کیا غیر ملکی امداد اکٹھی کرنا بھی فوج کا کام ہے؟

خبر آئی ہے کہ پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے امریکہ کے بعد اب سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات  کےحکام سے رابطہ کرکے پاکستان کے لئے آئی ایم ایف کی قسط  ریلیز کروانے کے بارے میں بات کی ہے۔ پاکستان سٹاف لیول پر آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ کرچکا ہے جس کے نتیجہ میں اسے سوا ارب ڈالر کی قسط ملنے  کی امید ہے تاہم  چھٹیوں کی وجہ سے آئی ایم ایف کے بورڈ آف گورنرز  کا اجلاس اگست کے آخر تک متوقع ہے۔ کسی بھی ملک کو فنڈز دینے کا فیصلہ اسی اجلاس میں ہوسکتا ہے۔

اس دوران پاکستانی روپے پر ادائیگیوں میں عدم توازن اور پاکستان  کی  مالی  صلاحیت پر پیدا ہونے والے شبہات کی وجہ سے پاکستانی روپیہ شدید دباؤ کا شکار رہا ہے اور اس کی قیمت  امریکی ڈالر کے مقابلے میں 240 روپے تک پہنچ گئی تھی۔ اگرچہ اب  سٹے بازی کی روک تھام اور افغانستان ڈالروں کی اسمگلنگ  پر کنٹرول کے علاوہ پاکستان کو مختلف ممالک سے امداد کے امکانات پیدا ہونے کے بعد  روپے کی قدر میں کچھ اضافہ دیکھا گیا ہے۔ انہی سنگین معاشی حالات اور ملکی معیشت پر غیر ضروری دباؤ کی وجہ سے جنرل قمر جاوید باجوہ نے   گزشتہ ہفتے کے دوران امریکہ کی نائب وزیر خارجہ  وینڈی شرمن سے فون پر بات کی تھی اور ان سے اپیل کی تھی کہ پاکستان کو آئی ایم ایف کی قسط دلوانے کے لئے امریکہ اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے۔  وزارت خارجہ نے اس بات چیت کی تصدیق کی تھی تاہم ترجمان نے یہ وضاحت کرنے سے انکار کیا تھا کہ آرمی چیف نے  امریکی عہدیدار کے ساتھ کن امور  پر تبادلہ خیال کیا تھا۔ وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ اس بارے میں آئی ایس پی آر کے ترجمان ہی بتاسکتے ہیں۔

آئی ایم ایف کی قسط کے بارے میں امریکہ سے رابطہ کے بعد  اب خبر آئی ہے کی جنرل قمر جاوید باجوہ نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے حکام سے بھی رابطہ کیا ہے اور آئی ایم ایف سے  قسط کی ادائیگی میں کردار ادا کرنے کی درخواست کی ہے۔ یہ خبر چونکہ ایک مقامی ٹیلی ویژن ذرائع سے سامنے آئی ہے ، اس لئے اس میں زیادہ تفصیلات موجود نہیں ہیں۔  نہ  یہ بتایا گیا  ہے کہ پاکستانی آرمی چیف کی کن سعودی اور اماراتی حکام سے بات چیت  ہوئی ہے اور نہ ہی اس گفتگو کی تفصیلات سامنے آسکی ہیں۔ پاکستانی میڈیا میں  یہ خبر سامنے آنے کے بعد آئی ایس پی آر کی طرف سے اس کی تردید نہیں کی گئی۔ اس لئے قیاس کیا جاسکتا ہے کہ  یہ خبر کسی حد تک درست ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے  درخواست کی گئی ہو کہ   عالمی مالیاتی فنڈ کے ساتھ معاملات تو طے پاچکے ہین، بس اب رسمی منظوری باقی ہے جس  میں چھٹیوں کی وجہ سے تاخیر ہورہی ہے۔ اس لئے سعودی عرب اور متحد عرب امارات نے آئی ایم ایف سے معاملات طے ہونے کے بعد  پاکستان کو امداد فراہم کرنے کا  جووعدہ کیا تھا، اس پر عمل درآمد شروع کیا جائے۔

وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے آج  ہی ایک  تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت  اگلے تین ماہ تک درآمدات میں اضافہ کرنے کی اجازت نہیں دے گی  خواہ اس کا ملکی پیدا واری صلاحیت پر  ہی کیوں اثر نہ پڑے۔  انہوں نے کہا کہ ’میں سمجھ سکتا ہوں کہ اس سے ترقی کی شرح میں کچھ حد تک کمی آئے گی مگر میرے پاس کوئی اور راستہ نہیں ہے‘۔ وزیر خزانہ نے پاکستان کے محدود زرمبادلہ  ذخائر  اور   درآمدات و برآمدات میں کثیر عدم توازن کا حوالہ دیتے ہوئے سخت مالیاتی پالیسی اختیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہی حالات میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے آرمی چیف کے رابطہ کی خبر سامنے آئی ہے۔ آئی ایم ایف اور دیگر عالمی اداروں کے علاوہ پاکستان کو   چین ، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے ہی مالی امداد ملنے کی توقع ہوتی ہے۔ چین سے ملنے والا زر مبادلہ عام طور سے سخت مالی شرائط کے ساتھ دیا جاتا ہے۔ چینی حکومت براہ راست مالی معاونت کرنے کی بجائے نجی بنکوں کی ذریعے پاکستان کو  ڈالر فراہم کرواتی ہے۔ ان بنکوں کی شرح سود بہت زیادہ ہوتی ہے۔ اس کے برعکس سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے  نسبتاً کم شرح سود اور آسان شرائط پر قرض ملنے کی امید ہوتی ہے۔  مشکل وقت میں ان دو اہم دوست ملکوں سے پاکستان کا رابطہ غیر معمولی پیش رفت نہیں ہے۔

تاہم یہ خبر  انتہائی غیر معمولی اور پریشان کن ہے کہ ملک میں  نام نہاد جمہوری حکومت بھی کام کررہی ہے۔ وزیر اعظم کے علاوہ   ایک وزیر خارجہ اور وزیر خزانہ بھی موجود ہے لیکن بیرونی ممالک سے پاکستان کی مالی مشکلات میں تعاون کے لئے آرمی چیف کو  سفارت کاری  کی ضرورت پیش آرہی ہے۔ اس حوالے سےغیر واضح معلومات سامنے آئی ہیں اور سرکاری ذرائع مزید تفصیلات بتانے پر آمادہ نہیں ہیں ، اس لئے یہ کہنا مشکل ہے کہ  جنرل قمر جاوید باجوہ کو   افواج پاکستان کی ذمہ داری کے علاوہ ملکی مالی معاملات میں سفارت کاری کی ضرورت کیوں پیش آرہی  ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا حکومت نے ان سے درخواست کی ہے کہ وہ   پاکستان پر مالی دباؤ کم کروانے  میں کردار ادا کریں یا  آرمی چیف نے اپنے طور  پر  ہی یہ سوچا کہ اس مشکل وقت میں ایک ’جمہوری حکومت‘ کا ہاتھ بٹانا چاہئے۔ یہ دونوں  پہلو جوب طلب ہیں۔  ملک میں حکومتی انتظام، جمہوریت و آئین کی بالادستی کے لئے ان سوالوں کا جواب سامنے آنا چاہئے۔

اس سے قطع نظر کہ  آرمی چیف حکومت کی درخواست پر مستعد ہوئے ہیں یا انہوں نے اپنے طور پر   ہی  ’ٹیلی فون ڈپلومیسی‘ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے،  یہ طریقہ   امور حکومت و مملکت میں فوج کے غیر آئینی کردار کی نشاندہی کرتا ہے۔  حیرت انگیز طور پر نہ تو  بظاہر عوام کی منتخب حکومت کو اس پر کوئی پریشانی لاحق ہے اور نہ ہی ملک میں آئین کی بالادستی کی ضمانت دینے والی سپریم کورٹ کو اس پر کوئی تشویش ہوئی ہے ۔ عدالت عظمی کے ججوں نے   کوئی سوال اٹھانے یا وضاحت طلب کرنے کی ضرورت محسوس  نہیں کی ۔ حالانکہ آئین  پر   عدالت عظمی کی دسترس  و اختیار کے نام پر پہلے ایک آئینی شق کی ایک مخصوص انداز میں تشریح کے بعد پنجاب  میں  وزیر اعلیٰ کے انتخاب میں براہ راست کردار اداکیا جاچکا ہے۔ اس دوران اسلام آباد ہائی کورٹ  تحریک انصاف اور  انفرادی طور سے دائر کی گئی ایسی  پٹیشنز پر بھی غور کررہی ہے جن میں قومی اسمبلی  سے استعفوں کو قبول کرنے کے معاملہ  میں مداخلت کرنا عدالت نے مناسب خیال کیا ہے   بلکہ ایک عدالتی حکم میں تو  راجہ ریاض کو اپوزیشن لیڈر  مقرر کرنے کے  بارے میں اسپیکر قومی اسمبلی کے اختیار پر بھی سوال اٹھایا گیا ہے۔

سیاسی و سفارتی معاملات میں آرمی چیف کے کردار کے اس پہلو کو نظرانداز نہیں کیاجاسکتا کہ پاک فوج   ملک میں حکومت سازی کے حوالے سے غیر معمولی سرگرمی کا مظاہرہ کرتی رہی ہے۔ عمران خان کے خلاف عدم اعتماد منظور ہونے کی سب سے بڑی وجہ  یہی تھی  کہ فوج  نے تحریک انصاف کی حکومت کو مزید ’پارلیمانی کمک ‘ نہ پہنچانے کا فیصلہ کیا تھا جس کے بعد اپوزیشن اتحاد  سابق  حکومت ختم کرنے میں کامیاب ہوگیا تھا۔ فوج کے ترجمان اسے  ’سیاست میں عدم مداخلت‘ کی پالیسی قرار دیتے  ہیں۔ جبکہ عمران خان فوج کو   ’نیوٹرل ‘ ہوجانے کا طعنہ دیتے ہوئے اس سے مطالبہ کرتے ہیں کہ فوج یا کوئی بھی ریاستی ادارہ   اچھائی  و برائی کی لڑائی میں غیر جانبدار نہیں رہ سکتا۔  سیاست میں فوج کے اسی متنازعہ کردار نے اسے  حکومت سازی کے علاوہ عالمی سفارت کاری میں بھی زیادہ ’قابل اعتبار‘ بنایا ہے۔  جنرل قمر جاوید باجوہ کی  ’معاشی سفارت کاری‘  کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ  امریکہ و دیگر ممالک پاکستان  میں غیریقینی   سیاسی صورت حال  کی وجہ سے  سویلین  حکومت پر اعتبار  کرنےکے لئے تیار نہیں ہیں لیکن فوج کے سربراہ پر بھروسہ کرتے ہیں کیوں کہ انہیں خبر ہے کہ کوئی بھی حکومت  فوج کی مرضی کے بغیر کوئی فیصلہ نہیں کرسکتی۔

جاننا چاہئے کہ یہ صورت حال پاکستان کی عالمی شہرت اور  انتظامی معاملات کے لئے تکلیف دہ حد تک افسوسناک ہے۔   شہباز شریف حکومت کو جواب دینا چاہئے کہ اگر انہیں سفارتی اعتبار  ہی حاصل نہیں ہے اور موجودہ مشکل معاشی حالات میں سیاسی لیڈر ملک کی قیادت کرنے کے اہل ہی نہیں ہیں تو وہ کس برتے پر    جمہوریت کا نام لیتے ہوئے اقتدار سے چمٹے رہنے پر اصرار کررہے ہیں۔ اسی طرح پاک فوج کو بھی یہ جواب دینا چاہئے کہ  ملکی آئینی و سیاسی انتظام کو بے اعتبار اور غیر مستحکم کرنے کے بعد ’غیر جانبداری‘ کا اعلان کیا معنی رکھتا ہے ۔ خاص طور سے جب  آرمی چیف خود  علی الاعلان ملک کے وزیر خزانہ کے طور پر ’خدمات ‘ سرانجام دے رہے ہیں۔

یہ خرابی ایک یا دو دن میں پیدا نہیں ہوئی اور نہ ہی صرف فوج کو اس کا مورد الزام ٹھہرایا جاسکتا ہے۔ اس صورت حال کی ذمہ داری بنیادی طور پر ملکی سیاست دانوں پر ہی عائد ہوتی ہے  جو گروہی یا شخصی اقتدار کے لئے کسی بھی طرح فوج کو راضی کرنا چاہتے ہیں ۔  موجودہ اتحادی پارٹیاں عمران خان کو نامزد قرار دیتے ہوئے تحریک انصاف کی حکومت کو فوج کی ’لے پالک‘ قرار دیتی رہی ہیں۔  لیکن اب اہم ترین  معاشی سفارتی معاملات میں ملک کی سیاسی قیادت تو ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی ہے لیکن پاک فوج کے  سربراہ   سفارتی کوششیں کررہے ہیں۔  اگر جنرل باجوہ نے گزشتہ ہفتے کے دوران اپنے طور پر وینڈی شرمن سے رابطہ کیا تھا تو کیا  وزیر خارجہ یا وزیر اعظم کا یہ فرض نہیں تھا کہ وہ  انہیں اس قسم کے غیر معمولی اور غیر آئینی کردار سے منع کرتے تاکہ    ملک کے اندر اور باہر دوستوں دشمنوں کو یکساں طور سے معلوم ہوجاتا کہ  معاملات ملکی سیاسی حکومت کے ہاتھ میں ہیں ، اس لئے انہی سے معاملہ کرنا پڑے کا اور انہیں پر اعتبار کرنا ہوگا۔

اتحادی حکومت کے دو نمائیندوں نے آج پرجوش بیانات کے ذریعے عمران خان سے مطالبہ کیا ہے کہ  وہ بتائیں کہ کس فوجی افسر نے انہیں سکندر سلطان راجہ کو چیف الیکشن کمشنر مقرر کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے ان کی غیرجانبداری  کی ضمانت دی تھی۔  ان بیانات میں  تحریک انصاف کے لیڈر کو جرات کا مظاہرہ کرنے کا مشورہ بھی  دیا گیا ہے۔ تو کیا موجودہ حکومت کو بھی یہ حوصلہ نہیں کرنا چاہئے کہ  وہ بتائے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کس کے کہنے پر اور کس اختیار کے تحت ملک کے وزیر خزانہ کا کردار ادا کررہے ہیں؟

loading...