جنرل باجوہ کی سفارت کاری پر عمران خان کی پریشانی

وزارت خارجہ کی طرف سے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ  کی امریکی ڈپٹی سیکرٹری آف اسٹیٹ  وینڈی شرمن سے  بات چیت کی تصدیق کے ساتھ ہی تحریک انصاف کے چئیرمین نے اسے ملکی مفاد کے خلاف قرار  دیا ہے۔ انہوں نے ایک پیغام میں کہا کہ جب اس سطح پر امریکہ سے مدد مانگی جائے گی تو بدلے میں وہ بھی کچھ مراعات مانگیں گے۔ عمران خان کے خیال میں ایسی کوئی سہولت دو طرفہ احترام کو تباہ کرتی ہے اور ملکی  خود مختاری پر سودے بازی کے مترادف ہے۔

سابق وزیر اعظم   کا دعویٰ ہے کہ ان کی حکومت نے معیشت کو درست راستے پر گامزن کردیا تھا لیکن  سازش کے تحت ان کی حکومت ختم کرکے درحقیقت  پاکستانی عوام کے خلاف کارروائی کی گئی تھی۔ اب ملکی معیشت مسلسل دگرگوں ہے، ڈالر کی قیمت بڑھ رہی ہے، سرمایہ کاری رکی ہوئی ہے، عوام مسائل کا شکار ہیں۔  آرمی چیف اور امریکی  نائب وزیر خارجہ کے درمیان فون پر بات چیت کے حوالے سے ایک ٹی وی انٹرویو  مٰیں عمران خان کا کہنا تھا کہ’ مجھے  لگتا ہے اب آرمی چیف نے ذمے داری لے لی ہے۔ آرمی چیف کے امریکیوں سے رابطہ کرنے کی بات ٹھیک ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم کمزور ہوتے جارہے ہیں، یہ آرمی چیف کا تو کام نہیں‘۔ کیا امریکا جب ہماری مدد کرے گا تو ہم سے کوئی مطالبہ نہیں کرے گا؟ خطرہ ہے کہ ملک کی سیکیورٹی کمزور ہوگی، جو امریکہ کا مطالبہ رہا ہے۔

اس سے پہلے ’نیکائی ایشیا ‘نے  پاکستان میں اپنے نمائیندے کے حوالے سے خبر دی تھی کہ پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے امریکی  ڈپٹی سیکرٹری آف اسٹیٹ وینڈی شرمن سے فون پر بات کی ہے اور  ان سے آئی ایم ایف سے ملک  کو ملنے والے  1 ارب 20 کروڑ ڈالر کی قسط جلد ریلیز کروانے  کے لئے اثر و رسوخ استعمال کرنے کی اپیل کی ہے۔ یہ  گفتگو ایک ایسے  وقت میں ہوئی جب پاکستان  کے زرمبادلہ ذخائر شدید دباؤ کا شکار ہیں اور یہ قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں کہ پاکستان بھی  سری لنکا کی طرح ڈیفالٹ ہوسکتا ہے۔ قرضوں کی قسط ادا نہ کرنے کی صورت میں  کسی بھی ملک کے ساتھ عالمی تجارتی اداروں  کا لین دین متاثر ہوتا ہے اور وہ بنیاد ی ضرورت کی  اشیا بھی منگوانے کے قابل نہیں رہتا۔ جیسا کہ سری لنکا کے معاملہ میں مشاہدہ کیا جاچکا ہے کہ ڈیفالٹ ہونے کے بعد اس کے لئے کریڈٹ پر تیل و گیس یا ادویات تک دستیاب نہیں ہیں۔ دوسری طرف خزانہ خالی ہونے اور سیاحت کے علاوہ دیگر کاروبار تباہ ہونے کی وجہ سے  ملک کے پاس نقد ادائیگی کے لئے وسائل بہم نہیں۔ ان حالات میں سری لنکا میں اسکول بند ہیں ،  پیٹرولیم مصنوعات ناپید ہیں اور  بجلی کی فراہمی شدید تعطل کا شکارہے۔

 پاکستان بھی اگر  بین الاقوامی معاہدوں کے تحت کسی ایک معاملہ میں بھی بروقت ادائیگی نہ کرسکا  تو اسے بھی اسی قسم کی صورت حال کا سامنا ہوگا۔ معاشی روایت کے مطابق اپنی معاشی ذمہ داریاں پوری نہ کرنے والی معیشت پر کوئی بھی بھروسہ کرنے پر آمادہ نہیں ہوتا اور دنیا  کا ہر ملک اور ادارہ ایسے ملک سے  یہی کہتا ہے کہ اگر کچھ چاہئے تو نقد رقم دے کر خرید سکتے ہو۔ عام طور سے کمزور معیشت کے حامل  ممالک  ملکی معاشی ضروریات   زیادہ کرنسی نوٹ چھاپ کر پوری کرلیتے ہیں لیکن  بین الاقوامی مارکیٹ میں لین دین کرتے ہوئے بہر حال   کسی ہارڈ کرنسی میں ادائیگی کرنا ضروری ہوتا ہے۔ پاکستان کے ڈیفالٹ ہونے کی خبریں تو   مئی میں سری لنکا کے دیوالیہ ہونے کے بعد سے ہی سامنے آتی  رہی ہیں۔ دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ اپریل میں عمران خان کو عدم اعتماد کے ذریعے  اقتدار سے محروم کیا گیا تھا ۔ اس لئے عمران خان اور تحریک انصاف  نے  سری لنکا کی مثال اور اتحادی حکومت کی مالی مشکلات کو ملا کر عوامی  دلچسپی کے لئے خوب بڑھا چڑھا کر پیش کیا۔

اتحادی حکومت کے نمائیندوں کا دعویٰ رہا ہے کہ  عمران خان کی حکومت آئی ایم ایف سے بدعہدی کرکے اور عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ کے وقت پاکستان میں اسے کم کرنے کا اعلان کرکے معیشت میں ’بارودی سرنگیں ‘ بچھا گئی تھی۔ یہی نئی حکومت   کی اصل مشکل رہی ہے۔ اس کی اصلاح  اور بجٹ تیار  کرنے کے لئے عالمی مالیاتی فنڈ سے تعلقات بحال کرنا ضروری تھا لیکن سابقہ بدعہدی  کی وجہ سے یہ کام آسان نہیں تھا۔  حکومت کا دعویٰ ہے کہ اب معیشت درست راستے پر آرہی ہے ، آئی ایم ایف سے اسٹاف کی سطح پر معاہدہ ہوگیا ہے جس کا مطلب ہے کہ پاکستانی حکومت نے آئی ایم ایف کی تمام مالی شرائط کو نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسی کے نتیجہ میں ملک میں انرجی کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہؤا اور عوام کی اکثریت اپنے بجٹ پر  پڑنے والے دباؤ کی تمام تر ذمہ داری شہباز حکومت پر ڈال رہی ہے۔ اس کا ایک اشارہ پنجاب کے ضمنی انتخاب میں دیکھنے میں بھی  آیا ہے جن میں مسلم لیگ (ن) کو اپنے گڑھ میں شرمناک ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا اور پنجاب حکومت سے محروم ہونا پڑا۔

اس کے برعکس عمران خان  کا دعویٰ رہا ہے کہ اس ساری خرابی کی ذمہ داری شہباز حکومت پر عائد ہوتی ہے کیوں کہ   وہ ملک کا فائدہ کرنے کی بجائے اپنی چوری چھپانے کے لئے نیب جیسے ادارے کو کمزور کرنے کے قانون بنا رہے ہیں لیکن عوام کے مسائل کا کوئی  خیال نہیں ہے۔   جب وہ اپنے دور حکومت میں بہتر معاشی کارکردگی کی بات کرتے ہیں تو  معاشی  میکنزم سے ناآشنا عام لوگوں کو ان کی باتوں میں ’دم‘ دکھائی  دیتا ہے۔  اس کا سب سے اہم پیمانہ اس وقت ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر بن چکی ہے۔ اب عمران خان بھی کہتے ہیں کہ میرے وقت میں ڈالر پونے دو سو روپے کا تھا لیکن وہ یہ نہیں بتاتے کی غیریقینی مالی حالات کی وجہ سے ان کے دور میں ہی ڈالر کی اڑان شروع ہوچکی تھی۔ غیر ملکی امداد میں کثیر مقدار میں ڈالر ملنے کے  باوجود عمران خان کے دور حکومت میں   ڈالر کی قدر میں  70 روپے کا اضافہ ہؤا تھا اور ایک ڈالر اگست 2018 میں 120 روپے کے مقابلے میں اپریل 2022 میں  190 روپے تک پہنچ گیا تھا۔

سیاسی چپقلش میں ایک دوسرے کو مطعون کرنے کی کوشش میں ملکی سیاست دان یہ فراموش کربیٹھے ہیں کہ عالمی مارکیٹ  میں   ملکی معیشت پر  اعتماد بحال کرنے کی  ذمہ داری تمام  سیاسی پارٹیوں پر عائد ہوتی ہے۔  ملکی معیشت تباہی کے موجودہ مقام تک ایک دو سال  میں نہیں پہنچی بلکہ زوال کا یہ سفر بہت پہلے سے شروع ہوچکا ہے ۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کا حلیف بن کر پاکستان عارضی امداد لیتا رہا  اور ملک میں پیداواری صلاحیت بڑھانے، آمدنی میں اضافہ کرنے اور معاشی نظام کو  دستاویز  کرنے  کے لئے کام نہیں کیا  گیا۔  ملک اس وقت جس مالی مشکل کا سامنا کررہا ہے  اس کا آغاز تب ہؤا جب  سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستانی حکام پر امریکہ کو دھوکہ دینے کا الزام لگاتے  ہوئے  پاکستان کی ہمہ قسم امداد بند کردی تھی۔ پھر زور شور سے طالبان کے ساتھ دوحہ معاہدے کے بعد  افغانستان سے امریکی  فوج نکل جانے کے بعد  پاکستان  میں امریکہ کی رہی سہی دلچسپی بھی ختم ہوگئی۔ عمران خان کے مشیر   جب میڈیا میں صدر جو بائیڈن کا فون نہ آنے پر شدید برہمی کا  اظہار کررہے تھے، تو وہ امریکہ کے ساتھ پاکستان کے  تعلقات کی نوعیت  کا درست اندازہ لگانے میں کامیاب نہیں تھے۔  یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے کسی ٹھوس معاشی منصوبہ پر کام کرنے کی بجائے داخلی طور سے سیاسی   جنگ و جدل کا ماحول برقرار رکھا۔  جب تک ملک میں  سیاسی دھڑے بازی  میں توانائی ایک دوسرے کو نیچا دکھانے پر صرف  ہوتی رہے گی، اس وقت تک کسی ملک کی معیشت  کی بحالی ممکن نہیں ہوسکتی۔ یہ صورت حال اب بھی موجود ہے۔

پاکستانی سیاست میں مسائل  کا ذکر کرکے ان کا حل تجویز کرنے کی روایت موجود نہیں ہے۔  بلکہ مسائل کا حوالہ دے کر یہ بتایا جاتا ہے کہ  یہ مسئلے مخالف سیاسی گروہ کی  وجہ سے پیدا ہوئے ہیں۔ مل جل کر  معیشت کے ڈوبتے جہاز کو بحران سے نکالنے کی بات نہیں کی جاتی بلکہ جذباتی نعرے لگا کر یہ باور کروایا جاتا ہے کہ  ’خودداری‘ سے کام لیا جاتا تو صورت حال تبدیل ہوجاتی۔ سری لنکا کے ڈیفالٹ کے بعد جب پاکستان کے حوالے سے ایسی ہی افواہوں کو تبصروں اور تجزیوں میں جگہ دی جانے لگی تو   نیم پختہ تجزیہ نگار اصرار سے پاکستانی عوام کو یہ باور کروانے پر  مصر  تھے کہ عالمی طاقتیں پاکستان کو ڈیفالٹ نہیں ہونے دیں گی کیوں کہ پاکستان ایک ایٹمی قوت ہے۔ اسی طرح عمران خان نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ بگڑتی معاشی صورت حال میں پاکستان کے جوہری اثاثے خطرے کا شکار ہوسکتے ہیں۔ آج جنرل باجوہ اور  وینڈی شرمن کی گفتگو پر بات کرتے ہوئے بھی انہوں نے اس ’امریکی تعاون‘ کے نتیجہ میں ملکی سیکورٹی پر سودے بازی  کا اندیشہ ظاہر کیا ہے۔ حالانکہ ایسے دلائل کا حقائق  سے تعلق نہیں ہوتا۔ اگر کسی ملک کی معیشت بیٹھ جائے تو اس کے ایٹمی ہتھیار  بھی اسے ڈوبنے سے نہیں بچا سکتے جیسا کہ سوویٹ یونین کے زوال کی صورت میں مشاہدہ کیا جاچکا ہے۔  اسی طرح دو ملکوں کے درمیان معاملات   اتنے سادہ نہیں ہوتے کہ  ایک ٹیلی فون  کال کے نتیجہ میں ملک کی دفاعی صلاحیتیں متاثر ہوجائیں۔

عمران خان کی یہ بات درست ہے کہ جنرل باجوہ  کا ملکی معاشی معاملات سے کوئی تعلق نہیں ہونا چاہئے۔ اگر انہوں نے امریکی ڈپٹی وزیر خارجہ سے  مشکل میں تعاون کی درخواست کی ہے تو یہ ان کے  مینڈیٹ اور اختیار کے برعکس طرز عمل ہے۔ لیکن عمران خان کی حکومت میں تو جنرل باجوہ وزیر خزانہ ہی نہیں وزیر خارجہ کے طور  پر بھی ’خدمات‘ سرانجام دیتے رہے ہیں۔ جب بھی  عمران حکومت  کو سعودی عرب، چین یا کسی دوسرے دوست ملک سے کسی مشکل کا سامنا ہؤا تو آرمی چیف نے ہی اسے حل کروانے میں کردار ادا کیا تھا۔ آرمی چیف کے  کردار کو عسکری شعبہ تک محدود کرنے کی خواہش اسی وقت پوری ہوسکے گی جب سیاسی جماعتیں امر باالمعروف یا معاشی تباہی کے نام پر  اپنے اقتدار کے لئے فوج سے مدد لینے کا طریقہ ترک کریں اور مسائل مل جل کر حل کرنے کی کوشش کی جائے۔  بدقسمتی سے عالمی اداروں میں پاکستان کا اعتبار ختم ہوچکا ہے۔ سیاسی انارکی اور  اسلام آباد میں بے اختیار حکومت کی موجودگی میں  فوج کا سربراہ ہی وعدوں پر عمل درآمد کی ضمانت فراہم کرسکتا ہے۔    

امریکہ سمیت تمام ممالک اب یہ سمجھنے لگے ہیں کہ پاکستان کے ساتھ معاملہ کرتے ہوئے فوج کو شامل کرنا ضروری ہے۔  یہ صورت حال پیدا کرنے میں صرف فوج کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔  ملکی سیاست دانوں نے ایک دوسرے کی کردار کشی کے شوق میں  خود کو بے اعتبار کیا  ہے جس کی قیمت قوم و ملک کو ادا کرنا پڑرہی ہے۔

loading...