ممنوعہ فنڈنگ کیس : ملک ایک نئے طوفان کے دہانے پر

الیکشن کمیشن نے پاکستان تحریک انصاف کے ممنوعہ فنڈنگ کیس کا فیصلہ سنانے کا اعلان کیا ہے۔ یہ مقدمہ  پارٹی کی ناجائز فنڈنگ اور اس حوالے سے غلط معلومات فراہم کرنے اور پارٹی چئیرمین کے طور پر عمران خان کی  طرف سے  الیکشن کمیشن  کے پاس جھوٹا بیان  جمع کروانے کے بارے میں ہے۔  کمیشن  منگل کو اس معاملہ میں جو فیصلہ بھی صادر کرے،  پاکستانی سیاست پر اس کے دوررس اثرات محسوس کئے جائیں گے۔

یہ مقدمہ گزشتہ  آٹھ برس سے زیر غور رہا ہے جس میں سے چار سال تو صرف سکروٹنی  کمیٹی نے پارٹی اکاؤنٹس کی تحقیقات کرنے اور رپورٹ تیار کرنے میں صرف کئے ۔ باقی ماندہ سالوں میں تحریک انصاف نے اس مقدمہ پر کارروائی رکوانے یا اسے تعطل کا شکار  کرنے کے لئے ہر ہتھکنڈا اختیار کیا۔ حتی کہ  اس مقدمہ  کے فیصلہ میں غیر ضروری  تاخیر پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے اپریل میں الیکشن کمیشن کو ممنوعہ فنڈنگ کیس کا فیصلہ ایک ماہ میں سنانے کا حکم دیا تھا تاہم تحریک انصاف کی انٹرا کورٹ اپیل میں اس فیصلہ کو تبدیل کردیا گیا۔ اعلیٰ عدالتیں شاذ و نادر ہی اپنے فیصلہ کے خلاف اپیل پر نظر ثانی  کرتی ہیں لیکن اس معاملہ میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے تحریک انصاف کو یہ سہولت دینے کا اقدام بھی کیا۔ ججوں کے ذہن میں یہی رہا ہوگا کہ اگر ایک ماہ میں فیصلہ پر اصرار کیا گیا تو تحریک انصاف  کو یہ شکوہ رہے گا کہ اس معاملہ کا فیصلہ عجلت میں دینے کی وجہ سے اسے نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

رواں برس 21 جون کو الیکشن کمیشن نے   اس کیس پر سماعت مکمل کرکے  فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔  جو منگل کو صبح دس بجے سنایا جائے گا۔  بادی النظر میں کہا  جاسکتا ہے کہ  تحریک انصاف کو اس فیصلہ سے نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے کیوں کہ اس نے ہر مرحلہ پر نہ صرف اس مقدمہ کو غلط قرار دیا بلکہ اسے مؤخر  یا معطل کروانے کے لئے ہر قانونی حربہ بھی استعمال کیا۔ پارٹی قیادت کو بھی  اس معاملہ میں بے قاعدگیوں کا اندازہ ہے جس کی وجہ سے حیلے بہانے سے اس معاملہ کوکم اہم اور غیر ضروری قرار دینے کی کوششش کی جاتی رہی ہے۔ حالیہ مہینوں میں  عمران خان کی تند مزاج سیاسی مہم جوئی اور الزام تراشی کے ماحول میں اتحادی حکومت  نے متعدد بار الیکشن کمیشن پر زور دیا تھا کہ   ممنوعہ فنڈنگ کیس کا فیصلہ سنایا جائے تاکہ عمران خان اور تحریک انصاف کی پوزیشن واضح ہوسکے۔

 گزشتہ دنوں اس حوالے سے  حکومتی پارٹیو ں کے ایک وفد نے    چیف الیکشن کمشنر  سکندر سلطان راجہ  اور کمیشن کے دوسرے ارکان سے ملاقات بھی کی تھی۔ تحریک  انصاف نے اس ملاقات کو الیکشن کمیشن کے جانبداری کا ’ثبوت‘ کہتے ہوئے  چیف الیکشن کمشنر کے خلاف جوڈیشل ریفرنس دائر کرنے کا اعلان  کیا تھا۔ حالانکہ سیاسی لیڈروں سے کمیشن کی ملاقاتیں معمول کا حصہ ہیں ۔ تحریک انصاف کے متعدد لیڈر ماضی قریب میں  چیف الیکشن کمشنر اور دیگر ارکان سے ملتے رہے ہیں۔ تاہم  تحریک انصاف گزشتہ کچھ عرصہ سے الیکشن کمیشن اور بطور خاص چیف الیکشن کمشنر کے خلاف مہم جوئی کرتی رہی ہے۔ حال ہی میں عمران خان نے یہ مؤقف بھی اختیار کیا ہے کہ آئیندہ انتخابات کے لئے موجودہ الیکشن کمیشن ختم کرکے ’اتفاق رائے‘ سے نیا الیکشن کمیشن قائم کیا جائے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سکندر سلطان راجہ کو جنوری 2020 میں عمران خان نے ہی بطور وزیر اعظم پانچ سال کے لئے تعینات کیا تھا۔ تاہم  نومبر 2021 میں ڈسکہ کے ضمنی انتخاب  میں الیکشن کمیشن کے جرات مندانہ فیصلوں کی وجہ سے عمران خان اور تحریک انصاف کو ان سے شکایات پیدا ہوئیں جو اب ان کی علیحدگی یا جوڈیشل کونسل کے ذریعے نااہلی کی کوششوں تک جا پہنچی ہیں۔ قیاس کیا جاسکتا ہے کہ  جس شخص کو اپنا ہی مقرر کردہ چیف الیکشن کمشنر منظور نہیں  ہے ، وہ  شدید سیاسی مخالف شہباز شریف کا مقرر کردہ  نیا چیف الیکشن کمشنر کیسے قبول کرلے  گا۔ لیکن اس وقت الیکشن کمیشن کے علاوہ  سکندر سلطان راجہ کے خلاف  بیان بازی عمران خان اور تحریک انصاف کی سیاسی حکمت عملی  میں کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔

حکومتی پارٹیاں ممنوعہ فنڈنگ کیس کا فوری فیصلہ سنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے واضح کرتی رہی ہیں کہ عمران خان اس کیس کی نزاکت، حساسیت اور اہمیت کی وجہ سے الیکشن کمیشن کو دباؤ میں لانا چاہتے ہیں۔ جبکہ عمران خان کا کہنا ہے کہ اس کیس میں کوئی ثبوت یا شواہد نہیں ہیں۔ لیکن اگر تحریک انصاف کی ممنوعہ فنڈنگ کیس کا فیصلہ سنانا ہی ہے تو دوسری پارٹیوں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے خلاف ایسے ہی معاملات کا فیصلہ بھی اس کے ساتھ ہی سنایا جائے۔  قانونی معاملات میں ایسے سیاسی مطالبات کا ایک ہی مقصد ہے کہ کسی بھی طرح الیکشن کمیشن کے خلاف شبہات  پیدا کئے جائیں  تاکہ کوئی مشکل اور ناقابل قبول فیصلہ سامنے آنے کی صورت میں  دفاعی لائحہ عمل موجود ہو۔  منگل کو سامنے آنے والے فیصلہ میں خواہ  تحریک انصاف کو  اس الزام میں کسی بڑی تادیبی کارروائی کا سامنا نہ بھی کرنا پڑے لیکن معاملہ کی تفصیلات دستاویزی صورت میں  سامنے آسکتی ہیں۔ تحریک انصاف انہیں مسترد کرنے اور خود کو   شفاف ثابت کرنے کا کوئی موقع ضائع نہیں کرے گی۔ الیکشن کمیشن کے کسی بھی فیصلہ کو ممکنہ طور پر اعلیٰ عدلیہ میں چیلنج کیا جائے گا۔

عام تاثر یہ ہے کہ اس وقت ملک کی اعلیٰ عدالتیں تحریک انصاف اور عمران خان کے بارے میں نرم رویہ رکھتی ہیں اور مسلم لیگ (ن) یا پیپلز پارٹی کے لیڈروں کے مقابلے میں انہیں آسانی سے ریلیف فراہم کیا جارہا ہے۔ اس کی ایک مثال تو حال ہی میں اسلام آباد کی ایک عدالت نے  قائم کی ہے جب آزادی مارچ کے دوران توڑ پھوڑ اور دہشت گردی جیسے الزامات میں عمران خان کی ضمانت  قبل از گرفتاری لیتے ہوئے محض پانچ ہزار روپے کا مچلکہ جمع کروانے کا حکم دیا گیا۔ ماضی میں دوسرے سیاسی لیڈروں کو ایسی ہی سہولت دینے کے لئے لاکھوں روپے کا زر ضمانت طلب کیاجاتا رہا ہے۔  اسی طرح   آئین کی شق 63 اے کے صدارتی ریفرنس اور پنجاب کے وزیر اعلیٰ کے انتخاب  پر سپریم کورٹ کے فیصلوں  سے پیدا ہونے  والا تنازعہ بھی اسی ایک نکتہ پر ہے کہ عدالت عظمی کے بعض جج تحریک انصاف کے بارے میں نرم گوشہ رکھتے ہیں اور میرٹ پر فیصلے کرنے سے گریز کیا جارہا ہے۔  اس پس منظر میں یہ یقینی ہے کہ الیکشن کمیشن کے کسی ناخوشگوار فیصلہ کی صورت میں تحریک انصاف اعلیٰ عدالتوں سے فوری ریلیف لینے کی کوشش کرے گی۔ الیکشن کمیشن اگر تحریک انصاف پر پابندی لگانے یا جھوٹا بیان دینے پر عمران خان کو سیاست سے نااہل  کرنے کا اعلان کرتا ہے  اور اعلیٰ عدلیہ ان احکامات کو فوری طور سے معطل کرتی ہے تو ملک میں تصادم اور سیاسی بے چینی کا ایک ناختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوسکتا ہے۔

تحریک انصاف کے خلاف ممنوعہ  فنڈنگ کا کیس  پارٹی کے بانی رکن اکبر ایس بابر سامنے لائے تھے جنہوں نے دستاویزی شواہد کے ساتھ یہ  واضح کیا کہ تحریک انصاف  کو ممنوعہ ذرائع سے کثیر رقوم  ملتی رہی ہیں اور انہیں چھپانے کے لئے مختلف ہتھکنڈے اختیار کئے گئے ۔  تین روز قبل   تحلیل شدہ ابراج گروپ کے بانی  عارف نقوی کی طرف سے  تحریک انصاف کی فنڈنگ کے حوالے سے سنسنی خیز  معلومات بھی سامنے آچکی ہیں۔ عمران خان کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے عارف نقوی سے کوئی ناجائز فنڈ وصول نہیں کئے بلکہ تمام سیاسی جماعتیں ایسے ہی فنڈ ریزنگ کرتی ہیں۔   انہوں نے  عارف نقوی کو پاکستان کا  ’ابھرتا ہؤا ستارہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کی وجہ سے پاکستان کو بہت فائدہ ہوسکتا تھا۔ عارف نقوی کے حوالے سے  سامنے آنے والی خبروں  کو رد کرتے ہوئے تحریک انصاف کے ذرائع منی لانڈرنگ کے حوالے سے دلائل دیتے بھی دکھائی دیے۔ واضح رہے  عارف نقوی اس وقت برطانیہ میں تقریباً نظربندی کی زندگی کی گزار رہے ہیں۔ انہیں خرد برد اور دھوکہ دہی کے کئی مقدمات کا سامنا ہے۔ برطانوی عدالتوں میں انہیں امریکہ کے حوالے کرنے کے خلاف مقدمہ زیر سماعت ہے۔ امریکہ عارف نقوی پر کثیر رقوم  کے خردبرد اور منی لانڈرنگ جیسے الزامات عائد کرتا ہے۔   عارف نقوی اپریل 2019 گرفتاری سے پہلے عالمی مالیاتی دنیا میں اہم شخصیت سمجھے جاتے تھے تاہم  2018  کے دوران ان کی کمپنیوں میں سرمایہ لگانے والوں نے متعدد الزامات عائد کئے تھے۔ اسی کے نتیجہ میں جولائی  2019 دوبئی کے حکام نے ان کی کمپنیوں پر 315 ملین ڈالر جرمانہ کیا تھا اور عارف نقوی کو مالی بدعنوانی کے الزام میں غیر حاضری میں تین سال قید کی سزا بھی دی گئی تھی۔ اس سال جنوری میں دوبئی فنانشل  سروسز اتھارٹی نے  عارف نقوی پر ذاتی طور سے 135 ملین ڈالر سے زائد جرمانہ عائد کیا تھا۔

فنانشل ٹائمز نے عارف نقوی کی طرف سے عمران خان اور تحریک انصاف کی فنڈنگ کے حوالے سے جو معلومات عام کی ہیں، ان میں سے بیشتر معاملات کے بارے میں الیکشن کمیشن کے پاس دستاویزی شواہد موجود ہیں۔ اب اس طویل مگر سننسی خیز مقدمہ کا فیصلہ سامنے آنے والا ہے۔ تاہم  اس فیصلہ کے نتیجہ  میں پاکستان میں ایک نئے سیاسی طوفان اور الزام تراشی  کے ایک نئے دور کو مسترد نہیں کیا جاسکتا۔  عمران خان اور تحریک  انصاف کسی بھی مخالفانہ فیصلے یا مشاہدات کو مسترد کریں گے جبکہ ان کی مخالف پارٹیاں ہر قیمت پر اس معاملہ کو تحریک انصاف کے پاؤں کی زنجیر بنانا چاہیں گی۔

loading...