ٹارزن کو موت سے ڈر نہیں لگتا

اکثر نوجوان مجھ سے پوچھتے ہیں: خیر سے آپ چھیاسی برس کے ہوگئے ہیں۔ کیا محسوس کرتے ہیں آپ؟ جواب دینے کی بجائے میں نے نوجوانوں کی طرف دیکھا ۔ کچھ نوجوان اٹھارہ انیس برس کے لگ رہے تھے۔ کچھ نوجوان چوبیس پچیس برس کے دکھائی دے رہے تھے۔

کچھ نوجوان گریجویٹ ہونے کے دہانے پر کھڑے تھے۔ کچھ نوجوان گریجویشن کرنے کے بعد ماسٹرز کر چکے تھے اور ایم فل اور پی ایچ ڈی کررہے تھے۔ کچھ نوجوان سول سروس کے لئے تیاری میں مصروف تھے۔ وہ نوجوان جب سے پیدا ہوئے تھے تب سے ریڈیو، ٹیلی وژن، اور اخباروں کے علاوہ ہر شخص ، ہر سرکاری ، نیم سرکاری اور پرائیوٹ اداروں کے کارندوں کے منہ سے سچ سنتے سنتے تھک چکے تھے۔ بیزار ہوچکے تھے۔ اس لئے اکثر نوجوان منہ کا ذائقہ بدلنے کے لئے میرے پاس جھوٹ سننے آتے ہیں۔ جھوٹ سن کر وہ محظوظ ہوتے ہیں۔ آخر کوئی کب تک سچ سن سکتا ہے!

جس طرح حد سے زیادہ میٹھا کھانا مضر صحت ہوتا ہے، اسی طرح لگا تار اور حد سے زیادہ سچ سننا بھی آپ کی ذہنی صحت کے لئے نقصان دہ ہوتا ہے۔ چونکہ سچ بولنے کی عادت میں مبتلا اشخاص اور ذرائع کو آپ سچ بولنے سے باز نہیں رکھ سکتے، اس لئے آپ جھوٹ سننے کے لئے میرے پاس آجاتے ہیں۔ نوجوان بھی عین اسی لئے میرے پاس آئے ہوئے تھے، یعنی جھوٹ کا ذائقہ چکھنے کے لئے میرے پاس آئے ہوئے تھے۔ سب جان چکے ہیں کہ میری ڈکشنری میں لفظ ’ سچ‘ آپ کودکھائی نہیں دے گا۔ ’ سچ‘ میرے لئے متروکہ لفظ بن چکا ہے۔ لفظ ’سچ‘ کے کوئی معنی، کوئی مطلب نہیں ہے۔ اس بات پر قومی اسمبلی اور اعلیٰ عدالتوں میں بحث مباحثے ہوسکتے ہیں، مگر نتیجہ وہی نکلے گا جو میں نے آپ کو بتا دیا ہے۔ یعنی، لفظ ’ سچ‘ کے کوئی معنی، کوئی مفہوم نہیں ہے۔ البتہ دنیا میں ایک ہی سچ ہے، جس کو کوئی نہیں جھٹلا سکتا، جس سے کوئی انکار نہیں کرسکتا ۔ اور وہ سچ ہے، موت۔
موت آنی ہے۔ یہ ایک ناقابل انکار سچ ہے۔ اس سچ کے ساتھ ایک اور سچ بھی جڑا ہوا ہے جس کی نفی نہیں ہوسکتی۔ ہم سب کو کوچ کرنا ہے، یعنی مرنا ہے، یعنی اللہ سائیں کو پیارا ہونا ہے۔ یہ ایک ناقابل تردید سچ ہے۔ مگر کب؟ یہ بھی ناقابل تردید حقیقت ہے کہ ہمیں ایک روز مرنا تو ہے، مگر کب؟ کوئی نہیں جانتا کہ موت کب آئےگی۔ کوئی نہیں جانتا۔ یہ سچ ہے۔ اتنا ہی ناقابل تردید سچ ہے، جتنا کہ ہم سب کو ایک نہ ایک روز موت کا مزا چکھنا ہے۔ کچھ جہاں دید ہ بضد ہوتے ہیں کہ ان دو ناقابل انکار حقیقتوں کے علاوہ ایک اور بھی ناقابل تردید سچ ہے۔ اور وہ ہے کہ ہم پیدا ہوئے تھے۔ ہم نے جنم لیا تھا۔ دلیل میں دم لگتا ہے۔ مگر یہ ایک آدھا سچ ہے۔ یہ سچ ہے کہ ہم اس دنیا میں آتے ہیں۔ اس دنیا میں آنے کے لئے جنم لیتے ہیں۔ مگر آدھے سچ کے بعد مفروضے ہیں۔ یہ سچ ہے کہ ہم اس دنیا میں آنے کے لئے جنم لیتے ہیں۔ مگر جنم لینے کے بعد ، ہم وہ نہیں رہتے جو جنم لینے کے وقت ہوتے ہیں۔ میں آپ کے چہرے پر معنی خیز مسکراہٹ دیکھ سکتا ہوں۔

 میرے کہنے کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ جنم لینے کے کچھ عرصہ بعد ہمیں دواضافی ہاتھ مل جاتے ہیں۔ ناک کی جگہ ہاتھی جیسی سونڈ نکل آتی ہے۔ بظاہر ایسا کچھ نہیں ہوتا۔ مگر یہ طے ہے کہ پیدا ہونے کے بعد رفتہ رفتہ، بتدریج ہم اندر سے بدلتے رہتے ہیں۔ ہم ویسےمعصوم اور بے ضرر نہیں رہتےجیسے پیدائش کے وقت تھے۔ ہمارے سر پر سینگ نکل آتے ہیں مگر کسی کو دکھائی نہیں دیتے۔ ٹکریں مار مار کر ہم لوگوں کو زخمی کردیتے ہیں۔ ہمیں آٹھ دس غیر مرئی بانہیں اور پوشیدہ ٹانگیں مل جاتی ہیں۔ دکھتے توہم لوگوں کی طرح ہیں، مگر ہم عام لوگ نہیں ہوتے۔ ہمیں مخفی قوتیں مل جاتی ہیں۔ ہم سرکاری خزانے خالی کردیتے ہیں لیکن کسی کو پتہ تک نہیں چلتا۔ کچھ نابلد ہمارے خلاف عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹاتے ہیں۔ مگر گواہی کے طور پر عدالتوں کے سامنے ایک ثبوت پیش نہیں کرسکتے ۔ وہ نہیں جانتے کہ جن کے پاس خفیہ اور نادیدہ بانہیں، ٹانگیں اور طاقتیں ہوتی ہیں، وہ اپنے کارناموں کے ثبوت نہیں چھوڑتے ۔ لہٰذا آپ کی یہ ضد کہ ہم دنیا میں آتے ہیں، جزوی طور پر سچ ہے۔

اس کے بعد جھوٹ ہی جھوٹ ہے۔ ہر دور میں جھوٹ کا راج رہا ہے۔ ہر دور میں جھوٹ کا بول بالا ہوا ہے۔ معاشرے اور ملک میں جھوٹ کی اسقدر فراوانی ہے کہ جھوٹ نے سچ کی جگہ لے لی ہے۔ اس لئےسات دہائیوں سے آپ کو لگتا ہے، آپ سچ سنتے آئے ہیں اور سچ سنتے سنتے آپ اس دنیا سے کوچ کرجائیں گے۔ سچ سے بیزار نوجوان اکثر مجھ سے ملنے اور میرے منہ سے خالص جھوٹ سننے آتے ہیں۔ وہ لوگ سوالوں سے لیس ہوکر آتے ہیں۔

نوجوانوں نے مجھ سے پوچھا،’ آپ خیر سے چھیاسی برس کے ہوگئے ہیں۔ کیسا محسوس کرتے ہیں آپ‘؟ میرے چہرے پر معنی خیز مسکراہٹ دیکھ کرنوجوان نے پوچھا ’ میرا مطلب ہے کہ آپ مرنے کے بارے میں کیا محسوس کرتے ہیں؟ ڈر لگتا ہے آپ کو ‘؟۔
میں نے نوجوانوں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا:

 ’اول تو میں ٹارزن ہوں۔ اس لئے مجھے مرنے سے ڈر نہیں لگتا۔ ایک اور بات ۔ جب میں دس برس کا تھا تب کسی نے مجھ سے نہیں پوچھا تھا کہ میں موت کے بارے میں کیا سوچتا ہوں۔ تب موت کی آمد بہت دور دور لگتی تھی۔ اب میں موت کے کی دہلیز پر کھڑا ہوا ہوں۔ دروازہ کھلے گا۔ میں چلا جاؤں گا۔ یاد رہے کہ میں ٹارزن ہوں۔ مجھے مرنے سے ڈر نہیں لگتا ۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

loading...