پاکستانی جامعات کے دو نمبر پی ایچ ڈی

” ہم پاکستان کے ہر ضلع میں یونیورسٹی بنائیں گے۔“ یہ نعرہ آپ نے اکثر سنا ہو گا۔ کبھی کوئی جماعت اسے اپنے منشور کے طور پر پیش کرتی ہے تو کبھی کوئی لیڈر جلسوں میں اپنے ’ویژن‘ کے طور پر بیان کرتا ہے۔

بظاہر یہ تصور بہت دلفریب ہے کہ ملک کے چپے چپے میں یونیورسٹیاں کھلی ہوں اور نوجوان دن رات وہاں تعلیم حاصل کر رہے ہوں۔ دلچسپ بات مگر یہ ہے کہ پاکستان کے 160 اضلاع میں 142 یونیورسٹیاں پہلے سے موجود ہیں، گویا اوسطاً ہر ضلع میں ایک یونیورسٹی ہے اور ان میں دھڑا دھڑ پی ایچ ڈی پیدا ہو رہے ہیں۔ ہائر ایجوکیشن کی ویب سائٹ کے مطابق ان 142 جامعات (بشمول متصل ادارے ) کو گزشتہ برس 51 ارب روپے کی گرانٹ جاری کی گئی جبکہ یونیورسٹیوں کے اپنے ذرائع سے ہونے والی آمدن اس کے علاوہ ہے۔ اکیلے اسلام آباد میں 12 یونیورسٹیاں اور 7 ادارے ہیں جنہیں ساڑھے چھ ارب روپے کی گرانٹ جاری کی گئی۔ سوال یہ ہے کہ کیا اسلام آباد نے گزشتہ دس برسوں کوئی ایک ایجاد پیٹنٹ کروائی ہے جس سے پاکستان زر مبادلہ کما سکے؟ اور صرف اسلام آباد ہی کیوں، پاکستان کی دیگر جامعات نے کوئی شے ایجاد کی، کوئی نیا تجربہ کیا یا کوئی ایسی تحقیق کی جس نے دنیا میں نام کمایا ہو؟

ہم سب کو معلوم ہے کہ اس کا جواب نفی میں ہو گا۔ ذاتی حیثیت میں یقیناً کچھ لوگ پاکستانی جامعات میں قابل قدر کام کر رہے ہیں، ایسے لوگ ہر جگہ مل جاتے ہیں مگر سوال پھر وہی کہ ہماری جامعات کی کارکردگی صفر بٹا صفر کیوں ہے؟ مجھے اندازہ ہے کہ اگر یہ سوال کسی وائس چانسلر سے پوچھا جائے تو وہ اس کی بیسیوں تاویلیں نکال کر رکھ دے گا جیسے کہ جامعات کو ملنے والا بجٹ اونٹ کے منہ میں زیرہ ہے، تنخواہیں اور ترقیاتی کام نکال کر باقی جتنے پیسے تحقیق کے لیے بچتے ہیں ان میں اسی قسم کے دو نمبر پی ایچ ڈی پیدا ہو سکتے ہیں لہذا شکر کریں کہ ہم اتنے کم پیسوں میں یہ سب کام کر رہے ہیں۔ ان کھوکھلے دلائل کے ساتھ ایک دم چھلا بھی جڑا ہوتا ہے کہ پاکستان میں ٹیلنٹ بہت ہے مگر اس ٹیلنٹ کو نکھارنے کے لیے پیسے نہیں، ساتھ ہی کسی طالب علم کی مثال دی جاتی ہے کہ وہ ہمارے ہاں سے تحقیق کر کے امریکہ گیا اور وہاں شکاگو یونیورسٹی نے اسے ہاتھوں ہاتھ لے لیا، رہی سہی کسر ’ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی‘ والا مصرع پورا کر دیتا ہے اور ہم مطمئن ہو جاتے ہیں۔

سچ پوچھیں تو ہمارے ہاں یونیورسٹی، اسکول اور کالج میں کوئی فرق نہیں، جیسے کوئی بچہ اسکول سے میٹرک کا امتحان پاس کرتا ہے اسی طرح ایک نوجوان یونیورسٹی سے ایم اے کر کے نکلتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اسکول بچوں کے لیے ہوتا ہے اور یونیورسٹی بڑے بچوں کے لیے، اسی لیے ہم بغیر سوچے سمجھے کالجوں کو یونیورسٹیوں کا درجہ دے دیتے ہیں اور سیاسی مقاصد کے لیے چھوٹے شہروں میں نئی یونیورسٹی بنا دیتے ہیں۔ ہم یہ سوچنے کی زحمت بھی نہیں کرتے ان جامعات میں فلسفہ، تاریخ، عمرانیات، سیاسیات، ادب، طب، سائنس اور ریاضی کے قابل اساتذہ کہاں سے آئیں گے۔ لیکن کاغذوں میں چونکہ ہمارے پاس ہزاروں پی ایچ ڈی ہیں اس لیے یہ تمام ’ڈاکٹر‘ ان جامعات میں کھپ جاتے ہیں اور یوں جہالت کا پہیہ چلتا رہتا ہے۔

آپ یہ اعتراض کر سکتے ہیں کہ میں ان پی ایچ ڈی خواتین و حضرات کو ’جاہل‘ کیوں کہہ رہا ہوں تو گزارش ہے کہ میری کیا مجال کسی کو جاہل ہونے کا طعنہ دوں، میرا سوال صرف یہ ہے کہ پی ایچ ڈی صاحبان کی اتنی بڑی تعداد، 142 سرکاری جامعات اور 51 ارب روپے کی گرانٹ مل کر بھی ایک ایسی ایجاد پیٹنٹ نہیں کروا سکے جو پاکستان کو ڈالروں میں زرمبادلہ کما کر دے سکے۔ ترقی یافتہ ممالک میں جامعات ایک تھنک ٹینک کا کام کرتی ہیں اور حکومتوں کو مختلف پیچیدہ مسائل کا حل تجویز کرتی رہتی ہیں۔ کیا ہماری جامعات میں سے کسی نے ملک کے معاشی بحران کا کوئی ٹھوس حل پیش کیا، کیا کسی نے توانائی کے مسئلے کا حل تجویز کی، کیا کسی موسمی آلودگی کی آفت سے نمٹنے کے لیے کوئی حکمت عملی بنا کر حکومت کو پیش کی؟ میرے علم میں تو ایسی کوئی قابل ذکر کاوش نہیں، اگر کسی کے علم میں تو ضرور آگاہ کرے۔

ایچ ای سی کی ویب سائٹ پر پاکستانی جامعات کی درجہ بندی بھی موجود ہے جس میں قائد اعظم یونیورسٹی پہلے نمبر پر ہے، بہت اچھی بات ہے، مگر ساتھ ہی اگر یہ بھی لکھ دیا جاتا ہے کہ دنیا میں اس کا کیا مقام ہے تو اپنی اوقات پتا کرنے میں آسانی ہوجاتی۔ لیکن نہیں، ٹھہریے، دنیا سے موازنہ کرنا زیادتی ہے، البتہ ہندوستان، بنگلہ دیش، سری لنکا اور اسی قسم کے دیگر ممالک سے مقابلہ کرنے میں کوئی حرج نہیں کہ یہ ایک ہی جیسے ملک ہیں بلکہ بھارت اور پاکستان تو پچھتر سال پہلے ایک ہی ملک تھے۔ سنہ 2020 میں پاکستان نے کل ملا کر 338 پیٹنٹ درخواستیں جمع کروائیں۔ سادہ الفاظ میں پیٹنٹ کروانے کا مطلب کسی ایجاد، تحقیق یا دریافت کے حقوق اپنے نام پر محفوظ کروانا ہے۔ پاکستان کے مقابلے میں بھارت نے اسی سال میں 23141 جبکہ کوریا نے 180477 پیٹنٹ درخواستیں جمع کروائیں۔ ان اعداد و شمار سے ہی اندازہ لگا لیں کہ ہماری جامعات فقط دولے شاہ کے چوہے پیدا کر رہی ہیں جن کا تحقیق اور جستجو سے کوئی لینا دینا نہیں۔

یہ سب ’تبرا‘ کرنے کے بعد اب میرا فرض بنتا ہے کہ اس مسئلے کوئی حل بھی پیش کروں۔ جامعات کی عالمی درجہ بندی میں مختلف پہلوؤں کو مد نظر رکھا جاتا ہے، ان میں سب سے زیادہ وزن تحقیق کو دی جاتی ہے اور یہ دیکھا جاتا ہے کہ کسی یونیورسٹی میں تحقیق مقالوں کی تعداد اور معیار کیا ہے۔ اگر ہمیں اس معیار کو بہتر کرنا ہے تو یونیورسٹی اساتذہ کی ترقی کو تحقیقی مقالوں سے مشروط کرنا ہو گا، اس قسم کی شرط کاغذوں میں پہلے سے موجود ہے، مگر ہم نے اس کے مختلف جگاڑ  نکال رکھے ہیں اور یوں ترقی کے اسی فرسودہ نظام سے چپکے ہوئے ہیں جن میں سینئر پروفیسر لیٹے لیٹے اگلے گریڈ میں پہنچ جاتا ہے اور یوں (بقول منیر نیازی) ’خر کہنہ مشق‘ کہلاتا ہے۔ دنیا میں ایسا نہیں ہوتا۔

دنیا میں فیکلٹی ممبران اپنی ترقی کی خاطر طلباء کی طرح محنت کرتے ہیں، ان کے لیے اپنی تحقیق کو یونیورسٹی کے منظور شدہ عالمی معیار کے جرائد شائع کروانا ضروری ہے، اس مجبوری کے نتیجے میں ہر سال ہزاروں تحقیقی مقالے سامنے آتے ہیں۔ جبکہ پاکستانی یونیورسٹی میں ایسوسی ایٹ پروفیسر بننے کے لیے اتنی شرط ہے کہ آپ کے کم ازکم 10 مقالے ایچ ای سی کے منظور شدہ درجے کے جریدے میں شائع ہوں، یہ کوئی مشکل کام نہیں کیونکہ ان میں پاکستانی جریدے شامل ہیں جن میں فیکلٹی ممبران آپس میں ہی ایک دوسرے کو تحقیقی مقالے بھیج کر امر ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح پروفیسر بننے کے لیے ایسے 15 مقالوں کا شائع ہونا ضروری ہے، یہاں ایچ ای سی کی شرط  ایکس درجے کے جرائد کی ہے اور یہ جرائد بھی پاکستان میں مل جاتے ہیں لہذا یہ پل آسانی سے پار ہوجاتا ہے۔ اس کے علاوہ تجربے، سینیارٹی اور کتاب لکھنے کے بھی کچھ نمبر ہیں مگر یہ تمام پڑتال پاکستانی بھائیوں نے کرنی ہوتی ہے لہذا اس ضمن میں کسی عالمی معیار کا تردد نہیں کیا جاتا۔

اسی طرح کاغذوں میں یہ شرط بھی ہے کہ پی ایچ ڈی کرنے والے کا مقالہ باہر کی کسی مستند یونیورسٹی کے پروفیسر کو دکھایا جائے گا، اول تو اچھا پروفیسر اس کام کے لیے راضی نہیں ہوتا، اگر بہت منت ترلے کے نتیجے میں وہ مقالہ دیکھنے پر آمادہ ہو جائے اور اس پر اپنا تبصرہ اور اعتراضات لکھ کر واپس پاکستانی یونیورسٹی کو بھیج بھی دے تو یہاں تان پھر اسی سپروائزر پر آ کر ٹوٹتی ہے جس نے یہ طے کرنا ہے کہ آیا تحقیق کرنے والے طالب علم نے اعتراض دور کر دیے یا نہیں۔ اور یوں ہم وہ پی ایچ ڈی پیدا کر کے مارکیٹ میں پھینک دیتے ہیں جو کسی معاملے کا فہم نہیں رکھتے حتیٰ کہ اپنے شعبے کے بھی ماہر نہیں ہوتے۔ ایسے پی ایچ ڈی اور ایسی یونیورسٹیاں اگر پاکستان میں آج دگنی بھی ہو جائیں تو ملک کی صحت پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ صفر میں جتنی مرضی مرتبہ صفر جمع کر لیں، جواب صفر ہی آئے گا۔

(بشکریہ: ہم سب لاہور)

loading...