عمران خان جان لیں کہ چوری کسے کہتے ہیں!

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے تحریک انصاف  کو ممنوعہ   ذرائع سے پارٹی فنڈ جمع کرنے اور پارٹی چئیرمین عمران خان کو جھوٹا حلف نامہ جمع کروانے کا مرتکب قرار دیا ہے۔ اس معاملہ پر اب سیاسی مباحث اور قانونی رسہ کشی تو ہوتی رہے گی لیکن یہ واضح ہوچکا ہے کہ  خود کو سچائی، دیانت اور راست گوئی کا علمبردار قرار  دینے والا لیڈرا ور اس  کی پارٹی  ملکی انتخابی قوانین کی جان بوجھ کر خلاف ورزی کرتی رہی ہے۔

الیکشن کمیشن کا فیصلہ تحریک انصاف کے بیانیہ کے لئے بہت بڑا دھچکہ ہے۔  پارٹی کی غلط کاریوں کا بنیادی ثبوت تو یہی ہے کہ خود اس کے ہی ایک  بانی رکن اکبر ایس بابر اس معاملہ کو الیکشن کمیشن کے پاس لے کر آئے تھے  اور متعلقہ دستاویزات فراہم کی تھیں۔   اس کا دوسرا بڑا ثبوت یہ حقیقت ہے کہ تحریک انصاف کی   سخت  کوششوں اور قانونی ہتھکنڈوں کی وجہ سے   الیکشن کمیشن کو  فیصلہ سنانے میں لگ بھگ آٹھ سال صرف کرنے پڑے۔ اگر پارٹی قیادت کو  یقین تھا  کہ  اس کی ہمہ قسم فنڈ ریزنگ  قانون کے مطابق ہوتی رہی تھی  اور اس نے کسی پاکستانی قانون کی خلاف ورزی نہیں کی تو اسے اتنے طویل عرصے تک  اس معاملہ کو لٹکانے یا کسی بھی طرح الیکشن کمیشن کو  اس سے درگزر کرنے پر مجبور کرنے کی کوششوں پر صرف کرنے  کی ضرورت نہیں تھی۔ تحریک انصاف ایک سیاسی پارٹی ہے۔ اس کی شہرت اور نیک نامی کے لئے ضروری تھا کہ  ایک بار شکایت سامنے آنے کے بعد وہ خود بڑھ کر تعاون کرتی اور اس معاملہ کو شروع ہی میں کسی انجام تک پہنچانے میں الیکشن کمیشن کی مدد کرتی۔ لیکن جیسا کی واقعات کے تسلسل   میں دیکھا جاسکتا ہے، تحریک انصاف نے تعاون کی بجائے تصادم اور  تحقیقات میں سہولت بہم پہنچانے کی بجائے  ہر ممکن رکاوٹ ڈالنے  کی کوشش کی۔ ہر مرحلہ پر عدالتوں سے رجوع کیا  گیا یا الیکشن کمیشن کی کارروائی کو معطل و مؤخر کرنے کے ہتھکنڈے اختیار کئے جاتے رہے۔ 

الیکشن کمیشن کا فیصلہ آنے کے  بعد  تحریک انصاف کے لیڈروں نے کسی شرمندگی یاتاسف کا اظہار کرنے کی بجائے  یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے جیسے اس فیصلہ کی کوئی اہمیت نہیں ہے اور  پارٹی کے   خلاف فارن فنڈنگ کا جو الزام عائد کیا جاتا رہا  تھا وہ  صریحاً  گمراہ کن ثابت ہؤا ہے۔ اس کا نمایاں اظہار پارٹی کے سیکرٹری جنرل اسد عمر کے اس ٹوئٹ میں ملاحظہ کیا جاسکتا ہے جس میں ان کا کہنا تھا کہ ’کھودا پہاڑ نکلا چوہا‘۔  یعنی تحریک انصاف کی سرکاری حکمت عملی یہ ہے کہ اب یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی جائے کہ  یہ سارا  قضیہ  تحریک انصاف کے دشمن  الیکشن کمیشن نے کھڑا کیا تھا اور آٹھ سال تک اس معاملہ کو پارٹی کے خلاف پروپگنڈا کے لئے استعمال کیا جاتا رہا لیکن اب جو نتیجہ سامنے لایا گیا ہے اس میں بے قاعدگی کے الزامات منہ کے بل آگرے ہیں۔ یہ بیانیہ شرمناک حد تک   عوام  کو  دھوکہ دینے کے مترادف ہے۔  پارٹی قیادت نے  حقیقت حال کا مردانہ وار مقابلہ کرنے اور  ناجائز ذرائع سے فنڈز جمع کرنے کا طریقہ اختیار کرنے پر شرمساری کا اظہارکرنے کی بجائے اپنے تئیں ’جارحانہ‘ رویہ اختیار کرکے الیکشن کمیشن اور اپنے سیاسی مخالفین کو پسپا کرنے کی حکمت عملی اختیار کی ہے۔

اس حوالے سے سب سے پہلے تو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ تحریک انصاف کے خلاف الیکشن کمیشن نے  کوئی میڈیا مہم جوئی نہیں کی بلکہ خود پارٹی نے ہی الزامات کا جواب دینے  کی بجائے پہلے انہیں مسترد کرنے اور بعد میں تاخیری حربے اختیار کرکے مستقل طور سے اس معاملہ کو زندہ رکھا تھا۔  اسی کا نتیجہ ہے کہ  ملک کا بچہ بچہ یہ جانتا تھا  کہ تحریک انصاف نے فنڈز جمع کرنے میں کچھ نہ کچھ تو غلطی کی ہے۔ اکبر ایس  بابر کی طرف سے 2014 یہ معاملہ سامنے لانے کے بعد پہلے تو تحریک انصاف نے الیکشن کمیشن کے سامنے یہ مقدمہ لڑنے کی کوشش کی کہ اکبر ایس بابر تو پارٹی رکن ہی نہیں ہیں اور انہیں پارٹی فنڈنگ کے  بارے میں کیسے معلومات ہوسکتی ہیں یا وہ کیسے ’شکایت کنندہ ‘ بن سکتے ہیں۔  بعد میں  الیکشن کمیشن کو یہ رولنگ دینا پڑی کہ اکبر ایس  بابر کو کبھی پارٹی سے نکالا نہیں گیا اور وہ شکایت کرنے اور اپنی معلومات کی بنیاد پر پارٹی فنڈز کی سکروٹنی  کا مطالبہ کرنے  کا حق رکھتے ہیں۔ اب غور کیا جائے تو سمجھا جاسکتا ہے کہ تحریک  انصاف اگر 2014 یہ شکایت سامنے آنے کے بعد  سچ تسلیم کرلیتی اور معاملہ کو ابتدائی مراحل میں حل کروانے  کی کوشش کرتی تو یہ معاملہ آج اتنا بڑا سیاسی و اخلاقی مسئلہ بن کر عمران خان اور تحریک انصاف کی سیاست کے لئے بڑا سوالیہ نشان نہ بنتا۔ لگتا ہے کہ آٹھ سال تک تحریک انصاف خود ہی اپنے راستے میں رکاوٹ تعمیر کرنے کی جد و جہد کرتی رہی ہے۔  اب ایسی دیوار  اس کے سامنے ہے، جسے عبور کرنا آسان نہیں ہوگا۔

2014 میں  تحریک انصاف  قومی سیاست میں اپنی جگہ بنانے کی کوشش کررہی تھی۔ قومی سیاست میں اسے  وہ اہمیت حاصل نہیں تھی جو وہ بوجوہ اب حاصل کرچکی ہے۔   8 سال پہلے اس معاملہ کو بعض اعتراف کرنے اور کچھ غلطیاں مان کر شاید چند سماعتوں میں ہی ختم کروایا جاسکتا تھا لیکن اس کی بجائے پارٹی نے  ممنوعہ فنڈنگ کے معاملہ  کو خود اپنے  راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ بنانے  کا ناقابل یقین طریقہ اختیار کیا۔  عمران خان کا  خیال تھا کہ انہیں اسٹبلشمنٹ  کی نئی نئی سرپرستی حاصل ہوئی ہے، اس لئے ایسے چھوٹے معاملات کو خاطر میں نہیں لانا چاہئے۔ اکبر ایس بابر خود ہی الیکشن کمیشن کے  چند چکر لگا کر تھک ہار کر بیٹھ جائے گا۔ حالانکہ اگر اس وقت یہ  معاملہ حل کروایا جاتا تو شاید مخالف سیاسی پارٹیاں بھی اسے زیادہ  اچھالنے کی  کوشش نہ کرتیں کیوں کہ عمران خان کو قومی سیاسی منظر نامہ میں بہت اہمیت حاصل نہیں تھی اور سیاسی  لڑائی  بھی ابھی  ذاتی دشمنی میں  تبدیل نہیں ہوئی تھی۔ اب عمران خان کو معلوم ہورہا ہوگا کہ پلوں کے نیچے سے بہت پانی  بہ چکا ہے۔

یوں تو  الیکشن کمیشن اور چیف الیکشن کمشنر پر حملہ آور ہوکر تحریک انصاف ممنوعہ فنڈنگ میں خود کو معصوم ثابت کرنے کی کوشش کررہی ہے لیکن اگر عمران خان غور کریں تو موجودہ چیف الیکشن کمشنر  سکندر سلطان راجہ کو تو  انہوں نے خود ہی اس عہدے پر فائز کیا تھا۔  اقتدار سے محروم ہونے کے بعد  عمران خان یہ دعویٰ بھی کرچکے ہیں کہ ایجنسیوں نے ان  کا نا م تجویز کیا تھا۔  عمران خان کے فدائی چونکہ اپنے لیڈر کے قول و فعل کو اصول کی کسی کسوٹی پر پرکھنے کے قائل نہیں ہیں ، اس لئے پارٹی یا ان کی حامیوں کی طرف سے کبھی یہ سوال نہیں اٹھایا گیا کہ اب اسٹبلشمنٹ کو ’نیوٹرل‘ ہونے کا طعنہ دینے والا لیڈر کیوں اسی کے اشاروں پر الیکشن کمیشن کے سربراہ جیسی پوزیشن پر تعیناتی کررہا تھا؟ تاہم اگر اسے اگر ممنوعہ فنڈنگ کے  فیصلہ اور  سکندر سلطان راجہ  سے عمران خان کی ناراضی کے تناظر میں پرکھنے کی کوشش کی جائے تو قیاس کیا جاسکتا ہے    کہ یہ تعیناتی کرتے ہوئے عمران خان ، سکندر سلطان راجہ سے  ممنوعہ فنڈنگ کیس میں تعاون اور دیگر معاملات میں ہمدردی کی امید لگائے  بیٹھے ہوں گے۔  یہ امید پوری نہ ہونے پر اب اپنے ہی ’پسندیدہ‘ چیف الیکشن کمشنر کی کردار کشی کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔

ممنوعہ فنڈنگ کیس میں مجرم ٹھہرائے جانے کے بعد تحریک انصاف   کا  دوسرا دفاعی ہتھکنڈا یہ  ہے کہ باقی دونوں بڑی پارٹیوں مسلم لیگ (ن) اور  پیپلز پارٹی کی فنڈنگ کے بارے میں بھی معاملات کا فیصلہ کیا جائے۔ پارٹی لیڈر اب اس  دلیل کو یوں استعمال کررہے ہیں کہ جیسے ان دونوں پارٹیوں پر بے قاعدگی یا قانون شکنی ثابت ہونے پر تحریک انصاف کی لغزش کو فراموش کردیا جائے گا۔  حالانکہ  قانون اور اخلاقی معیار کے مطابق کسی دوسرے کو چور ثابت کرنے سے  خود اپنی چوری درست   قرارنہیں دی جاسکتی۔ تحریک انصاف نے جو جرم کیا ہے ، اسے دوسرے کے قصور وار  ہونے پر فراموش نہیں کیا جائے گا۔  عمران خان کو اس  فیصلہ کے بعد یہ بھی  جان لینا چاہئے کہ  چوری کسے  کہتے ہیں۔ وہ سیاسی مخالفین پر الزامات عائد کرنے کے بعد انہیں    ’چور ، لٹیرے اور ڈاکو‘ قرار دیتے رہے ہیں۔ حالانکہ  ان سیاسی مخالفین کے خلاف عدالتوں میں مقدمات ضرور قائم ہیں لیکن کسی بھی معاملہ میں انہیں مجرم ثابت نہیں کیا جاسکا۔ البتہ تحریک انصاف کی چوری کا بھانڈا الیکشن کمیشن نے چوراہے کے بیچ پھوڑ دیا ہے۔   عمران خان کو اب ادراک ہونا چاہئے کہ چوری کا الزام لگانے سے کوئی چور نہیں بن جاتا بلکہ جب کوئی مجاز ادارہ شواہد اور ثبوتوں کی بنیاد پر کسی پارٹی یا فرد کو جھوٹا اور فریبی قرار دے تب ہی وہ چور کہلاتا ہے۔عمران خان اور ان کی پارٹی پر یہ دو الزام  ثابت ہوچکے ہیں۔

تحریک انصاف  ملکی سیاست کی غیرمتنازعہ حقیقت  ہے ۔ الیکشن کمیشن کے فیصلہ کے بعد عدالتوں میں جانے اور اس معاملہ کو  ’بے وقعتُ قرار دینے کی کوشش کرنے کی بجائے اسے ذمہ داری سے ماضی کی غلطیوں کا اعتراف کرتے ہوئے آئیندہ احتیاط کا اعلان کرنا چاہئےتھا۔ تحریک انصاف کو اس غلط فہمی میں نہیں رہنا چاہئے کہ الیکشن کمیشن نے صرف چند حقائق بیان کئے ہیں، اسے کوئی سزا تو نہیں دی گئی۔  پارٹی قیادت کو شیخ رشید کے بیان کردہ  اس  مغالطے میں بھی نہیں رہنا چاہئے کہ   ’سپریم کورٹ  الیکشن کمیشن کے فیصلہ کو اڑا کر رکھ دے گی‘۔  ممنوعہ فنڈنگ کیس میں ایسے ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ شاید چیف جسٹس عمرعطا بندیال اور ان کے ہم خیال دیگر ججوں کے لئے بھی  ان حقائق کو آسانی سے نظر انداز کرنا ممکن نہ ہو۔

اس دوران مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف نے  اپنی اتحادی حکومت پر زور دیا ہے کہ عمران خان کی قانون شکنی  پر ایکشن لیا جائے۔ گویا اتحادی پارٹیوں کی اعلیٰ ترین قیادت عمران خان کی نااہلی کے لئے  ہوم ورک کا آغاز کرنے والی ہے۔  عمران خان اگر نواز شریف کے خلاف پانامہ کیس سے سبق سیکھ سکیں تو  وہ الیکشن  کمیشن کے فیصلہ کو ’غیراہم‘ سمجھنے کی غلطی نہیں کریں گے ۔ انہیں اپنی پارٹی کو کسی مشکل اور خود کو نااہلی سے بچانے کے لئے اپنی مجموعی سیاسی حکمت عملی پر غور کرنا چاہئے۔  ان پر واضح ہونا چاہئے کہ الیکشن کمیشن کے خلاف احتجاج کرنے اور نعرے لگانے سے اس چنگل سے نہیں نکلا جاسکے گا ۔ فواد چوہدری کو ضرور گمان ہے کہ الیکشن کمیشن جو بھی کہتا رہے حتمی فیصلہ کو عوام نے  ہی کرنا ہے۔ 

البتہ پنجاب کے حالیہ ضمنی انتخاب گواہ ہیں کہ عوام  درپیش حالات کے  مطابق فیصلہ کرنے کی صلاحیت سے بہرہ ور ہیں۔      عمران خان اور ان کے ساتھیوں کو سمجھنا چاہئے کہ تحریک انصاف  کے خلاف الیکشن کمیشن کے فیصلہ کے بعد پارٹی کا سیاسی سفر پہلے جیسا ہموار نہیں رہے گا۔ 

loading...