اسٹبلشمنٹ کا یہ تجربہ بھی ناکام ہؤا

ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر اس وقت ملکی سیاسی حالات کا   پیمانہ  بنی ہوئی ہے۔ گو کہ وزیر خزانہ مفتاح اسماعل نے ایک بار پھر مارکیٹ کو یہ کہہ کر تسلی دی ہے کہ دو ہفتے میں روپیہ اپنی گرتی ہوئی ساکھ بحال کرلے گا ۔  وزیر اعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی میں طویل جوشیلی تقریر میں ’ڈٹے رہنے‘ کا اعلان کیا ہے لیکن شواہد ، حالات کی ترتیب، سیاسی اشاروں اور حال ہی میں سپریم کورٹ سے جاری ہونے والے احکامات سے اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے کہ عمران خان کی حکومت گرا کر  اتحادی پارٹیوں کی حکومت قائم  کرنے کا  تجربہ ناکام ہوگیا ہے۔

تاہم ابھی تک یہ  واضح  نہیں ہے   کہ اس ناکامی کا بوجھ کس کے سر ڈالا جائے گا اور مستقبل کے حوالے سے کیا لائحہ عمل  تیار ہوگا۔   یوں تو ملک میں  تمام جمہوری ادارے کام کررہے ہیں لیکن  یہ بھی واضح ہے کہ   اصل فیصلے کہیں اور ہوتے ہیں۔     تحریک انصاف کے سوا تمام سیاسی جماعتیں   اداروں سے اپنی حدود میں رہنے  کا مطالبہ کرتی ہیں تاکہ ملک میں قانونی و آئینی حکومتیں دل جمعی سے کام کرسکیں ۔  البتہ یہ بھی  مشاہدے میں آیا  ہے کہ تحریک انصاف کی شکل میں ہائبرڈ نظام  کے ناکام تجربہ کو لپیٹنے کے لئے  تحریک عدم اعتماد کے عنوان سے    اتحادی حکومت قائم کرنے کا تجربہ کیا گیا۔ بدقسمتی سے یہ  تجربہ بھی اسٹبلشمنٹ کی اسی لیبارٹری میں ابتدائی مراحل سے گزار کر قومی اسمبلی کے ذریعے قوم پر مسلط کیا گیا جیسے 2018 کے انتخابات کو عذر بنا کر عمران خان کو ملک کا نگہبان بنا دیا گیا تھا۔ عمران خان کی یہ خوبی تو ماننا پڑے گی کہ وہ اسٹبلشمنٹ کے ساتھ مل کر حکومت کرنے کا نہ صرف اعتراف کرتے ہیں بلکہ ان کا شکوہ ہی یہ ہے کہ اس سرپرستی سے ہاتھ کیوں کھینچ  لیا گیا۔  نیوٹرل اور غیرجانبدار ہونے کے اعلانات اس درمندانہ سوال کا  براہ راست جواب  سامنے نہیں  لاسکے بلکہ میڈیا مباحث، سیاسی خبروں اور درون خانہ معاملات پر نگاہ رکھنے والے تمام  لوگ یہی بتاتے ہیں کہ  ’غیر جانبداری‘ اختیار کرنے کا بنیادی مقصد اتحادی پارٹیوں کو عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد میں مدد فراہم کرنا تھا۔

 یہی وجہ ہے کہ شہباز شریف،  عمران خان کے لئے سلیکٹد کا نعرہ لگاتے ہوئے خود ’امپورٹڈ‘ وزیر اعظم بن بیٹھے۔ اس کے بعد حالات کی ترتیب، حکومت کی توقعات اور مایوسیوں کی  فہرست طویل ہے۔ لیکن یہ  حقیقت منظر نامہ پر نمایاں ہورہی ہے کہ عمران خان کو  اقتدار دلوانے میں  مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کو  سیاسی اختیار سے دور کرنے کی خواہش نمایاں تھی۔  نام نہاد ہائیبرڈ نظام کے تحت  قائم ہونے والی   تحریک انصاف کی حکومت  : 1)معاشی  لحاظ سے کوئی انقلاب آفرین کارنامہ  انجام نہ دے سکی ۔ 2)عمران خان کو  کسی بھی طرح یہ نہ سمجھایا جاسکا کہ وہ اب وزیر اعظم ہیں، کسی نہ  کسی بہانے سے روزانہ کی بنیاد پر پرانی تقریریں دہرانے اور سیاسی ماحول میں کشیدگی بڑھانے کی بجائے مفاہمت کا ماحول پیدا کریں تاکہ ملکی معاملات آگے بڑھ سکیں۔3)ملک کے سفارتی تعلقات دن بہ دن دگرگوں ہونے لگے۔ دشمن تو ایک طرف،  قریب ترین دوست چین اور سعودی عرب کے ساتھ ایسا بگاڑ پیدا کیا گیا کہ روائیتی تعاون کا امکان بھی مسدود ہونے لگا۔  ان  حالات میں پی ڈی ایم اور پیپلز پارٹی کو اتحاد بنا کر عمران خان کو ’سبق ‘ سکھانے کا اشارہ دیا گیا۔

پی ڈی ایم اور پیپلز پارٹی    جو بظاہر اینٹی اسٹبلشمنٹ تحریک چلا رہی تھیں اور  جن کا دعویٰ تھا کہ جب تک سیاسی معاملات میں اسٹبلشمنٹ کی مداخلت بند نہیں ہوگی،اس وقت تک ملکی سیاسی معاملات درست نہیں ہوسکتے ۔ نہ معاشی حالات درست ہوں گے اور نہ ہی  اقوام عالم میں ملک کا وقار بلند ہوگا۔ اس واضح اور دو ٹوک مؤقف کے باوصف اور متعدد بار اسٹبلشمنٹ   کے ہاتھوں ’ڈسے‘ جانے کے باوجود مسلم لیگ (ن) ایک بار پھر اقتدار کے جھانسے میں  عمران خان کے خلاف سیاسی اتحاد کی قائد بن کر ایسی غلطی کر بیٹھی جس کی سب سے زیادہ قیمت  اسے ہی ادا کرنا پڑ رہی ہے۔ یہی مسلم لیگ (ن) کے قائدین اور اتحادی حکومت کی سب سے بڑی پریشانی ہے۔  قومی اسمبلی کے سابق ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی رولنگ کے خلاف سوموٹو لے کر اور بعد میں اس رولنگ کو مسترد کرکے سپریم  کورٹ نے   عمران مخالف سیاسی عناصر کو جو سہولت فراہم کی تھی ،  پنجاب میں وزارت اعلیٰ کی کشمکش کے  معاملہ میں اس سے متضاد طرز عمل اختیار کرکے اسی  سہولت کو اتحادی حکومت کے  گلے کا طوق بنا دیا ۔ گزشتہ روز پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کو مسترد کرکے اور پرویز الہیٰ کو منتخب وزیر اعلیٰ قرار دے کر سپریم کورٹ نے حکومت وقت کے ساتھ  براہ راست محاذ آرائی کا اعلان  کیا ہے۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال اور ان کے دو ساتھیوں نے فل کورٹ کی درخواست مسترد کرکے اور   مشکوک ججوں پر مشتمل بنچ کے ذریعے فیصلہ صادر  کرنے پر اصرار کے ذریعے دو باتیں واضح کی ہیں: 1)سپریم کورٹ  آئینی تشریح کے نام پر منتخب اسمبلیوں کے اختیار کو چیلنج کرنے  میں عار نہیں سمجھتی۔ 2)عدالت عظمی  اس بات کو اہمیت دینے پر تیار نہیں ہے کہ  اہم آئینی معاملات پر فیصلہ دینے کے لئے وہی جج بار بار بنچ میں شامل ہوتے ہیں  جو ججوں کے اس  ’ٹولے‘  میں شامل ہیں  جسے حکومتی پارٹیوں  کی طرف سے ناقابل اعتبار اور مشکوک کہا جارہا ہے۔

سپریم کورٹ کے سہ رکنی کا  بنچ کا یہ طرز عمل بظاہر پنجاب کی سیاسی صورت حال کے حوالے سے سامنے آیا ہے جس کے بارے میں چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ملک کے سب سے بڑے صوبے میں سیاسی بحران حل کرنے کے لئے  فل بنچ قائم کرنے اور اس کی کارروائی کے طویل عمل کا انتظار  نہیں کیا جاسکتا۔ تاہم واضح ہے کہ یہ  عذر اپنی بات پر اصرار کا ایک  بہانہ  ہے کیوں کہ اگر بنچ میں شامل تین جج معاملہ کی سنگینی کو  سمجھتے اور اس کے سنگین سیاسی مضمرات کا اندازہ کرتے تو وہ  پنجاب کے لئے  فل کورٹ کا فیصلہ آنے تک  کسی  عبوری انتظام پر اتفاق رائے پیدا کرواسکتے تھے یا اس حوالے سے  کوئی حکم جاری ہوسکتا تھا۔ حمزہ شہباز بھی تو عدالتوں کے ایسے ہی احکامات کے تحت تین ماہ تک پنجاب کے وزیر اعلیٰ رہے  ہیں۔ بلکہ گزشتہ ہفتہ کے روز خود چیف جسٹس کے  فوری حکم میں انہیں منتخب وزیر  اعلیٰ کی بجائے   ’ٹرسٹی وزیر اعلیٰ‘ کے طور  پر کام کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ حالانکہ قانونی ماہرین اور سیاسی تجزیہ نگار مسلسل یہ جاننے کی کوشش کررہے ہیں کہ’  ٹرسٹی‘ کی اصطلاح آئین کی کون سی شق  کے تحت وضع کی گئی ہے۔ یا منگل کوپرویز الہیٰ کو وزیر اعلیٰ کے طور پر  فیصلہ  جاری کرنے کے دو گھنٹے کے اندر حلف لینے کا  ’پابند‘ کرنے کا حکم کون سے آئینی یا قانونی اختیار کے تحت  دیا گیا تھا۔

عدالت عظمی کے ججوں نے  تازہ ترین فیصلہ کے ذریعے جانبداری اور  ایک نئی نوعیت کی سیاسی انجینرنگ کا جو تاثر مستحکم کیا ہے، اسی کی گونج آج قومی اسمبلی کے اجلاس میں سنائی دی ۔ وزیر اعظم شہباز شریف  اور  پیپلز پارٹی کے چئیر مین بلاول بھٹو زرداری نے  پارلیمانی امور میں عدالت کی مداخلت اور آئین کی من مانی تشریح کے خلاف اقدام کرنے کا عندیہ دیا۔  بعد میں قومی اسمبلی نے  عدالتی اصلاحات کے لئے  مشترکہ پارلیمانی  کمیٹی بنانے کی قرار داد منظور کی۔  قرار داد میں کہا گیا ہے کہ ’ قوانین کی منظوری اور آئین میں ترمیم صرف پارلیمنٹ کا حق ہے۔ آئین انتظامیہ، مقننہ اور عدلیہ کے درمیان اختیارات تقسیم کرتا ہے۔ ریاست کا کوئی بھی ستون ایک دوسرے کے اختیارات میں مداخلت نہیں کر سکتا۔  آرٹیکل 175 اے کے تحت اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کے تقرر کی توثیق بھی پارلیمنٹ کا اختیار ہے۔  پارلیمنٹ عوامی امنگوں کا نمائندہ پلیٹ فارم ہے، پارلیمنٹ کسی ادارے کو اپنے اختیارات سے تجاوز کی اجازت نہیں دے گی‘۔

یہ قرارداد گزشتہ روز سپریم کورٹ میں فل کورٹ بنچ کے لئے حکومتی استدعا مسترد کرنے اور حمزہ شہباز کی بجائے پرویز الہیٰ کو منتخب وزیر اعلیٰ قرار دینے کے احکامات کا جواب ہے۔   یہ کہنا مشکل ہے کہ  جواتحادی حکومت متعدد چھوٹی چھوٹی پارٹیوں کے رحم و کرم پر کھڑی ہے، وہ کس حد تک سپریم کورٹ جیسے طاقت ور ادارے  کے اختیارات کو محدود کرسکے گی تاہم فوری طور سے اتحادی پارٹیوں نے  اپنے لئے  تنگ ہوتی سیاسی زمین  پر سختی  سے پاؤں گاڑنے اور کم از کم ایک سال تک حکومت چلانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔  حکومتی رہنماؤں کی تقریرں اور قومی اسمبلی کی قرار داد بظاہر سپریم کورٹ  کی طرف سے اختیارات کے ’بے جا استعمال‘ کے  بارے میں ہے لیکن بین السطور   عسکری اسٹبلشمنٹ کو بھی پیغام دیا گیا ہے کہ شہباز حکومت کو مشکل   مالی فیصلے کرنے پر آمادہ کرنے کے بعد  ’نیوٹرل‘ کے  ہونے کے بہانے  اسے تنہا چھوڑنے کا طریقہ قابل قبول نہیں ہے۔  گویا جیسے ہائبرڈ تجربے والا عمران خان  ’نیوٹرل‘ کو ایمانی صفت کے خلاف قرار دیتا ہے، اسی طرح عدم اعتماد  پراجیکٹ والا شہباز شریف بھی  ’نیوٹرل‘ کو  وعدہ خلافی اور پیٹھ کے پیچھے چھرا گھونپنے کے مصداق  کہہ  رہا ہے۔   شہباز شریف نے آج قومی اسمبلی میں جو تقریر کی ہے وہ اسٹبلشمنٹ کے تازہ ترین تجربہ کی ناکامی کا اعلان کہی جاسکتی ہے۔

’نیوٹرل‘ او ر عدلیہ  کو براہ راست چیلنج کرکے اسلام آباد تک محدود ہونے والی حکومت آخر کیا مقصد حاصل کرسکتی ہے؟ اس سوال کا جواب تو آسان نہیں ہے لیکن یہ واضح ہے کہ موجودہ حکومت کے پاس اب اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔  عسکری و جوڈیشل اسٹبلشمنٹ کو للکار کر ہی مسلم لیگ (ن) اس ووٹر کو واپس لانے کی امید کرسکتی ہے جو اس کی تازہ سیاسی قلابازی اور مشکل و ناقابل برداشت معاشی فیصلوں کی وجہ سے  اس سے نالاں دکھائی دیتے ہیں۔ یہ چیلنج کرنے کی پاداش میں  اگر  اسٹبلشمنٹ نواز کسی چھوٹی پارٹی کے ذریعے شہباز شریف کی حکومت گرانے کی کوئی بھی کوشش مسلم    لیگ (ن) کے لئے  سیاسی لائف لائن ثابت ہوسکتی ہے۔ دوسری طرف اگر  اتحادی پارٹیوں کی سیاسی سپیس محدود ہوئی  ہے تو  ملک کے موجودہ مالی حالت میں اسٹبلشمنٹ کے پاس بھی موجودہ حکومت گرانے کے امکانات کم ہوئے ہیں۔  ان حالات میں یا تو درپردہ  بقائے باہمی کا کوئی قابل عمل سمجھوتہ ضروری ہوگا یا ملک میں تصادم کی موجودہ صورت حال سنگین ہوگی  جس کی قیمت ملکی معیشت کو ادا کرنا پڑے گی۔

حکومت کو البتہ اب ایک بار  پھر کسی خفیہ  معاہدے کے فریب میں آنے کی بجائے بعض ایسے فیصلے کرنے چاہئیں جو ملک میں سیاسی انتظام  کا رخ متعین کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ اوّل:  سینارٹی کی بنیاد پر آرمی چیف کی تقرری کا اصول قانوناً نافذ کیا جائے اور سروسز چیفس کو عہدہ کی مدت میں توسیع دینے والی  قانونی ترمیم کو ختم کیا جائے۔ دوئم: اعلیٰ عدلیہ  میں  ججوں کی تقرری کا  اختیار جوڈیشل کمیشن سے واپس لے کر بااختیار پارلیمانی کمیٹی کے سپرد کیا جائے تاکہ ان تقرریوں کے نام پر   اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کا موجودہ حتمی اختیار  ختم ہوسکے۔

اتحادی جماعتیں اگر یہ دو فیصلے نافذ کرواسکیں تو  بھلے انہیں انتخابی سیاست میں فوری    کامیابی حاصل نہ  ہوسکے لیکن ملک میں جمہوری سفر کو درست راستے پر گامزن کرنے کا کارنامہ تو سرانجام دیا جاسکتا ہے۔ تاہم  یہ سوال جلی حروف سے دیوار پر لکھا ہے کہ کیا اسٹبلشنٹ کی انگلی پکڑ کر  سیاسی زندگی گزارنے والے شہباز شریف ایسے فیصلوں  کا حوصلہ کرسکتے ہیں؟

loading...