ایاز امیر کا خواب اور چے گویرا

برادر محترم فاروق سلہریا کی اشتراکی نصب العین سے وابستگی قابل رشک ہے۔ ایک حالیہ تحریر پر مزے کا عنوان جمایا ہے۔ ’ایاز امیر کو خواہش ہٹلر کی ہے، نام چے گویرا کا لے رہے ہیں۔

 ‘کشاں کشاں یہ جملہ درویش تک بھی پہنچا۔ عاجز نے رائے دی کہ ’چے گویرا اور ہٹلر میں یک گونہ مناسبت پائی جاتی تھی۔ فکر و عمل میں ایک کو شیطان اور دوسرے کو فرشتہ سمجھنا درست نہیں‘۔ خبر دینے والے دوست آزردہ ہو گئے۔ گزارش کی کہ ایاز امیر پر فاروق بھائی کی تنقید سے کوئی اختلاف نہیں۔ البتہ ہٹلر اور چے گویرا کے قطبی تقابل پر تحفظات ہیں۔
انسانی ارتقا کی کہانی تو آگ، زبان، پہیے اور زراعت تک جاتی ہے۔ ذہن انسانی کی اعلیٰ ترین ایجاد انصاف کا تصور ہے۔ انصاف کی لکیر جنگل کو شہر سے الگ کرتی ہے۔ پیداوار اور انصاف کے ان دو متوازی دھاروں کا سفر ہموار نہیں رہا۔ بادشاہت ہو یا مفروضہ الوہی بندوبست، انسانی تاریخ جان توڑ مشقت اور ناانصافی کے لہو سے تر ہے۔ چھاپہ خانے کی ایجاد سے عام آدمی کو علم تک دسترس ملی تو معیشت اور معاشرت کے امکانات پر شعوری غور و فکر شروع ہوا۔ اٹھارہویں صدی میں کوئلے، بھاپ اور آب رواں کی مدد سے پیداوار کے ذرائع تبدیل ہوئے تو معیشت میں زراعت کی بجائے صنعت کا راستہ کھلا۔ صنعتی انقلاب کے دوسرے مرحلے میں بجلی، گیس اور تیل کی مدد سے ذرائع پیداوار تبدیل ہوئے۔ فولاد، تار، ٹیلی فون، ریڈیو اور موٹرکار جیسی ایجادات نے خبر اور فاصلے کی دنیا بدل ڈالی۔ وسیع پیمانے پر صنعتی پیداوار اور تجارت کا راستہ کھلا مگر یہ محض دھاتی آلات کا کھیل نہیں تھا۔ اس میں دریافت اور خیال کے دھارے بھی شامل تھے۔ روسو، والٹیئر اور تھامس پین کی روشن خیال روایت کو مارکس، ڈارون، فرائڈ اور آئن سٹائن نے نئے امکانات بخشے۔ اٹھارہویں صدی میں امریکا کی آزادی اور انقلاب فرانس سیاسی بیداری کے نئے مظاہر تھے۔ صنعتی انقلاب سے ابھرتے ہوئے طبقات زیادہ انصاف کے لیے طاقت کے استعمال کی طرف بڑھ رہے تھے۔ یہ قدیم شاہی بغاوت کی روایت نہیں تھی بلکہ ایک نئی دنیا کی تعمیر کا خواب تھا۔
انسانوں نے فرانس، روس، چین اور پھر ان گنت ممالک میں ان نظریاتی سانچوں کی آزمائش کر کے دیکھ لی جن کی بنیاد میں طاقت کا اصول کارفرما تھا۔ تفصیل کا یارا نہیں۔ یہ بتا دینا کافی ہے کہ ہٹلر کے نیشنل سوشلزم نے انسانی تاریخ کا بدترین المیہ تخلیق کیا۔ مرنے والوں کی تعداد چھ کروڑ سے زائد تھی۔ سٹالن کی آمریت کا شکار ہونے والوں کا تخمینہ چھ کروڑ ساٹھ لاکھ ہے۔ چین میں چیئرمین ما بازی لے گئے۔ 1958ءکی عظیم جست سے پیدا ہونے والا قحط ساڑھے چار کروڑ اموات پر منتج ہوا۔ کل ملا کے ما حکومت نے سات کروڑ چینی موت کے گھاٹ اتارے۔ انقلاب وہ نامسعود اصطلاح ہے جو نئی دنیا کے خواب سے شروع ہو کر عقوبت خانوں کے اندھیروں تک پہنچتی ہے۔ ایمل ژولا کے ناول ’جرمینل‘ کے کچھ مناظر بیان کرتا مگر اخباری کالم کی اپنی حدود ہیں۔ یہاں جسم کی عریانی فحش قرار پاتی ہے۔ روح کی برہنگی اور ناانصافی کے ننگ پر کوئی انگلی نہیں اٹھاتا۔ ایمل ژولا سے 100 برس بعد میلان کنڈیرا کے ناول ’وجود کی ناقابل برداشت لطافت‘ سے رجوع کرتے ہیں۔

 کنڈیرا لکھتا ہے کہ ’یورپ کی اشتراکی حکومتوں کو جرائم پیشہ افراد سے منسوب کرنے والے ایک بنیادی غلطی کرتے ہیں۔ یہ حکومتیں مجرم افراد نے نہیں بلکہ ان جوشیلے اذہان نے قائم کی تھیں جو سمجھتے تھے کہ انہوں نے جنت کی طرف جانے والا واحد راستہ دریافت کر لیا ہے۔ وہ اس راستے کے دفاع میں اس قدر پرجوش تھے کہ انہیں ان گنت افراد کو قتل کرنا پڑا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ جنت موعودہ کا کوئی وجود نہیں اور انقلاب کا جھنڈا اٹھا کر نکلنے والے دراصل قاتل تھے‘۔ ہماری نسل نے فرانز فینن کی کتاب ’افتادگان خاک‘ جوش و خروش سے پڑھی تھی۔ جس کا بنیادی مقدمہ یہ تھا کہ سیاسی مقاصد کے لیے تشدد جائز ہے۔ دہائیوں پہلے اشتراکی فلسفیوں نے بتا دیا تھا کہ مقاصد ذرائع کا تعین کرتے ہیں۔ سرمایہ داری کے استحصالی شکنجے سے انکار کئے بغیر نیازمند سمجھتا ہے کہ ایسے ہر سیاسی، معاشی، سماجی اور روحانی نصب العین کو کوڑے دان میں ڈال دینا چاہیے جس کے لیے انسانی لہو بہانا پڑے۔ سیاست میں طاقت کا اصول جنگ، نفرت اور مذہبی جنون کی معیشت تخلیق کرتا ہے۔ غیر پیداواری معیشت کے یہ دھارے دنیا میں ناانصافی کے سرچشمے ہیں۔ بندوق کی نالی سے انقلاب نہیں، فرد واحد کا آمرانہ استبداد جنم لیتا ہے۔ دوسری طرف جمہوریت اجتماعی فراست سے مشاورت کرتے ہوئے مسلسل اصلاح کی صلاحیت رکھتی ہے۔
اب چے گویرا کا کچھ ذکر کر لیں۔ 1959میں کیوبا میں انقلاب برپا کرنے کے بعد چے گویرا انقلابی عدالتوں کے سربراہ بنے جہاں وہ خود ہی استغاثہ، جج اور جلاد تھے۔ عقوبت خانے قائم کئے۔ کم از کم چودہ ہزار افراد کو بغیر مقدمہ چلائے قتل کیا۔ ان گنت افراد کو اپنے ہاتھ سے گولی ماری۔ اپنے باپ کے نام ایک خط میں لکھا کہ بارود اور لہو کی ملی جلی بو±و میرے نتھنوں میں پہنچی تو مجھے پہلی بار احساس ہوا کہ مجھے قتل کرنے میں لطف آتا ہے۔ چے گویرا کا قانونی فلسفہ سادہ تھا ’ہمیں یہ نہیں جاننا کہ ملزم سزا کا مستحق ہے یا نہیں۔ ہمیں صرف یہ معلوم کرنا ہے کہ اسے سزا دینا انقلاب کی ضرورت ہے‘۔ چے گویرا سمجھتے تھے کہ اخبارات اور آزاد صحافت کے ہوتے ہوئے انقلاب کامیاب نہیں ہو سکتا۔ چے گویرا کے ستم رسیدگان میں سیاہ فام باشندے اور ہم جنس پسند بھی شامل تھے۔ اسے ذاتی مخالفین کے علاوہ شک کی بنیاد پر قریبی رفقا کو قتل کرنے میں بھی عار نہیں تھی۔ چے گویرا ایٹم بم سے انقلاب مخالفوں کو ملیامیٹ کرنے کا خواب دیکھتے تھے۔ انہیں جمہوریت، شخصی آزادیوں اور انسانی حقوق جیسے لفظوں سے سخت نفرت تھی۔ وہ تقریر و تحریر کی آزادی، مذہبی رواداری حتیٰ کہ جدید موسیقی کو بھی بوژروا سازش سمجھتے تھے۔ بولیویا میں گرفتاری کے بعد چے گویرا کی بہادری محض ایک افسانہ ہے۔ دراصل اس نے روتے ہوئے کہا تھا ’پلیز گولی مت مارنا۔ میں چے گویرا ہوں۔ زندہ رہنے کی صورت میں زیادہ مفید ثابت ہوں گا‘۔

(بشکریہ: ہم سب لاہور)

loading...