پہلے پچیس برس

لفظ سرکار کی جمع ہے سرکاریں۔ تمام سرکاریں سمجھتی ہیں بلکہ تمام سرکاریں چلانے والے حکمرانوں کو یقین ہوتا ہے کہ عام آدمی یعنی رعایا سمجھ بوجھ سے پیدل ہوتی ہے، یعنی عام آدمی سرکاری باتیں سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔

عام آدمی ڈبے میں ووٹ ڈالنے کے علاوہ کچھ نہیں جانتا۔ درست! ہم عام آدمی سرکار سے خواہ مخواہ الجھنے کی سکت نہیں رکھتے۔ میں نہیں جانتا کہ سرکاری سیانے جانتے ہیں، یا نہیں جانتے کہ جو لوگ سرکار کے دعوؤں کو مسترد کرنے کی جرأت نہیں رکھتے، وہ لوگ آپس میں سر جوڑ کر بیٹھتے ہیں اور بال کی کھال ادھیڑ دیتے ہیں۔ ہم عام آدمی سب سمجھتے ہیں، مگر سرکار کو جھٹلا نہیں سکتے۔ اس لئے میرے بھائیو، بہنو اور بچو آؤ ہم آپس میں سر جوڑ کر بیٹھتے ہیں اور اپنے وطن کے ابتدائی پچیس برسوں میں رونما ہونے والی ایک چال بازی کا جائزہ لیتے ہیں۔ مگر اس سے پہلے، تمہید کے طور پر ماضی قریب کے ایک سرکاری کارنامےکا تجزیہ کرتے ہیں۔
آپ نے کراچی کے قریب پاکستان اسٹیل ملز کا نام ضرور سنا ہو گا۔ بیوروکریسی کی سخت مخالفت کے باوجود تب کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو ملک کی ترقی کے لئے ایک بین الاقوامی معیار کی اسٹیل مل کے حق میں تھے۔ وہ اپنے فیصلے پر اٹل رہے۔ انیس سو تہتر میں پاکستان اسٹیل ملز کی بنیاد رکھی۔ روس کے بھر پور تعاون سے کام شروع ہوا۔ وائے قسمت ! پاکستان اسٹیل ملز کا افتتاح انیس سو پچیاسی میں ذوالفقار علی بھٹو کے دیرینہ دشمن ڈکٹیٹر جنرل ضیاالحق کے ہاتھوں ہوا۔ میں نہیں جانتا کہ ذوالفقار علی بھٹوکے ہاتھوں لگائی ہوئی اسٹیل ملز کے بنیادی کتبے یعنی سنگ بنیاد کا کیا بنا۔ لگا ہوا بھی ہے یا غائب کر دیا گیا ہے؟ ضیاالحق کو ذوالفقار علی بھٹو اور پیپلز پارٹی بلکہ لفظ پیپلز سے سخت نفرت تھی۔ جہاں جہاں لفظ پیپلز ان کو دکھائی دیتا تھا، اسے مٹا دیتے تھے۔

ان دنوں میں اوپن یونیورسٹی اسلام آباد میں پڑھاتا تھا۔ اوپن یونیورسٹی کا نام تھا پیپلز اوپن یونیورسٹی۔ ضیاالحق نے پیپلز اوپن یونیورسٹی کو ایسا نام دیا جس کو آنے والی حکومتیں بدل نہیں سکتیں۔ ضیاالحق نے پیپلز اوپن یونیورسٹی کا نیا نام رکھا علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی۔ پاکستان کے صدر ہونے کے ناطے ڈکٹیٹر جنرل ضیاالحق اسلام آباد کی دو یونیورسٹیوں، قائد اعظم یونیورسٹی اور اوپن یونیورسٹی کے چانسلر تھے۔ میں نے پچیس برس کے لگ بھگ اوپن یونیورسٹی میں کام کیا ہے۔ اس دوران کچھ عرصے کے لئے فقیر کو اوپن یونیورسٹی کا وائس چانسلر بھی لگایا گیا تھا۔ میں نے سنگ مر مر پر کندہ پیپلز اوپن یونیورسٹی کا کتبہ تلاش کرنے کی بہت کوشش کی، مگر کتبہ مجھے نہ ملا ۔ میں وہ کتبہ سنبھال کر رکھنا چاہتا تھا۔ آپ جب بھی روڈ، راستوں، باغ باغیچوں، عمارتوں اور درسگاہوں کے نام بدلتے ہیں، تب آپ تاریخ سے فراڈ کرتے ہیں، تب آپ تاریخ سے فریب کرتے ہیں۔

تاریخ کے پہلے پچیس برسوں کے دوران پاکستان میں حواس باختہ کر دینے جیسی بے شمار وارداتیں رونما ہوئی تھیں۔ تاریخ سے دھوکہ دہی کے علاوہ ملک پہلے پچیس برس تک بغیر آئین کے چلتا رہا تھا۔ ان پچیس برسوں میں پہلے تین برس ہم تاج برطانیہ کے ماتحت رہے تھے۔ اس نوعیت کے بے شمار ماجروں سے ہماری تاریخ کھچا کھچ بھری ہوئی ہے۔ دراز دستی سے پاک، اصلی اور صحیح تاریخ میں جھانکنا اچھا لگتا ہے۔ حال کی کھوج لگانے کے لئے ماضی کا تجزیہ لازمی سمجھا جاتا ہے۔ ماضی دفن کرنے کے لئے نہیں ہوتا۔ جس طرح موت لازوال اور ابدی سچ ہے، عین اسی طرح ماضی، دائمی سچ ہے، لہٰذا ماضی میں جھانکنے سے ہمیں اپنی خامیوں اور خوبیوں ، غلطیوں اور کوتاہیوں کا پتہ چلتا ہے۔ ماضی سے انحراف ایسے ہی ہے، جیسے آپ مادر علمی کے منکر ہو جائیں۔ اس نوعیت کا رجحان اپنی کوتاہیوں سے سیکھنے، کوتاہیوں کو راست کرنے کی نفی کرتا ہے۔
پہلے پچیس برسوں کے انبار سے آج ہم وزرائے اعظم کی سرسری جانچ پڑتال کریں گے۔ چونکہ نئے ملک کے لئےکسی قسم کا کوئی آئین بنا نہیں تھا، اس لئے میرے جیسے کم علم وثوق سے نہیں جانتے کہ نئے ملک کے لئے وزیر اعظم کا چناؤ یا انتخاب کون کرتا تھا اور کیسے کرتا تھا۔ پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان بنے تھے۔ لیاقت علی خان ایک طویل عرصہ سے قائد اعظم کے دست راست رہے تھے۔ ان کی تعیناتی قائداعظم کی مرضی اور منشا کے مطابق محسوس ہوتی ہے۔ انیس سو اڑتالیس میں قائد اعظم کی وفات کے بعد لیاقت علی خان مسلم لیگ کے صدر لگ گئے تھے۔ وہ تین برس دو ماہ پاکستان کے وزیر اعظم رہے، مگر ملک کو مستند آئین نہ دے سکے۔ سولہ اکتوبر انیس سو اکاون کے روز دیدہ دانستہ سازش کے تحت راولپنڈی کے سرکاری باغ میں اسی جگہ ان کو قتل کیا گیا تھا جس جگہ پچاس برس بعد بے نظیر بھٹو کو قتل کیا گیا ۔ اس کے بعد وزرائے اعظم کی تعیناتی کا تانتا بندھ گیا۔
لیاقت علی خان کے بعد خواجہ ناظم الدین اٹھارہ ماہ کے لئے وزیر اعظم بنے۔ ان کے بعد محمد علی بوگرا دو برس کے لگ بھگ وزیر اعظم لگائے گئے ۔ ان کو ہٹا کر چوہدری محمد علی کو ایک سال کیلئے وزیر اعظم بنایا گیا۔ ان کوبرطرف کرکےحسین شہید سہروردی کو وزیر اعظم بنایا گیا۔ ایک سال بعد ان کو ہٹا کر آئی آئی چند ریگر کو دو ماہ دو دن تک وزیراعظم رہنے دیا گیا۔ ان کے بعد ملک فیروز خان نون کو وزیر اعظم کا منصب تھونپا گیا اور دس مہینوں بعد ان کو بھی اس عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ اس کے بعد نور الامین کو تیرہ دن کیلئے وزیر اعظم رہنے دیا گیا۔ خیر سے پہلے پچیس برس اختتام کو پہنچے۔ بڑا بھائی روٹھ کر ہم سے الگ ہو گیا۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

loading...