چیف جسٹس صاحب کے لئے فیصلے کی گھڑی ہے!

گزشتہ ہفتے کے دوران  سپریم کورٹ اور حکومت میں  دراڑ واضح ہونے کے بعد  سپریم کورٹ کے ججوں   میں گروہ بندی بھی سامنے آنے لگی ہے۔   نئے ججوں کی تقرری کے سوال پر   جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کی کارروائی اور اس  کے بارے میں پریس ریلیز پر   اختلافات کے بعد چیف جسٹس اور کمیشن کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال نے کارروائی کی آڈیو پبلک کرنے کا اعلان کیا تاکہ ان کا نقطہ نظر ’درست ‘ ثابت  ہوسکے۔

دو گھنٹے سے زائد اس آڈیو میں کوئی ایسی بات نہیں ہے   جو پہلے  سے میڈیا میں رپورٹ نہیں ہوگئی تھی یا  سپریم کورٹ کے دو سینئر ججوں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس  سردار طارق مسعود  کے خطوط سے  عام مطالعے میں نہیں آئی تھی۔ ان خطوط میں یہ مؤقف اختیار کیاگیا تھا کہ   جوڈیشل کمیشن کی طرف سے کارروائی کے بارے میں جو پریس ریلیز جاری کی گئی تھی ، وہ  گمراہ کن تھی۔  پریس ریلیز میں  کہا گیا تھا کہ سپریم کورٹ میں  نئی نامزدگیوں  کے لئے چیف جسٹس کے   تجویز کردہ پانچوں ناموں پر غور کمیشن کی اگلی نشست تک مؤخر کردیا گیا ہے تاکہ چیف جسٹس امیدواروں کے حوالے سے  مزید معلومات فراہم کریں  اور  نئی تقرریوں کے بارے میں  بہتر انداز میں فیصلہ کیا جاسکے۔ تاہم جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس  سردار طارق مسعود کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس نے جو پانچ نام تجویز کئے تھے ، ان میں سے 4 ناموں کو کمیشن نے پانچ چار کی اکثریت سے  مسترد کردیا تھا۔   اس کے علاوہ  چیف جسٹس کے اچانک اجلاس چھوڑ کر چلے جانے کی وجہ سے یہی واضح نہیں ہوسکا تھا کہ اجلاس ختم ہوگیا ہے اور حتمی فیصلہ کیا ریکارڈ کیا گیا ہے۔

یہ اختلافی خطوط سامنے آنے کے بعد چیف جسٹس عمر عطابندیال نے درحقیقت پریس ریلیز کو ’درست‘ اور اپنے ساتھی سینئر  ترین ججوں کے مؤقف  کو ’غلط‘ ثابت کرنے کے لئے اجلاس کی  دوگھنٹے سے زائد کی آڈیو ریکارڈنگ جاری کرنے کا فیصلہ کیا۔  اس سے قطع نظر کہ اس ریکارڈنگ سے کس کا مؤقف درست ثابت ہوتا  ہے  ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کے ججوں کے درمیان اختلاف رائے کا عام ہونا اور ایک دوسرے کو ’جھوٹا‘ ثابت کرنے کے لئے عوامی مباحث کی وجہ بننا کسی طور بھی ملکی عدلیہ  کے لئے نیک نامی کا سبب نہیں ہوسکتا۔ یہ  واضح اختلاف خاص طور سے  یوں  تکلیف دہ اور ملک و قوم کے لئے براہ راست خطرناک ہوسکتا ہے کہ چیف جسٹس نے حال ہی میں حکومتی پارٹیوں اور وکلا تنظیموں  کی درخواست پر  آئینی شق 63 اے   کی تشریح، اس کے  تحت پنجاب  کے وزیر اعلیٰ کے انتخاب کے حوالے سے متضاد فیصلے  پر فل کورٹ بنانے اور اس آئینی نکتہ کو سب کے اطمینان و تسلی کے لئے حل کرنے   کی تجویز مسترد کردی تھی۔ جسٹس عمرعطا بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن  اور جسٹس منیب اختر  پر مشتمل تین رکنی بنچ کو ہی  حکم صادر کرنے کے لئے  ’کمپیٹنٹ اتھارٹی‘ قرار دیا تھا۔

اس عمل میں پہلے پانچ رکنی بنچ نے صدارتی ریفرنس پر غور کیا تھا جس کے نتیجے میں انہی تین ججوں  نے قرار دیا کہ پارٹی قیادت کی ہدایت کے برعکس ووٹ دینے والے ارکان اسمبلی کے ووٹ شمار  نہیں کئے جاسکتے۔ تاہم بنچ کے دو ارکان جسٹس جمال مندوخیل اور جسٹس مظہر عالم میاں خیل نے اسےسپریم کورٹ کے اختیار سے تجاوز اور آئین کو ازسر نو لکھنے کے مترادف  کہاتھا۔   اس کے باوجود قانونی کشمکش کے پہلے دور میں  پنجاب کے  وزیر اعلیٰ کے طور  پر حمزہ شہباز کا انتخاب اس لئے مسترد  کردیا گیا کہ تحریک انصاف کے 25 منحرف ارکان نے  عمران خان کی ہدایت کے برعکس پرویز الہیٰ کی بجائے حمزہ کوووٹ دیا تھا۔ تاہم دوسرے مرحلے میں جب پارٹی لیڈر چوہدری شجاعت حسین کے حکم کے خلاف ووٹ دینے پر  ڈپٹی اسپیکر نے  مسلم لیگ (ق) کے ووٹ مسترد کئے تو سپریم کورٹ کے انہی تین ججوں نے اسے  بھی غلط قرار دیا اور  حمزہ  شہباز کی بجائے پرویز الہیٰ کو وزیر اعلیٰ پنجاب بنانے کا حکم دیا۔

اہم سیاسی معاملات میں   چیف جسٹس اور ان کے  چند پسندیدہ ججوں کی طرف قانون و آئین کی  مخصوص تشریح سے ملکی سیاست پر گہرے اور سنگین نتائج مرتب ہورہے ہیں۔   اعلیٰ عدلیہ کا کوئی فیصلہ اختلافی ہونے کے باوجود اس صورت میں تو قابل قبول ہوتا ہے جب عدالت کے جج بھی متوازن رویہ کا مظاہرہ کریں اور  اس تاثر کو زائل کرنے میں پیش پیش ہوں کہ وہ جانبداری کا مظاہرہ نہیں کرتے اور اگر کسی فریق کو  کسی جج   پر اعتماد نہ ہو تو وہ خود ہی کسی ایسے بنچ میں شریک نہ ہو جس میں متعلقہ فریق  کا کوئی مقدمہ زیر غور ہو۔ مریم نواز اور مسلم لیگ (ن) کے متعدد لیڈر جسٹس اعجاز الاحسن پر جانبداری کا الزام لگا چکے ہیں اور ان کا مؤقف ہے کہ  پارٹی کے خلاف ہر مخالفانہ فیصلے میں وہ  ضرور شامل ہوتے ہیں۔ سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے تو یہاں تک کہا تھا کہ  جن ججوں نے پاناما کیس میں نواز شریف کے خلاف فیصلہ دیا تھا ، وہ مسلم لیگ (ن) کے مقدمات نہ سنیں۔ لیکن ان مطالبوں پر غور نہیں کیا گیا۔ حالانکہ شق 63 اے کے حوالے سے پیدا ہونے والے تنازعہ میں  فل کورٹ بنچ بنانے کی تجویز  مان کر  اس تاثر کو باطل ثابت کیا جاسکتا تھا کہ  عدالت عظمی کا کوئی جج ’متعصب یا جانبدار‘ ہے۔  چیف جسٹس نے اس  نادر موقع کو اپنی  ہٹ دھرمی کی وجہ سے ضائع کردیا۔

اس کے چند ہی روز بعد  جوڈیشل کمیشن آف پاکستان میں پیدا ہونے والا اختلاف اور اس کے بارے میں پبلک بیانات سے  اب یہ تاثر عام ہوگا کہ چیف جسٹس  نے  کسی قانونی یا عملی مجبوری کی وجہ سے فل کورٹ  بنانے سے انکار نہیں کیا تھا بلکہ  انہیں اندیشہ تھا کہ فل کورٹ بنچ کی اکثریت شاید  ایک اہم آئینی معاملہ پر وہ رائے نہیں دے گی  جس پر وہ اور ان کے چند دوست جج متفق ہیں۔ یہ ایک خطرناک طرز عمل ہے۔ کسی چیف جسٹس کو اپنی ذاتی رائے کو اس قدر اہم  جاننے  کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔ قانونی معاملات میں چیف جسٹس کی حیثیت بھی ایک جج ہی کی ہے جسے کسی بنچ میں ایک ہی ووٹ دینے کا حق حاصل ہوتا ہے۔ تاہم اگر چیف جسٹس بنچوں کی تشکیل یا تجاویز وغیر دینے کے انتظامی اختیارات کی وجہ سے اپنے ایک ووٹ کی اہمیت میں اضافہ کرنے کی کوشش کریں تو اس سے پورا نظام انصاف تباہ ہوسکتا ہے۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کو  اس صورت حال میں ایک قانونی یا آئینی نکتہ یا ایک واقعہ کے حوالے سے نہیں بلکہ  مستقبل میں ایسے فیصلوں کے مضمرات کو پیش نظر رکھ کر وسیع تر  حکمت کو بروئے کار لانے کی پالیسی پر عمل کرنا چاہئے۔

جوڈیشل کمیشن آف پاکستان  کی کارروائی کے حوالے سے سامنے آنا والا اختلاف بھی  ایک خاص طریقہ کار پر اصرار کرنے کی وجہ سے پیدا ہورہا ہے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور  جوڈیشل کمیشن میں  ان  کے ہم خیال ارکان کا  کہنا ہے کہ  سپریم  کورٹ میں ججوں کی تقرری صرف چیف جسٹس کی صوابدید سے  نہیں ہونی چاہئے بلکہ اس میں سینارٹی کے اصول کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔ یہی سوال ماضی میں جسٹس  عائشہ ملک کی سپریم کورٹ میں تعیناتی کے وقت بھی  سامنے آیا تھا۔ سابق چیف جسٹس گلزار احمد نے  اصرار کرکے اور کمیشن کے ایک ریٹائر  ہونے والے رکن کی جگہ اپنا ہم خیال رکن شامل کرواکے اس تقرری کے لئے اکثریت حاصل  کرلی تھی۔ اختلاف کے باوجود    اس فیصلہ کو کسی خاتون کو  عدالت عظمی میں  موقع دینے کے عذر پر قبول  کرلیا گیا تھا۔  لیکن اب  چیف جسٹس عمر عطا بندیال اصرار کررہے ہیں کہ صرف سینارٹی کی بنیاد پر کسی کو سپریم کورٹ کا جج نہیں بنانا چاہئے بلکہ اس کے دیگر کوائف اور صلاحیت پر بھی غور کرنا چاہئے۔ جوڈیشل کمیشن کے حالیہ  متنازعہ اجلاس میں اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے یہی نکتہ اٹھایا ہے کہ   پھر یہ  بھی طے ہونا چاہئے کہ سینارٹی کے علاوہ  کسی جج کو سپریم کورٹ میں شامل کرنے کے لئے کن اوصاف پر غور کرنا ضروری  ہوگا؟ ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے طریقہ کار واضح ہونا چاہئے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سینارٹی کے اصول کے حامی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ صوبائی ہائی کورٹس کے  چیف جسٹسز کو نظر انداز کرکے دوسرے ججوں کو سپریم کورٹ کا جج بنانا درست طریقہ نہیں ہے۔  عدالت عظمی کے سینئر جج اور جوڈیشل کمیشن کے سینئر رکن کے طور پر ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ تمام  جج اور ارکان مساوی حق رکھتے ہیں اور ان کا ایک ایک ووٹ ہی ہوتا ہے۔ اس لئے یہ طریقہ بھی ناقابل قبول ہے کہ صرف چیف جسٹس ہی  نئے ججوں کے نام تجویز کرسکتے ہیں۔  بلکہ سب ارکان کو یہ حق حاصل ہونا چاہئے۔ اٹارنی جنرل اور  جوڈیشل کمیشن کے  دیگر سینئر ارکان کی تجاویز پر غور کرنے اور  ججوں کی تقرری کا کوئی قابل قبول میکنزم بنانے کی بجائے اختلاف کرنے والے ججوں کو مطعون کرنے کی کوئی بھی کوشش ملکی عدالتی نظام کو مشکوک اور ناقابل قبول بنا دے گی۔  حال ہی میں  رونما ہونے والے  واقعات سے پہلے ہی یہ تاثر قوی ہورہا ہے  کہ سپریم  کورٹ میں ججوں کا ایک گروہ خاص سیاسی وابستگی رکھتا ہے   جس کی وجہ سے عمران خان اور تحریک انصاف کو غیر معمولی ریلیف مل رہا ہے۔

تحریک انصاف کے لیڈروں کے بیانات سے   ایسے ججوں کے لئے قبولیت کے بیانات اور جوش و خروش سے اس   تاثر کو تقویت ملتی ہے۔ چیف جسٹس نے ایک خاص سیاسی پارٹی کی طرف سے سپریم کورٹ کے ججوں کو ’اپنا قرار دینے‘ کے اس طرز عمل کا کوئی نوٹس نہیں لیا۔ حالانکہ یہ رویہ بظاہر توہین عدالت کے معلوم معاملات  کے مقابلے میں   عدلیہ کی غیر جانبداری کے لئے  زیادہ خطرناک اور ججوں کی شہرت اور عزت و وقار کے لئے  زیادہ نقصان دہ ہے۔ اگر کوئی پارٹی بعض ججوں کو ’اپنا‘  سمجھنے اور کہنے  لگے  اور جج بھی اس پر خاموشی سادھ لیں تو اس صورت حال کے سیاسی و انتظامی مضمرات سے درگزر ممکن نہیں ہے۔ آخر کوئی وجہ تو ہوگی کہ ماضی میں  مختلف مقدمات میں سیاسی لیڈروں کو لاکھوں کے  مچلکے جمع کروانے کا حکم دینے والی زیریں عدالتیں اب عمران خان کو ضمانت دیتے ہوئے پانچ ہزار کا مچلکہ بھی کافی سمجھتی ہیں۔ عدالتی نظام میں’ امتیازی سلوک‘  کا یہ  طریقہ ملکی عدلیہ کی رہی سہی ساکھ کی  تباہی کا سبب بنے گا۔ عالمی   تجزیوں میں پاکستانی عدلیہ کو پہلے ہی نچلے درجوں میں رکھا جاتا ہے۔

تحریک انصاف نے  چیف الیکشن کمشنر کو بدنام کرنے کی شدید مہم چلانے کے بعد اب  سکند سلطان راجہ کے خلاف جوڈیشل کونسل میں ریفرنس بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔  واضح رہے کہ  الیکشن کمیشن  نے تحریک انصاف کے خلاف  فارن فنڈنگ کیس میں فیصلہ محفوظ کیا ہؤا ہے۔  ایک روز پہلے ہی  برطانیہ کے فنانشل ٹائمز نے اس بارے میں  شرمناک معلومات عام کی ہیں۔  اب تحریک انصاف چیف الیکشن کمشنر کے خلاف چیف جسٹس عمر عطا بندیال  کی سربراہی میں کام کرنے والی جوڈیشل  کونسل  کو ریفرنس بھیج  رہی ہے۔

 دیکھنا ہوگا کہ چیف جسٹس اس موقع پر ایک اہم آئینی ادارے کے سربراہ  کو مضبوط کریں گے یا ایک  سیاسی پارٹی کی خواہش پوری کرنے کی کوشش کریں گے۔  چیف جسٹس صاحب  کو جاننا چاہئے کہ اگر وہ اپنی ذات سے بلند ہوکر فیصلے نہ کرسکے تو ملکی عدالتی تارٰیخ  انہیں اچھے نام سے یاد نہیں کرے گی۔

loading...