’ورنہ میں تاشقند کے راز کھول دوں گا‘

آج ارادہ تھا پانچ جولائی کے حوالے سے لکھنے کا، اس لئے کہ اس ایشو پر بہت زیادہ افراط و تفریط سے کام لیا جا رہا ہے۔ ہمارے جتنے بھی لکھنے والے ہیں وہ بالعموم ضیا دشمنی اور بھٹو کی محبت میں حقائق کو مسخ کرکے پیش کر رہے ہیں ۔

کوئی انسان جب محبت اور نفرت کے جذبات سے مغلوب ہو کر زبان کھولتا ہے یا قلم اٹھاتا ہے تو وہ اپنے موضوع کے ساتھ انصاف نہیں کر پاتا۔ محبت چاہے رحمن سے ہو اور نفرت چاہے شیطان سے ہو ایک سچے تجزیہ کار یا لکھاری کو کسی بھی قیمت پر سچائی و انصاف اور توازن و اعتدال کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے۔ پاکستان جیسے جنونیت سے مالا مال ملک میں اینٹی اسٹیبلشمنٹ ہونا اتنی بڑی خوبی ہے جس کی تحسین نہ کرنے سے بڑی کم ظرفی و بددیانتی شاید ہی کوئی ہو لیکن اینٹی اسٹیبلشمنٹ ہونے کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ ہم انصاف و اعتدال کا دامن چھوڑتے ہوئے حقائق کو مسخ کریں۔

ہم ضرور یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس ملک کی پون صدی پر محیط تاریخ میں غلطیاں سیاست دانوں سے بھی ہوئی ہیں کچھ نہ کچھ بددیانتیوں سے بھی انکار نہیں، یہ اعتراف کرنے میں بھی عار نہیں کہ انہوں نے اپنی سیاسی مجبوریوں میں کئی مرتبہ ان لوگوں کو بھی ناجائز طور پر نوازا ہو گا جو اصولی و قانونی طور پر اس کے حقدار نہ تھے ، غریب گھروں کے کچھ افراد نے اس مقدس میدان میں گھس کر اپنی غربت دور کرنے کا کچھ نہ کچھ اہتمام کیا ہو تو اس سے بھی انکار نہیں۔ اس سب کی مذمت ہی نہیں ہونی چاہئے باضابطہ طور پر اس نوع کا اہتمام بھی ہونا چاہئے کہ ایسےتمام راستے بند کردیے جائیں جن سے سسٹم میں بددیانتی کی راہیں کھلتی ہیں ۔ سیاست دانوں کی بے اصولیاں ایک جانب، دوسری جانب ہم دیکھتے ہیں تو ہماری نظریں اندھی اور زبانیں گنگ ہو جاتی ہیں۔ بیوروکریسی اور افسر شاہی چاہے خاکی ہو یا سفید کالر میں ملبوس، ان کے سامنے آئین و قانون کی کوئی وقعت نہیں اور تمامتر قومی وسائل بالخصوص فوجی ایسٹیبلشمنٹ کی چراگاہیں ہیں۔ یہاں ہماری جہادی صحافت کو بھی بالعموم سانپ سونگھ جاتا ہے۔ ہر خوشامدی ان کی شان میں رطب اللسان ہونا، صادق وامین کہلانے کی ڈگری خیال کرتا ہے۔

اگر ضیاءالحق ’’حق‘‘ نہیں تھا تو بھٹو بھی “الذولفقار”نہ تھا، یہ وہ شخص تھا جو ایوانِ اقتدار میں اسٹیبلشمنٹ ، ڈکٹیٹر شپ یا آمریت کو  ڈیڈی  یا ابا حضور کہہ کر گھسا تھا۔ چلیں یہ اس کی سیاسی مجبوری تھی بصورت دیگر وہ حکومتی ٹرین کے پائیدان پر قدم نہیں جما سکتا تھا۔ اس لئے اس جرم کی معافی تلافی ہو سکتی ہے۔ اس کے بعد اس نے اپنے سیاسی مخالفین کے ساتھ پیہم جو وتیرہ اپنائے رکھا کہ ان سب معززین کا جینا حرام کر دیا اور بالآخر ایک کو قتل کرنے کی کاوش میں خود بھی مارا گیا۔ اس کو کس کھاتے میں رکھیں ؟

آج بھٹو زندہ ہے تو اپنے کرتوتوں یا بل بوتے پر نہیں ، محترمہ بے نظیر کی وسعت نظری ، دور اندیشی اور وسیع القلبی کی بدولت۔ درویش ضیاالحقی پر بھی پھیرا آنا چاہتا تھا لیکن گنجائش نہیں رہی لہذا آئندہ پر ڈالتے ہوئے آج کی صورتحال پر عرض گزار ہے۔ آج کا نیا بھٹو بی بی پاک دامن بن کر دھمکیاں دے رہا ہے کہ ان لوگوں نے اگررویہ نہ بدلا تو پھر میں بہت کچھ بولوں گا۔ سب کچھ سامنے لے آؤں گا۔ اس سے قبل ایوانِ اقتدار میں ہوتے ہوئے بھی اس نے اسی نوع کی گیدڑ بھبکی دی تھی کہ اگر مجھے نکالا تو میں زیادہ خطرناک ہو جاؤں گا۔ بندہ پوچھے کیا آپ وہی نہیں ہیں جو ابھی کل ہی یہ خوشامدی الفاظ بول رہے تھے کہ کوئی میرے آرمی چیف کو برا کہے تو مجھ سے یہ برداشت نہیں ہوتا تو پھر آج دھمکیاں کس کو دے رہے ہیں ؟ کیا سیالکوٹی لیڈر ٹھیک نہیں کہتا کہ عوامی جلسوں میں خط لہرا لہرا کر امریکی سفارت کار ڈونلڈ لو کو برا بھلا کہنے والا اندر خانے اپنے لوگوں کو اس سفارت کار کے پاس بھیج کر معافیوں تلافیوں کا خواستگار ہے۔

ایک سانس میں عالمی طاقت پر لعنتیں ڈالتا ہے اور دوسری سانس میں کہتا ہے کہ امریکہ کے بغیر ہماری معیشت چل ہی نہیں سکتی ۔ ایک طرف اپنے خلاف بیرونی سازش کا واویلا کرتاہے اور دوسری جانب اسٹیبلشمنٹ کو دھمکیاں دیتا ہے کہ میں تمہارے راز طشت ازبام کر دوں گا مگر کون سے راز ؟ یہ کہ نواز شریف کے خلاف تم لوگوں نے مجھے بطور مہرہ استعمال کیا، یہ کہ ایک منتخب جمہوری حکومت کو غیر آئینی و غیر جمہوری طریقے سے گرانے کیلئے بنائی گئی اسکیموں میں میں تمہارا آلہ کار بن گیا اور اب جب آپ لوگوں نے اقتدار سے محروم کرتے ہوئے مجھے میری اصل اوقات یاد دلائی تو مجھ سے یہ برداشت نہیں ہو رہا ۔ آپ کا موقف ہے کہ سابق خاتون اول بشریٰ بیگم ایک غیر سیاسی گھریلو خاتون ہیں، ان کے خلاف آڈیوز نہیں لائی جانی چاہئیں جب کہ دوسری طرف بددیانتی کے سارے کھرے بنی گالہ میں انہی کی طرف کیوں جا رہے ہیں ؟ جس پر محترمہ پنکی پیرنی صاحبہ اپنے سوشل میڈیا انچارج کو کال کرتے ہوئے ہدایات دے رہی ہیں کہ تم کسی نوع کی کمزوری نہ دکھاؤ، امریکی مراسلے کے پروپیگنڈے کو زندہ رکھو چاہے میری بات آئے یا میری دوست فرح گوگی کی تم ہر مسئلے میں ہمارے مخالفین کو بس غدار قرار دیتے جاؤ۔

آج ایسی آڈیوز پر آپ کی تکلیف واضح ہے مگر کیا یہ آپ ہی نہیں تھے جو ایجنسیوں کے اس حق کی حمایت میں دلائل دیتے نہ تھکتے تھے کہ انہیں سرکاری و غیر سرکاری لوگ کیا خود وزیر اعظم کی ٹیلی فونز کالز ریکارڈ کرنے کا حق حاصل ہے، پرائم منسٹر کی سیکورٹی کے لیےاس نوع کی کسی پرائیویسی کی کوئی ضرورت نہیں ہے انہیں وزیر اعظم کی ہر بات کا علم ہونا چاہئے فلاں فلاں ترقی یافتہ ممالک میں بھی اس طرح ہوتا ہے یا اس کی اجازت ہے اپنے اس موقف کے ساتھ اب دھمکیاں کیوں ؟ نیز اس نوع کی ریکارڈنگ کے لیے ایجنسیوں کو حاصل یہ رسائی ضروری ہے تاکہ وہ وزیر اعظم کی کرپشن کو روک سکیں، اس کے معاملات پر نظر رکھ سکیں جس شخص کی نظروں میں بائیس کروڑ عوام کی قدر ہو نہ اپنے ہم عصر سیاست دانوں کی کوئی عزت، وہ جن بیساکھیوں کے سہارے آیا ہو ان کے ہٹنے پر دھمکیاں دینا اچھا نہیں لگتا۔

وہ وقت یاد کریں جب آپ اٹھتے بیٹھتے اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف بدترین بدزبانی فرمایا کرتے تھے ان دھمکیوں کے ساتھ کہ میں تم لوگوں کو چھوڑوں گا نہیں۔ انسان کو چاہئے کہ وہ وقت سے ڈر کر رہے۔ اپنے اچھے وقتوں میں بھی دوسروں کے ساتھ اچھا پیش آئے وقت کے تیور بدلتے دیر نہیں لگتی۔ ساحر لدھیانوی نے کیا خوب کہہ رکھا ہے کہ

کل جہاں بستی تھیں خوشیاں

آج ہے ماتم وہاں وقت لایا تھا بہاریں

وقت لایا ہے خزاں وقت ہے پھولوں کی سیج

وقت ہے کانٹوں کا تاج

وقت کی ٹھوکرمیں ہے کیا حکومت کیا سماج

loading...