکچروں، نصیحتوں اور وعظوں میں سنی ہیں۔ یہ میری اختراع نہیں ہے۔ یہ میرے اپنے گھڑے ہوئے قصے نہیں ہیں۔ میں جب بھی اپنی طرف سے آپ کو کوئی بات سناؤں گا، میری بات آپ کو من گھڑت اور جھوٹی محسوس ہوگی ۔ آپ وسوسوں میں پڑ جائیں گے۔ میں جب بھی آپ کو نصیحت کروں گا، اس میں جھوٹ کی آمیزش ہوگی۔

میں سمجھتا ہوں بلکہ میرا یقین ہے کہ ہم جب بھی آخری سفر پر روانہ ہوتے ہیں تب تنہا نہیں ہوتے۔ دنیا میں ہوتے ہوئے ہم جتنا بھی گند پھیلاتے ہیں، جتنی بھی نفرتیں بانٹتے ہیں، جتنی بھی عداوتیں پالتے ہیں، جتنے بھی دکھ اورتکلیفیں دنیا کو دیتے ہیں، ان سب کثافتوں کا قافلہ ہمارا ہم سفر ہوتا ہے۔ اس لیے ڈریں مت۔ سفر آخرت میں بہت کچھ آپ کا ہم سفر ہوگا۔ مرنے کے بعد کیا ہوتا ہے؟ لاکھوں کروڑوں برس پر محیط تاریخ میں ایک بھی مثال نہیں ملتی جس میں مرجانے کے بعد کسی مرے ہوئے شخص نے واپس آکر بتایا ہوکہ مرنے کے بعد اس نے کیا کچھ دیکھا! یعنی کہ مرجانے کے بعد اس شخص کو کن کن تجربوں سے گزرنا پڑا۔ آج تک ایک بھی مثال نہیں ملتی کہ جس میں مرجانے والے شخص نے دوبارہ زندہ ہوکر، واپس آکر آنکھوں دیکھا حال بیان کیا ہو کہ مرنے کے بعد اس نے کیا دیکھا، کیا محسوس کیا۔ تاریخ کے پنے کچھ نہیں بتاتے۔ لہٰذا میں اپنے بچوں امر، اکبر اور اینتھونی کو ایک سنی سنائی بات بتانا چاہتا ہوں، اور گزارش کرتا ہوں کہ وہ اس بات پر آپس میں لڑنا چھوڑ دیں کہ مدرٹریسا مرنے کے بعد جنت میں گئی ہوں گی یا دوزخ میں؟ جس طرح انسان نے دھرتی کو بانٹ دیا ہے، عین اسی طرح مرنے کے بعد والی دنیا بھی بٹی ہوئی ہے۔ مدرٹریسا کرسچین تھیں۔ مرنے کے بعد وہ ہیون میں ہوں گی۔ سادھو واسوائی ہندو۔ مرنے کے بعد وہ سورگ میں ہوں گے ۔ مولانا عبدالستار ایدھی مسلمان تھے۔ فوت ہونے کے بعد وہ جنت میں ہوں گے ۔ جو فیصلے ہوچکے ہیں، ان پر میرے بچو، آپ تینوں کیوں ایک دوسرے کو چیرنے پھاڑنے کیلئے تیار رہتے ہو؟

(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

loading...