الیکشن کمیشن نے مسلم لیگ (ق) کے انٹرا پارٹی انتخابات روک دیے

  • جمعہ 05 / اگست / 2022

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے چوہدری شجاعت حسین کی درخواست پر مسلم لیگ (ق) کے انٹراپارٹی انتخابات روک دیے جو 10 اگست کو ہونے تھے۔

الیکشن کمیشن میں مسلم لیگ (ق) کے پارٹی الیکشن رکوانے کے لیے چوہدری شجاعت حسین کی درخواست پر چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں 4 رکنی بینچ نے سماعت کی۔ اس موقع پر چوہدری سالک حسین سمیت دیگر اراکین الیکشن کمیشن پہنچے۔

سماعت کے دوران چوہدری شجاعت کے وکیل عمر اسلم نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی کی سینٹرل ورکنگ کمیٹی کا ایک نام نہاد اجلاس ہوا جس میں پارٹی صدر اور سیکریٹری جنرل کو عہدے سے ہٹایا گیا۔ مسلم لیگ (ق) کی سینٹرل ورکنگ کمیٹی کے اجلاس کے حوالے سے پنجاب کے سیکریٹری کامل علی آغا نے ایک لیٹر جاری کیا، ضابطے کے تحت الیکشن کمیشن کو ایسی کسی تبدیلی سے آگاہ نہیں کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ سینٹرل ورکنگ کمیٹی کا طریقہ کار پارٹی آئین کے آرٹیکل 43 میں درج ہے، سینٹرل ورکنگ کمیٹی میں 150 ارکان کو جنرل کونسل نامزد کرتی ہے، جبکہ 50 ارکان پارٹی صدر کے نامزد کردہ ہوتے ہیں۔ جنرل کونسل کی جانب سے 150 ارکان کے انتخاب کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں۔

عمر اسلم نے کہا کہ سینٹرل ورکنگ کمیٹی کے پاس پارٹی صدر کو ہٹانے کا کوئی اختیار نہیں، پارٹی صدر صرف مستعفی ہو سکتا ہے۔ آج تک پارٹی کی سینٹرل ورکنگ کمیٹی کا انتخاب نہیں ہوا۔ کمیٹی اجلاس میں شریک ہونے والے ارکان کی فہرست بھی موجود نہیں ہے، سینٹرل ورکنگ کمیٹی کی عدم موجودگی میں پارٹی الیکشن کمیشن بھی تشکیل نہیں دیا جاسکتا۔

سماعت کے دوران چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیے کہ الیکشن کمیشن کے فیصلے تک اسٹیٹس کو برقرار رہے گا، کمیشن کے فیصلے تک کسی بھی اقدام کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہوگی۔

بعد ازاں چیف الیکشن کمشنر نے مسلم لیگ (ق) کے الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی آئندہ سماعت 16 اگست تک ملتوی کر دی۔

واضح رہے کہ مسلم لیگ (ق) کے انٹرا پارٹی انتخابات 10 اگست کو شیڈول ہیں جسے چوہدری شجاعت حسین نے بطور پارٹی سربراہ چیلنج کیا تھا۔

loading...