الرجی کی قسمیں اور سیاست

کچھ چیزوں سے ہم سب کو الرجی ہوتی ہے۔ الرجی کا مناسب نعم البدل لفظ ہماری اپنی زبانوں میں نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم سب لوگ پتھر ہضم، لکڑ ہضم قسم کے لوگ ہیں۔ سب کچھ کھا ہی لیتے ہیں، اور ڈکار تک نہیں لیتے۔

مگر کچھ لوگ ہمارے درمیان ایسے ہیں جو کسی کو شائبہ تک ہونے نہیں دیتےکہ انہوں نے کیا کھایا ہے، کیا پیا ہے۔ پلیٹیں چِٹی صاف چھوڑ دیتے ہیں۔ کسی کو پتہ تک چلنے نہیں دیتے کہ انہوں نے آج تک کیا اور کتنا کھایا ہے۔ کسی قسم کا ثبوت نہیں چھوڑتے۔ آپ مرحوم شرلاک ہومز کی آتما کو بلالیں۔ سادہ سی تفتیش اس کے حوالے کردیں۔ شرلاک ہومز کی آتما اپنے سر میں مُٹھی بھر خاک ڈال کر وہیں لوٹ جائے گی جہاں سے آئی تھی۔ پچھتر برس سے ہم فقیر یہ ہوشربا تماشا دیکھتے آرہے ہیں۔

پاکستان کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ کھانے پینے اور ہضم کرنے میں کرتا دھرتا اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ میں بڈھا کھوسٹ بچہ نہیں ہوں۔ مگر پھر بھی میں جانتا ہوں کہ ہمارے بے تاج بادشاہوں کا نظام ہضم سات سمندروں سے دگنا ہے۔ سات سمندروں سے دگنا نظام ہضم رکھنے والے ہمارے اور ہمارے ملک کے مالکان کو کسی قسم کی الرجی نہیں ہوتی۔ ہمارے ملک کے مالکان نہ تو کھانستے ہیں، اور نہ اپنے آپ کو کھجاتے ہیں۔ الرجی پھیلانے والے عناصر کو ٹھکانے لگانے کا ہنر ان کو بخوبی آتا ہے۔ اُنہوں نے اپنے آپ کو اور اپنی اولاد اور اپنی آنے والی نسلوں کو الرجی سے بچانے کے طریقے ایجاد کرلئے ہیں۔

ہم پوچھتے پھرتے ہیں کہ مچھلی کھانے کے بعد دودھ پینے سے کیا ہوتا ہے۔ اس سے پھلبیری کا عارضہ تو نہیں ہوتا؟ پھلبیری سمجھتے ہیں نا؟ جسم پر، خاص طور پر چہرے پر سفید داغ دھبے دکھائی دینے لگتے ہیں۔ اور یہ بھی پوچھا جاتا ہے کہ دودھ پینے کے بعد مچھلی کھانے سے کوڑھ کی بیماری تو نہیں لگ جاتی؟ یعنی برص اور جذام جیسے امراض کا شکار تو نہیں ہو جاتے؟ گوشت اور مچھلی ایک ساتھ کھانے سے کھجلی تو نہیں ہو جاتی؟ پرانی کراچی کے ہم پُرانے باسی خارش کو کھجلی کہتے ہیں۔

اللہ سائیں کے ہم مسکین، ناداراور بے بس لوگ الگ قسم کی الرجی کا شکار ہوتے رہتے ہیں۔ ہماری الرجی کے اقسام کی لمبی لسٹ ہے۔ آپ پڑھتے پڑھتے تھک جائیں گے۔ مناسب سمجھتا ہوں کہ صرف ایک دو الرجیز کے بارے میں بتا دوں۔ میں آپ کو بیزار کرنا نہیں چاہتا۔ مگر الرجی کی کتھا سے پہلے ایک چھوٹی سی تمہید میں آپ کے گوش گزار کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ اللہ سائیں کے ہم نادار اور مسکین لوگ بیلٹ بکسوں میں ووٹ ڈالنے کے لئے پیدا ہوتے ہیں۔ ورنہ اس کے علاوہ ہمارے اس دنیا میں آنے کا کوئی مقصد نہیں۔ سب کے سب ووٹ لینے والے فراخ دل نہیں ہوتے۔ ایسے کنجوس ووٹ لینے والے، سیاستدانوں کے قبیلے میں نووارد ہوتے ہیں۔ ہم ووٹ دینے والوں کی طرح ووٹ لینے والے بھی اس دنیا میں ووٹ لینے آتے ہیں۔ ورنہ اس کے علاوہ ووٹ لینے والوں کا دنیا میں کسی قسم کا کوئی کام نہیں ہوتا۔ خود ووٹ لیتے ہیں اور اپنی آنے والی نسلوں کو ووٹ لینے کے گُر سکھاتے ہیں۔ باقی اللہ اللہ، خیر سلا۔ ہم اللہ سائیں کے بندے بھی ووٹ بیلٹ بکسوں میں ڈالتے ہیں اوراپنی آنے والی نسلوں کو بیلٹ بکسوں میں ووٹ ڈالنا سکھاتے ہیں۔

کچھ سخی ووٹ لینے والے ایک دن کے لئے ہم اللہ سائیں کے ووٹ دینے والے بندوں کی خاطر تواضع کرتے ہیں۔ اس نوعیت کا خوش نما دن چار کبھی پانچ برسوں میں ایک بار آتا ہے۔ طرح طرح کے طعام کھانے سے ہمیں کسی قسم کی الرجی نہیں ہوتی۔ ہم کھیر کے ساتھ مچھلی، اور مچھلی کے ساتھ رس ملائی کھا جاتے ہیں۔ ہمیں کچھ نہیں ہوتا۔ ہمیں نہ کھجلی ہوتی ہے اور نہ خارش ہوتی ہے۔ چار پانچ برس بعد ووٹ لینے والے ایک مرتبہ پھر دکھائی دیتے ہیں۔ بیلٹ بکس میں ووٹ ڈالنے کے بعد ہم ووٹ لینے والوں کو ایسی جگہ بھیج دیتے ہیں جہاں وہ اپنا ڈیرا ڈال دیتے ہیں۔ اپنے بیٹوں، بھتیجوں، دامادوں، بہوئوں، اور چاچے، مامے، ساس سُسر جمع کر لیتے ہیں۔ وہ قوم کی قسم سنوارنے کے لئے ایسا کرتے ہیں، وہ لوگ قوم و ملک کی بے لوث خدمت کرتے ہیں۔ یاد رہے کہ قوم و ملک کی بے لوث خدمت کرنے والوں کا نظام ہضم زبردست ہوتا ہے۔ سات سمندروں سے زیادہ دگنا ہوتاہے۔ مگر وہ لوگ دودھ پینے کے بعد مچھلی نہیں کھاتے اور مچھلی کھانے کے بعد دودھ نہیں پیتے۔

ہم اللہ سائیں کے نادار بندوں کے ساتھ ایسا کچھ نہیں ہوتا۔ ہمیں مچھلی کے ساتھ کھیر کھانے سے الرجی نہیں ہوتی۔ ہمیں دوسرے قسم کی الرجی ہوتی ہے۔ کچھ ووٹ لینے والوں کو دیکھ کر ہمیں الرجی ہوتی ہے۔ الرجی بھی ایسی ویسی نہیں ہوتی۔ خارش کھجلی نہیں ہوتی۔ ہم دیواروں سے سر ٹکراتے ہیں۔ اپنے بال نوچ لیتے ہیں۔ سر میں دھول ڈال کر اپنا گریباں چاک کرتے ہیں۔ ایک نہیں، انیک مثالیں ہیں۔ ہمارے ناتواں کندھوں پر سر ایک ہے۔ ایک سر کتنی دیواروں سے ٹکرائیں؟

ایک سیاستداں ٹھیک سے نہ اُٹھ سکتے ہیں، نہ بیٹھ سکتے ہیں، نہ چل پھر سکتے ہیں، نہ ٹھیک سے سن سکتے ہیں۔ پتہ نہ مشرق کا، نہ مغرب کا۔ سنا ہے کہ وہ حکومتیں بناتے ہیں، حکومتیں گراتے ہیں۔ اب ہم سر پر دھول ڈال کر، گریباں چاک نہ کریں تو کیا کریں!

(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

loading...