صحافی کی گرفتاری اور عمران خان کی دھمکی

ایا زامیر پر حملہ کے دو روز بعد ایک اور صحافی  و اینکر عمرا ن ریاض خان کو بغاوت کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔  لاہور ہائی کورٹ مئی میں  ان کی  قبل از گرفتاری ضمانت منظور کر چکی ہے  تاہم اس کے باوجود انہیں آج گرفتار رکرلیا گیا۔ تحریک انصاف نے اس گرفتاری پر شدید احتجاج کیا ہے کیوں کہ عمران ریاض بھی ان اینکرز میں شامل ہیں جو عمران خان سے ہمدردی رکھتے ہیں، ا ن کے سازشی نظریہ کو پھیلاتے ہیں اور فوج کے بارے میں تند و تیز سوالات اٹھاتے ہیں۔

اس دوران تحریک انصاف کے چئیر مین عمران خان نے  متنبہ کیا ہے کہ اگر انہیں اور ان کی پارٹی کو دیوار سے لگانے کی  کوشش کی گئی تو وہ اپنی حکومت کے خلاف سازش کے سب کرداروں کو سامنے لے آئیں گے اور خاموش نہیں رہیں گے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ اب تک ملکی مفاد میں حقیقت زبان تک نہیں لائے لیکن انہیں مزید مجبور نہ کیا جائے۔  ملک کے سابق وزیر اعظم کے طور پر عمران خان یقیناً بہت سے رازوں کے امین ہیں اور اگر انہوں نے  وزیر اعظم کے  طور پر اپنے عہد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایسے کچھ حساس معاملات پر بات کرنا ضروری سمجھا جنہیں بوجوہ خفیہ رکھنا ضروری ہوتا ہے تو ملک میں ایک نئی غیر معمولی صورت حال پیش آسکتی ہے۔  تاہم صحافیوں پر حملوں یا ان کی گرفتاریوں  اور  تحریک انصاف کی طرف سے یک بیک آزادی اظہار کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے  اختلافی نقطہ نظر کو دبانے   کے خلاف  دو ٹوک مؤقف اختیار کرنا عمران خان کی  سیاست میں ایک دلچسپ موڑ کی حیثیت رکھتا ہے۔   البتہ اسلام آباد کے نواح میں ایک صحافی کی گرفتاری اور عمران خان کی  باتوں کو الگ الگ کرکے دیکھنے کی ضرورت ہے ۔ گو کہ یہ دونوں ایک ہی تصویر کے دو رخ ہیں۔

جو صحافی اس وقت عتاب کا شکار ہیں  یا ان کے خلاف غداری کے الزام  میں مقدمات قائم کئے جارہے ہیں، وہ  چند ماہ پہلے تک صحافیوں اور آزاد میڈیا پر تحریک انصاف کی حکومت کی پابندیوں اور مختلف  قوانین اور سرکاری ہتھکنڈوں کے ذریعے  اختلافی آوازوں کو دبانے کی حکمت عملی کے سب سے بڑے نقیب رہے تھے۔  آج اپنے لئے  آزادی اظہار یا فوج اور عسکری اداروں پر کھلے عام تنقید کا  حق مانگنے والے یہی مٹھی بھر صحافی اور اینکر تحریک انصاف کے دور حکومت میں خود مختارانہ رائے رکھنے والے صحافیوں اور عناصر کو ملک دشمن قرار دینے میں کسی بخل سے کام نہیں لیتے تھے۔ اس وقت بھی عرض کیا گیا تھا اور اب بھی اسی بات کو دہرانا ضروری ہے کہ کسی صحافی پر پابندی لگانا یا  اس کے ساتھ ہاتھا پائی کرنا، اس کا روزگار ختم کرنا، اس کے لئے اظہار کے دروازے بند کرنے کے علاوہ  غداری کے مقدمات قائم کرنا بنیادی  انسانی اصولوں ، جمہوری روایات حتی کہ پاکستانی آئین کے خلاف ہے۔ 

اس جملہ معترضہ کے بعد  یہ احتجاج ریکارڈ کروانا ضروری ہے کہ  قلم یا زبان سے اپنی رائے کا اظہار کرنے والے صحافی، اینکر یا کالم نگار وں کو کسی بھی مہذب معاشرے میں مکمل تحفظ حاصل ہونا چاہئے ۔  ان کی رائے یا ماضی میں ان کے کردار  کا حوالہ دے کر کسی بھی صحافی یا اینکر کے حق رائے  سے  انکار نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی صحافیانہ خدمات ادا کرنے  سے روکا جاسکتا ہے۔   ایسا کوئی اقدام  بنیادی  انسانی  حقوق اور جمہوری روایات کے خلاف ہے۔ جو لوگ بھی ملک میں جمہوریت کو پنپنا دیکھنا چاہتے ہیں ، وہ کسی بھی دور میں ایسی کسی بھی حرکت کی تائد نہیں کرسکتے۔  اختلافی رائے کو   گرفتاریوں یا ہراساں کرنے کے مختلف ہتھکنڈوں کے ذریعے دبانے کی تمام کوششیں ناکام ہوتی ہیں اور  سچائی بہر حال سامنے آکر رہتی ہے۔ یہ درست ہے  کہ بعض لوگ صحافت  یا لکھنے کے پیشے کو تجارت بنانے کی شہرت رکھتے ہیں لیکن پولیس یا کسی بھی دوسرے ادارے کو یہ اختیار نہیں د یاجاسکتا کہ وہ ان لوگوں کی اصلاح کا بیڑا اٹھائے  اور  ان سے  بات کرنے یا کہنے کا حق چھینا جائے۔ نہ جانے کیوں برسر اقتدار طبقات کو یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ حملوں، گرفتاریوں یا ہراساں کرنے کے دوسرے ہتھکنڈوں سے بعض اوقات کم اہم لوگوں کو  اہمیت دی جاتی ہے اور جس گفتگو کو  عام طور سے کوئی  سننے پر تیار نہیں ہوتا، پابندی کی صورت میں لامحالہ اس طرف نگاہیں اٹھتی ہیں اور جاننے  کی کوشش ہوتی ہے کہ آخر اس شخص نے ایسا کون سا راز فاش کردیا کہ اسے گرفتار کرنا ضروری سمجھا گیا یا ہراساں کرکے اس کی زبان بندی  کی گئی ہے۔  قصہ مختصر ایسے اقدامات عام طور سے  اپنا مقصد حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوتے۔

تاہم     ایاز امیر جیسے  کسی منہ زور صحافی پر حملہ اور عمران ریاض جیسے انتظام کی تبدیل میں سازش تلاش کرنے والے کسی اینکر کی گرفتاری سے سنسنی  ضرور پیدا ہوتی ہے۔ ایا ز امیر تو شاید پھر بھی ویسی  ہی تقریر کرتے رہیں گے جیسی انہوں نے  اسلام آباد بار کے سیمینار میں کرتے ہوئے امریکہ کی بجائے عمران خان کے خلاف سازش کا منبع جی ایچ کیو کو قرار دیا تھا۔ اسی طرح عمران ریاض بھی شاید فوری طور سے رہا  ہوجائیں  اور ان کا لب و لہجہ  زیادہ تند و تیز بھی ہوسکتا ہے لیکن اس قسم کی افسوسناک کارروائیوں سے درحقیقت ملک  کے طول و عرض میں  کام کرنے والے ہزاروں  ایسے ورکنگ جرنلسٹوں میں خوف کی فضا  پیدا  کی جاتی ہے جو نہ تو ایاز امیر یا عمران ریاض کی طرح بااثر اور  طاقت ور ہوتے ہیں، نہ  ہی ان کے پاس قبل از گرفتاری یا بعد از گرفتاری ضمانت کروانے کے وسائل ہوتے ہیں۔  نہ ان کے ادارے ان کے خلاف کسی متعصبانہ یا ظالمانہ کارروائی پر کوئی احتجاج ریکارڈ کروانا یا اسے سامنے لانا ضروری سمجھتے ہیں اور  نہ ہی یہ ہزاروں سادہ لوح صحافی اتنا حوصلہ کرسکتے ہیں کہ   ایاز امیر پر حملے اور عمران ریاض کی گرفتاری  کے ذریعے قائم کی گئی ریڈ لائنز کو عبور کرنے کا حوصلہ کرسکیں۔ لوئر مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے یہ صحافی اپنے بچوں کا پیٹ پالنے  کے لئے قلم مزدوری پر مجبور ہوتے ہیں ۔  بڑے صحافیوں پر ہاتھ ڈال کر درحقیقت ان حقیقی صحافیوں اور رائے عامہ بنانے والے بے لوث   میڈیا کارکنوں کو خوفزدہ کرنا مقصود ہوتا ہے۔ یہ بات بلا  خوف تردید کہی جاسکتی ہے کہ  بیشتر اوقات متعلقہ عناصر اپنے اس مقصد میں کامیاب رہتے ہیں۔

اسی لئے کسی ایک صحافی پر حملہ یا اس کی گرفتاری بجائے خود کوئی بڑا واقعہ نہ  بھی  ہو تو بھی اس کے مضمرات سے ملک میں بے خوفی سے رپورٹنگ کرنے یا کسی دور دراز علاقے میں روا رکھے جانے والے کسی ظلم کی کہانی سامنے  لانا مشکل ہوجاتا ہے۔ اس حکمت عملی کا یہ پہلو بے حد سنگین اور قابل غور ہے ۔ صحافی تنظیموں اور عدالتوں کو   صحافیوں کے خلاف اقدامات کے معاملات پر غور کرتے ہوئے اس پس منظر کو پیش نظر رکھنا چاہئے۔ کیوں کہ اگر ملک کے دور دراز علاقوں میں شوقیہ یا معمولی مشاہرہ پر صحافتی خدمات انجام  دینے والے لوگوں  میں خوف پیدا ہوگیا تو  ملک کی بنجر زمین میں  جمہوریت کا بیج لگانے اور پروان چڑھانے کی کوششیں بارآور نہیں ہوسکیں گی۔ اسی لئے کسی بھی صحافی کے خلا ف کسی بھی قسم کی کوئی کارروائی براہ راست انسانی حقوق کو متاثر کرتی ہے اور عوام میں مایوسی اور بے چینی پیدا کرنے کا موجب بنتی ہے۔

بدلے ہوئے سیاسی ماحول میں عمران خان اور تحریک انصاف  کے تبدیل شدہ رویہ کی وجہ تو سمجھی جاسکتی ہے لیکن یہ وجہ سمجھنے کے باوجود عمران خان کی سربراہی  میں کام کرنے والی حکومت   کی   پاکستان میں صحافت کو بے آبرو کرنے اور اختلاف رکھنے والے عناصر  کا بلیک آؤٹ کرنے کی حکمت عملی   کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ عمران خان اور تحریک انصاف پر پہلی بار  اپوزیشن کی سیاست کرتے ہوئے اگر یہ عیاں ہو ہی گیا ہے کہ مزاحمتی سیاست میں بےباک  اور خود مختار صحافیوں کی کتنی اہمیت و ضرورت ہے تو  نئی زیادتیوں پر حکومت کو لعن طعن کرنے سے پہلے انہیں خود اپنے گریبان میں جھانک کر ان غلطیوں سے تائب ہونے اور پاکستانی عوام اور میڈیا سے تحریک انصاف کے دور میں کئے جانے والے مظالم پر معافی مانگنی چاہئے۔ وزیر اعظم کے طور  پر عمران خان اول تو براہ راست صحافیوں سے ملنے سے گریز کرتے رہے  تھے  یا ان کی پریس بریفنگ میں صرف ان ایکرز یا صحافیوں کو مدعو کیا جاتا تھا جو ان کے نقطہ نظر کی ترویج میں پیش پیش ہوتے تھے۔  اگر ملک کا وزیر اعظم ہی    اختلافی رائے  برداشت کرنے کا حوصلہ نہیں کرے گا تو اس کے زیر انتظام حکومت   صورت حال کو   مزید خراب کرنے کی کوشش کرے گی۔ فواد چوہدری  جیسے وزیروں کی  قیادت میں میڈیا کے خلاف  وہی  تادیبی ہتھکنڈے اختیار کئے جائیں گے جن کا مظاہرہ پاکستانی قوم چند ماہ پہلے تک دیکھتی رہی تھی۔

شہباز شریف کی حکومت بھی بعض صحافیوں  یا  ملکی سیاست میں عسکری اداروں کی مداخلت پر آواز اٹھانے والے سیاسی کارکنوں کی  حفاظت میں کامیاب نہیں ہے اور نہ ہی آزادی رائے کے حوالے سے کوئی دوٹوک بیانیہ سامنے لاسکی ہے۔  لیکن  عمران خان کی حکومت تو اسٹبلشمنٹ کے ساتھ پیدا ہونے والے اختلافات تک عسکری اداروں کی ترجمان اور ان کی طرف سے  سیاسی و صحافی عناصر کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں میں  شریک بنی ہوئی تھی۔  جو باتیں کہنے پر  تحریک انصاف کے حامیوں کے خلاف کارروائی دیکھنے میں آتی ہے اور عمران خان اور ان کے ترجمان اسے انسانی حقوق اور جمہوریت پر حملہ قرار دے کر تلملا اٹھتے ہیں،     خود ان کی  حکومت میں  ایسے اقدامات کو  قومی مفاد کی حفاظت کے لئے ضروری  کہتے ہوئے ،  عسکری قیادت کے خلاف کسی بھی قسم کی تنقید کو ملک و قوم سے غداری قرار دینے کی مہم جوئی کی جاتی تھی۔

اب آزادی رائے کا علمبردار بن کر  عمران خان نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر انہیں دیوار سے لگایا گیا تو وہ بھی ان تمام سازشی کرداروں کے نام عام کردیں گے جن کے بارے میں   وہ اس لئے خاموش  رہے ہیں تاکہ قوم کا نقصان نہ ہوجائے۔ عوامی نمائیندے کے طور پر عمران خان سے پوچھنا چاہئے کہ    اگر بعض عناصر نے کوئی ایسے اقدامات کئے ہیں جو ان کی نظر میں ملکی و قومی مفادات کے خلاف تھے تو انہیں یہ حق کیسے حاصل ہوگیا کہ وہ  ان گھناؤنے کرداروں   کو راز میں  رکھیں۔ انہیں تو پہلے دن سے ہی تمام عناصر کا ببانگط   دہل نام لینا چاہئے تھا۔ عمران خان کو اس سوال کا جواب بھی دینا ہوگا کہ  اگر وہ اپنے ذاتی سیاسی مفادات کے لئے امریکہ جیسے اہم ملک کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا کرنے سے باز نہیں رہے تو پھر وہ کن کرداروں کے نام خفیہ رکھ کر ، کیا مفاد حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔  ’خاموش نہیں رہوں گا‘ کی دھمکی سے درحقیقت یہ قیاس ہوتا ہے کہ عمران خان اپنی سیاست کے لئے کوئی تحفظ چاہتے ہیں جو بوجوہ انہیں دینے سے انکار کیا جارہا ہے۔ اس رویہ کو قومی  مفاد میں خاموشی قرار دینا مضحکہ خیز ہے۔

جن ’حقائق ‘ کو  عمران خان  اپنے سینے میں دبا ہؤا کوئی بہت بڑا راز  قرار دے  رہے ہیں ،  اس کی جزیات تو وہ خود اور ان  کا سوشل میڈیا بریگیڈ پہلے ہی  عوام کو زبر کروا چکا ہے۔  عمران خان ایک ایسا ’راز‘ فاش کرنے کی دھمکی دے رہے ہیں جو درحقیقت اب کوئی راز نہیں ہے ۔ اس لئے  یہ  بیان    فوری انتخابات کے لئے سیاسی مہم  جوئی میں  ناکامی کا اعلان سمجھنا چاہئے۔ عمران خان کسی بھی حیلے سے خود کو  ذوالفقار  علی بھٹو کا ہم پلہ لیڈر ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ تو انہیں یہ بھی جان لینا چاہئے کہ  بھٹو کا  اعلان تاشقند  کے راز کھولنے کا سیاسی ہتھکنڈا تو اس دور میں بھی کامیاب نہیں ہؤا جب سوشل میڈیا کے ذریعے معلومات کی رسائی  موجودہ زمانے کی طرح آسان نہیں تھی۔  عمران خان اب کس سازش کے کون سے کرداروں کا نام چھپائے پھرتے ہیں کہ جن کے فاش ہونے کے خوف سے طاقت ور حلقے انہیں  کوئی محفوظ پناہ گاہ دینے پر آمادہ ہوجائیں گے۔

عمران خان یا  جمہوری نظام کے ذریعے اقتدار حاصل کرنے کی خواہش رکھنے والے کسی بھی لیڈر کو یہ  حفاظت محض پاکستانی عوام فراہم کرسکتے ہیں۔ اس لئےبہتر ہوگا کہ عمران خان   رازوں کی سیاست کرنے کی بجائے صاف بات کہنے کی کوشش کریں۔  عوام   کو ان کی بات سمجھ آگئی تو ان کی حمایت عمران خان کو بدستور لیڈر بنائے رکھے گی۔  ابھی تک تو وہ بلند بانگ دعوے کرنے کے باوجود نہ لاکھوں لوگ سڑکوں پر  لا سکے ہیں اور نہ ہی عوام کا سونامی اسلام آباد لاکر حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور  کرسکے ہیں۔  یہ عمران خان کی ناکامی  و مایوسی ہے۔ انہیں کسی ادارے یا سیاسی پارٹی نے دیوار سے نہیں لگایا۔ وہ خود اپنی بے لگام سیاست کے اسیر ہیں۔

loading...