زبان و بیان کا آئین

آج کل ملکی سیاست نے ہر خاص و عام کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے، چرند، پرند، درند کوئی بھی اِس سے محفوظ نہیں، جہاں چلے جاؤ ایک ہی موضوع سننے کو ملتا ہے، یوں لگتا ہے جیسے پورے ملک میں کوئی وبا پھیلی ہوئی ہے جس کے اثر سے بچنا ممکن نہیں۔

غالب کی طرح مجھے بھی چونکہ وبائے عام کی زد میں آنا گوارا نہیں اِس لیے میں نے سوچا کہ آج ایسا موضوع چنا جائے جس میں ملکی حالات کا تذکرہ کرنے کی ضرورت ہی پیش نہ آئے۔ لیکن نہ جانے کیوں مجھے لگتا ہے کہ بادہ و ساغر کہے بغیر بات بنے گی نہیں۔ سو موضوع تو زبان و بیان ہے، اب دیکھتے ہیں بات بنتی ہے یا نہیں۔ کرونا سے پہلے مجھے چین جانے کا اتفاق ہوا تو میں نے اُن کی زبان کے بارے میں جاننے کی کوشش کی، تین ہفتے کی محنت شاقہ کے بعد میں بمشکل ایک جملہ سیکھ پایا اور وہ جملہ تھا ’اِس شے کی کیا قیمت ہے ؟‘چینی زبان کے بارے میں میرا یہ خیال تھا اور ہے کہ یہ بے حد مشکل زبان ہے کیونکہ اِس میں ایک لفظ کو مختلف انداز میں بیان کرنے سے مطلب بدل جاتا ہے۔ بعد میں غور کیا تو پتا چلا کہ دیگر زبانوں کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہے۔

اردو کو ہی لے لیجیے، زیر، زبر، پیش اور جزم کے فرق سے مطلب کیا سے کیا ہو جاتا ہے۔ آج اسی فرق کے ساتھ مختلف الفاظ کا مطلب جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ پیشگی معذرت قبول فرمائیں کہ میں کسی ہیڈ ماسٹر کی طرح آپ سے مخاطِب ہوں۔ اب اسی لفظ’مخاطِب‘ کو لے لیں، ط پر زیر کے ساتھ پڑھیں گے تو مطلب ہوگا ’کلام کرنے والا ‘ جبکہ ط کے اوپر زبر کے ساتھ اِس کا مطلب ہوگا ’وہ جس سے بات کی جائے۔ ‘گویا اعراب نے لفظ کا مطلب ہی بدل دیا۔ لگے ہاتھوں ’اِعراب‘ کا اِملا بھی دیکھ لیتے ہیں، الف کے نیچے زیر لگائیں گے تو اِس کا مطلب ہوگا حروف کے اوپر نیچے لگنے والے نشانات جیسے زیر، زبر، پیش جبکہ الف کے اوپر زبر لگا کر ’اَعراب ‘لکھنے سے مطلب یکسر بدل جاتا ہے، اب اِس کا مطلب ہوگا عرب کی جمع یعنی خطہ عرب کے باشندے، عربی لوگ، یعنی ہمارے بھائی۔ ہم اپنے اِن بھائیوں کو بعض اوقات فرط جذبات میں ‘عربوں ‘ لکھ دیتے ہیں، یہ بھی غلط نہیں، جملے میں یوں استعمال کیا جاسکتا ہے کہ ’ عربوں نے ہمیں ایک ارب ڈالر دیے جو ہم نے ٹیکسٹائل مل مالکان کی جھولی میں ڈال دیے۔ ‘

ایک لفظ جس کا استعمال ہم کثرت سے کرتے ہیں اور غلط کرتے ہیں ’اِقدام‘ ہے، الف کے نیچے زیر کے ساتھ اِس کا مطلب ہے قدم اٹھانے کا عمل، آغازِ کار۔ خبروں میں ہمارے مہربان اسے یوں پڑھتے ہیں کہ’ حکومت غریب آدمی کی بہتری کے لیے ضروری اقدامات اٹھا رہی ہے ‘ جبکہ لفظ اِقدام میں قدم اٹھانا شامل ہے، درست جملہ یوں ہوگا کہ’ غریبوں کے لیے کیے گئے تمام اِقدامات کا نتیجہ قیامت کے دن برآمد ہوگا۔‘ اسی لفظ میں الف کے اوپر زبر لگا کر اگر ’اَقدام‘ کر دیا جائے تو یہ قدم کی جمع بن جائے گی، قدوم بھی قدم کی جمع ہے مگر یہ الفاظ عام بول چال میں استعمال نہیں ہوتے، بولنے میں ہم یہی کہتے ہیں کہ جنت ماں کے قدموں کے نیچے ہے، اَقدام کے نیچے جنت کوئی نہیں تلاش کرتا۔

ایک غلط العام لفظ ’ثَقَل ‘ بھی ہے، ث اور ق پر زبر کے ساتھ اِس کا مطلب ہے بوجھ، سامان یا قیمتی چیز جبکہ ث کے نیچے زیر اور ق پر جزم کے ساتھ اِس کا مطلب ہے بوجھل ہونے کی کیفیت، بھاری پن، مثلاً ثِقلِ سماعت یا کشش ثِقل جسے ہم کشش ثَقَل کہہ کر غلطی کرتے ہیں۔ ایک اور لفظ ’خَبَث‘ ہے، خ اور ب پر زبر کے ساتھ، اِس کا مطلب ہے زنگ، آلایش، گندگی، مَیل جبکہ خ پر پیش اور ب پر جزم کے ساتھ یہ ’خُبث‘ بن جاتا ہے جس کا مطلب ہوتا ہے کینہ، بدی، کھوٹ، مثلاً خُبث ِ باطن۔خبیث بھی اسی فیملی کا لفظ ہے مگر نہ جانے کیوں جب کسی کو خبیث کہتے ہیں تو اِس میں گالی کم اور پیار زیادہ لگتا ہے۔

زیر اور زبر کی ایک کلاسک مثال لفظ ذبح کی ہے، اِس لفظ کو اگر ہم ذ پر زبر اور ب پر جزم کے ’ذَبح‘ لکھیں گے تو مطلب ہوگا حلال کرنا، قربانی کرنا جبکہ ذ کے نیچے زیر کے ساتھ ’ذِبح‘ لکھنے کا مطلب ہوگا قربان کیا ہوا جانور، ہم اکثر یہ غلطی کر جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم نے بچھڑا ذِبح کیا جبکہ درست جملہ یوں ہوگا کہ ڈالر نے روپے کو ذَبح کردیا۔ اسی طرح ’مُرشَد‘ اور ’مُرشِد ‘ میں بھی باریک سا مگر اہم فرق ہے، ہم اکثر ش پر زبر لگا کر مُرشَد کہتے ہیں جبکہ مُرشَد کا مطلب رشد و ہدایت لینے والا ہے اور ش پر زیر کے ساتھ مرشِد کا مطلب رشد و ہدایت دینے والا ہے۔ سو اگر آپ نے کسی کو عزت و تکریم کے ساتھ اپنا استاد کہنا ہے تو اسے مُرشِد کہیں کیونکہ اگر آپ اسے مُرشَد کہیں گے تو اِس مطلب ہوگا کہ وہ آپ سے ہدایات لیتا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ ہم سب رشد و ہدایت سے ویسے ہی بے نیاز ہوچکے ہیں اور خود کو عقل کُل سمجھتے ہیں۔

نفس ایسا لفظ ہے جو بار بار تنگ کرتا ہے، اگر ہم ن اور ف پر زبر لگا کر اسے پڑھیں تو یہ نَفَس بنتا ہے جس کا مطلب ہوگا سانس اور اِس کی جمع ہوگی انفاس جبکہ اسی لفظ میں اگر ف پر جزم لگا کر نَفس بنا دیں تو مطلب ہوگا ذات، من، جی، دل، روح وغیرہ۔اِس کی مثال دینے سے پہلے ایک اور لفظ دیکھ لیتے ہیں ’لیلہ‘، ل کے اوپر زبر کے ساتھ عربی کے اِس لفظ کا مطلب رات ہے جیسے کہ لیلة القدر جبکہ لیلی ٰ مجنوں کی محبوبہ کا نام ہے اور لِیلا (ل کے نیچے زیر) ہندی کا لفظ جس سے مراد تماشا جیسے کہ رام لِیلا۔

غالب نے اپنے ایک شعر میں نَفَس کا استعمال یوں کیا ہے کہ ساتھ لیلیٰ بھی بھگت گئی ہے۔ ’نَفَسِ قیس کہ ہے چشم و چراغ صحرا، گر نہیں شمعِ سیہ خانہ لیلیٰ نہ سہی۔ ‘یعنی قیس تو صحرا میں خوش ہے کہ وہی اُس کا ٹھکانہ ہے، اگر لیلیٰ کے محل میں جگہ نہیں ملی تو نہ سہی۔آج کل کے حالات میں بھی یہ شعر فِٹ بیٹھتا ہے، جیسے، کچھ لوگوں نے لیلی ٰ کے محل میں اپنا ٹھکانہ بنانے کی خاطر اپنا سب کچھ لٹا دیا، لیلیٰ نے محل میں جگہ تو دے دی مگر ایسے کہ اب قیس کو اپنا صحرا اُس کے مقابلے میں گلستاں لگ رہا ہے۔ میری یہ تشریح ایسی ہی ہے جیسی اساتذہ کرتے ہیں اور غالب کے اشعار میں سے خواہ مخواہ درجن بھر مطلب نکالنے کی کوشش کرتے ہیں، حیرت اِس بات پر نہیں ہوتی کہ وہ ایسا کیوں کرتے ہیں، حیرت اِس بات پر ہوتی ہے کہ وہ تمام مطلب ہی ٹھیک لگتے ہیں۔

فارسی میں ایک مصدر ہے ’کردن‘ جس کا مطلب ہے ’کرنا‘ جبکہ دوسرا مصدر ہے ’کَندن‘ جس کا مطلب ہے کھودنا۔ پہلے مصدر سے ہمیں ’کُن‘ حاصل ہوتا ہے جس کا تعلق کچھ کرنے سے ہے جیسے کا رکُن یعنی کام کرنے والا، پریشان کُن یعنی پریشان کرنے والا۔ دوسری طرف ’کَن‘ کا تعلق کھودنے سے ہے جیسے کان کَن یعنی کان کھودنے والا اور کوہ کَن یعنی پہاڑ کھودنے والا۔ہم اکثر کان کَن کو کان کُن پڑھتے ہیں جو غلط ہے لیکن کوئی بات نہیں یہاں یار لوگ پورے کا پورا آئین غلط پڑھ جاتے ہیں کوئی نہیں پوچھتا، کان کَن بیچارہ کس شمار میں ہے۔

(بشکریہ: ہم سب لاہو)

loading...