یومِ استحصال کشمیر: پاکستان کا کشمیریوں سے بھرپور اظہارِ یکجہتی

  • جمعہ 05 / اگست / 2022

بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے اقدام کو 3 برس مکمل ہونے پر آج ملک بھر میں یوم استحصال کشمیر منایا جارہا ہے۔

اس موقع پر صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی، وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے کشمیریوں سے اظہارِ یکجہتی کے لیے خصوصی پیغامات جاری کیے ہیں۔ صدر عارف علوی نے اپنے پیغام میں کہا کہ '5 اگست 2019 کو بھارت کے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کے 3 سال مکمل ہونے کے موقع پر ہم کشمیریوں کے حق خودارادیت کی منصفانہ جدوجہد میں ان کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں'۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کے 5 اگست 2019 کے اقدامات اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعدد قراردادوں کی خلاف ورزی ہیں جن میں یہ کہا گیا تھا کہ ریاست جموں و کشمیر کے مستقبل کا حتمی فیصلہ کشمیری عوام کی مرضی کے مطابق آزاد اور غیر جانبدارانہ اور اقوام متحدہ کی زیر نگرانی رائے شماری کے ذریعے کیا جائے گا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے یومِ استحصال کشمیر پر جاری اپنے پیغام میں کہا کہ بھارت کے 5 اگست 2019 کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کو 3 سال ہو چکے ہیں جس کا مقصد مقبوضہ جموں و کشمیر کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازع حیثیت کو تبدیل کرنا اور مقبوضہ علاقے کے آبادیاتی ڈھانچے کو تبدیل کرنا تھا۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ دہائیوں میں بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں بلاروک ٹوک بے لگام طاقت کا استعمال کیا ہے، بہادر کشمیریوں نے نسل در نسل خوف، دھمکی، تشدد اور انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں کا سامنا کیا ہے، بھارتی جبر ان کے عزم کو کمزور کرنے میں ناکام رہا۔

یوم استحصال کشمیر کے موقع پر وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ بھارت نے 5 اگست 2019 کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ کشمیر کی متنازع حیثیت کو تبدیل کرنے اور اپنے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر کے آبادیاتی ڈھانچے کو تبدیل کرنے کے لیے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کیے۔

انہوں نے کہا کہ 3 برسوں میں ہونے والی پیش رفتوں نے یہ بات واضح کردی ہے کہ بھارت، مقبوضہ کشمیر میں آبادیاتی تبدیلیوں کو آگے بڑھانے کے اپنے مذموم منصوبوں پر مسلسل عمل پیرا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماورائے عدالت قتل، بے دریغ نظر بندیوں، حقیقی کشمیری قیادت کو قید اور ہراساں کرنے سمیت انسانی حقوق کی دیگر سنگین خلاف ورزیوں کے ذریعے کشمیریوں کے انسانی مصائب کو اچھی طرح سے دستاویزی شکل دی گئی ہے اور دنیا بھر میں ان کی مذمت کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ 5 اگست 2019 کو بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کو ایک ریاست کے بجائے 2 وفاقی اکائیوں میں تقسیم کیا تھا اور اس کے بعد وادی میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کے لیے غیر مقامی افراد کو زمین خریدنے کی اجازت دی گئی تھی۔

loading...