وہ بھی ایک دور تھا

نئی نسلوں کے نوجوان سمجھتے ہیں، بلکہ ان کو یقین ہے کہ ملک میں سیاسی کھلبلی اور خلفشار پچھلی دو تین دہائیوں کے دوران سیاست پر بعض بے ایمان، بے اصول، فاسد اور فاسق لوگوں کے چھا جانے کا نتیجہ ہے۔

ورنہ اس سے پہلے سب کچھ اچھا تھا۔ شیر اور بکری ایک گھاٹ سے پانی پیتے تھے۔ تب چراغ تلے اندھیرا نہیں ہوتا تھا۔ چراغ تلے بھی دنیا روشن دکھائی دیتی تھی۔ انصاف کا بول بالا ہوتا تھا۔ پڑ دادا کا مقدمہ پڑپوتے  کی اولاد کو بھگتنا نہیں پڑتا تھا۔ مزدور کو اس کی مزدوری پسینہ خشک ہونے سے پہلے مل جاتی تھی۔ اس اصول میں رتی برابر کوتاہی کی گنجائش نہیں ہوتی تھی۔ اگر کسی وجہ سے مزدوری ملنے سے پہلے مزدور کا پسینہ سوکھ جاتا تو مل مالک کو دگنا مزدوری دینی پڑتی تھی۔

تب ہمارا ملک کمال کا ملک ہوتا تھا۔ ہر طرف جمال دکھائی دیتا تھا۔ گڑبڑ کی ابتدا تب ہوئی جب زرداری اور نواز شریف جیسے لوگوں نے سیاست میں قدم رکھا۔ ان کے آنے اور سیاست پر چھا جانے کے بعد کھیت اور کھلیان سوکھ گئے۔ دریا خشک ہوگئے۔ ملوں، فیکٹریوں اور کارخانوں کو تالے لگ گئے۔ خزانے خالی ہوگئے۔ ملک مقروض ہوتا گیا۔ اس پامالی، تباہی اور بربادی کا واحد سبب سیاست میں بد عنوان لوگوں کی آمد ہے۔ یہ میں نہیں کہہ رہا۔ ہماری نئی نسلیں ایسا سوچتی ہیں۔ اپنی سوچ پر ان کو یقین ہے ۔

انیس سو سینتالیس کے بعد جنم لینے والی نسلیں قسمیہ کہتی ہیں کہ تب پاکستان اس قدر مالدار تھا کہ سعودی عرب اور امریکہ کی مالی امداد کرتا تھا۔ دنیا میں کہیں بھی بھونچال آئے۔ سیلاب آئے، سمندر امڈ آئے۔ آسمان ٹوٹ کر زمین پر گر پڑے، ہماری امدادی ٹیمیں مصیبت زدہ ملک میں دوائیں اور امدادی چیزیں لے کر پہنچ جاتی تھیں۔ امدادی سامان میں کھانے پینے کی اشیا کے علاوہ کپڑے لتے، بستر، کمبل، خیمے وغیرہ ہوتے تھے۔ روزمرہ کے اخراجات کے لئے آفت زدہ لوگوں کو ڈالروں کے بنڈل دیتے تھے۔ اوائلی نسلوں سے ماخذ قصے کہانیاں بیان کرنے والے بتاتے ہیں کہ تب ہمارے وطن کے درختوں پر ٹہنیوں سے پتوں کی بجائے کرنسی نوٹ اور اشرفیاں لٹکتی تھیں۔ ملک میں کسی قسم کی سیاسی افراتفری دکھائی نہیں دیتی تھی۔ سیاسی حریف اور مخالفین ایک دوسرے کی عزت کرتے تھے۔ ایک دوسرے کا احترام کرتے تھے۔ تب تحمل اور رواداری ہمارے ملک کی پہچان ہوتی تھی۔

فقیر نے کئی مرتبہ عرض کیا ہے کہ ہر ملک میں کیڑے نکالنے والوں کی کمی نہیں ہوتی۔ کیڑے نکالنے والوں کے کنبے میں ایک کیڑے نکالنے والا میرا ٹیلنٹیڈ کزن ہے۔ وہ انیس سو سینتالیس میں پاکستان بننے کے بعد پیدا ہوا تھا۔ اس نے حلفیہ بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے اپنی گنہگار آنکھوں سے ملک میں شہد اور دودھ کی نہریں بہتے ہوئے دیکھی تھیں۔ میں اپنے اس کزن سے بہت پہلے پیدا ہوا تھا۔ تب پاکستان عالم وجود میں نہیں آیا تھا۔ میں اپنے اس کزن کا دل توڑنا نہیں چاہتا۔ اس لئے ملک میں بہتی ہوئی شہد اور دودھ کی نہروں کی میں نہ تصدیق کر سکتا ہوں اور نہ تردید کر سکتا ہوں۔ میں بس اتنا جانتا ہوں کہ ملک معاشی اور اقتصادی طور پر مستحکم تب ہوتا ہے جب ملک میں سیاسی طور پر استحکام ہوتا ہے۔

سیاسی عدم استحکام کی ایک سے زیادہ صورتیں ہوتی ہیں۔ پاکستان بننے کے فوراً بعد ملک میں پھیلی ہوئی سیاسی کشمکش آج کل کے سیاسی اضطراب اور افراتفری سے قطعی طور پر مختلف تھی۔ وہ دور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور برق رفتار کمیونیکیشن کا دور نہیں تھا۔ خبر اور افواہ آنکھ جھپکتے ارض و سما میں پھیلتی نہیں تھی۔ ردعمل سے پہلے فریقین کو سوچنے، سمجھنے اور بات کی تہہ تک پہنچنے کی مہلت مل جاتی تھی، کچھ بھی اچانک اور یکایک نہیں ہوتا تھا۔

پاکستان کی تاریخ میں شروع کے پچیس برس سیاسی طور پر باقی ماندہ ادوار کے مقابلے میں زیادہ گہرے، فریبی، دغاباز اور دھوکوں سے بھر پور تھے۔ اس قدر حواس باختہ اور ناقابل یقین سیاسی دور پھر کبھی ہم نے پاکستان میں آج تک نہیں دیکھا۔ زرداری، نواز شریف اور عمران خان کے درمیان چلنے والی کھینچا تانی اس دور کے مقابلہ میں فضول اور معمولی لگتی ہے۔ شروع کے پچیس برسوں میں رونما ہونے والی سیاست دراصل چھوٹے بھائی کی بڑے بھائی کو سبق سکھانے اور اپنے تابع رکھنے کی سیاست تھی۔ بڑے بھائی سے مراد ہے مشرقی پاکستان اور چھوٹے بھائی سے مراد ہے مغربی پاکستان۔

مشرقی پاکستان کی آبادی مغربی پاکستان کی آبادی سے زیادہ تھی۔ قومی اسمبلی میں مشرقی پاکستان کی سیٹیں یعنی ممبر مغربی پاکستان کے ممبروں سے زیادہ تھے۔ مگر بڑے بھائی کو حکومت کرنے کے قابل نہیں سمجھا گیا۔ پرآشوب سیاست نے تقسیم ہند کے دوران برپا ہونے والے خونریز فسادات کی المناک یاد تازہ کردی۔ ہمارے ٹیلنٹیڈ کزن ہمیں آگاہ کریں کہ پاکستان کی تقریباً 75سالہ تاریخ میں ایسا دور کب آیا تھا۔ جب ملک میں شہد اور دودھ کی نہریں بہتی تھیں اور درختوں کی ٹہنیوں پر پتوں کی بجائے کرنسی نوٹ اور اشرافیاں لٹکتی تھیں؟

(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

loading...