3 ماہ تک درآمدات محدود رکھنے کا فیصلہ

  • جمعہ 05 / اگست / 2022

وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل نے کہا ہے کہ حکومت درآمدات کو مزید 3 ماہ تک محدود رکھے گی چاہے اس سے ترقی میں سست رفتاری کیوں نہ ہو۔

پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی تقریب میں خطاب کرتے ہوئے مفتاح اسمٰعیل نے کہا کہ میں اگلے تین ماہ تک درآمدات میں اضافہ کرنے کی اجازت نہیں دوں گا اور اسی دوران ہم ایک پالیسی بھی تیار کریں گے۔ میں سمجھ سکتا ہوں کہ اس سے ترقی کی شرح میں کچھ حد تک کمی آئے گی مگر میرے پاس کوئی اور راستہ نہیں ہے۔

شرح تبادلہ کے بارے میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ڈالر کا اخراج، آمد سے بڑھ رہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ گزشتہ ماہ کے دورں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں تیزی سے کمی آئی ہے۔ اگر کوئی چھوٹا دکاندار یہ جانتا ہے کہ اس کی یومیہ فروخت 30 ہزار روپے ہے جبکہ اس کے اسٹاک کی خریداری 80 ہزار روپے تک ہے تو اس دکاندار کو اسٹاک کم خریدنے کی ضرورت ہے اور ہم نے بھی یہی کیا ہے کہ درآمدات کو 7 ارب ڈالر سے کم کرکے 4.9 ارب ڈالر تک لے آئے اور تمام مسائل ختم ہو گئے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی درآمدی پابندیوں سے آٹوموبائل اور الیکٹرانک آلات کی صنعتیں متاثر ہوں گی۔ وہ بے روزگاری پیدا نہیں کرنا چاہتے تاہم ان کی پہلی ترجیح درآمدات میں کمی ہے۔ مفتاح اسمٰعیل نے کہا کہ جب بہت زیادہ دباؤ تھا تو ہم نے تیل اور گیس زیادہ مقدار میں درآمد کرلی، اس وقت ہمارے پاس ڈیزل اور پیٹرول کے ذخائر 30 دن کے ہیں۔ پاکستان کے پاس عمومی طور پر 6 دن کا ڈیزل اور 10 دن کا پیٹرول ہوتا ہے، اسی طرح ہمارے پاس فرنس آئل کے ذخائر 6 ماہ تک ہیں۔

ہم اپنی توانائی کی حفاظت اور توانائی کی فراہمی اور دیگر ذمہ داریوں کے لحاظ سے بہت بہتر ہیں اور ہم اگلے تین ماہ تک درآمدات کو کنٹرول کریں گے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ جون میں ملک کا درآمدی بل 7.7 ارب ڈالر تھا اور اگر کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ اس حد تک بڑھ گیا تو اس سے روپے پر دباؤ پڑے گا۔

گزشتہ مالی سال میں پاکستان کا درآمدی بل 80 ارب ڈالر تھا جبکہ اس کی برآمدات 31 ارب ڈالر تھیں۔ اس قسم کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے سے کوئی بھی ملک ترقی اور مستحکم نہیں ہو سکتا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ اگرچہ ترقی پذیر ممالک کے لیے چھوٹا خسارہ چلانا ایک اچھی بات ہے لیکن پاکستان اپنے طویل عرصے کے خسارے کو نتیجہ خیز طور پر استعمال کرنے میں ناکام رہا ہے۔

مفتاح اسمٰعیل نے کہا کہ انہوں نے وزیر خزانہ بننے کے چند دنوں بعد ہی عالمی مالیاتی فنڈ سے رجوع کیا۔ ہمارے پاس کوئی اور آپشن نہیں تھا۔ اس وقت ملک کے پاس 10 ارب ڈالر کے ذخائر ہیں جبکہ اسے اگلے سال 21 ارب ڈالر واپس کرنے ہیں۔ یہ ڈیٹ سروسنگ نہیں، صرف قرض کی ادائیگی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف آئے گا، پھر ورلڈ بینک آئے گا اس کے بعد ایشیائی ترقیاتی بینک، پھر ایک چینی بینک ایشین انفرااسٹرکچر بینک نے بھی کہا ہے کہ اگر ورلڈ بینک قرضہ دے گا تو وہ بھی دیں گے۔ دوست ممالک بھی شائستگی سے ہمیں آئی ایم ایف سے رقم حاصل کرنے کی ترغیب دے رہے تھے کیونکہ کوئی بھی ڈوبتے ہوئے ملک کی پشت پناہی نہیں کرنا چاہتا۔

loading...